کولکاتہ: آواز دی وائس
پروفیسر قیصر شمیم ہوں ، پروفیسراعزاز افضل یا علقمہ شبلی اور سالک لکھنوی - ہم نے اپنی آنکھوں سے جن چار ستونوں کو دیکھا ہے ,آپ یقین کیجیے کہ ان کے بعد ہماری اس دنیا میں کوئی ایسا استاد موجود نہیں رہا جو زبان و ادب کے طالب علم کو صرف روزی روزگار سے نہیں بلکہ تہذیب سے جوڑنے کا کام کرتا ہو۔ وہ تعلیم جس میں ادب نہ ہو وہ سوائے نقصان کے فائدہ نہیں پہنچا سکتی
ان تاثرات کا اظہار ارشاد آرزو نے کولکاتہ کے مسلم انسٹی ٹیوٹ میں بزرگ اساتذہ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کیا،اس پروگرام میں پروفیسر قیصر شمیم اور پروفیسر اعزاز افضل کو خصوصی طور پر یاد کیا گیا۔ ان کے ایسے شاگرد بھی اس موقع پر موجود تھے جو اپنے اساتذہ سے برسوں تعلیم حاصل کرنے کے بعد آج مختلف شعبوں میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ جن میں ایک نام پروفیسر نعیم انیس کا ہے جو مسلم انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ ہیں جو شہر میں اردو ادب کی سرگرمیوں کی روح مانے جاتے ہیں

ارشاد آرزو نے مزید کہا کہ پروفیسر قیصر شمیم اور پروفیسراعزاز افضل جیسے اساتذہ صرف روزگار کے لیے تعلیم دینے والے استاد نہیں تھے بلکہ وہ اپنے شاگردوں کو تہذیب اور ادب سے جوڑتے تھے۔ ایسی تعلیم جس میں ادب اور تربیت نہ ہو وہ انسان کے لیے زیادہ فائدہ مند نہیں ہو سکتی۔انہوں نے تعلیم اور تربیت کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح کشتی بنانا کافی نہیں بلکہ اسے چلانے کا ہنر بھی آنا چاہیے اسی طرح تعلیم حاصل کرنا کافی نہیں بلکہ اس کے ساتھ ادب اور تربیت بھی ضروری ہے۔مقرر نے اس بات پر زور دیا کہ اگر ہم اپنی تہذیب کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں اور اپنے اسلاف کی روایت کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں تو ہمیں ادب کی تعلیم کو ضروری بنانا ہوگا۔ خاص طور پر بچوں کو اردو زبان اور اردو تہذیب سے جوڑنا ہماری ذمہ داری ہے۔
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ مغربی بنگال کی سرزمین صدیوں سے علم و ادب کا گہوارہ رہی ہے۔ یہاں کی دھرتی ہی فکر انگیز ہے اور اس کی فضاؤں میں وحشت کا نغمہ گونجتا ہے۔ ٹیگور کے گیت کانوں میں رس گھولتے ہیں اور یہاں کے دلوں میں انسانی ہمدردی کے جذبات سمندر کی بیکراں لہروں کی طرح موجزن رہتے ہیں۔ یہی وہ دانش کدہ علم و آگہی ہے جہاں غالبِ دوراں وحشت کلکوتوی کو عزت و توقیر ملی۔ یہی وہ دیار ہے جہاں پرویز شاہدی اور جمیل مظہری جیسے ممتاز سخنوروں کو پلکوں پر بٹھایا گیا اور ان کی قدر افزائی کی گئی۔ بنگال کی سرزمین گویا اپنے دامنِ محبت میں علم و ادب کے ان روشن ستاروں کو سمیٹے ہوئے ہے جن سے زبان و ادب کی آبرو قائم ہے۔
.webp)
پروفیسر اعزاز افضل کے حوالے سے
مقررین نے پروفیسر اعزاز افضل کو ان بلند پایہ اساتذہ اور ادبی شخصیات میں شمار کیا جنہوں نے اپنے شاگردوں کو صرف کتابی علم نہیں دیا بلکہ ان کی فکری اور ادبی تربیت بھی کی۔انہوں نے کہا کہ آج ایسے اساتذہ سے محرومی ہمارے لیے بڑا نقصان ہے۔ اگر نئی نسل کو ایسے استاد اور رہنما میسر نہ ہوں تو وہ اپنی تہذیبی اور ادبی جڑوں سے دور ہو سکتی ہے۔
شاگردوں کا ماننا ہے کہ ہم پروفیسر اعزاز افضل کو بجا طور پر بنگال کا نمائندہ شاعر کہہ سکتے ہیں جنہوں نے بیسویں صدی میں اردو ادب کو وقار و اعتبار بخشا۔ مشہور ترقی پسند شاعر پرویز شاہدی کے بعد مغربی بنگال کے ادبی افق پر جو ستارے جھلملاتے ہیں ان میں ایک اہم اور باوقار نام پروفیسر اعزاز افضل کا ہے۔پروفیسر اعزاز افضل کی حیثیت بنگال کے ادبی منظرنامے پر ایک ممتاز شاعر و ادیب کی ہی نہیں بلکہ زبان و ادب کے ایسے محسن کی بھی ہے جنہوں نے ایک طویل عرصے تک درس و تدریس کے مقدس پیشے سے وابستہ رہ کر نہ صرف اپنے پیشے سے انصاف کیا بلکہ نسل در نسل ذہنوں کی آبیاری بھی کی۔
شاگردوں کا ماننا ہے کہ اعزاز افضل نے بنگال کی اردو غزل کو ایک نیا تیور عطا کیا۔ انہوں نے انسان اور اس سے وابستہ مسائل کو نئے استعاروں اور علامتوں کے ذریعے گہرائی اور معنویت کے ساتھ پیش کیا۔ ان کی جدید غزل میں ترقی پسندانہ خیالات کا اظہار نمایاں طور پر ملتا ہے۔اعزاز افضل ترقی پسند فکر اور اشتراکی نظریات سے متاثر رہے لیکن ان کا شعری لہجہ اور اسلوب اپنی نوعیت میں جدید اور منفرد رہا ۔ انہوں نے روایت سے رشتہ برقرار رکھتے ہوئے عصری احساسات اور جدید فکر کو اپنی شاعری کا حصہ بنایا اور یوں ان کی غزل میں روایت اورجدت کا ایک خوب صورت امتزاج پیدا ہوا۔
یاد رہے کہ مغربی بنگال کے اردو شعرا میں اعزاز افضل کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ عملی زندگی میں وہ کلکتہ یونیورسٹی کے شعبۂ اردو سے وابستہ رہے۔ تاہم ان کی اصل شناخت ان کی وہ ادبی و تخلیقی کاوشیں ہیں جن کی بدولت اردو دنیا میں انہیں ایک الگ اور منفرد مقام حاصل ہوا۔ انہوں نے بڑی فن کاری اور سلیقے کے ساتھ شاعری میں ترقی پسند موضوعات کو جگہ دی۔ ان کی شاعری میں ترقی پسند فکر محض ایک نظریاتی نعرے کی صورت میں نہیں بلکہ انسانی احساسات اور زندگی کے حقیقی تجربات کے ساتھ گھل مل کر سامنے آتی ہے۔ یہی وصف ان کی شاعری کو انفرادیت عطا کرتا ہے اور بنگال کی اردو شاعری کو ترقی پسند فکر و شعور سے آشنا کرنے میں ان کے کردار کو نمایاں بناتا ہے۔
نسیم اشک نے پروفیسر اعزاز افضل کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ اعزاز افضل ایک قادرالکلام شاعر تھے۔ انہوں نے جس صنفِ سخن کو بھی چھوا اس میں اپنی فنی صلاحیت اور ہنرمندی کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ان کے رثائی کلام میں ان کے نظریات اور فکری رجحانات کا واضح اور بے باک اظہار ملتا ہے۔ انہوں نے اپنے خیالات کو نہایت صراحت اور مؤثر انداز میں پیش کیا ہے۔ ان کے رثائی کلام میں فکر کی گہرائی اور احساس کی شدت نمایاں ہے اور یہی خصوصیات اسے اردو ادب کے سرمائے میں ایک گراں قدر اضافے کی حیثیت عطا کرتی ہیں۔
.webp)
پروفیسر قیصر شمیم کی یادیں
اس پروگرام میں شاگردوں نے اپنے اساتذہ کی خوبیوں کو یاد کیا ،ان کی خدمات کو ذکر کیا اور ان کی شخصیت کے روشن پہلووں کو اجاگر کیا ۔ ڈاکٹر محمد شمشیر عالم نے کہا کہ قیصر شمیم ایسی شخصیات میں شامل تھے جن کی پوری زندگی ایک ایسے علمی ورثے کی تعمیر میں گزری جس کے اثرات آج بھی نظر آتے ہیں۔ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ آہستہ آہستہ ایسی تربیت یافتہ نسل کم ہوتی جا رہی ہے۔ ہمارے درمیان اب ایسے اساتذہ بھی موجود نہیں ہیں جو قیصر شمیم کی طرح تعلیم کے ساتھ تہذیب اور ادب کی تربیت بھی دیتے تھے۔ ان شخصیات سے محرومی دراصل ایک بڑے علمی اور تہذیبی نقصان کا سبب ہے۔ قیصر شمیم نے خود کو زبان و ادب اور علم و فن کی خدمت کے لیے وقف کردیا تھا۔ وہ با کمال شاعر و ادیب اور با ذوق قاری بھی تھے۔ ان کی وابستگی درس وتدریس سے رہی ۔ معلم ہونے کے باعث مطالعے کے تئیں وہ ثروت مند رہے تھے۔ انہوں نے اردو کے روایتی اور غیرروایتی رجحانات کے ساتھ ساتھ فارسی، بنگلہ، ہندی اور انگریزی کے رجحانات کا بھی مطالعہ سعادت مندی سے کیا تھا
یاد رہے کہ قیصر شمیم کی پوری عمر مغربی بنگال کی سرزمین پر اردو ادب اور بالخصوص شاعری کی ریاضت میں گزری ہے۔ ان کی تصنیف کردہ کتابوں میں ساعتوں کا سمندر 1971۔ تری دھارا 1994۔ سانس کی دھار 1997۔ پہاڑ کاٹتے ہوئے 1998 اور زمین چیختی ہے 2021 خاص اہمیت کی حامل ہیں۔یہ کتابیں محض قیصر شمیم کے شعری مجموعے نہیں بلکہ ایک شاعر کی زندگی کی روداد بھی ہیں۔ ان کے صفحات میں شاعر کے طویل ادبی سفر۔ اس کے فکری ارتقا۔ عہد کے بدلتے ہوئے حالات اور زندگی کے مختلف تجربات کی جھلک نمایاں طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ ان کی شاعری ذاتی احساسات اور داخلی کیفیات کے ساتھ ساتھ اپنے عہد کے اجتماعی مسائل اور انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں کی ترجمانی بھی کرتی ہے۔
یاد رہے کہ صوفیہ محمود نے اپنے ایک مضمون میں قیصر شمیم کے بارے میں لکھا ہے کہ ۔۔۔استاد شاعر ہونا فخر کی بات ہے مگر قیصر شمیم ایسے استاد شاعر ہیں کہ شاگرد کو ان کے شاگرد ہونے پر فخر ہے۔ بنگال اور بیرون بنگال کے سو سے زائد شعرا کو ان سے شرف تلمذ حاصل ہے۔ وہ خود بھی شمس مظفر پوری، پروفیسر عباس علی خاں بیخود اور پرویز شاہدی کے شاگرد رہے ہیں۔ جس شاعر نے تین تین اساتذہ سے تربیت پائی ہو اور جس نے سو سے زائد شاگرد کی تربیت کی ہو۔ ایسے شاعر کا شعری رموزو نکات سے بخوبی واقف ہونا فطری ہے

علقمہ شبلی اور سالک لکھنوی کی باتیں
مقررین نے علامہ شبلی کو ان عظیم شخصیات میں شمار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اساتذہ کے پاس جانے اور ان سے علم حاصل کرنے کے لیے شاگردوں کو بڑی محنت کرنا پڑتی تھی۔گفتگو کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ آج اگر نئی نسل ایسے اساتذہ سے محروم ہوتی جا رہی ہے تو یہ صرف تعلیمی نقصان نہیں بلکہ تہذیبی نقصان بھی ہے۔ سالک لکھنوی کا ذکر بھی ان بزرگ ادبی شخصیات کے طور پر کیا گیا جنہوں نے ادب اور زبان کی خدمت کے ساتھ نئی نسل کی تربیت میں کردار ادا کیا۔مقرر نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے اساتذہ اور ادیبوں کو یاد کرنا دراصل استاد کے مقام اور ادب کی روایت کا احترام کرنا ہے۔ سالک لکھنوی کو مغربی بنگال کے نمایاں نظم گو شعرا میں شمار کیا جاتا ہے اور ان کا شعری مجموعہ کلام بھی معروف ہے۔
شاعری اور مشاعرے کے بارے میں
ڈاکٹر رضی شہاب کہا کہ عام طور پر مشاعروں میں زیادہ تر وہی لوگ نظر آتے ہیں جن کی شناخت بنیادی طور پر شاعر کی حیثیت سے ہوتی ہے۔ لیکن اساتذہ بھی شاعری اور ادب سے گہرا تعلق رکھتے ہیں اور انہیں بھی ایسی ادبی محفلوں میں زیادہ نمایاں طور پر شامل کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ جو استاد ادب پڑھاتا ہے اور شاعری بھی کرتا ہے اگر اسے ایسے مواقع ملیں تو عوام کو اس کے ادبی کام سے بھی واقفیت حاصل ہوگی۔ مقررین نے شعرا کو دو طبقات میں تقسیم کرنے کی بات کی۔ ایک وہ لوگ ہیں جو شاعری کو روزی روٹی کا ذریعہ بناتے ہیں اور دوسرا وہ طبقہ ہے جو شاعری کو ادب اور تہذیب کی خدمت سمجھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ شاعری کو صرف روزگار کا ذریعہ بنا لیتے ہیں ان کے یہاں کبھی کبھی محفل کو خوش کرنے کے لیے ایسے جملے بھی آ جاتے ہیں جن کا ادبی معیار بلند نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس سنجیدہ ادبی روایت سے وابستہ شعرا پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے الفاظ کا انتخاب سوچ سمجھ کر کریں۔ شاعر اور استاد دونوں کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ان کی گفتگو اور شاعری کا اثر بچوں اور نئی نسل پر پڑتا ہے۔اس لیے مشاعروں میں بھی الفاظ کا انتخاب احتیاط سے ہونا چاہیے تاکہ کوئی ایسی بات سامنے نہ آئے جس سے بچوں کے ذہن پر منفی اثر پڑے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی تہذیب اور زبان کی حفاظت کرنی ہوگی کیونکہ بچے بڑوں کو دیکھ کر بولنا اور لکھنا سیکھتے ہیں۔