مسلمان عید الاضحی کے موقع برادر وطن کے جذبات کا خیال رکھیں : علماء و دانشوران

Story by  منصورالدین فریدی | Posted by  [email protected] | Date 27-05-2026
 مسلمان عید الاضحی کے موقع برادر وطن کے جذبات کا خیال رکھیں  : علماء و دانشوران
مسلمان عید الاضحی کے موقع برادر وطن کے جذبات کا خیال رکھیں : علماء و دانشوران

 



 نئی دہلی : آواز دی وائس 

عیدالاضحیٰ کے موقع پر علما نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ قربانی کے دوران مذہبی ذمہ داری کے ساتھ سماجی حساسیت کا بھی خیال رکھیں۔ قربانی ایک عظیم عبادت ہے لیکن اس عمل کو انجام دیتے وقت برادران وطن کے جذبات کا احترام بھی ضروری ہے۔حکومت کی جانب سے جاری کردہ گائیڈ لائنز پر مکمل عمل کیا جانا چاہیے اور جن جانوروں کی قربانی کی اجازت دی گئی ہے صرف انہی کی قربانی کی جائے۔اسلام میں قربانی کے لیے بکرا بھیڑ دنبہ اور بھینس جیسے کئی جانور موجود ہیں اس لیے قانون کی پابندی کے ساتھ عبادت انجام دی جا سکتی ہے۔علما نے خاص طور پر سوشل میڈیا کے استعمال میں احتیاط برتنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ قربانی کی تصاویر اور ویڈیوز ہرگز شیئر نہ کی جائیں کیونکہ اس سے بعض طبقات کے جذبات متاثر ہو سکتے ہیں۔

قربانی کی تصویر سوشل میڈیا پر ہر گز شیئر نہ کی جائے ۔ شیخ ابو بکر احمد

عید الاضحیٰ قربانی کے پیش نظر آج یہاں کالی کٹ میں مرکز الثقافۃ کے مین کیمپس سے گرانڈ مفتی آف انڈیا شیخ ابو بکر احمد نے  ایک بیان میں کہا کہ ملک بھر کے لوگوں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان قربانی کے تہوار کے موقع پر برادر وطن کے جذبات کا خیال رکھیں۔

گرانڈ مفتی نے کہاکہ یہ مبارک تہوار ہمیں قربانی، جذبہ ایثار، محبت، بھائی چارے اور انسانیت کی خدمت کا درس دیتا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عظیم قربانی پوری انسانیت کے لیے ایمان اور صبر وتحمل کی روشن مثال ہے۔انہو ںنے کہاکہ قربانی جیسے مقدس فریضہ کی دائیگی میں احتیاط سے کام لیں ۔قربانی کے جانوروں یا ذبیحہ کی تصاویر سوشل میڈیا پر ہر گز شیئر نہ کریں ۔شیخ نے کہاکہ کسی طرح کی افواہ پر دھیان نہ دیا جائے ۔آپ کی ایک غلطی سےشر پسند عناصر کو ہنگامہ آرائی کا موقع ملے گا ۔

شیخ نے کہاکہ قربانی کے فضلہ ،خون اور آلائش کو نالی ،گلیوں میں نہ بہا یا جائے بلکہ کسی مخصوص جگہ پر دفن کردیا جائے ۔شیخ نے اپنے بیان میں کہاکہ عید الاضحیٰ ایثار، قربانی، اور اللہ کی رضا کے لیے اپنی ہر عزیز چیز کو پیش کر دینے کا درس دیتی ہے ۔ہم سب اس مبارک دن پر عہد کریں کہ سنت ابراہیمی پر عمل کریں ،انسانیت کی خدمت کریں اور آپس میں محبت ،بھائی چارہ اور اتحاد کو فروغ دیں۔انہوں نے حکومت اور انتظامیہ سے تہوار کے پیش نظرصاف صفائی اور بجلی سپلائی کی بھی اپیل کی ہے ۔

قانون کے دائرے میں تہوار  منائیں - ریحان اختر قاسمی
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اسیسٹینٹ پروفیسر ریحان قاسمی نے کہا کہ ہندوستان میں کہیں بھی کوئی شخص گائے ذبح نہیں کرتا اور نہ ہی ایسا ہونا چاہیے اور نہ ہی گائے کی قربانی دی جانی چاہیے۔ حکومت نے جن چیزوں پر پابندی عائد کی ہے تمام لوگوں کو چاہیے کہ وہ انہی قوانین کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے تہوار منائیں۔ بی جے پی مائنارٹی سیل نے گائے کے حوالے سے جو بات کہی ہے میرے خیال میں شاید انہیں اس معاملے کی مکمل معلومات نہیں ہیں کیونکہ ہندوستان میں مسلمان اب گائے کو احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس ملک میں اکثریتی برادری گائے کو ایک مذہبی اور علامتی حیثیت دیتی ہے۔ اسی لیے میرا ماننا ہے کہ ہندوستان میں کہیں بھی گائے ذبح نہیں کی جاتی اور نہ ہی اس کی قربانی ہونی چاہیے۔ لوگوں کو ان جانوروں کی قربانی کرنی چاہیے جن کی حکومت اجازت دیتی ہے اور حکومت کی جاری کردہ گائیڈ لائنز کے مطابق ہی قربانی کا عمل انجام دینا چاہیے کیونکہ قربانی ایک مذہبی عمل اور اہم عبادت ہے۔ تاہم حکومت نے جن چیزوں پر پابندی لگائی ہے تمام لوگوں کو ان قوانین کا احترام کرتے ہوئے اپنے تہوار منانے چاہییں۔

مسلمان گائیڈ لائن کے مطابق قربانی کریں -مفتی مکرم 

  فتح پوری مسجد کے امام مفتی مکرم احمد نے کہا کہ مسلمان ہرگز گائے کی قربانی نہیں کرتے اور نہ ہی ایسا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو گائے سے کوئی دشمنی نہیں اور نہ ہی کسی مسلمان کو گائے ذبح کرنے کا شوق ہے۔ ان کے مطابق مسلمان ہمیشہ دیگر برادریوں کے مذہبی جذبات کا احترام کرتے ہیں اور چونکہ ملک کی اکثریتی آبادی گائے کو مذہبی علامت سمجھتی ہے اس لیے مسلمان اس کا احترام کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسلام میں قربانی کے لیے بکرا، بھیڑ، دنبہ اور بھینس جیسے دیگر جانور موجود ہیں جن کی حکومت اجازت دیتی ہے، اس لیے مسلمانوں کو انہی جانوروں کی قربانی حکومت کی گائیڈ لائنز کے مطابق کرنی چاہیے۔ مفتی مکرم احمد نے کہا کہ کافی عرصے سے ہندو اور مسلمان دونوں طبقات کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ گائے کو قومی جانور قرار دیا جائے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں سوامی اگنیویش بھی اس مطالبے کی حمایت کر چکے ہیں۔

انہوں نے گو رکشا کے نام پر ہونے والے تشدد اور ماب لنچنگ کے واقعات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے محمد اخلاق اور پہلو خان جیسے واقعات کا حوالہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی بھی ایسے عناصر کی مذمت کر چکے ہیں جو گو رکشا کے نام پر غنڈہ گردی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض مذہبی رہنما بھی گائے کے ذبیحے پر مکمل پابندی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں اور اگر حکومت ایسا قانون بناتی ہے تو مسلمان بھی اس کا احترام کریں گے۔ 

قربانی کا تقدس برقرار رکھیں ۔ مولانا ظہیر عباس رضوی 

ملک کے ممتاز عالم مولانا ظہیر عباس رضوی نے ممبئی میں کہا کہ  عید قربان  پر ہم سب کو بڑی احتیاط سے کام لینا چاہیے ،ایک جانب برادران وطن کے جذبات کا خیال رکھیں اور دوسری جانب اس بات کو نظر انداز نہ کریں کہ مذہب نے  صفائی نصف ایمان کا سبق دیا ہے ۔ اس لیے قربانی کے ساتھ اپنے گھر کے باہر اور علاقہ میں صفائی کا بہت خیال رکھیں کیونکہ صفائی ہی ہمارے مذہب کی پہچان ہے ۔

مولانا ظہیر عباس رضوی نے کہا کہ  جانور کے معاملہ میں ہمیں سرکاری گائڈ لائن پر عمل کرنا چاہیے۔ جو جانور ممنوع ہیں انہیں قربانی کے لیے استعمال نہ کریں ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے قول اورعمل سے دل جیتنے ہوں گے ۔مولانا ظہیر عباس نے کہا کہ قربانی کے فلسفہ  کو یاد رکھنا چاہیے ہمیں اپنی قربانی کو نمائش کا سامان نہیں بنانا چاہیے ۔

انہوں نے کہا کہ اس قربانی کے پیچھے کا پیغام یاد رکھنا ہوگا جس میں اللہ سے محبت کا پیغام ہے ۔ اس لیے ہمیں ایسا کوئی کام نہیں کرنا چاہیے جس سے اسلام  اور اس کی تعلیمات پر آنچ آئے ۔

جذبات کا احترام کریں :مفتی ضیائی

مفتی منظور ضیائی نے اپنے ایک اہم بیان میں عوام سے اپیل کی ہے کہ قربانی کے جانور خریدتے وقت حکومت کی جاری کردہ گائیڈ لائنز اور مقامی سوسائٹی کے اصول و ضوابط کا مکمل خیال رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جس علاقے یا سوسائٹی میں آپ رہتے ہیں وہاں کے ماحول اور لوگوں کے جذبات کا احترام کرنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ آپ کے جانوروں یا آپ کے طرزِ عمل کی وجہ سے کسی کو تکلیف یا پریشانی نہیں ہونی چاہیے۔

انہوں نے تاکید کی کہ قربانی کے لیے کسی خاص جانور پر اصرار یا ضد کرنے کے بجائے ان جانوروں کا انتخاب کیا جائے جن کی اجازت شریعت اور قانون دونوں نے دی ہے۔ اللہ تعالیٰ اور رسولِ اکرم ﷺ نے قربانی کے لیے کئی متبادل عطا فرمائے ہیں، اس لیے آسانی اور حکمت کے ساتھ انہی جائز آپشنز سے فائدہ اٹھایا جائے۔

مفتی منظور ضیائی نے کہا کہ حکومت کی ہدایات کی پابندی کرنا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے کیونکہ ملک میں امن و امان اور بھائی چارے کی فضا برقرار رکھنا ہر شہری کا فرض ہے۔ قربانی کا اصل مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا ہے نہ کہ دکھاوا یا کسی کے جذبات کو مجروح کرنا۔

انہوں نے لوگوں کو نصیحت کی کہ قربانی کے بعد خون آلود کپڑوں یا چھریوں کے ساتھ سڑکوں اور بازاروں میں نہ نکلیں بلکہ صفائی ستھرائی اور تہذیب کا مکمل خیال رکھیں تاکہ اسلامی تعلیمات کا خوبصورت پیغام عام ہو اور کسی کو اذیت محسوس نہ ہو۔آخر میں انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کی قربانیوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ملک میں محبت، امن اور بھائی چارے کو فروغ عطا فرمائے۔

گائے کی قربانی نہ کریں۔ نماز عیدگاہوں اور مساجد میں ادا کی جائے: مولانا فرنگی محلی

عیدالاضحیٰ کے موقع پر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن اور اسلامک سینٹر آف انڈیا کے چیئرمین مولانا خالد رشید فرنگی محلی نے ملک بھر کے مسلمانوں کے لیے 12 نکاتی ایڈوائزری جاری کی ہے۔ انہوں نے اپیل کی کہ عیدالاضحیٰ کو پُرامن۔ قانونی اور صفائی کے اصولوں کے مطابق منایا جائے۔مولانا خالد رشید فرنگی محلی نے کہا کہ صرف انہی جانوروں کی قربانی کی جائے جن پر قانونی پابندی نہ ہو اور گائے کی قربانی ہرگز نہ کی جائے کیونکہ یہ ملک کے قانون کے خلاف ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ فرنگی محل کے علما نے 1920 میں بھی گائے کے ذبیحہ سے متعلق فتویٰ جاری کیا تھا۔

انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ نمازِ عید صرف عیدگاہوں اور مساجد میں ادا کی جائے اور عوامی مقامات پر نماز سے گریز کیا جائے۔ ساتھ ہی قربانی کے دوران صفائی۔ حفظانِ صحت اور ماحولیاتی اصولوں کا مکمل خیال رکھا جائے۔مولانا نے کہا کہ جانوروں کی آلائشیں کھلے مقامات پر نہ پھینکی جائیں بلکہ نگر نگم اور میونسپل انتظامات کے مطابق ٹھکانے لگائی جائیں۔ قربانی صرف مقررہ مقامات پر کی جائے تاکہ عوام کو کسی قسم کی پریشانی نہ ہو اور امن و نظم برقرار رہے۔

 مولانا خالد رشید فرنگی محلی نے کہا کہ اس ایڈوائزری میں مسلم کمیونٹی سے اپیل کی گئی ہے کہ عیدالاضحیٰ کو صرف عبادت تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے ملک کی سلامتی۔ خوشحالی اور موجودہ مشکلات سے نجات کے لیے دعاؤں کا ذریعہ بھی بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ نمازِ عید کے بعد شدید گرمی کی لہر سے نجات۔ ملک کی ترقی اور امن و امان کے لیے خصوصی دعائیں کی جائیں۔ ساتھ ہی ملک کو درپیش معاشی بحران اور اقتصادی مشکلات کے خاتمے کے لیے بھی دعا کا اہتمام کیا جائے۔