ملک کے موجودہ حالات میں مسلمانوں کو مکالمہ کے عمل میں شامل ہونا "بہت اہم" ہے۔ مسلمان صنعت کاروں، تاجروں، ماہرین تعلیم اور ہندو مذہب کے اہم افراد کے درمیان بات چیت کا عمل ہونا چاہیے، اس سے یہ یقین ظاہر ہوتا ہے کہ ان گروہوں کے درمیان کھلی بات چیت اور افہام و تفہیم قوم کی بھلائی کے لیے بہت ضروری ہے۔ان کے مطابق نفرت کے بجائے رابطہ اور اتحاد ہی ملک کو مضبوط بنا سکتا ہے۔
ایک ٹی وی شو میں گجرات کے ممتاز صنعت کار اور سماجی شخصیت ظفر سریش والا نے یہ انکشاف کیا ۔ ایک ہندی نیوز چینل پرآرایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت سے فلمی دنیا کی شخصیات سے بات چیت کے موضوع پر ایک مباحثہ میں ظفرسریش والا نے ملک کے حالات اور مسلمانوں کے مسائل اوران کے حل پر روشنی ڈالی ۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں تقریباً 85 فیصد ہندو آبادی ہے اور مسلمان لگ بھگ 15 فیصد ہیں۔ ہندوؤں کی سب سے بڑی تنظیم آر ایس ایس ہے، چاہے کوئی مانے یا نہ مانے۔ اس وقت ملک میں حکومت بی جے پی کی ہے۔ وزیر اعظم، صدر، نائب صدر، اسپیکر، بیشتر ارکان پارلیمنٹ، وزرا اور مختلف ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ زیادہ تر اسی فکر اور پس منظر سے وابستہ ہیں۔ ملک کے دو تہائی حصے میں بی جے پی کی حکومت ہے۔
ظفرسریش والا نے کہا کہ ایسی صورت میں اگر مسلمانوں کو کوئی مسئلہ درپیش ہے تو سوال یہ ہے کہ بات کس سے کی جائے۔ جب حکومت بی جے پی کی ہے اور اس کے بیشتر رہنما آر ایس ایس سے وابستہ ہیں تو مکالمہ بھی انہی سے ہونا چاہیے۔ اگر اختیار انہی کے پاس ہے تو گفتگو بھی انہی سے ہوگی۔
میرے آفس میں اکثریت ہندو ملازمین کی ہے ،میں نے عبادت کے لیے جو کمرہ بنایا ہے اس پر نماز کا کمرہ درج نہیں ہے بلکہ اس پر عبادت کا کمرہ لکھا گیا ہے ۔ میں نے سب ملا زمین سے کہا ہے کہ جسے بھی عبادت کرنا ہے وہ کمرے کا استعمال کرے ۔ اس کمرے میں مسلمان ،ہندو ،سکھ اور عیسائی سب عبادت کرسکتے ہیں-
#ProphetPBUH allowed a #Christian Delegation of 60 people including their #Bishop from #Najran to Pray inside #MasjidENabawi in #Medina around 630 AD.
— zafar sareshwala 🇮🇳 (@zafarsareshwala) February 12, 2026
Prophet PBUH hosted them in his 🕌 Showcasing high standards of #ReligiousTolerance and #Hospitality @AmanChopra_ pic.twitter.com/fG8K70eu5u
ٓآر ایس ایس کے پروگرام میں شرکت
ظفرسریش والا نے ماضی کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سنہ 2017 میں ناگپور کے ہیڈگوار بھون میں آر ایس ایس کا ایک پروگرام منعقد ہوا جو فوجی اہلکاروں کے لیے تھا۔ انہیں اس پروگرام میں موہن بھاگوت کے بھائی کی طرف سے دعوت دی گئی ۔ انہوں نے شرط رکھی کہ وہ اسی صورت آئیں گے جب انہیں موہن بھاگوت سے 45 منٹ کی ون ٹو ون ملاقات کا موقع دیا جائے۔ چند دن بعد اطلاع ملی کہ شرط منظور کر لی گئی ہے۔
“मुझे नागपुर में RSS के दफ्तर में ही नमाज़ पढ़ने की सुविधा दी गई”
— Aman Chopra (@AmanChopra_) February 11, 2026
संघ के नाम पर मुसलमानों को डराने वाले एक बार Zafar Sareshwala को ज़रूर सूनें। pic.twitter.com/H8rxH9CtnL

ناگپور پہنچنے پر ان کے قیام کا انتظام کیا گیا۔ انہوں نے سادہ طور پر کہیں بھی ٹھہرانے کی بات کی مگر انہیں ہیڈگوار بھون میں قیام دیا گیا جہاں ان کا خیرمقدم کیا گیا اور کھانے کا انتظام تھا۔ مغرب اور عشا کی نماز کے وقت انہوں نے قریبی مسجد کا راستہ پوچھا تو میزبانوں نے کہا کہ وہ یہیں نماز ادا کر سکتے ہیں۔ ان کے لیے سفید کپڑا بچھایا گیا اور قبلہ کی سمت بتائی گئی۔ انہوں نے مغرب عشا اور فجر کی نماز وہیں ادا کی۔
بھاگوت سے ملاقات
پروگرام کے بعد انہیں ایک کمرے میں لے جایا گیا جہاں موہن بھاگوت ان کے بھائی اور چند بزرگ موجود تھے۔ اس ملاقات میں انہوں نے مسلمانوں کے مسائل کھل کر بیان کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ بات اسی سے کی جانی چاہیے جس کے پاس اختیار ہو۔ ملک میں اکثریت ہندوؤں کی ہے اور آر ایس ایس ایک بڑی تنظیم ہے جبکہ موجودہ حکومت اسی پس منظر سے وابستہ ہے۔ اس لیے اگر مسلمانوں کو مسائل درپیش ہیں تو براہ راست مکالمہ ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ ملاقات کے دوران ان کے ساتھ عزت کا برتاؤ کیا گیا۔ ان کی نماز کا خیال رکھا گیا اور بات کو غور سے سنا گیا۔ ان کے مطابق موہن بھاگوت نے کہا کہ وہ مسلمانوں کے مسائل سے واقف ہیں اور اگر ہندوستان کا مسلمان ترقی نہیں کرے گا تو ملک بھی ترقی نہیں کر سکتا۔