پروفیسر شاہ عبدالسلام: ایک استاد، ایک عہد اور ایک علمی ورثہ

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 18-08-2026
پروفیسر شاہ عبدالسلام: ایک استاد، ایک عہد اور ایک علمی ورثہ
پروفیسر شاہ عبدالسلام: ایک استاد، ایک عہد اور ایک علمی ورثہ

 



تیرہویں  برسی پر ایک بیٹے کی یاد

 
ڈاکٹر شاہ محمد فائز
اسوسی ئیٹ پروفیسر ، شعبہ انگریزی
مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی
 
17 اگست 2026 کو میرے والدِ محترم مرحوم پروفیسر شاہ عبدالسلام کی وفات کو تیرہ برس مکمل ہو گئے۔ کسی اپنے کے بچھڑنے کے بعد وقت بظاہر بہت تیزی سے گزرتا ہے، لیکن یادوں کی دنیا میں وقت جیسے ٹھہر جاتا ہے۔ کچھ چہرے، کچھ آوازیں، کچھ باتیں اور کچھ عادتیں برسوں بعد بھی اسی طرح ہمارے ساتھ رہتی ہیں۔ والدین کی یاد بھی ایسی ہی ہوتی ہے۔ ان کی موجودگی زندگی کا حصہ ہوتی ہے اور ان کے جانے کے بعد ان کی یاد زندگی کا مستقل حوالہ بن جاتی ہے۔میرے والد میرے لیے صرف والد نہیں تھے؛ وہ ایک استاد، رہنما، کتاب دوست اور علم و ادب سے بے پناہ محبت کرنے والے انسان بھی تھے۔ ان کی زندگی کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ان کی وجہ سے میں نے محسوس کیا کہ علم کسی انسان کی صرف پیشہ ورانہ شناخت نہیں ہوتا، بلکہ اگر وہ سچی لگن کے ساتھ حاصل کیا جائے تو اس کی پوری شخصیت کا حصہ بن جاتا ہے۔ میرے والد کی زندگی اسی حقیقت کی ایک مثال تھی۔
پروفیسر شاہ عبدالسلام نے یکم جنوری 1947ء کو ضلع غازی پور کے قصبہ بحری آباد میں آنکھیں کھولیں۔ گھر کا ماحول ایسا تھا جہاں علم و ادب اور تہذیبی روایت سے وابستگی کو زندگی کی ایک اہم قدر سمجھا جاتا تھا۔ ان کے خاندان کا بھی تعلیم و تعلم سے گہرا تعلق تھا۔ ان کے والد مولانا شاہ ابو القاسم ندوۃ العلماء کے ممتاز اساتذہ میں شمار ہوتے تھے۔ تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ خلوص، مروت اور خدمت کا جذبہ ان کی شخصیت کا نمایاں حصہ تھا۔ ان کے دادا کا نام مولانا شاہ محمد جان تھا، جو مدرسہ فرقانیہ کے بانی مولانا عین القضا کے قریبی دوستوں میں تھے۔ اس طرح پروفیسر شاہ عبدالسلام کی پرورش ایک ایسے علمی اور مذہبی ماحول میں ہوئی جس میں علم، تہذیب اور انسانی اقدار ایک دوسرے سے جدا نہیں تھے۔ 
بچپن سے ہی انہیں پڑھنے لکھنے کے شوق کا شاید یہی سبب تھا۔ علم کی یہی کشش انہیں لکھنؤ لے آئی، جہاں انہوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے لکھنؤ یونیورسٹی سے گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن کیا ۔ اردو، عربی اور عرب کلچر میں ایم اے کیا۔ بعد میں شعبۂ اردو میں پروفیسر شبیہ الحسن نونہروی کی نگرانی میں ’’آتش کے شاگردان اور اردو شاعری‘‘ کے موضوع پر تحقیقی مقالہ لکھا، جس پر انہیں ڈاکٹریٹ کی ڈگری عطا ہوئی۔ یہی مقالہ بعد میں ’’دبستانِ آتش‘‘ کے نام سے کتابی صورت میں مکتبہ جامعہ لمٹیڈ (نئی دہلی)سے شائع ہوا۔ 
 
پروفیسر شاہ عبدالسلام نے اپنی تدریسی و علمی زندگی کا آغاز لیکچرر کی حیثیت سے کیا۔ 1973ء سے 1979ء تک وہ امریکہ کی منی سوٹا یونیورسٹی سے وابستہ رہے۔ یہ ان کی علمی زندگی کا ایک اہم مرحلہ تھا، جس نے ان کے علمی افق کو مزید وسعت دی اور انہیں بین الاقوامی علمی ماحول میں کام کرنے کا موقع فراہم کیا۔
امریکہ سے واپسی کے بعد انہوں نے 1980ء سے 1989ء تک لکھنؤ یونیورسٹی کے شعبۂ عربی و عرب کلچر میں لیکچرر کی حیثیت سے تدریسی خدمات انجام دیں۔ اس کے بعد 1999ء تک ریڈر اور 2000ء سے 2009ء تک پروفیسر کے منصب پر فائز رہے۔ اس طرح انہوں نے تقریباً تین دہائیوں تک تدریس، تحقیق اور علمی سرگرمیوں میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کا تدریسی سفر محض ایک ملازمت کا تسلسل نہیں تھا بلکہ علم کی منتقلی اور نئی نسل کی علمی تربیت کےایک مسلسل عمل سے عبارت تھا۔
2009ء سے 2011ء تک انہوں نے رام پور رضا لائبریری میں افسرِ بکارِ خاص کی حیثیت سے علمی خدمات انجام دیں۔ یہ تقرر بھی ان کے علمی مزاج سے پوری طرح ہم آہنگ تھا کیونکہ کتابیں، مخطوطات اور نادر علمی ذخیرے ان کی دلچسپی کے خاص موضوعات تھے۔ لائبریری میں خدمات انجام دینے کے دوران بھی ان کی توجہ علمی و ادبی سرمائے کے تحفظ اور استفادۂ عام کی طرف رہی۔ علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں مختلف اعزازات سے بھی نوازا گیا۔ 2007ء میں عرب کلچر کے میدان میں خدمات کے اعتراف میں شارجہ ایوارڈ اور 2009ء میں عربی زبان و ادب کی مسلمہ خدمات کے لیے صدرِ جمہوریہ ہند ایوارڈ ان کے اہم اعزازات میں شامل ہیں۔ یہ اعزازات اس بات کا اعتراف تھے کہ انہوں نے اردو، عربی، عرب کلچر اور تحقیق کے میدان میں قابلِ قدر خدمات انجام دیں۔ حالانکہ اعزازات ان کے لیے شاید کبھی مقصد نہیں رہے، لیکن ان کا ملنا ان کے علمی سفر کی قومی اور بین الاقوامی سطح پر پذیرائی کا ثبوت ضرور تھا۔
بعد ازاں صحت کی خرابی کے باعث ان کی علمی اور عملی سرگرمیاں محدود ہوگئیں، لیکن علم و ادب سے ان کا رشتہ آخری وقت تک قائم رہا۔
لکھنؤ ان کی علمی زندگی کا صرف ایک شہر نہیں تھا بلکہ ان کی شخصیت کی تشکیل میں اس شہر کا بنیادی کردار تھا۔ انہوں نے لکھنؤ کا وہ دور بھی دیکھا جب شہر کی علمی، ادبی اور تہذیبی سرگرمیاں اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ موجود تھیں۔ ہر طرف شعر و سخن، زبان و ادب اور تہذیبی مباحث کا چرچا تھا۔ اس ماحول نے ان کے ذوق کو جِلا بخشی اور انہیں اپنی علمی اور ادبی روایت سے جوڑ دیا۔
پروفیسر شاہ عبدالسلام کی پوری زندگی پر نظر ڈالیں تو محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے خود کو علم و ادب کی خدمت کے لیے وقف کر رکھا تھا۔ وہ صرف خود تحقیق اور تصنیف کا کام نہیں کرتے تھے بلکہ اپنے دوستوں، شاگردوں اور ان لوگوں کو بھی علمی کام کی طرف متوجہ کرتے تھے جن میں علم و ادب کا ذوق پاتے تھے۔ ان کے نزدیک علمی اور ادبی ورثہ صرف محفوظ رکھنے کی چیز نہیں تھا بلکہ اس پر مسلسل کام کرنے اور اسے نئی نسل تک منتقل کرنے کی ضرورت تھی۔ 
اردو کے علمی حلقے میں پروفیسر شاہ عبدالسلام کی سب سے نمایاں شناخت ان کی کتاب ’’دبستانِ آتش‘‘ ہے۔ یہ دراصل ان کے ڈاکٹریٹ کے مقالے کی کتابی شکل ہے۔ اس میں آتش کے شاگردوں اور اردو شاعری کی ترقی میں ان کے کردار کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس کتاب کے ذریعے آتش کی شاعری، ان کے شاگردوں اور لکھنؤ کے شعری ماحول کے کئی اہم پہلو سامنے آتے ہیں۔
’’دبستانِ آتش‘‘ کی اہمیت صرف اس لیے نہیں کہ اس میں آتش اور ان کے شاگردوں کا ذکر ہے، بلکہ اس لیے بھی ہے کہ اس کتاب کے ذریعے لکھنؤ کی شعری روایت کو ایک وسیع تر تناظر میں دیکھنے کی کوشش کی گئی۔ لکھنؤ کی شاعری کے بارے میں عام طور پر اس کے ظاہری حسن، زبان کی نزاکت اور طرزِ اظہار کو زیادہ نمایاں کیا جاتا ہے، لیکن پروفیسر شاہ عبدالسلام نے اس روایت کے دوسرے فکری اور فنی پہلوؤں کو بھی سامنے لانے کی کوشش کی۔ یہی تحقیقی نظر ان کی علمی شخصیت کی ایک بڑی خوبی تھی۔ 
والد محترم، پروفیسر شاہ عبدالسلام، کے علمی کام کا ایک اہم پہلو کلاسیکی ادب اور قدیم متون کی تدوین تھا۔ انہوں نے صرف نئی کتابیں لکھنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ پرانے اور نایاب متون کو تلاش کیا، ان کی تدوین کی اور انہیں عام قارئین تک پہنچانے کی کوشش کی۔ ان کے نزدیک کسی قدیم کتاب یا مخطوطے کو محفوظ کرنا دراصل ہماری علمی تاریخ کے ایک حصے کو محفوظ کرنا تھا۔ انہوں نے نواب مرزا شوق لکھنوی کا کلیات مرتب کیا۔ شوق کی شہرت عموماً ان کی مشہور مثنوی ’’زہرِ عشق‘‘ کی وجہ سے ہے، لیکن کلیات کی تدوین کے ذریعے ان کے دوسرے کلام تک بھی قارئین کی رسائی ممکن ہوئی۔ یہ کام محض تدوین نہیں بلکہ ادبی ورثے کی حفاظت کی ایک اہم کوشش تھی۔ اسی طرح قدیم تاریخی متون کی تدوین اور ترجمہ بھی ان کی علمی سرگرمیوں کا حصہ تھا۔ انہوں نے ’’تاریخِ اودھ‘‘ جیسے اہم تاریخی ماخذ کو اردو میں منتقل کرکے عام قارئین کے لیے قابلِ استفادہ بنایا۔ ان کی دلچسپی کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ اودھ کی تاریخ کو صرف نوآبادیاتی یا بیرونی نقطۂ نظر سے نہ دیکھا جائے بلکہ اصل تاریخی ماخذ بھی سامنے لائے جائیں۔
 
پروفیسر شاہ عبدالسلام کی علمی دلچسپی صرف اردو تک محدود نہیں تھی۔ انہیں متعدد زبانوں سے واقفیت تھی، جس کی وجہ سے مختلف زبانوں کے متون تک ان کی رسائی ممکن تھی۔ انہوں نے عربی اور فارسی کی بعض اہم کتابوں کو اردو میں منتقل کیا، اردو کی کلاسیکی شاعری کے انتخاب کو انگریزی میں ترجمہ کیا اور تاریخی متون ؎ی تدوین و ترجمہ کا کام بھی کیا۔ ہندی میں بھی انہوں نے کام کیا اور سمیر چند کی فارسی زبان میں لکھی ہوئی رامائن کا ہندی ترجمہ کیا۔ان کے علمی کام کا یہ پھیلاؤ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ زبان کو دیوار نہیں بلکہ مختلف تہذیبوں اور علوم کے درمیان پل سمجھتے تھے۔ یہی وسیع النظری ان کی شخصیت کی ایک اہم خصوصیت تھی۔ وہ اپنی زبان اور تہذیب سے گہری وابستگی رکھتے تھے، لیکن یہ وابستگی انہیں دوسری زبانوں اور تہذیبوں سے دور نہیں کرتی تھی۔ اس کے برعکس، مختلف زبانوں اور روایتوں سے واقفیت نے ان کے مطالعے کو مزید وسیع کیا۔لکھنؤ کی امیرالدولہ پبلک لائبریری سے ان کا تعلق بھی ان کی علمی زندگی کا اہم باب تھا۔ مجلسِ عاملہ کے رکن کی حیثیت سے انہوں نے وہاں موجود قدیم قلمی نسخوں کی تدوین اور اشاعت کی طرف توجہ دی۔ ان کا خیال تھا کہ لائبریری میں محفوظ مواد صرف الماریوں میں بند رہنے کے لیے نہیں بلکہ تحقیق اور مطالعے کے لیے سامنے آنا چاہیے۔
ان کے ایک رفیق، ڈاکٹر احسن الظفر، نے ان کی شخصیت کے اسی پہلو کو بیان کرتے ہوئے انہیں ’’اپنی ذات سے ایک انجمن اور ایک اکیڈمی‘‘ قرار دیا۔ یہ جملہ میرے والد کی علمی سرگرمیوں کو سمجھنے کے لیے بہت معنی خیز ہے۔ وہ خود بھی علمی کام کرتے تھے اور اپنے احباب کو بھی علمی منصوبوں میں شریک کرتے تھے۔ امیرالدولہ لائبریری کے بعض قلمی نسخوں کی تدوین و اشاعت کے منصوبوں میں انہوں نے دوسرے اہلِ علم کو شامل کیا۔ دیوانِ شوکت بخاری، تاریخِ سعادت، تحفۃ الاحباب فی بیان الانساب اور دیگر مخطوطات کے سلسلے میں ان کی سرگرمیاں اسی علمی مزاج کی عکاس تھیں۔ یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ان کی علمی سرگرمی صرف ذاتی تحقیق تک محدود نہیں تھی۔ وہ علمی اداروں اور لائبریریوں کو بھی علمی زندگی کا فعال مرکز بنانا چاہتے تھے۔ ان کے لیے علم کا اصل مقصد علم کی ترسیل اور افادۂ عام تھا۔
1970ء میں ’’مسلم لیگ میں ریاستِ محمودآباد کا حصہ‘‘ جیسے اہم موضوع پر انہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈیوڈ پیچ کے ساتھ ریسرچ اسسٹنٹ کی حیثیت سے کام کیا۔ یہ تجربہ اس بات کا اظہار تھا کہ ان کی علمی بنیادیں کتنی مضبوط تھیں اور وہ ہندوستان کی تاریخ و تہذیب سے متعلق بڑے تحقیقی منصوبوں میں بھی مؤثر کردار ادا کر سکتے تھے۔ میرے والد کے لیے ہندوستان کی تاریخ محض ماضی کے واقعات کا مجموعہ نہیں تھی۔ اس کے اندر زبان، تہذیب، معاشرت اور انسانی رشتوں کی ایک پوری دنیا آباد تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریروں میں تاریخی واقعات کے ساتھ تہذیبی شعور بھی نظر آتا ہے۔
اگرچہ پروفیسر شاہ عبدالسلام کی بنیادی شناخت ایک استاد، محقق اور ادیب کی تھی، لیکن ان کی شخصیت کا ایک اہم پہلو ان کی سماجی اور فلاحی سرگرمیاں بھی تھیں۔ وہ مختلف علمی، ادبی، سماجی اور فلاحی اداروں سے وابستہ رہے۔ اسلامیہ کالج، ممتاز ڈگری کالج اور انجمن اصلاح المسلمین جیسی تنظیموں سے ان کا تعلق رہا اور وہ ان کی سرگرمیوں میں باقاعدگی سے شریک ہوتے تھے۔ یہ سرگرمیاں اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ وہ علم کو زندگی سے الگ نہیں سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک ایک دانشور کی ذمہ داری صرف کتاب لکھنا نہیں بلکہ اپنے معاشرے سے جڑے رہنا بھی ہے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ ان کے شاگرد اور احباب انہیں صرف ایک استاد کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسے انسان کے طور پر یاد کرتے ہیں جو دوسروں کے کام آنا چاہتا تھا۔
ان تمام علمی اور ادبی حوالوں کے درمیان میرے لیے ان کی سب سے اہم شناخت یہ ہے کہ وہ میرے والد تھے۔
ایک بیٹے کے لیے اپنے والد کی شخصیت کو صرف ان کی کتابوں، عہدوں اور علمی کارناموں کے ذریعے بیان کرنا ممکن نہیں۔ والد کی شخصیت گھر کے اندر جس طرح محسوس ہوتی ہے، وہ باہر کی دنیا سے مختلف ہوتی ہے۔ ہمارے لیے ان کی آواز، ان کا اندازِ گفتگو، کتابوں کے ساتھ ان کا تعلق، علمی باتوں پر ان کی توجہ اور زندگی کے معمولی واقعات میں بھی علم و تہذیب کی جھلک آج بھی یادوں کا حصہ ہے۔
ان کے لیے گھر میں موجود کتابیں صرف الماری میں رکھی ہوئی چیزیں نہیں تھیں۔ کتابیں ان کی ساتھی تھیں، جن سے وہ گفتگو کرتے تھے اور جو انہیں نئے راستے دکھاتی تھیں۔ شاید یہی ماحول تھا جس نے میرے اندر بھی کتاب اور تحقیق کے تعلق کو مضبوط کیا۔ آج جب میں خود تدریس اور تحقیق کے شعبے سے وابستہ ہوں تو اکثر محسوس ہوتا ہے کہ میری علمی زندگی کی بہت سی بنیادیں اسی ماحول میں رکھی گئی تھیں جسے میرے والد نے اپنے عمل سے قائم کیا تھا۔ ان کے انتقال کے بعد یہ احساس اور گہرا ہوا کہ والدین کی سب سے بڑی میراث جائیداد یا مال نہیں ہوتی؛ ان کی اصل میراث ان کی سوچ، اقدار، تربیت اور علمی ورثہ ہوتی ہے۔
والد صاحب کی وفات کے بعد میرے لیے سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ ان کی یاد کو کس طرح محفوظ رکھا جائے۔ صرف برسی منانا یا چند تعزیتی جملے لکھ دینا کافی نہیں تھا۔ ان کی علمی زندگی اور کام کو آنے والی نسلوں تک پہنچانا زیادہ اہم تھا۔اسی احساس کے تحت میں نے 2016ء میں ’’پروفیسر شاہ عبدالسلام: شخصیت اور علمی نقوش‘‘ کے نام سے ایک کتاب مرتب کی۔ اس کتاب میں ان کی شخصیت، علمی خدمات اور مختلف پہلوؤں پر اہلِ علم حضرات کی تحریریں شامل کی گئیں۔ اس کے بعد ان کے مختلف مضامین کو یکجا کرکے ’’مقالاتِ پروفیسر شاہ عبدالسلام‘‘ بھی مرتب کیا گیا، جو 2023ء میں شائع ہوئی۔ اس طرح ان کی تحریری میراث کو ایک جگہ محفوظ کرنے کی کوشش کی گئی۔ یہ کام میرے لیے محض ایک علمی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک بیٹے کی حیثیت سے تشکر اور محبت کا اظہار بھی تھا۔ آج جب ان کی وفات کو تیرہ برس ہونے جا رہے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ انسان جسمانی طور پر رخصت ہوجاتا ہے، لیکن اس کی اصل زندگی اس کے بعد اس کے کاموں میں جاری رہتی ہے۔ پروفیسر شاہ عبدالسلام کی زندگی بھی اسی حقیقت کی گواہی دیتی ہے۔
انہوں نے کتابیں لکھیں، کتابیں مرتب کیں، قدیم متون کو محفوظ کیا، ترجمے کیے، تحقیق کی، شاگردوں کی رہنمائی کی، علمی اداروں سے وابستہ رہے اور دوسروں کو بھی علمی کام کے لیے آمادہ کیا۔ ان کی شخصیت کا سب سے روشن پہلو شاید یہی تھا کہ وہ علم کو اپنے تک محدود نہیں رکھتے تھے۔ وہ اسے بانٹنا چاہتے تھے، آگے بڑھانا چاہتے تھے اور نئی نسل تک پہنچانا چاہتے تھے۔ آج ان کی کتابیں موجود ہیں، ان کے مضامین موجود ہیں، ان کے مرتب کیے ہوئے متون موجود ہیں اور ان کے شاگرد اور چاہنے والے موجود ہیں۔ ان سب میں ان کی زندگی کی کوئی نہ کوئی جھلک محفوظ ہے۔میرے لیے ان کی برسی صرف غم اور جدائی کا دن نہیں۔ یہ اپنے والد کو یاد کرنے، ان کی زندگی سے سیکھنے اور ان کے علمی ورثے کو آگے بڑھانے کے عہد کا دن بھی ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ چراغ خود اپنے لیے روشنی نہیں کرتا۔ وہ دوسروں کو راستہ دکھاتا ہے۔ میرے والد نے بھی اپنی زندگی علم کی روشنی دوسروں تک پہنچانے میں صرف کی۔ ان کا علمی سفر شاید اپنے وقت میں محدود دکھائی دیتا ہو، لیکن کتابوں اور شاگردوں کے ذریعے اس کی روشنی آگے بڑھتی رہتی ہے۔آج، ان کی تیرہویں برسی پر، میں انہیں صرف ایک عظیم محقق یا استاد کے طور پر نہیں بلکہ ایک شفیق والد اور ایک ایسے انسان کے طور پر یاد کرتا ہوں جس نے کتابوں کو زندگی اور علم کو خدمت سمجھا۔ ان کی یاد میرے لیے ایک ذمہ داری بھی ہے۔ ذمہ داری اس بات کی کہ جو علمی ورثہ انہوں نے ہمیں دیا، اسے محفوظ رکھا جائے، آگے بڑھایا جائے اور آنے والی نسلوں تک پہنچایا جائے۔
والدین دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں، مگر ان کی دعائیں، ان کی تربیت اور ان کی یادیں انسان کے اندر زندہ رہتی ہیں۔ کچھ لوگ اپنی زندگی میں چراغ جلاتے ہیں اور کچھ لوگ اپنے بعد بھی چراغ جلانے کا ہنر چھوڑ جاتے ہیں۔ والد محترم پروفیسر شاہ عبدالسلام میرے لیے ایسے ہی چراغ تھے۔
آج تیرہ برس بعد بھی ان کی یاد کی روشنی مدھم نہیں ہوئی۔ بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ یہ احساس مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے کہ ان کی سب سے بڑی میراث ان کی کتابیں نہیں، بلکہ علم سے محبت، تحقیق کا جذبہ، تہذیبی شعور اور دوسروں کے لیے کچھ کر گزرنے کا احساس ہے۔ اللہ تعالیٰ میرے والدِ محترم کو اپنی جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے، ان کی علمی و ادبی خدمات کو صدقۂ جاریہ بنائے اور ہمیں ان کے علمی ورثے کی حفاظت اور اشاعت کی توفیق دے۔ آمین۔