نئی دہلی :نفرت کا جواب محبت سے اور تشدد کا جواب امن سے دینا ہی تصوف کا اصل پیغام ہے۔
ان خیالات کا اظہار حضرت سید نصیرالدین چشتی۔ جانشین سجادہ نشین اجمیر شریف درگاہ اور آل انڈیا صوفی سجادہ نشین کونسل کے چیئرمین نے آج دہلی دفتر میں منعقد خصوصی پروگرام ’’ڈائیلاگ۔ تصوف برائے عالمی امن اور اخوت‘‘ کے موقع پر مختلف درگاہوں کے سجادگان اور مسلم مذہبی رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ یہ تاریخی مکالمہ ’’تصوف برائے عالمی امن اور اخوت‘‘ محض ایک پروگرام نہیں بلکہ انسانیت کے تحفظ کے لیے ایک روحانی آواز ہے۔

حضرت سید نصیرالدین چشتی نے کہا کہ آج پوری دنیا بے چینی جنگ نفرت مذہبی انتہاپسندی اور انسانی اقدار کے زوال جیسے سنگین چیلنجز سے دوچار ہے۔ انسان مادی ترقی تو کر رہا ہے مگر محبت برداشت ہمدردی اور انسانیت لوگوں کے دلوں سے دھیرے دھیرے ختم ہوتی جا رہی ہے۔ ایسے حالات میں تصوف پوری دنیا کے لیے امید کی سب سے بڑی روشنی بن کر سامنے آتا ہے۔ تصوف کسی ایک مذہب ذات یا برادری تک محدود نہیں بلکہ یہ انسانیت محبت رحم دلی اور بھائی چارے کا پیغام ہے۔
انہوں نے کہا کہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ نے اجمیر کی مقدس سرزمین سے دنیا کو یہ پیغام دیا تھا کہ ’’سب سے محبت کرو کسی سے نفرت نہ کرو‘‘۔ انہوں نے بھوکوں کو کھانا کھلایا دکھی انسانوں کا سہارا بنے اور ہر مذہب اور ہر طبقے کے لوگوں کو اپنے دامن میں جگہ دی۔ یہی تصوف کی اصل پہچان ہے۔

حضرت سید نصیرالدین چشتی نے موجود تمام سجادگان اور مذہبی رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم سب جو صوفی بزرگوں کی درگاہوں اور خانقاہوں سے وابستہ ہیں ہماری ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ہمیں معاشرے میں پھیل رہی نفرت انتہاپسندی اور تقسیم کے خلاف مضبوطی سے کھڑا ہونا ہوگا۔ نئی نسل کو تصوف کی وہ تعلیمات دینی ہوں گی جو انسان کو بہتر انسان بناتی ہیں۔ اگر دنیا امن چاہتی ہے اگر معاشرہ اتحاد چاہتا ہے اور اگر انسانیت کو محفوظ رکھنا ہے تو ہمیں تصوف کی روحانی طاقت کو آگے بڑھانا ہوگا۔
“DIALOGUE”
— Syed Naseruddin Chishty (@ChairmanAISSC) May 10, 2026
“Sufism for Global Peace and Brotherhood”
was successfully organized on 9th May 2026 by the All India Sufi Sajjadanashin Council at its Head Office, Nizamuddin West, New Delhi.
The event witnessed the gracious participation of approximately 100 delegates, including… pic.twitter.com/hrfxNveJCf
آخر میں انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب ہماری مشترکہ وراثت اور باہمی بھائی چارے کو مضبوط بنانا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ صوفی بزرگوں کی درگاہیں اور خانقاہیں صدیوں سے امن محبت اور انسانی اتحاد کے مراکز رہی ہیں جہاں ہر مذہب اور ہر طبقے کے لوگ بلا تفریق آتے ہیں۔ یہی ہندوستان کی اصل طاقت ہے اور یہی تصوف کا پیغام بھی ہے۔