عامر سہیل وانی
کشمیر ، صدیوں سے تنوع کے دھاگوں سے بنی ہوئی مذہبی رنگا رنگی، ثقافتی تکثیریت، نظریاتی ہم آہنگی اور اتحاد کا گہوارہ رہا ہے۔ اسلام کی آمد سے پہلے یہاں بدھ مت اور ہندو مت کا بقائے باہمی اور پھر ہندو مت، کشمیری شیو ازم اور اسلام کا پرامن بقائے باہمی رہا ہے۔ اندرونی نظریاتی تنوع میں کشمیر کی شمولیت کی طاقت اور تکثیریت کے احترام کا یہ زندہ ثبوت ہے۔ کشمیر وہ سرزمین ہے جہاں ایک ہندو گلوکار، وجے کمار مالا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نعتیں پڑھا کرتے تھے اور مسلمان استاد جیسے گلزار گنائی، تبت بقال اور دیگر نے کچھ مقبول ترین اور پسندیدہ بھجن اور لیلا گائے ہیں، جو ہندو دیوتاؤں اور دیویوں کے لیے نام وقف ہیں۔ کشمیر تکثیریت کی انوکھی روایت کی نمائندگی کرتا ہے جہاں میر غلام رسول نازکی، ایک مشہور عالم اور شاعر اپنے ہندو ساتھیوں کو شیو مت اور ہندو فلسفہ کی باریکیوں کے بارے میں سمجھاتے تھے۔ یہاں لوگ اپنے مذہبی اور نظریاتی پس منظر کی تفریق کے بغیر جمع ہوتے تھے۔
وقت کی مشکلات کے باوجود، کشمیر اپنی ثقافتی اور مذہبی تکثیریت کے نشانات کو برقرار رکھے ہوئے ہے اور دنیا کو سبق سیکھنے کی دعوت دیتا ہے۔ کوہ ماراں/ہری پربت کی پہاڑی پر مندر شریقہ اور شیخ حمزہ مخدومی کے مزار کا بقائے باہمی ان شیطانوں کی آنکھوں میں جھانکتا ہے جو کشمیر کو فرقہ واریت کے برش سے رنگنے کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ یہ دنیا کے لئے ایک مثال ہے۔ گویا کشمیر باقی دنیا کو چیلنج کرتا ہے "مجھے اس ہم آہنگی کی ایک مثال لاؤ"۔ تقسیم ہند1947 کے موقع پر، جب ملک کے باقی حصوں میں فرقہ پرست طاقتیں سرگرم تھیں اور فرقہ وارانہ تشدد روز کا معمول تھا، کشمیر نے بقائے باہمی، بھائی چارے، ہم آہنگی کی ایک اعلیٰ مثال پیش کی اور امن و خوشحالی کے دشمنوں کو شکست دی۔ . یہ بغیر کسی وجہ کے نہیں تھا کہ مہاتما گاندھی نے کہا تھا کہ ’’میرے لیے ہندو کشمیری اور مسلمان کشمیری میں فرق کرنا واقعی مشکل ہے۔ آپ لوگ ایک زبان بولتے ہیں اور ایک ثقافت رکھتے ہیں۔ جب کہ باقی ملک فرقہ وارانہ آگ میں جل رہا ہے، مجھے امید کی کرن صرف کشمیر میں نظر آرہی ہے۔
کشمیر میں پائیدار اور متاثر کن فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور امن کے ماحول کی ضمانت دینے والی حقیقت یہ تھی کہ کشمیر، صدیوں سے، روحانیت اور تصوف کے راستے کو برقرار رکھتا اور اس پر عمل کرتا رہا ہے۔ لوگ جس بھی مذہب کی پیروی کرتے تھے، صوفیانہ خیالات نے ہمیشہ دلوں پر راج کیا اور روحانی روشن خیالی کو مذہبی درجہ بندی کی چوٹی پر رکھا گیا۔ یہ بالکل فطری ہے کہ کسی بھی جگہ جہاں لوگ تصوف کی پیروی کرتے ہیں اور اس کی قدر کرتے ہیں، خواہ وہ کسی بھی مذہبی فرقے سے تعلق رکھتے ہوں، امن پسند ہوتے ہیں اور سب کے لیے ہمدردی اور بھائی چارے کے جذبات رکھتے ہیں اور کسی کے لیے انتقام اور دشمنی کے سیاہ جذبات نہیں۔
کشمیر روحانیت اور تصوف کے رنگوں میں اتنا رنگا ہوا تھا کہ اس نے روحانیت کے ایک منفرد طبقے کو تیار کیا اور پروان چڑھایا، جسے "رشی ازم" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ عدم تشدد کے فلسفے کی کشمیر کے رشیوں نے اتنی گہرائی سے تبلیغ کی اور اس پر عمل کیا کہ ان میں سے اکثر نے شکار اور نان ویج کھانے کی عادات کو چھوڑ دیا اور خشک پتوں اور پھلوں اور رزق کے دوسرے آسان اور معمولی ذرائع پر انحصار کیا۔ اسلام کی آمد کے ساتھ ہی کشمیری تصوف نے اسلامی تصوف کے بہترین عناصر کو جذب کیا اور جہاں ضروری محسوس کیا وہاں کچھ تبدیلیاں کیں۔ لیکن مجموعی طور پر مذہبی ساخت صوفیانہ رہی، کیونکہ وسطی ایشیائی مبلغین جو کشمیر آئے تھے، وہ تمام صوفیانہ تھے اور رِشی ازم کے مقامی فلسفے کی طرف گہرے کھنچے چلے آئے تھے ۔
للیشوری - 14 ویں صدی عیسوی کی مشہور صوفی شاعرہ تھیں جن کی میر سید علی ہمدانی - کے درمیان تاریخی ملاقاتیں تھیں۔ کشمیر میں اسلام کے سرپرست مبلغ کا ایک مذہب کی طرف سے دوسرے مذہب کے لیے پیش کردہ باہمی احترام کا یہ اظہار تھا اور دونوں کے بعد بھی ان کے پیروکاروں کے لیے مثال قائم کرتی ہیں۔ اسلام، کشمیر میں اپنے ایک سماجی و ثقافتی وژن کے ساتھ آیا تھا اور ان برائیوں سے پاک کرنے کے لیے آیا تھا جو اس کی روح کو تڑپا رہے تھے، لیکن اس کے بعد کے ارتقاء سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام اور ہندو مت نے ایک دوسرے پر مثبت اثر ڈالا۔ یہ مذہبی تکثیریت کا وہ اظہار ہے، جس کی مثال شاید دنیا میں کہیں اور نظر نہ آئے۔
کشمیر میں اسلامی ارتقاء کی اس طویل تاریخ میں، کبھی کبھی مسلم حکمرانوں کی طرف سے اپنی ہندو رعایا کے اخراج کی مذہبی کاروائیاں دیکھنے کو ملتی ہیں، لیکن یہ بڑی حد تک سیاسی طور پر کارفرما طرز عمل تھے جو مذہب سے قانونی حیثیت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ کسی بھی طرح سے یہ چھٹپٹ واقعات کشمیر میں ہندو مسلم بقائے باہمی اور تکثیریت کے جشن کی تاریخ کی نمائندگی یا وضاحت نہیں کرتے ہیں۔
پچھلے کچھ سالوں سے، خاص طور پر کشمیر میں شورش کے عروج کے بعد سے، وادی سے کشمیری پنڈتوں کے بڑے پیمانے پر انخلاء سے تکثیریت کی میراث کو نہ صرف نقصان ہوا ہے،بلکہ اس بہانے بیرونی طاقتوں نے فرقہ پرستی کے شعلے بھڑکانے کی کوشش بھی کی ہے اور دوسرے شرپسندوں کو کشمیر کی میراث اور ہندو مسلم بھائی چارے کے ذخیرے کو داغدار کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔
ایک ایسا ماحول بنادیا گیا ہے، کہ کل تک جو ہندو و مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ کھانا کھاتے تھے، ایک دوسرے کے تہواروں اور غم میں شرکت کرتے تھے ،اب ایک دوسرے سے خوفزدہ ہیں اور دونوں برادریوں کے درمیان نوری سال کی جدائی کا خاکہ بنا دیا گیا ہے۔ کشمیر میں علیحدگی پسندی کے عروج کے ساتھ، کشمیر کی سیاسی، مذہبی اور نظریاتی تحریک کی باگ ڈور مذہبی انتہا پسندوں بشمول سلفیوں کے ہاتھ میں چلی گئی۔ اس میں وہابی، ارکان جماعت اسلامی اور دیگرشامل ہیں۔
موجودہ سماجی و سیاسی انتشار کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، انہوں نے کشمیری معاشرے کے تانے بانے میں گھس کر سادہ اور کم پڑھے لکھے عوام کو اپنے انتہاپسند عقیدوں کے جال میں پھنسایا ہے۔ یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ وہابی نظریے نے اس سے پہلے عرب کے قدیم معاشرے کو کس طرح تباہ کیا تھا اور کس طرح جماعت اسلامی نے پاکستان میں انتہا پسندی کو روزمرہ کا حصہ بنا دیا تھا۔ انہوں نے اپنے طریقوں سے کشمیر میں امن اور بقائے باہمی کے تانے بانے کو پارہ پارہ کرنے کی کوشش کی اور عوام میں ایک ایسا طبقہ پیدا کیا جو نہ صرف دوسرے مذہب کو غلط سمجھتا تھا،بلکہ اپنے ہم مذہبوں کی مذمت اور تنقید بھی کرتا تھا۔
جماعت اسلامی کے پیروکاروں اور وہابیوں دونوں نے اپنے ساتھی متصوفانہ بھائیوں کو کافر اور مشرک قرار دیا اور ان کے خلاف فتوے جاری کیے، اور بعض اوقات لڑائیوں بھی کیں۔ یہ سب کچھ ایک ایسے مقام پر ہو رہا تھا جس نے اب تک مذہبی تنوع کا تحفظ اور احترام کیا تھا اور تکثیریت و تنوع کے اصولوں کو برقرار رکھا تھا۔
مذہبی عدم برداشت کے ایک ہی جھٹکے میں نہ صرف مذہبی بقائے باہمی کے سنہری اصول کو ختم کر دیا گیا بلکہ مسلمان ہی اپنے ہم وطن مسلمانوں سے خوفزدہ نظر آنے لگے، اب انہوں نے ایسے نظریات کی حمایت شروع کر دی ہے جو امن اور ہم آہنگی کے لیے مہلک ہیں۔ کشمیر کا مذہبی حلقہ اب تک رومی، سعدی، حافظ، ابن عربی، للا دید، شیخ العالم اور دیگر صوفیاء کی تحریروں سے پروان چڑھا تھا، جن کی کتابوں میں انسانیت، بھائی چارے، ہمدردی کے اسباق درج تھے، اب وہ مولانا مودودی، محمد بن عبدالوہاب، ابن تیمیہ اور دیگر کے کاموں سے متاثر ہونے لگا، جن کے لٹریچر نے مجموعی طور پر مسلمان اور غیر مسلم ہی نہیں خود مسلمانوں کے درمیان باہمی نفرت اور عداوت کے ایجنڈے کو آگے بڑھایا۔ 90 کی دہائی میں وادی میں جو لٹریچر آنا شروع ہوا تھا ہمیں واضح طور پر ظاہر کر سکتا ہے کہ چیزیں کہاں غلط ہوئیں۔ یہ وہ دور تھا جب جنگ کے اندھے جذبے اور ’’مقدس جنگ‘‘ کے بہانے لوگوں کا قتل کیا گیا۔ اس نے فہم و فراست کے اسباق کو زائل کر دیا۔ اس دور نے تکثیریت اور کشمیر میں شمولیت کے تانے بانے کو بدترین طور پر مٹایا اور اس سے اخراج، عدم برداشت، ستم پروری اور بے راہ روی کے دور کا آغاز ہوا۔ اس دور سے لگنے والے داغ ہماری اجتماعی یادداشت پر تازہ ہیں اور کمیونٹیز کے درمیان خلیج کو پر کرنے کی ہر کوشش کو انہی بنیاد پرست قوتوں نے ناکام بنایا ہے جنہوں نے ہمیں پہلے جدا کیا تھا۔
کشمیر ہمیشہ اپنے خوبصورت ماضی اور مذہبی تکثیریت کے سنہری دور کو یاد کرتا ہے اور باضمیر روحیں ان دنوں کو ترستی ہیں جب ہری پربت پر چڑھنے والا ایک کشمیری ہندو سلطان العارفین کے مزار پر حاضری دیتا تھا اور مسلمان بھی ان کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے ہیرتھ (مہا شیو راتری) جیسے تہوار میں شامل ہوتے تھے۔
مذہبی انتہا پسندی نے نہ صرف ہمارے ذہنوں کو مشتعل کیا ہے بلکہ ہم آہنگی اور یگانگت کی ہماری شاندار روایت سے محروم کر کے ہمارے دلوں کو بھی زخمی کر دیا ہے۔ اس نے ہمیں لاکھوں ٹکڑوں میں بانٹ دیا ہے، ہمارے دلوں میں بداعتمادی اور دشمنی کے بیج بوئے ہیں اور ہماری رگوں سے محبت کا رس نکال لیا ہے - وہ محبت جو کسی بھی مذہب کا بنیادی جوہر ہے۔
ہو سکتا ہے کہ ہم ماضی کو ختم نہ کر سکیں، لیکن ہم اپنے مستقبل کو ضرور بہتر بنا سکتے ہیں اور یہ بہتری اس احساس سے آنی چاہیے کہ کشمیری پنڈت ہمارے اعضاء ہیں اور ہم بطور کشمیری ایک جسم ہیں۔ اگر ہم اختلافات کو نہیں مٹا سکتے تو کم از کم ہمیں ان کو اس مقام تک نہیں پھیلانا چاہیے، جہاں وہ تقسیم، اختلاف اور تنازعہ کا زخم بن جائے۔ زماں ومکاں کی کشمکش میں مبتلا ہوکر جدا ہونے والےکشمیر کے ہندو اور مسلمانوں کو یہ فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ وہ کشیپا، نند ریشی، لل دید اور دیگر اہل روحانیت کی معنوی اولاد ہیں۔