مسلمان متنازع مذہبی مقامات کے معاملات میں عدالت سے باہر تصفیے کی راہ اختیار کریں : فیضان مصطفیٰ کا مشورہ

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 18-05-2026
مسلمان متنازع مذہبی مقامات کے معاملات میں عدالت سے باہر تصفیے کی راہ اختیار کریں : فیضان مصطفیٰ کا مشورہ
مسلمان متنازع مذہبی مقامات کے معاملات میں عدالت سے باہر تصفیے کی راہ اختیار کریں : فیضان مصطفیٰ کا مشورہ

 



 نئی دہلی:آئینی ماہر اور ماہر تعلیم فیضان مصطفیٰ نے ہندستانی مسلمانوں سے کہا ہے کہ وہ ایسے مذہبی مقامات کے تنازعات میں عدالت سے باہر تصفیے کو ترجیح دیں جن کے بارے میں واضح اشارے موجود ہوں کہ وہ پہلے کسی دوسرے مذہب سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو دوسروں کے ساتھ خیرسگالی پیدا کرنی چاہیے تاکہ ان میں موجود اعتدال پسند لوگ آگے آکر تنازعات کے حل میں کردار ادا کریں۔

انہوں نے مسلمانوں سے کہا کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلوں میں ضرورت سے زیادہ خامیاں تلاش نہ کریں اور عبادت گاہوں کے قانون 1991 کو مذہبی مقامات سے متعلق تمام دعوؤں کے مکمل خاتمے کے طور پر پیش نہ کریں۔

فیضان مصطفیٰ نالسر یونیورسٹی آف لا حیدرآباد کے سابق وائس چانسلر اور نیشنل لا یونیورسٹی اوڈیشہ کے بانی وائس چانسلر رہ چکے ہیں۔ وہ ٹیکنالوجی انکیوبیٹر ٹی ہب کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں بھی شامل ہیں۔ حال ہی میں وہ چانکیہ نیشنل لا یونیورسٹی پٹنہ کے وائس چانسلر تھے۔فیضان مصطفیٰ دہلی میں جمعیۃ علمائے ہند کے ایک پروگرام میں بابری مسجد مقدمے پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے موضوع پر خطاب کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ مذہبی مقدمات کو طویل عرصے تک جاری رکھنے سے معاشرے میں کشیدگی بڑھتی ہے اور نفرت پھیلانے والے عناصر اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔جمعیۃ علمائے ہند کا یہ پروگرام بابری مسجد پر سپریم کورٹ کے فیصلے اور عبادت گاہوں کے قانون 1991 کا جائزہ لینے والی ایک رپورٹ کے اجرا کے سلسلے میں منعقد کیا گیا تھا۔اس رپورٹ کے بارے میں جمعیۃ کے صدر محمود مدنی  نے کہا کہ اس کا مقصد آنے والی نسلوں کو بابری مسجد معاملے میں سپریم کورٹ کے "متنازع فیصلے" کی یاد دلانا ہے۔

فیضان مصطفی نے بڑے بے باک انداز میں کہا کہ ۔۔۔ایک فیصلہ تو 6 سال پرانا ہو چکا ہے اور دوسرا اس سے بھی زیادہ پرانا ہے۔لیکن دوسرا فیصلہ جیسا کہ مس سنگھ نے کہا میرے خیال میں بہت جلد نظرثانی کے مرحلے میں جانے والا ہے۔ اس لیے ایسینشیئلٹی ٹیسٹ کے حوالے سے جو بھی شکایات ہیں وہ شاید دور ہو جائیں کیونکہ عدالت اس ٹیسٹ پر دوبارہ غور کرے گی۔میں آپ کی اجازت سے کچھ سخت باتیں کرنا چاہتا ہوں۔ ایک تو یہ کہ جب عبادت گاہوں کا قانون بنا تھا تو مسلم کمیونٹی نے اس کا پورے دل سے خیرمقدم نہیں کیا تھا۔ اس وقت ہماری شکایت یہ تھی کہ اس میں بابری مسجد کو شامل کیا جائے۔ اب ہم کہہ رہے ہیں کہ اس قانون کو مکمل طور پر نافذ کیا جائے۔

کوئی بھی قانون چاہے وہ کتنا ہی مضبوط کیوں نہ ہو ناقابل تنسیخ نہیں ہوتا۔ آئین میں بھی خامیاں ہو سکتی ہیں۔ یہ تو پھر ایک عام قانون ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ رپورٹ کی زبان بہتر کی جا سکتی تھی۔ کئی مقامات پر وہ عدالت کی توہین کے بہت قریب پہنچ جاتی ہے۔ میں اس قسم کی باتوں سے بالکل اتفاق نہیں کرتا۔ ہمیں سپریم کورٹ کے فیصلوں پر علمی اور قانونی تنقید کرنی چاہیے نہ کہ یہ کہنا چاہیے کہ عدالت نے ہندوتوا کی منطق کو قبول کر لیا ہے یا وہ سیاسی بیانیے پر چل رہی ہے اور مسلم شناخت کے خلاف ہو گئی ہے۔ اس طرح کے بہت وسیع اور سخت بیانات کا عدالت میں دفاع کرنا بھی مشکل ہوگا۔ بہتر یہ ہوگا کہ اس رپورٹ کا دوسرا ایڈیشن نکالا جائے اور ایسی باتیں اس سے ہٹا دی جائیں۔

اب جو بات 1991 کے قانون کی ہو رہی ہے تو دیکھیے کوئی بھی قانون بنے اس کی آئینی حیثیت کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ لیکن ہم اصل مسئلے سے ہٹ جاتے ہیں۔ ہمیں دھیان مرکوز رکھنا چاہیے جیسے دروناچاریہ نے ارجن سے کہا تھا کہ صرف پرندے کی آنکھ دکھنی چاہیے۔

تاریخی حقیقت تو یہ ہے کہ حضرت عبدالمطلب ان کے پاس گئے اور کہا کہ ہماری فوج کے لوگوں نے ہماری بکریاں لے لی ہیں۔ ہماری بکریاں واپس کر دو۔ تو اس نے کہا کہ آپ کعبہ کے کیسے ذمہ دار ہیں کہ کعبہ پر حملہ ہونے جا رہا ہے اور آپ کو اپنی بکریوں کی فکر ہے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ بکریاں میری ہیں وہ مجھے واپس کر دو۔ جس کا گھر ہوگا وہ خود اس کی حفاظت کرے گا۔ لیکن ہم نے اس پر طرح طرح کے اشعار بنا دیے کہ اپنے کعبے کی حفاظت تمہیں خود کرنی ہے۔ آسمانی لشکر نہیں آنے والا۔ ایک تو یہ بات ویسے ہی غلط ہے۔ اس میں جو کچھ ہے مولانا بتائیں گے۔

دوسری بات یہ ہے کہ ایسا لگنے لگا ہے جیسے 2026 تک آتے آتے اللہ تعالیٰ کی قدرت کچھ کم ہوگئی ہو کہ اب وہ لشکر نہیں بھیج سکتے۔ وہ لشکر بھیج سکتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے۔ مسلمانوں کو بچایا جا سکتا ہے۔ مسجدیں تو پل بھر میں بن جاتی ہیں۔

ایمان کی حرارت ہونی چاہیے۔ مسجد بننے سے کیا ہوتا ہے۔ بہت سی اور مسجدیں بن جائیں گی۔ اگرچہ اب بننا مشکل ہوگیا ہے لیکن اصل بات یہ ہے کہ ان میں نماز ہو سکتی ہے۔ جو مسلمانوں کے حقوق ہیں دستور کے تحت ان حقوق کا تحفظ ہونا چاہیے۔

رپورٹ میں کہیں یہ بات آئی کہ صاحب وہ ٹائٹل کا مقدمہ تھا اور ٹائٹل کے لیے یہ چار دلائل تھے۔ یہ بات دراصل صحیح نہیں ہے۔ آپ نے ٹائٹل مانگا ہی نہیں تھا۔ آپ تو قبضہ مانگ رہے تھے۔ آپ نے ملکیت کا دعویٰ ہی نہیں کیا۔ آپ کی ریکارڈ کیپنگ اتنی کمزور تھی کہ ہم وقف بائی یوز ثابت نہیں کر پائے۔ اور وقف بائی یوز اس لیے ثابت نہیں ہوسکا کیونکہ انہوں نے کہا کہ فلاں دن فلاں شخص یہاں آکر پوجا کر گیا اور فلاں دن فلاں شخص نے یہاں عبادت کی۔

اس فیصلے میں صحیح یا غلط بہت سی باتیں ہیں اور اس پر بہت تنقید بھی ہوئی ہے۔ وہ تمام علمی تنقیدیں اپنی جگہ درست ہیں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں۔ لیکن ہمیں یہ قبول کرنا چاہیے کہ ہم وقف بائی یوز کے دلائل کو صحیح طریقے سے کیوں پیش نہیں کر پائے کہ ہمارا قبضہ بلا تعطل اور پُرامن تھا۔ اگر یہی قانون بن جائے تو پھر وقف بائی یوز اور ایڈورس پوزیشن کا پورا نظریہ ہی ختم ہوجائے گا۔

آپ نے دیکھا کہ وقف قانون کے معاملے میں کیا ہوا۔ ہم نے اس پر لکھا بھی اور جے پی سی میں جا کر بھی بات کی۔ میں نے زور دے کر کہا کہ یہ قانون ماضی پر لاگو نہیں ہوگا۔ اب تک جو وقف بائی یوز ہوچکے ہیں وہ محفوظ رہیں گے۔ آج کے بعد جو ہوگا اس پر یہ قانون لاگو ہوگا۔

مجھے لگتا ہے کہ ہماری تمام مساجد کے کاغذات اور دستاویزات درست طریقے سے تیار ہونے چاہئیں۔ ہمارا ڈاکیومنٹیشن اتنا مضبوط نہیں ہے۔

دوسری بات یہ کہ بابری مسجد کے معاملے میں مسلمانوں کو سمجھنا چاہیے کہ اب وہ فیصلہ ہوچکا ہے۔ اچھا ہے یا برا آپ کچھ بھی کہیں لیکن اب وہ ملک کا قانون ہے۔ آئین کے آرٹیکل 141 کے تحت وہی قانون مانا جائے گا۔

بابری مسجد کے مقدمے میں تو تاریخی ثبوت موجود ہی نہیں تھے اور عدالت نے بھی اس بات کو مانا۔ اے ایس آئی بھی یہ ثابت نہیں کر پائی اور عدالت نے اسے ریکارڈ پر بھی درج کیا۔ میرے خیال میں بابری مسجد کے معاملے میں مسلمانوں کی بہت بڑی کامیابی ہوئی ہے۔ مسلمانوں کے خلاف سب سے بڑا بیانیہ یہ تھا کہ رام مندر کو گرا کر بابری مسجد بنائی گئی۔ میں نے ہندو اخبار میں اس پر لکھا تھا۔ آٹھ نکات مسلمانوں کے حق میں طے ہوئے تھے۔ سب سے بڑا نکتہ یہی تھا کہ وہاں رام مندر نہیں تھا۔ کسی سنسکرت کتبے میں اس کا ذکر نہیں ہے۔ 18 ویں صدی سے پہلے کسی نے یہ نہیں لکھا کہ وہاں کوئی عظیم رام مندر تھا۔ یہ ساری باتیں بہت بعد میں سامنے آئیں۔

لیکن دوسری جگہوں جیسے کاشی یا متھرا میں تاریخی شواہد موجود ہیں۔ اس لیے مسلم کمیونٹی کو بدلتے ہوئے حالات میں یہ طے کرنا چاہیے کہ اس قسم کی متنازع مساجد کے معاملات میں عدالت سے باہر ثالثی یا مصالحت کے ذریعے ایسا حل نکالا جائے جو دونوں فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔

ہم لوگوں نے اس وقت یہ کہا تھا کہ زمین سے لے کر آسمان تک اور ساتویں آسمان تک ایک بار مسجد بن گئی تو ہمیشہ مسجد ہی رہے گی۔ لیکن دنیا میں ہر جگہ ایسا نہیں ہوتا۔ ایک بار جب انہدام ہوچکا تھا تو ہمارے لیے وہ جگہ پہلے جیسی حیثیت نہیں رکھتی تھی۔ اس وقت سمجھوتے کا امکان موجود تھا۔ میں نے ابھی اس پر لکھا بھی ہے کہ مسجد ایکشن کمیٹی کا رویہ بہت سخت تھا۔

جب آپ ایسی صورتحال میں رہ رہے ہوں تو ایک حقیقت پسندانہ جائزہ بھی لینا چاہیے۔ ہوسکتا ہے اس حقیقت پسندانہ رویے سے بہت سی دوسری مسجدیں بچائی جا سکتی تھیں۔ آج صورتحال بہت کمزور ہوچکی ہے۔ ایک کے بعد ایک فیصلے آرہے ہیں۔

اب جیسے سنبھل کا معاملہ ہے۔ اس میں کوئی فرضی مقدمہ نہیں ہے۔ جج خود وہاں جاچکا ہے۔ اس نے ریکارڈ بھی کیا اور مرادآباد کی عدالت میں فیصلہ بھی دیا۔ پھر اس کی اپیل ہائی کورٹ میں گئی اور وہاں بھی وہ فیصلہ برقرار رہا۔ اس کے بعد بھی کیس دوبارہ کھول دیا گیا۔ نئے جج نے ریس جیوڈیکیٹا کو نہیں مانا۔ اب اس کا کوئی حل نظر نہیں آتا۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ سابقہ فیصلہ اندرونی صحن کے بارے میں نہیں تھا بلکہ بیرونی صحن کے بارے میں تھا۔

دہلی میں ہونے والے اس پروگرام نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا مذہبی تنازعات کا حل صرف عدالتوں کے ذریعے ممکن ہے یا پھر معاشرے کے اندر مکالمے اور باہمی مفاہمت کی نئی راہیں تلاش کرنا ہوں گی۔ آنے والے دنوں میں اس بحث کے مزید شدت اختیار کرنے کا امکان ہے۔