مشاعرۂ جشنِ آزادی: ہندی بھون میں اردو مشاعرہ گنگا جمنی تہذیب کی خوبصورت مثال: عاطف رشید

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 24-08-2026
مشاعرۂ جشنِ آزادی: ہندی بھون میں اردو مشاعرہ گنگا جمنی تہذیب کی خوبصورت مثال: عاطف رشید
مشاعرۂ جشنِ آزادی: ہندی بھون میں اردو مشاعرہ گنگا جمنی تہذیب کی خوبصورت مثال: عاطف رشید

 



نئی دہلی: ہندی بھون میں اردو مشاعرے کا انعقاد بذاتِ خود گنگا جمنی تہذیب کی ایک خوبصورت مثال ہے۔ یہ منظر ہندوستان کی مشترکہ تہذیب لسانی ہم آہنگی اور گنگا جمنی روایت کی بہترین عکاسی کرتا ہے۔ مہمانِ خصوصی جناب عاطف رشید نے یہ خیالات اردو اکادمی دہلی کے زیر اہتمام جشنِ آزادی کے موقع پر ہندی بھون میں منعقدہ پروقار مشاعرۂ جشنِ آزادی سے خطاب کرتے ہوئے ظاہر کیے۔

اردو کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کا ذکر کرتے ہوئے عاطف رشید نے کہا کہ بعض اوقات اردو کے ساتھ ناانصافی خود محبانِ اردو کی جانب سے بھی ہو جاتی ہے۔ اس لیے ضرورت ہے کہ محبانِ اردو حکومت کے ساتھ مثبت انداز میں قدم سے قدم ملا کر چلیں۔ حکومت کے اچھے اقدامات کا خیرمقدم کریں اور اردو سے متعلق مسائل کے حل کے لیے تعمیری رویہ اختیار کریں۔ انہوں نے کہا کہ اردو اکادمی کو اس کے شایانِ شان وقار کے ساتھ زندہ رکھنا کسی ایک فرد یا ادارے کی نہیں بلکہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اردو کسی ایک مذہب یا طبقے کی زبان نہیں بلکہ ہر ہندوستانی کی زبان ہے اور اگر ہم سب مل کر کوشش کریں تو اردو کو اس کا کھویا ہوا وقار دوبارہ دلایا جا سکتا ہے۔

مشاعرے میں ملک کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے معروف شعرائے کرام نے شرکت کی اور اپنے منتخب کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔ اس موقع پر شعرو ادب سے وابستہ شخصیات اور ادب نواز سامعین کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔

پروگرام کے آغاز میں اردو اکادمی دہلی کے سکریٹری جناب لیکھ راج نے مہمانِ خصوصی جناب عاطف رشید سابق وائس چیئرمین قومی اقلیتی کمیشن حکومتِ ہند کو پودا پیش کرکے ان کا استقبال کیا۔ اس کے بعد اکادمی کے سینئر کارکنان محمد ہارون اور عزیر حسن قدوسی نے مہمانِ مکرم جناب فیروز بخت سابق چانسلر مولانا آزاد اردو یونیورسٹی اور مہمانِ اعزازی جناب عبدالماجد نظامی ایڈمنسٹریٹو ہیڈ و گروپ ایڈیٹر سہارا انڈیا میڈیا کو پودے پیش کرکے خیرمقدم کیا۔ سکریٹری جناب لیکھ راج نے مشاعرے میں شرکت کرنے والے تمام شعرائے کرام کو پھول پیش کرکے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔

مشاعرے کی صدارت ہندی اور اردو کے معروف شاعر جناب دکشت دنکوری نے کی جبکہ نظامت کے فرائض معروف شاعر جناب اعجاز انصاری نے انجام دیے۔ بعد ازاں سکریٹری اردو اکادمی مہمانانِ خصوصی اور شعرائے کرام نے مشترکہ طور پر شمع روشن کرکے مشاعرے کا باضابطہ افتتاح کیا۔

اس موقع پر اردو اکادمی دہلی کے سکریٹری جناب لیکھ راج نے کہا کہ اردو اکادمی ہر سال جشنِ آزادی کے موقع پر مشاعرے کا انعقاد اس جذبے کے ساتھ کرتی ہے کہ ملک کی آزادی کی قدر و منزلت کو اجاگر کیا جائے اور ان عظیم شہداء مجاہدینِ آزادی اور جانباز سپوتوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا جائے جن کی قربانیوں اور جدوجہد کے نتیجے میں ہمیں آزادی کی نعمت حاصل ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کی حفاظت کرنا اور اس کی اقدار کو آئندہ نسلوں تک منتقل کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

انہوں نے دہلی حکومت کی جانب سے اردو اکادمی کی ادبی و ثقافتی سرگرمیوں اور پروگراموں کی حوصلہ افزائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ دہلی محترمہ ریکھا گپتا اور وزیر فن ثقافت و السنہ حکومتِ دہلی جناب کپل مشرا کی مثبت اور حوصلہ افزا کوششوں کے نتیجے میں اردو اکادمی اپنے ادبی و ثقافتی پروگراموں کو مزید وسعت اور خوبصورتی کے ساتھ پیش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جشنِ آزادی کے موقع پر منعقد ہونے والا یہ مشاعرہ ہر گھر ترنگا مہم کے تحت منعقد کیے جانے والے اہم پروگراموں میں سے ایک ہے جس کے ذریعے قومی یکجہتی اور وطن سے محبت کے جذبے کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

جناب فیروز بخت نے اردو زبان کی ہمہ گیر حیثیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اردو مشترکہ تہذیب محبت رواداری اور باہمی میل جول کی زبان ہے۔ یہ کسی ایک مذہب یا طبقے کی زبان نہیں بلکہ ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کی نمائندہ زبان ہے۔

جناب عبدالماجد نظامی نے کہا کہ یہ مشاعرہ کئی اعتبار سے خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب ہم آزادی کی 80ویں سالگرہ کے موقع پر اس کا انعقاد کر رہے ہیں دوسری جانب جشنِ آزادی کو اردو زبان و ادب کے ذریعے منایا جا رہا ہے اور تیسری اہم بات یہ ہے کہ یہ تقریب ہندی بھون جیسے اہم ثقافتی مرکز میں منعقد کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے لیے خوش بختی کی بات ہے کہ ہمارے بزرگوں نے دوراندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک ایسا جامع دستور مرتب کیا جس کی بدولت آج ہم آزادی کی آٹھ دہائیاں مکمل ہونے کے بعد بھی اپنی زبان اور تہذیبی روایت کے ساتھ اس طرح کے پروگرام منعقد کر رہے ہیں۔

انہوں نے جشنِ آزادی کے مشاعرے کی تاریخی اور تہذیبی روایت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ مشاعرہ کبھی ہندوستان کے سب سے معروف اور بڑے مشاعروں میں شمار ہوتا تھا لیکن افسوس کہ وقت گزرنے کے ساتھ اس کی شہرت اور مقبولیت بتدریج کم ہوتی گئی۔ انہوں نے زور دیا کہ اس تاریخی مشاعرے کی عظمت روایت اور کھوئی ہوئی شہرت کو دوبارہ بحال کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کی جانی چاہئیں۔مشاعرے کے اختتام پر اکادمی کی جانب سے پروگرام کے ناظم اطہر سعید نے مہمانانِ خصوصی شعرائے کرام سامعین منتظمین اور تمام شرکائے پروگرام کا صمیمِ قلب سے شکریہ ادا کیا۔ ان کے کلماتِ تشکر کے ساتھ مشاعرۂ جشنِ آزادی قومی یکجہتی باہمی محبت اور مشترکہ تہذیبی ورثے کے پیغام کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔

مشاعرہ میں پیش کیے گئے منتخب اشعار قارئین کے لیے پیش ہیں:

 اے غزل پاس آ گنگنالوں تجھے

تو سنوارے مجھے میں سنواروں تجھے

(دکشت دنکوری)

کسی کاغذ، کسی تحریر سے پہلے والا

گمشدہ شعر ہوں میں میرؔ سے پہلے والا

(شکیل اعظمی)

نہیں ہے تیری چمک میں کوئی کمی سورج

میں خود وہاں ہوں جہاں روشنی نہیں آتی

(اقبال اشہر)

نہ جانے کون سے لہجے میں سمجھایا گیا ہوگا

وہ خود آیا نہیں ہوگا اسے لایا گیا ہوگا

(خورشید حیدر)

خزاں سے دور رکھنا ہے محبت کے چمن کو بھی

ہواؤں سے بچانا ہے چراغِ انجمن کو بھی

(اعجاز انصاری)

اپنی آنکھوں کو گنہگار نہیں کرسکتا

میں کسی اور کا دیدار نہیں کرسکتا

(جاوید مشیری)

سفر کی ابتدا ہے اور میں ہوں

مخالف راستہ ہے اور میں ہوں

(الطاف ضیاء )

ادھوری پیاس کا چرچہ نہیں کیا جاتا

خود اپنی ذات کو رسوا نہیں کیا جاتا

(علینہ عطرت)

ہم ایسے لوگوں کو دل سے سلام کرتے ہیں

سنہری یادوں کا جو اہتمام کرتے ہی

(وارث وارثی)

یہ میرا دیش ہے اس دیش کے ہر آنگن میں

بیج نفرت کے کسی کو نہیں بونے دوںگی

(نکہت امروہی)

یقین کر کہ تیرے غم شناس ہم بھی ہیں

اداس دیکھ کے تجھ کو اداس ہم بھی ہیں

(شاکر دہلوی)

وفا کا درد بنا ہے سوال آنکھوں میں

اتر گیا ہے کسی کا ملال آنکھوں میں

(ریشماں زیدی)

ترنگا ہے وطن کی شان یا رب

اسے کچھ اور بھی ذیشان کردے

(راہی نظامی)

ابھی سے خوش نہیں ہونا ابھی زنجیر کھولی ہے

فقط زنجیر کھلنے سے کوئی آزاد ہوتا ہے

(ہمانشی بابرہ)

گھر سے چلتا ہوں تو گھر کاٹتا ہے

گھر سے نکلوں تو سفر کاٹتا ہے۔

(شکیل بریلوی)