کشمیر کی ادبی جمالیاتی وراثت روایت اور جدت کے امتزاج کا مظہر ہے: پروفیسر عرفان احمد ملک

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 24-07-2026
کشمیر کی ادبی جمالیاتی وراثت روایت اور جدت کے امتزاج کا مظہر ہے: پروفیسر عرفان احمد ملک
کشمیر کی ادبی جمالیاتی وراثت روایت اور جدت کے امتزاج کا مظہر ہے: پروفیسر عرفان احمد ملک

 



سری نگر: ’’ہر تہذیب کی اپنی جمالیات ہوتی ہے جو ڈکشن کے تنوع کی شکل میں ہمارے سامنے آتی ہے، ادب کی بنیاد جمالیات پر ہی ہے، یہی وجہ ہے کہ یہ مختلف پیرایوں میں ادبی اصناف اور تحریکات میں ظاہر ہوتی رہتی ہے۔

یہ بات پروفیسر عرفان احمد ملک، صدر شعبہ اردو، یونیورسٹی آف کشمیر نے چنار بک فیسٹیول کے چھٹے روز سری نگر کے آتھر کارنر میں منعقدہ ’کشمیر کی ادبی جمالیاتی وراثت: روایت، جدت اور اثرات‘ کے موضوع پر مذاکرے کے دوران کہی۔

پروفیسر عرفان احمد ملک کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب مذاکرے میں کشمیر کی ادبی جمالیات، اس کی تاریخی روایت اور جدید ادبی رجحانات کے باہمی تعلق پر گفتگو ہو رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہر تہذیب اپنی مخصوص جمالیاتی حس رکھتی ہے، جو زبان اور ڈکشن کے تنوع کے ذریعے ادب میں ظاہر ہوتی ہے۔ ان کے مطابق ادب کی بنیاد ہی جمالیات پر قائم ہے اور یہی وجہ ہے کہ جمالیاتی عناصر مختلف ادبی اصناف اور تحریکات میں مختلف پیرایوں کے ساتھ جلوہ گر ہوتے رہتے ہیں۔

چنار بک فیسٹیول کے چھٹے دن منعقدہ اس علمی و ادبی مذاکرے میں پروفیسر روپ کرشن بھٹ، سابق پروفیسر سی آئی آئی ایل، وزارت تعلیم، حکومت ہند اور معروف اسکالر و ماہر لسانیات، پروفیسر نذیر آزاد، ممتاز ادیب، ماہر تعلیم، محقق و ناقد، اور پروفیسر عرفان احمد ملک، صدر شعبہ اردو، یونیورسٹی آف کشمیر نے بطور پینلسٹ شرکت کی، جبکہ جموں و کشمیر کلچرل اکادمی سے وابستہ ادبی شخصیت اور ایڈیٹر ڈاکٹر سلیم سالک نے مذاکرے کی نظامت کی۔

مذاکرے کے دوران ماہرین نے کشمیر کی ادبی جمالیاتی وراثت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی اور اس کے تاریخی تناظر کا جائزہ لیتے ہوئے یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ کشمیر کی ادبی جمالیات روایت اور جدت کے ساتھ کس حد تک ہم آہنگ رہی ہے۔

پروفیسر روپ کرشن بھٹ نے جمالیات کے عناصر، منظرنامے، تصوف، رومانس اور تخیل کی مختلف جہات پر گفتگو کرتے ہوئے کشمیر کی ادبی جمالیات کی روایت اور تاریخ کو اجاگر کیا۔ انہوں نے بالخصوص کشمیری لوک ادب کی جمالیات پر خصوصی توجہ مرکوز کی۔ سنسکرت اور فارسی جمالیات کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ گزشتہ پانچ سو برس کے دوران کشمیری ادب میں جمالیاتی تصورات کس طرح اثرانداز ہوتے رہے ہیں۔ انہوں نے شعرا، بالخصوص چکبست کی شاعری میں کشمیر کی جمالیات کے اظہار پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی۔

پروفیسر نذیر آزاد نے جمالیات کے وسیع تر تناظر پر اظہار خیال کرتے ہوئے یونانی اور سنسکرت جمالیات کے مختلف تصورات پر گفتگو کی اور ہندوستانی ماہرین جمالیات کی تعریفات کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے پرفارمنگ آرٹس میں جمالیاتی عناصر کی نشاندہی کرتے ہوئے کشمیری شاعر رسول میر کی شاعری کا جائزہ بھی پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ جب مسلمانوں کے لیے پرفارمنگ آرٹس ممنوع قرار دیے گئے تو شاعروں نے الفاظ کے ذریعے وہی کام انجام دینا شروع کیا جو پرفارمنگ آرٹس کے ذریعے کیا جاتا تھا۔ انہوں نے تصوف کی شاعری میں پوشیدہ جمالیاتی پہلوؤں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اسے صرف تصوف کے عنوان تک محدود کرنا اس کی اہمیت کو کم کرنا ہے، بلکہ اسے مغربی ماہرین جمالیات کے نظریات کی روشنی میں بھی دیکھنے کی ضرورت ہے، جس سے اس میں موجود جمالیات کی متعدد پرتیں مزید واضح ہوسکتی ہیں۔

پروفیسر عرفان احمد ملک نے اپنے خطاب کو آگے بڑھاتے ہوئے کشمیر کی ادبی جمالیات کو اجاگر کرنے والے اہم ادبا کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کرشن چندر، حامدی کاشمیری اور شکیل الرحمن سمیت ان اہل قلم کی خدمات کو نمایاں کیا جنہوں نے کشمیر کی ادبی جمالیات کے مختلف گوشوں اور زاویوں کو اپنی تحریروں میں پیش کیا۔

مذاکرے کے دوران منعقدہ انٹریکٹو سیشن میں سامعین نے مقررین سے موضوع سے متعلق مختلف سوالات کیے، جن کے مقررین نے تفصیلی اور تسلی بخش جوابات دیے۔

مذاکرے کے بعد کلچرل اسٹیج کے وسیع ہال میں شامِ صوفیانہ کا بھی انعقاد کیا گیا۔ صوفی غزل گلوکارہ ڈاکٹر نیتا پانڈے اور ان کی پوری ٹیم نے اپنی شاندار پیشکش سے محفل کو یادگار بنا دیا۔ صوفیانہ کلام اور دلکش پرفارمنس سے سامعین خوب محظوظ ہوئے اور پروگرام نے چنار بک فیسٹیول کے چھٹے دن کی ادبی و ثقافتی سرگرمیوں کو ایک خوبصورت اختتام بخشا۔