حیدرآباد : ملک میں افواہوں اور بے چینی کے سبب پیٹرول اور گیس پر بحران پیدا ہوتا نظر آرہا ہے ،لوگ گاڑیوں کے ساتھ پیٹرول پمپ پر بھیڑ لگا رہے ہیں ۔ لیکن جب ہر کوئی پیٹرول کے لیے گھنٹوں قطار میں لگ رہا ہے تو ایک نوجوان ایسا ہے جو ڈلیوری بوائز اور آٹو ڈرائیوروں کو فری پیٹرول مہیا کرا رہا ہے ۔ جس کی ویڈیو نے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا دیا ہے ۔جسے حیدرآباد کے ایک پیٹرول پمپ پر روزگار سے جڑے لوگوں کو پلاسٹک کی بوتلوں میں پیٹرول تقسیم کرتے دیکھا جاسکتا ہے ۔ جنس کا نام سید ایوب ہے جو سوشل ورک کے سبب مشہور بھی ہے اور سوشل میڈیا پر اس کے فالوورز کی تعداد لاکھوں میں ہے
اس ویڈیو میں سید ایوب کو کہتے سنا جاسکتا ہے کہ حیدرآباد میں پچھلے تین دنوں سے پیٹرول کا بحران نظر آرہا ہے اس لیے مفت پٹرول تقسیم کیا جا رہا ہے۔ آپ سب جانتے ہیں کہ پٹرول کی وجہ سے کافی مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ ہماری روزمرہ کی زندگی سے جڑے لوگ جیسے ڈیلیوری بوائز اور دیگر محنت کش جو روز کما کر گھر چلاتے ہیں ان کے لیے حالات کافی مشکل ہو گئے ہیں۔
سید ایوب کے مطابق ہم لوگوں نے ایک مفت پٹرول مہم شروع کی ہے۔ الحمدللہ دو دن سے یہ کام جاری ہے۔ 100 لیٹر 200 لیٹر جتنا ہم سے ہو پا رہا ہے ہم منگوا رہے ہیں اور ضرورت مند لوگوں تک مفت پٹرول پہنچا رہے ہیں۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ پٹرول پمپوں پر بہت بھیڑ ہو رہی ہے اور لوگ پریشان ہیں۔ رات کے وقت پٹرول پمپ بند کیے جا رہے ہیں کیونکہ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جو پٹرول پہلے 3 یا 4 دن میں فروخت ہوتا تھا وہ اب 3 یا 4 گھنٹوں میں ہی ختم ہو رہا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ہم لوگ خاص طور پر آٹو ڈرائیورز اور ڈیلیوری کرنے والے بھائیوں کے لیے یہ مفت پٹرول فراہم کر رہے ہیں کیونکہ ان کے لیے حالات بہت مشکل ہو گئے تھے۔ الحمدللہ یہ کام دو دن سے جاری ہے اور ان شاء اللہ آگے بھی جاری رہے گا۔
ویٹیو میں وہ کہتا ہے کہ ہم لوگ ان شاء اللہ ایک ہیلپ لائن بھی شروع کریں گے تاکہ جہاں بھی کسی کو ضرورت ہو ہمارے لوگ وہاں تک مفت پٹرول پہنچا سکیں۔ چاہے گھر ہو یا راستہ ہم کوشش کریں گے کہ ضرورت مند تک پٹرول پہنچے۔ہندوستان اس وقت ایک مشکل صورتحال سے گزر رہا ہے اور اس وقت ہم سب کو ایک دوسرے کا ساتھ دینے کی ضرورت ہے۔ ایسا نہ سوچیں کہ صرف اپنا کام ہو گیا تو کافی ہے بلکہ جب بھی پٹرول بھروائیں تو تھوڑا اضافی رکھیں تاکہ کسی دوسرے بھائی کے کام آ سکے۔
وہ مزید کہتا ہے کہ اکثر رات کے وقت لوگ گھر سے نکلتے ہیں اور انہیں معلوم نہیں ہوتا کہ پٹرول پمپ بند ہیں جس کی وجہ سے انہیں لمبا فاصلہ پیدل طے کرنا پڑتا ہے۔ کچھ لوگ اسپتال سے واپس آ رہے ہوتے ہیں اور کچھ اپنے رشتہ داروں کے یہاں سے مگر انہیں پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اسی لیے ہم نے یہ قدم اٹھایا ہے اور ان شاء اللہ یہ کام جاری رہے گا۔ آپ سب سے گزارش ہے کہ دعا کریں اور اس نیک کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ جتنا ممکن ہو اپنے طور پر لوگوں کی مدد کریں۔ یہ وقت آزمائش کا ہے اور اس میں ہم سب کو ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہونے کی ضرورت ہے۔