عامراقبال : نئی دہلی
بہار میں ایک بار پھر ایک عام انسان نے ثابت کر دیا کہ اگر دل میں کچھ کر گزرنے کا جذبہ ہو تو نہ پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ حکومت کی۔ یہاں ہر چند سال بعد ایک ایسا شخص سامنے آتا ہے جو اپنی تکلیف کو دوسروں کی راحت میں بدل دیتا ہے۔
جموئی ضلع کے جھاجھا بلاک کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہنے والے سرفراز انصاری روز صبح اٹھ کر پنچر لگاتے ہیں۔ دن بھر کی محنت سے جو تھوڑی سی کمائی ہوتی ہے اسی سے گھر چلتا ہے۔ نہ کوئی بڑی زمین ہے اور نہ کوئی بڑا کاروبار۔ بس ایک چھوٹی سی دکان اور معمولی آمدنی۔ لیکن اس شخص نے ایسا کام کر دکھایا جسے سن کر آنکھیں نم ہو جاتی ہیں اور دل میں امید جاگ اٹھتی ہے۔
وہ درد بھری رات جس نے سب کچھ بدل دیا۔
سال 2019 کی بات ہے۔ برسات کا موسم تھا۔ آسمان سے موسلا دھار بارش ہو رہی تھی اور ندی اپنے کناروں سے باہر بہہ رہی تھی۔ اسی وقت سرفراز کی ماں اچانک شدید بیمار ہو گئیں۔ حالت نہایت نازک تھی اور ہر لمحہ قیمتی تھا۔گاؤں سے اسپتال پہنچنے کے لیے اس خطرناک ندی کو پار کرنا ضروری تھا کیونکہ وہاں کوئی پل موجود نہیں تھا۔
سرفراز نے ہمت کی اور اپنی بیمار ماں کو گود میں اٹھا کر تیز بہاؤ والی ندی پار کی۔ اندھیری رات تھی۔ پانی کی دھار تیز تھی اور دل میں ماں کو بچانے کی بے چینی تھی۔ مگر اسپتال پہنچتے پہنچتے بہت دیر ہو چکی تھی۔ اسی رات ان کی ماں دنیا سے رخصت ہو گئیں۔اس رات کے بعد سرفراز کے دل میں ایک گہرا درد بس گیا۔ ایک سوال جو انہیں دن رات بے چین رکھتا تھا کہ اگر پل ہوتا تو کیا ماں بچ سکتی تھیں۔ یہی خیال انہیں سکون سے سونے نہیں دیتا تھا۔ جب بھی آنکھ لگتی ماں کا چہرہ سامنے آ جاتا اور وہ جاگ اٹھتے۔
تنکا تنکا جوڑ کر ایک خواب کو حقیقت بنایا۔
اسی دن سرفراز نے عہد کر لیا کہ وہ ندی پر پل بنائیں گے۔ لوگوں نے کہا تم ایک پنچر بنانے والے ہو تم پل کیسے بناؤ گے۔ حکومت سے مطالبہ کرو۔ لیکن سرفراز جانتے تھے کہ سرکاری دروازوں پر انتظار کرتے کرتے عمر گزر جاتی ہے اور لوگ ندی پار کرتے ہوئے جان کا خطرہ مول لیتے رہتے ہیں۔
انہوں نے کسی کا انتظار نہیں کیا۔ روزانہ کی کمائی میں سے تھوڑا تھوڑا بچانا شروع کیا۔ جس دن زیادہ کام ملتا اس دن زیادہ بچت کرتے۔ جس دن کم کمائی ہوتی اس دن خود کم کھاتے مگر بچت جاری رکھتے۔ مہینوں کی محنت کے بعد جب کچھ رقم جمع ہوئی تو انہوں نے گاؤں والوں کے سامنے اپنا خواب بیان کیا۔
گاؤں والوں نے صرف تعریف ہی نہیں کی بلکہ بھرپور ساتھ بھی دیا۔ کسی نے پیسے دیے۔ کسی نے مزدوری کی۔ کسی نے تعمیر کا سامان فراہم کیا۔ بغیر کسی سرکاری مدد کے صرف باہمی تعاون اور محنت سے ایک مضبوط پل تیار ہو گیا۔
ایک پل جو صرف ندی نہیں دلوں کو بھی جوڑتا ہے۔
25 فٹ لمبا 13 فٹ چوڑا اور 8 فٹ اونچا یہ پل آج تقریباً 40 گاؤں کے لیے امید کی کرن بن چکا ہے۔ پہلے برسات کے موسم میں لوگوں کو کئی کلومیٹر کا چکر لگا کر شہر جانا پڑتا تھا یا پھر جان خطرے میں ڈال کر ندی عبور کرنی پڑتی تھی۔
اب اس پل کی وجہ سے بچوں کے لیے اسکول جانا آسان ہو گیا ہے۔ کسان اپنی فصل وقت پر بازار پہنچا سکتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اب کوئی بیمار شخص وقت پر اسپتال پہنچ سکتا ہے۔ وہ تکلیف جو سرفراز نے اپنی ماں کے ساتھ برداشت کی اب کسی اور کو برداشت نہیں کرنی پڑے گی۔مقامی نمائندوں اور حکام نے بھی اس کام کی کھل کر تعریف کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سرفراز کی یہ پہل پورے معاشرے کے لیے ایک مثال ہے۔
سرفراز کی وہ بات جو دل کو چھو لیتی ہے۔
سرفراز کہتے ہیں میں کوئی بڑا آدمی نہیں ہوں لیکن دل بڑا ہونا چاہیے۔ ماں کو کھونے کا دکھ آج بھی ہے مگر یہ اطمینان ہے کہ اب کسی اور کی ماں کو وہ درد نہیں جھیلنا پڑے گا۔وہ مزید کہتے ہیں دنیا کے لیے یہ سیمنٹ اور لوہے کا ایک پل ہے مگر میرے لیے یہ میری ماں کی یاد میں بنایا گیا ایک خواب ہے جو حقیقت بن گیا۔
جس طرح کبھی دشرتھ مانجھی نے اپنی بیوی کی محبت میں پہاڑ کا سینہ چیر دیا تھا اسی طرح سرفراز انصاری نے ماں کی محبت میں ندی پر پل بنا دیا۔ دونوں کے پاس نہ دولت تھی اور نہ طاقت بلکہ ایک مضبوط جذبہ تھا جو ہر رکاوٹ سے بڑا ثابت ہوا۔بہار کی مٹی واقعی خاص ہے۔ یہاں عام لوگ بھی کبھی کبھی تاریخ رقم کر دیتے ہیں۔