آواز دی وا ئس/ نیو دہلی
ہندوستان کے گرینڈ مفتی شیخ ابو بکر احمد نے وزیر اعظم نریندر مودی سے حالیہ ملاقات کو مثبت اور بامعنی قرار دیا ہے۔ یہ ملاقات تقریباً آدھا گھنٹہ جاری رہی جس میں مختلف اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔
گرینڈ مفتی کے مطابق کیرالہ میں حال ہی میں منعقد ہونے والے عوامی سفر کے دوران مختلف طبقات کے لوگوں سے ملاقاتیں کی گئیں، ان کے مسائل سنے گئے اور عوامی جذبات کو سمجھا گیا۔ انہی نکات کو وزیر اعظم کے سامنے بھی پیش کیا گیا تاکہ زمینی سطح کے مسائل حکومتی توجہ حاصل کر سکیں۔

.webp)
تعلیم کے فروغ پر گفتگو
انہوں نے آواز کو ایک خاص ملاقات میں بتایا کہ وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ تعلیم کے موضوع پر بھی خاص گفتگو ہوئی۔ دینی اور عصری تعلیم کو ساتھ لے کر چلنے کی جو کوششیں جاری ہیں، ان پر روشنی ڈالی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے مختلف حصوں میں تعلیمی اداروں کے قیام اور ان کے فروغ کے لیے مسلسل جدوجہد کی جا رہی ہے تاکہ نئی نسل کو متوازن اور جامع تعلیم فراہم کی جا سکے۔ان کا کہنا تھا کہ تعلیم ہی وہ بنیاد ہے، معاشرے کو ترقی اور استحکام فراہم کرتی ہے، اس لیے اس میدان میں مزید تعاون اور توجہ کی ضرورت ہے۔
.webp)
سماجی ہم آہنگی پر زور
سماجی ہم آہنگی پر گرینڈ مفتی نے واضح کیا کہ باہمی اختلاف اور جھگڑے سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق محبت، برداشت اور خیر خواہی کے جذبے کے ساتھ کام کرنے سے ہی معاشرہ آگے بڑھ سکتا ہے۔ ملک کے موجودہ ماحول میں سب کو چاہیے کہ وہ نفرت کے بجائے محبت ورواداری کا پیغام عام کریں تاکہ قومی یکجہتی مضبوط ہو۔
ماہِ رمضان کا پیغام
رمضان المبارک کے حوالے سے گرینڈ مفتی نے کہا کہ یہ مہینہ انسانوں کے درمیان تعلق مضبوط کرنے کا ذریعہ ہے۔ رمضان امیر اور غریب کے درمیان فاصلے کم کرتا ہے اور دلوں میں ہمدردی اور ایثار کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ اس بابرکت مہینے میں محبت، بھائی چارہ اور باہمی تعاون کو فروغ دیا جائے
گرینڈ مفتی کانتھاپورم ابوبکر احمد کی وزیر اعظم نریندر مودی سے اہم ملاقات، مسلمانوں کے اہم مسائل پر
— Awaz-The Voice URDU اردو (@AwazTheVoiceUrd) February 16, 2026
تبادلہ خیا لhttps://t.co/eNqnpbEm6P#modi #shiekhAbubkr pic.twitter.com/4YoL2N2leb
گرینڈ مفتی شیخ ابو بکر احمد کی گفتگو سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ان کی ترجیح تعلیم کا فروغ، سماجی ہم آہنگی کی مضبوطی اور محبت کے پیغام کو عام کرنا ہے۔ وزیر اعظم سے ملاقات کو انہوں نے ایک مثبت قدم قرار دیا جس کا مقصد عوامی مسائل کو اجاگر کرنا اور ملک میں اتحاد و یکجہتی کو فروغ دینا ہے۔