محبت ہی انسانیت کا مشترکہ راستہ ہے۔ سنگاپور میں صوفی مسافر کا عالمی پیغام

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 13-06-2026
محبت ہی انسانیت کا مشترکہ راستہ ہے۔ سنگاپور میں صوفی مسافر کا عالمی پیغام
محبت ہی انسانیت کا مشترکہ راستہ ہے۔ سنگاپور میں صوفی مسافر کا عالمی پیغام

 



سنگاپور : سنگاپور کے معروف ثقافتی اور ادبی مرکز دی ویگا بونڈ کلب میں یکم جون کی شام ایک منفرد اور یادگار روحانی نشست منعقد ہوئی جس نے حاضرین کے دلوں پر گہرے نقوش چھوڑے۔ ’’سینہ بہ سینہ۔ دل سے دل تک‘‘ کے عنوان سے منعقد ہونے والے اس خصوصی روحانی مکالمے میں دنیا بھر میں صوفی روایت کے نمائندہ اور درگاہ اجمیر شریف کے چھبیسویں سجادہ نشین حاجی سید سلمان چشتی نے محبت۔ اخوت۔ انسانیت اور روحانی بیداری کا پیغام پیش کیا۔

اس تقریب میں کاروباری شخصیات۔ سفارت کاروں۔ مخیر حضرات۔ سماجی کارکنوں۔ ماہرین صحت و فلاح اور مختلف مذاہب و تہذیبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ چند گھنٹوں کے لیے ایسا محسوس ہوا کہ ایک منتشر اور منقسم دنیا کے شور میں خاموشی اور سکون کا چراغ روشن ہوگیا ہو۔

آٹھ سو سالہ روحانی ورثے کے امین

حاجی سید سلمان چشتی درگاہ خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کی آٹھ صدیوں پر محیط روحانی روایت کے امین ہیں۔ وہ صرف ایک مذہبی یا روحانی شخصیت کے طور پر تقریب میں شریک نہیں ہوئے بلکہ چشتی سلسلے کی اس تعلیم کے نمائندہ بن کر آئے جس کا بنیادی پیغام محبت۔ خدمت خلق اور انسانیت کی بھلائی ہے۔تقریب کے دوران انہوں نے کہا کہ دنیا میں معلومات کی کمی نہیں بلکہ حقیقی انسانی تعلق اور قلبی موجودگی کا فقدان ہے۔

انہوں نے کہا۔’’دنیا معلومات کی کمی کی وجہ سے نہیں ٹوٹی بلکہ حقیقی موجودگی کی کمی کے باعث بکھری ہوئی ہے۔ جب ایک دل دوسرے دل سے بغیر کسی غرض اور بغیر کسی حفاظتی دیوار کے ملتا ہے تو یہی تصوف کا راستہ ہے۔ یہی خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیم ہے۔ محبت کے بارے میں جاننے نہیں بلکہ خود محبت بننے کے لیے آئیے۔‘‘

ہرجیت بیدی گرچا کی میزبانی اور فکری رہنمائی

اس روحانی مکالمے کی نظامت گرچا گروپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ہرجیت بیدی گرچا نے کی۔ انہوں نے گفتگو کو فکری گہرائی اور وقار کے ساتھ آگے بڑھایا۔اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ جب انہوں نے پہلی بار ’’سینہ بہ سینہ‘‘ کی اصطلاح سنی تو انہیں لگا کہ وہ اس کا مفہوم جانتے ہیں لیکن اس محفل میں بیٹھ کر انہوں نے اس احساس کو حقیقت میں محسوس کیا۔انہوں نے کہا کہ سنگاپور مختلف تہذیبوں اور قوموں کے درمیان پل تعمیر کرنے والا شہر ہے اور اس شام یہ پل انسان کے باطن تک جا پہنچا۔ان کے مطابق دی ویگا بونڈ کلب ہمیشہ سے فنون لطیفہ۔ ادب۔ موسیقی۔ ثقافت اور مکالمے کا مرکز رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس نوعیت کا روحانی اجتماع اس مقام کے مزاج سے مکمل ہم آہنگ تھا۔

ہندوستانی ہائی کمیشن کے نمائندے کی شرکت

تقریب میں سنگاپور میں ہندوستانی ہائی کمیشن کے فرسٹ سیکریٹری اجے سنگھ نے بھی شرکت کی۔ ان کی موجودگی نے اس روحانی اور ثقافتی تقریب کو سفارتی اہمیت بھی عطا کی۔

صوفی مسافر کا پیغام۔ سفر کبھی ختم نہیں ہوتا

تقریب کے دوران حاجی سید سلمان چشتی نے اپنی گفتگو میں تصوف کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔انہوں نے کہا۔’’ایک مسافر کبھی منزل پر نہیں پہنچتا۔ یہی اس سفر کی خوبصورتی ہے۔ جہاں تلاش کرنے والے دل جمع ہوتے ہیں وہاں پہلے ہی روحانیت کی خوشبو موجود ہوتی ہے۔ ہم صرف اس خوشبو کا تعاقب کرتے ہیں۔‘‘اپنے روحانی سلسلے کے بارے میں انہوں نے کہا۔’’یہ ایک مقدس امانت ہے۔ جیسے سورج روشنی دیتا ہے۔ دریا بہتا ہے اور زمین سب کو اپنے دامن میں جگہ دیتی ہے۔ یہ سلسلہ ہمارا نہیں بلکہ محبوب حقیقی کی امانت ہے۔ ہم صرف ایک خالی بانسری ہیں۔ نغمہ کسی اور کا ہے۔‘‘

محبت سب کے لیے۔ نفرت کسی سے نہیں

موجودہ عالمی حالات اور بڑھتی ہوئی تقسیم کے تناظر میں حاجی سلمان چشتی نے چشتی سلسلے کے بنیادی اصول ’’سب سے محبت۔ کسی سے عداوت نہیں‘‘ کو اختیار کرنے کی تلقین کی۔انہوں نے کہا کہ ’’اگر آپ اس اصول کو اپنی زندگی کے صرف ایک مشکل تعلق پر بھی دیانت داری کے ساتھ نافذ کرلیں تو دیواریں گرنے لگتی ہیں۔ اس لیے نہیں کہ دوسرا شخص بدل جاتا ہے بلکہ اس لیے کہ آپ خود بدل جاتے ہیں۔‘‘

جدید زندگی میں سکون کا راستہ

روحانی سکون کے حوالے سے انہوں نے خاموشی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’’خاموشی کی زبان سیکھیں۔ صبح بیدار ہوں تو شکرگزاری کے ساتھ اور رات سوئیں تو صبر کے ساتھ۔ تصوف آپ سے دنیا چھوڑنے کا مطالبہ نہیں کرتا بلکہ دنیا کے اندر رہتے ہوئے پوری طرح بامقصد اور باحضور زندگی گزارنے کی دعوت دیتا ہے۔‘‘

مولانا رومی کے پیغام کے ساتھ اختتام

تقریب کے اختتام پر حاجی سید سلمان چشتی نے حضرت مولانا جلال الدین رومی کے مشہور پیغام کا حوالہ دیتے ہوئے حاضرین کو امید اور محبت کا درس دیا۔انہوں نے کہا کہ دروازہ مایوسی کا نہیں بلکہ امید کا ہے اور انسان کو ہر حال میں رحمت اور محبت کی طرف لوٹ آنا چاہیے۔

مختلف مذاہب اور تہذیبوں کے درمیان ہم آہنگی کا پیغام

اپنی گفتگو میں انہوں نے قرآن کریم کی تعلیم ’’تمام مخلوق اللہ کا کنبہ ہے‘‘۔ سناتن روایت کے ’’وسودھیو کٹمبکم‘‘ یعنی پوری دنیا ایک خاندان ہے۔ صوفی نظریہ وحدت الوجود۔ ادویت ویدانت کے تصور وحدت اور سکھ مت کے ’’ایک نور‘‘ کے پیغام کو یکجا کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب مختلف راستے نہیں بلکہ ایک ہی حقیقت کی مختلف زبانیں ہیں۔انہوں نے کہا۔’یہ سب ایک ہی دریا کی مختلف تعبیریں ہیں جو آخرکار ایک ہی سمندر یعنی محبت کی طرف رواں ہے۔‘‘

جذباتی ملاقات اور یادگار اختتام

تقریب کے بعد منعقد ہونے والی ملاقات اور خیرسگالی نشست اپنے مقررہ وقت سے کہیں زیادہ دیر تک جاری رہی۔ بہت سے شرکاء جذباتی ہوگئے۔ بعض کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے جبکہ کئی افراد خاموش تفکر میں ڈوبے رہے۔ یہ روحانی اجتماع نہ صرف مختلف ثقافتوں اور مذاہب کے درمیان مکالمے کا ذریعہ بنا بلکہ اس نے اس حقیقت کو بھی اجاگر کیا کہ محبت۔ احترام اور انسانیت آج بھی دنیا کو جوڑنے کی سب سے بڑی طاقت ہیں۔

دی ویگا بونڈ کلب کا تعارف

دی ویگا بونڈ کلب سنگاپور کا ایک معروف ثقافتی اور ادبی مرکز ہے جو فنون لطیفہ۔ موسیقی۔ ادب اور تخلیقی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے جانا جاتا ہے۔ یہ ادارہ دنیا بھر کے فنکاروں۔ ادیبوں۔ مفکرین اور ثقافتی شخصیات کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔یہ رپورٹ اخباری فیچر اور خصوصی رپورٹنگ کے انداز میں تیار کی گئی ہے اور اردو اخبارات یا ویب پورٹل میں اشاعت کے لیے موزوں ہے۔