کانوڑ یاترا نے دیا ہندو مسلم اتحاد اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا پیغام

Story by  منصورالدین فریدی | Posted by  [email protected] | Date 07-08-2026
کانوڑ یاترا نے دیا ہندو مسلم اتحاد اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا پیغام
کانوڑ یاترا نے دیا ہندو مسلم اتحاد اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا پیغام

 



 نئی دہلی:کانوڑ یاترا کے دوران اس سال مختلف ریاستوں اور شہروں سے ایسی متعدد تصاویر اور واقعات سامنے آئے جنہوں نے ہندو مسلم اتحاد اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی ایک مثبت مثال پیش کی۔ کئی مقامات پر مسلم برادری کے افراد نے کانوڑیوں کا والہانہ استقبال کیا اور ان کی خدمت کو انسانیت اور بھائی چارے کی علامت قرار دیا۔اتر پردیش۔ ہریانہ۔ دہلی۔ اتراکھنڈ اور دیگر علاقوں میں مختلف سماجی تنظیموں اور مقامی مسلم نوجوانوں نے کانوڑ یاترا کے راستوں پر استقبالیہ کیمپ قائم کیے۔ ان کیمپوں میں یاتریوں کو ٹھنڈا شربت۔ پانی۔ پھل اور دیگر ضروری اشیا فراہم کی گئیں تاکہ طویل پیدل سفر کرنے والے عقیدت مندوں کو راحت مل سکے۔

کئی مقامات پر مسلم برادری کے لوگوں نے کانوڑیوں پر پھولوں کی بارش کرکے ان کا استقبال کیا۔ اس موقع پر دونوں برادریوں کے لوگوں نے ایک دوسرے سے گلے مل کر محبت۔ احترام اور بھائی چارے کا اظہار کیا۔ یہ مناظر وہاں موجود لوگوں کے لیے بھی خوشگوار حیرت کا باعث بنے۔بعض مقامات پر نوجوانوں نے مشترکہ طور پر خدمت کے کیمپ چلائے جہاں ہندو اور مسلمان مل کر یاتریوں کو پانی اور شربت پیش کرتے رہے۔ کئی جگہوں پر مقامی مساجد کے قریب بھی پینے کے پانی اور آرام کی سہولت فراہم کی گئی جسے یاتریوں نے سراہا۔

سماجی کارکنوں کا کہنا تھا کہ خدمت کا جذبہ کسی مذہب کا محتاج نہیں ہوتا۔ انسانیت کی خدمت ہی سب سے بڑی عبادت ہے اور ایسے مواقع باہمی اعتماد اور قومی یکجہتی کو مضبوط کرتے ہیں۔کانوڑ یاترا کے دوران سامنے آنے والے یہ مناظر اس حقیقت کی یاد دلاتے ہیں کہ ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب آج بھی زندہ ہے۔ اختلافات کے باوجود عام لوگ محبت۔ رواداری اور باہمی احترام کے ذریعے ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔

ایک ویڈیو اتر پردیش سے سامنے آئی ہے، جہاں ایک جنازے کے سبب کانوڑ یاترا کو روکا گیا ۔ جنازے کے ساتھ مسلمانوں کا ایک بڑا گروپ سڑک   کو پار کرتا ہے ۔ کانوڑ پورے احترام کے ساتھ رک جاتے ہیں اور جنازے کو گزرنے دیتے ہیں ۔ جس سے اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ  زمینی حقیقت ویسی نہیں جیسے کہ سوشل میڈیا پر بیان کی جاتی ہے 

 کانوڑ یاترا کے دوران پیش آنے والا ایک دل چھو لینے والا واقعہ ہندو مسلم اتحاد اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی خوبصورت مثال بن کر سامنے آیا۔ یاترا کے دوران ایک ہندو عقیدت مند اور ایک مسلم سماجی کارکن کے درمیان ہونے والی گفتگو نے محبت بھائی چارے اور قومی یکجہتی کا پیغام دیا۔گفتگو کے دوران کانوڑ یاترا پر نکلے عقیدت مند نے بتایا کہ وہ ہریانہ کے ایک گاؤں سے بابا بھولے ناتھ کی عقیدت میں پیدل سفر کر رہے ہیں اور مسلسل چار دن سے راستے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ 9 یا 10 تاریخ تک اپنی منزل پر پہنچ جائیں گے۔اس موقع پر مسلم سماجی کارکن نے عقیدت مند کا احترام کرتے ہوئے انہیں پانی پیش کیا اور خیر مقدم کیا۔ دونوں نے ایک دوسرے کے مذہبی جذبات کا احترام کرتے ہوئے محبت اور بھائی چارے کا اظہار کیا۔

بات چیت کے دوران عقیدت مند نے کہا کہ مذہب کے نام پر نفرت پھیلانے والوں کو سمجھنا چاہیے کہ انسانیت سب سے بڑی پہچان ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے ساتھ مختلف سماجی سرگرمیوں میں مسلم برادری کے افراد بھی شامل رہتے ہیں اور سب مل کر خدمت خلق انجام دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد میں ہندو اور مسلمان ایک ساتھ کھڑے تھے اور آج بھی ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے یہی اتحاد ضروری ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ وہ مختلف مواقع پر بلا امتیاز مذہب ضرورت مند خاندانوں کی مدد کرتے ہیں اور ان کے نزدیک ہر انسان برابر ہے۔ خدمت خلق ہی ان کا اصل مقصد ہے۔ گفتگو کے اختتام پر دونوں نے عوام سے اپیل کی کہ محبت اتحاد اور بھائی چارے کے ایسے پیغامات کو زیادہ سے زیادہ عام کیا جائے تاکہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی مزید مضبوط ہو اور نفرت کی سیاست کو شکست ملے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کی اصل طاقت اس کی گنگا جمنی تہذیب اور مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان باہمی احترام اور اتحاد میں پوشیدہ ہے۔

 

کانوڑ یاترا کے دوران مسلم بچے کی ایمانداری کی مثال

کانوڑ یاترا کے دوران ہندو مسلم بھائی چارے اور ایمانداری کی ایک اور خوبصورت مثال سامنے آئی، جہاں ایک مسلم بچے نے ایک کانوڑ یاتری کا گم شدہ پرس تلاش کرکے بحفاظت اس کے مالک کے حوالے کر دیا۔اطلاعات کے مطابق کانوڑ یاتری کا پرس راستے میں کہیں گر گیا تھا۔ پرس میں موبائل فون، آدھار کارڈ، پین کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس، سعودی عرب کا ڈرائیونگ لائسنس اور تقریباً 2500 سے 3000 روپے نقد موجود تھے۔پرس ملنے کے بعد مسلم بچے نے اسے اپنے پاس رکھنے کے بجائے اس کے اصل مالک تک پہنچانے کی کوشش کی۔ جب کانوڑ یاتری کو بلایا گیا تو اسے پرس واپس کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ اطمینان سے اپنا تمام سامان چیک کر لے۔کانوڑ یاتری نے ایک ایک چیز کی باریک بینی سے جانچ کی۔ اس نے کئی مرتبہ پرس کھول کر دیکھا اور تصدیق کی کہ تمام دستاویزات، موبائل فون، نقد رقم اور دیگر قیمتی سامان محفوظ ہیں۔

اپنا سامان مکمل حالت میں واپس ملنے پر کانوڑ یاتری نے مسلم بچے کی ایمانداری اور نیک نیتی کی بھرپور تعریف کی۔ اس نے کہا کہ ایسے لوگ ہی معاشرے میں اعتماد، بھائی چارے اور انسانیت کو زندہ رکھتے ہیں۔موقع پر موجود لوگوں نے بھی مسلم بچے کی دیانت داری کو سراہا اور اس کے جذبے کو ہندو مسلم اتحاد اور باہمی اعتماد کی ایک روشن مثال قرار دیا۔کانوڑ یاترا کے دوران پیش آنے والا یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ محبت، ایمانداری اور انسانیت مذہب سے بالاتر اقدار ہیں، جو مختلف برادریوں کے درمیان اعتماد اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو مضبوط بناتی ہیں۔

 کانوڑ یاترا کے دوران ایمانداری اور بھائی چارے کی مثال

کانوڑ یاترا کے دوران ہندو مسلم بھائی چارے اور ایمانداری کی ایک اور متاثر کن مثال سامنے آئی، جہاں ایک مسلم نوجوان نے سڑک پر ملنے والے پرس اور کاغذات کو اس کے اصل مالک تک پہنچایا اور انعام لینے سے بھی انکار کر دیا۔ واقعے کے مطابق ایک کانوڑ یاتری کا پرس اور پیکٹ  راستے میں گر گئے تھے۔ مسلم نوجوان کو جب یہ ملے تو اس نے فوری طور پر مالک کو تلاش کیا ۔سامان واپس کرتے ہوئے اس نے کہا کہ پہلے اطمینان سے دیکھ لیں کہ یہی آپ کی رقم ہے۔  کانوڑ یاتری نے نوجوان کا شکریہ ادا کیا اور اس کی ایمانداری سے متاثر ہو کر بطور انعام کچھ رقم پیش کرنا چاہی، لیکن نوجوان نے یہ کہہ کر لینے سے انکار کر دیا کہ یہ ہمارے آپسی بھائی چارے کی بات ہے، اس کے لیے کسی انعام کی ضرورت نہیں۔

کانوڑ یاتری نے نوجوان کی دیانت داری کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ آج کے دور میں ایسے ایماندار لوگ بہت کم ملتے ہیں۔ اس نے بار بار نوجوان کا شکریہ ادا کیا، تاہم نوجوان اپنی بات پر قائم رہا اور صرف محبت اور بھائی چارے کو ہی اصل انعام قرار دیا۔ بعد ازاں کانوڑ یاتری نے اظہارِ تشکر کے طور پر نوجوان کو جوس پلانے کی پیش کش کی، جس کے بعد دونوں نے خوش دلی سے ایک دوسرے کا شکریہ ادا کیا۔ کانوڑ یاترا کے دوران پیش آنے والا یہ واقعہ اس بات کی ایک اور مثال ہے کہ محبت، دیانت داری اور باہمی احترام ہی معاشرے کو مضبوط بناتے ہیں اور مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان اعتماد اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دیتے ہیں۔