باغپت: اتر پردیش کے ضلع باغپت میں نکاح کے طریقۂ کار میں ایک اہم تبدیلی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اب نکاح سے قبل دلہا اور دلہن کے دونوں فریقین کے لیے وکیل کی جانب سے اسٹامپ پیپر پر تیار کردہ قانونی حلف نامہ جمع کرانا لازمی ہوگا۔ اس حلف نامے کے بغیر کوئی بھی امام یا مولانا نکاح نہیں پڑھائے گا۔ اس فیصلے کا مقصد نکاح کے عمل کو زیادہ شفاف، ذمہ دار اور قانونی پیچیدگیوں سے محفوظ بنانا ہے، تاکہ بعد ازاں سامنے آنے والے تنازعات اور مقدمات سے نہ صرف فریقین بلکہ نکاح پڑھانے والے ائمہ بھی محفوظ رہ سکیں
اطلاعات کے مطابق یہ فیصلہ خدمت سوسائٹی اور جمعیت علمائے ہند کے نمائندہ وفد کی مشترکہ میٹنگ میں متفقہ طور پر کیا گیا۔ اجلاس میں موجود علما نے واضح کیا کہ اگر متعلقہ فریق قانونی حلف نامہ پیش نہیں کرے گا تو کوئی بھی امام یا مولانا نکاح نہیں پڑھائے گا۔
بڑوت شہر کی جامع مسجد میں منعقدہ اجلاس میں گزشتہ چند برسوں کے دوران پیش آنے والے ایسے متعدد معاملات پر تفصیلی غور کیا گیا، جن میں نکاح کے بعد معلوم ہوا کہ فریقین میں سے کسی ایک کی پہلے سے شادی ہو چکی تھی، کوئی مقدمہ عدالت میں زیرِ سماعت تھا یا دیگر اہم قانونی حقائق چھپائے گئے تھے۔اجلاس میں کہا گیا کہ کئی مواقع پر مکمل معلومات نہ ہونے کے باوجود نکاح پڑھانے والے ائمہ کو پولیس تحقیقات، عدالتی کارروائی اور قانونی نوٹسوں کا سامنا کرنا پڑا، جس کے باعث انہیں ذہنی اور سماجی مشکلات بھی برداشت کرنا پڑیں۔
ان حالات کے پیشِ نظر فیصلہ کیا گیا کہ اب نکاح سے قبل دونوں فریقین کی جانب سے وکیل کے ذریعے تیار کردہ اسٹامپ پیپر پر حلف نامہ دینا لازمی ہوگا۔ اس حلف نامے میں یہ اعلان کرنا ہوگا کہ دونوں فریقین نے اپنی ازدواجی اور قانونی حیثیت سے متعلق تمام معلومات درست فراہم کی ہیں اور کوئی حقیقت نہیں چھپائی۔ علما کا کہنا ہے کہ اس تحریری اعلان سے مستقبل میں کسی بھی قسم کے تنازع، دھوکہ دہی یا قانونی پیچیدگی کے امکانات میں نمایاں کمی آئے گی، جبکہ نکاح کا عمل مزید شفاف اور ذمہ دارانہ بنے گا۔

گیارہ نکات پر مشتمل اعلامیہ لازمی
خدمت سوسائٹی کے صدر ڈاکٹر عرفان ملک نے بتایا کہ نکاح سے قبل دونوں فریقین کو 11 نکات پر مشتمل ایک قانونی اعلامیہ جمع کرانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ نکاح ایک مقدس مذہبی معاہدہ ہے، جس میں شفافیت اور سچائی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ اگر تمام ضروری معلومات پہلے ہی تحریری صورت میں موجود ہوں گی تو آئندہ تنازعات اور قانونی پیچیدگیوں کے امکانات کافی حد تک کم ہو جائیں گے۔ ڈاکٹر عرفان ملک نے بتایا کہ یہ مہم خاص طور پر ائمہ کی قانونی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے شروع کی گئی ہے، کیونکہ کئی مرتبہ مکمل معلومات نہ ہونے کے باعث ائمہ نکاح پڑھا دیتے ہیں اور بعد میں انہیں پولیس کارروائی یا قانونی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسی لیے قانون اور شریعت کے مطابق ایک باقاعدہ قانونی اعلامیہ تیار کیا جا رہا ہے