مُحرّم الحَرام :ایثار، قربانی، اتحادِ امت، باہمی رواداری اور پُرامن بقائے باہمی کا درس

Story by  اے ٹی وی | Posted by  [email protected] | Date 06-07-2024
 مُحرّم الحَرام :ایثار، قربانی، اتحادِ امت، باہمی رواداری اور پُرامن بقائے باہمی کا درس
مُحرّم الحَرام :ایثار، قربانی، اتحادِ امت، باہمی رواداری اور پُرامن بقائے باہمی کا درس

 

زیبا نسیم- ممبئی
 مُحرّم الحَرام ایثار، قربانی، اتحادِ امت، باہمی رواداری اور پُرامن بقائے باہمی کا درس دیتا ہے۔ مدینہ طیبہ سے میدان کربلا تک اسلام کے لیے عظیم قربانیوں کی تاریخ اسی ماہِ مبارک سے وابستہ ہے۔محرم کا مہینہ اسلامی تہذیب و ثقافت میں انسانیت ساز، زنده  جاوید ایک تاریخ ہے۔ محرم خونین انقلاب کا آغاز اور مظلومیت کی زندہ و تابندہ مثال ہے۔ اس ماہ محرم میں حق کو باطل پر فتح و کامیابی، انسانیت کو زندگی اور ابدی حیات ملی ہے۔
ماہ محرم ایک بے مثال اور لاجواب انقلاب کا مجموعہ ہے
محرم الحرام کا مہینہ ان حرمت والے مہینوں میں سے ایک ہے جن کے بارے میں اللہ رب العزت کا فرمان ہے ’’یقینا اللہ تعالیٰ کے یہاں مہینوں کی تعداد بارہ ہے اور (یہ تعداد) اسی دن سے قائم ہے جب سے آسمان وزمین کو اللہ نے پیدا فرمایا تھا، ان میں سے چارحرمت و ادب والے مہینے ہیں،یہی درست اورصحیح دین ہے، تم ان مہینوں میں اپنی جانوں پرظلم وستم نہ کرو‘‘ (التوبہ36-)۔ بخاری کی ایک روایت ہے، ابوبکرؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمؐ نے فرمایا’’سال کے بارہ مہینے ہیں جن میں سے چارحرمت والے ہیں ، تین تومسلسل ہیں ، ذوالقعدہ ، ذوالحجہ ، اورمحرم ، اورجمادی اورشعبان کے مابین رجب کامہینہ جسے رجب مضرکہا جاتا ہے‘‘(صحیح بخاری حدیث نمبر 2958)۔ ایک روایت میں ہے کہ رسولؐ نے فرمایا’’فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز نماز تہجد ہے اور رمضان کے بعد افضل روزے محرّم الحرام کے ہیں‘‘۔ابن عباسؓ سے مذکورہ آیت’’ تم ان مہینوں میں اپنے آپ پرظلم وستم نہ کرو‘‘ کے بارے میں مروی ہے کہ’’ان مہینوں میں گناہ کاارتکاب کرنا بھی عظیم گناہ کا باعث قرار دیا اوران میں اعمال صالحہ کرنا بھی عظیم اجروثواب کاباعث بنایا‘‘۔ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول ؐ نے فرمایا کہ ’’افضل سب روزوں میں رمضان کے بعد محرم کے روزے ہیں جو اللہ کا مہینہ ہے اور بعد نماز فرض کے تہجد کی نماز ہے‘‘(مسلم2755-)۔
مُحرم الحرام کی فضیلت و اہمیت
اس ماہ کو حضور اکرم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کا مہینہ قرار دیا ہے۔ یوں تو سارے ہی دن اور مہینے اللہ تعالیٰ کے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت کرنے سے اس کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے ۔ ماہِ محرم کی ایک فضیلت یہ بھی ہے کہ اس مہینے کا روزہ رمضان المبارک کے بعد سب سے افضل ہے۔حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ میں حضور اکرم ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ایک صاحب نے آکر پوچھا ،یا رسول اللہ ﷺ! رمضان کے مہینے کے بعد کس مہینے کے روزے رکھنے کا آپ مجھے حکم دیتے ہیں تو حضور اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر رمضان کے مہینے کے بعد تمہیں روزہ رکھنا ہو تو محرم کا روزہ رکھو ،اس لئے کہ یہ اللہ کا مہینہ ہے۔ اس میں ایک دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ایک قوم کی توبہ قبول کی اور دوسرے لوگوں کی توبہ بھی قبول فرمائیں گے۔ (ترمذی) جس قوم کی توبہ قبول ہوئی، وہ قوم بنی اسرائیل ہے،
سماجی تربیت و نصیحت کا مرکز
 دراصل کربلا ،تنہا جہاد و شجاعت کا میدان نہیں ہے بلکہ سماجی تربیت و  وعظ ونصیحت کا مرکز بھی ہے۔ تاریخ کربلا میں امام حسین علیہ السلام کا یہ پیغام  پوشیدہ ہے۔ امام علیہ السلام نے شجاعت، ایثار اور اخلاص کے سائے میں اسلام کو نجات دینے کے ساتھ لوگوں کو بیدار کیا اور ان کی فکری و دینی سطح کو بھی بلند کیا،تاکہ یہ سماجی و جہادی تحریک ،اپنے نتیجہ کو حاصل کرکے نجات بخش بن سکے
ایک تاریخی حقیقت
جیساکہ اس کی وضاحت حدیث میں ہے کہ عاشورہ کے دن اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون اور اس کے لشکر سے نجات دی تھی۔یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ انسانی تاریخ کے آغاز اور خود آسمان و زمین کی تخلیق سے قبل اللہ تعالیٰ کے طے کردہ نظام کے مطابق ایک سال میں بارہ مہینے ہی ہوا کرتے تھے اوران بارہ مہینوں میں چار مہینے ایسے ہیں کہ اسلام کی آمد سے قبل عہد جاہلیت کے عرب کفار مکہ بھی ان کی حرمت اور احترام کے قائل تھے۔ چناں چہ وہ اپنی جاری جنگوں کو بھی ان مہینوں میں موقوف کردیا کرتے تھے۔ قرآن پاک نے اس کی طرف ’’منھا اربعۃ حرم‘‘کے الفاظ سے اشارہ فرمایا ہے۔ ان چار مقدس مہینوں کے اندر محرم الحرام کا مہینہ شامل ہے او رحسن اتفاق سے اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہی محرم الحرام کہلاتا ہے۔
محرم میں اہم واقعات
تاریخ انسانی کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ بات بھی اُبھر کر سامنے آتی ہے کہ اسلام سے قبل اس مہینے کے اندر بہت سارے اہم واقعات پیش آتے رہے ہیں۔ تاریخ کی کتابوں نے اس مہینے میں پائے جانے والے جن واقعات کو محفوظ کیا ہے، ان میں سے چند درج ذیل ہیں:٭…اس مہینے میں ﷲتعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول فرمائی۔ ٭… حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی طوفان نوح کے بعد جودی نامی پہاڑ کے قریب آکر ٹھہری ۔ ٭… حضرت یوسف علیہ السلام کو اس مہینے میں قید سے نجات حاصل ہوئی۔ ٭…حضرت ایوب علیہ السلام کو طویل بیماری کے بعد شفا نصیب ہوئی۔ ٭…حضرت یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ سے نجات ملی۔ ٭… حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون اور آل فرعون سے اس طرح نجات ملی کہ ﷲتعالیٰ نے فرعون سمیت اس کی فوجوں کو بحیرہ قلزم میں غرق کردیا ۔ ٭… حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ آسمان پر اُٹھا لیا گیا وغیرہ وغیرہ۔مندرجہ بالا تمام واقعات کا تعلق دین اسلام کی آمد سے قبل سےہے اور تاریخی کتابوں سے بھی یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ یہ تمام واقعات محرم الحرام کی دسویں تاریخ جسے عاشوراء یا عاشورۂ محرم کے نام سے  یاد کیا جاتا ہے، کو پیش آئے تھے۔
شہادت کا دن اور عبادت
دس محرم الحرام کی تاریخ وہ ہے جس میں نواسۂ رسول ؐ،جگر گوشۂ بتولؓ،سیدنا حضرت حسینؓ شہادت کے مرتبے پر فائز ہوئے۔ قیامت کا وقوع بھی دس محرم الحرام اور جمعہ کے دن ہوگا۔عاشوراء محرم، محرم الحرام کی دسویں تاریخ کا نام ہے اور محرم الحرام کے پورے مہینے میں جو تقدیس آئی ہے، وہ اس تاریخ اور دن کی وجہ سے ہے اور اسے مقدس جانتے ہوئے گزشتہ آسمانی مذاہب سے تعلق رکھنے والی قومیں بطور شکرانہ اس کا روزہ رکھتی رہی ہیں۔
حضوراکرمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی کہ آئندہ سال دس محرم الحرام کے روزے کے ساتھ میں نو محرم الحرام کا روزہ بھی اگر اس دنیا میں رہا تو ضرور رکھوں گا۔(صحیح مسلم جلد اوّل صفحہ 359)چنانچہ اس ارشاد مبارک کی روشنی میں فقہائے کرام یہ مسئلہ بتاتے ہیں کہ صرف دس محرم الحرام کا روزہ نہ رکھا جائے، بلکہ اس کے ساتھ ایک اور روزہ بھی ملالیا جائے یعنی محرم الحرام کی نو اور دس تاریخ کا روزہ رکھے یا دس اور گیارہ تاریخ کا روزہ رکھے۔ نبی اکرم ﷺ نے اس روزے کے حوالے سے ارشاد فرمایا کہ جو شخص عاشورہ کا روزہ رکھے، مجھے ﷲتعالیٰ کی ذات سے امید واثق ہے کہ اس کے پچھلے ایک سال کے گناہ معاف کردیے جائیں گے۔‘‘(صحیح مسلم جلد۱ ۔صفحہ۳۶۷)فقہائے کرام نے گناہوں کی معافی کے حوالے سے یہ وضاحت فرمائی ہے کہ ان  سے مراد ﷲتعالیٰ کی چھوٹی چھوٹی نافرمانیاں ہیں، بڑے بڑے گناہ تو خود قرآن و حدیث کی تصریح کے مطابق بغیر توبہ کے معاف نہیں ہوتے۔ جہاں تک ﷲ کے بندوں کے حقوق غصب کرنے کا تعلق ہے ،وہ صاحب حق کے معاف کیے بغیر معاف نہیں ہوتے، بعض روایات میں اس دن کے حوالے سے یہ بات ملتی ہے کہ ’’اگر کوئی شخص اپنے اہل خانہ پر عام دنوں کے مقابلے میں بہتر کھانے (اپنی استطاعت کے مطابق) کا انتظام کرے تو ﷲتعالیٰ پورا ایک سال اس کے رزق میں برکت عطا فرمائے گا۔‘‘ (مشکوٰۃ)مندرجہ بالا دو باتیں اس اعتبار سے اہمیت کی حامل ہیں کہ ان کا ذکر اور عمل قرون اُولیٰ میں بھی ثابت ہے۔ اس مہینے کے حوالے سے تاریخ اسلام کے دو اہم ترین واقعے یہ ہیں: یکم محرم الحرام کو امیرالمؤمنین، خلیفہ راشد سیدنا عمر بن خطاب ؓکی شہادت کا واقعہ پیش آیا۔ سیدنا عمر بن خطاب ؓ تاریخ اسلام کی وہ مایہ ناز شخصیت ہیں کہ جن کے اسلام قبول کرنے کے لیے اور اسلام کو تقویت پہنچانے کے لیے نبی اکرمﷺ نے بطور خاص ﷲتعالیٰ سے دعا فرمائی۔(ترمذی )
تاریخی روایات کے مطابق سیدنا حسین بن علی ؓ 4ھ میں شعبان کی 5تاریخ کو پیدا ہوئے۔ رسول ﷲﷺ نے شہد چٹایا، اُن کے منہ کو اپنی بابرکت زبان سے تَر فرمایا، دعائیں دیں اور حسین نام رکھا۔ آپ نے کم و بیش (روایات کے مختلف ہونے کی وجہ سے ) حیات نبوی کے کئی سال دیکھے۔ یہ اُن کی صحابیت کی ایک مضبوط دلیل اور علامت ہے۔آپ کا جسم پاک رسول ﷲﷺ کے جسداطہر کے مشابہ تھا۔ آپ اپنے بھائی کے ساتھ بچپن میں نبی اکرمﷺ کے سینہ مبارک پر سوار ہوکر کھیلا کرتے تھے اور ان سے محبت کا اظہار فرماتے ہوئے نبی اکرمﷺ نے فرمایا : یہ دونوں (حسنؓ و حسینؓ) دنیا میں میرے پھول ہیں۔(طبرانی فی المعجم) نیز رسول ﷲﷺ کا یہ ارشاد مبارک حدیث کی کتابوں میں جگمگاتا ہوا ہمیں ملتا ہے اور حسنؓ و حُسینؓ جوانانِ جنت کے سردار ہیں۔ کتبِ حدیث میں شہیدِ کربلا،حضرت امام حسینؓ کے بے شمار فضائل و مناقب بیان کیے گئے ہیں۔ کربلا سے، ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اگر سماج میں اصلاح یا انقلاب منظور نظر ہو تو سماج میں موجود ہر ایک طبقہ سے مدد حاصل کرنی چاہئے۔ تاکہ ہدف میں کامیابی حاصل ہو سکے