نئی دہلی/ آواز دی وائس
اتر پردیش کے دیوریا میں ایک مزار کے غیر قانونی گنبد اور کچھ حصے کےٹوٹنے کی خبر نے نہ صرف شہر میں ہلچل مچا دی بلکہ ایک ہندو خاتون کے دل میں برسوں پرانی عقیدت اور خوف کو بھی جگا دیا۔دیوریا شہر کی رہنے والی رانی تیواری جیسے ہی مزار میں توڑ پھوڑ کی خبر سنی تو بے چین ہو جاتی ہیں۔ وجہ صرف ایک خبر نہیں تھی بلکہ بارہ برس پرانی وہ منت تھی جو ادھوری تھی
.webp)
رانی تیواری بتاتی ہیں کہ بارہ برس پہلے انہیں اولاد نہیں ہو رہی تھی۔ ڈاکٹروں نے صاف جواب دے دیا تھا۔ اسی دوران انہوں نے اس مزار پر منت مانی تھی کہ اگر انہیں بیٹا ہوا تو وہ چادر چڑھائیں گی۔ وقت بدلا حالات بدلے اور انہیں بیٹا ہوا۔ لیکن منت پوری ہونے کے باوجود وہ یہاں نہیں آ سکیں۔ وقت گزرتا گیا منت دل میں رہ گئی اور پھر اچانک خبر آئی کہ دیوریا میں غیر قانونی مزار توڑا جا رہا ہے۔ اس وقت رانی تیواری گورکھپور میں رہ رہی تھیں۔خبر سنتے ہی انہیں لگا کہ اگر مزار ٹوٹ گیا اور وہ اپنی منت پوری نہ کر سکیں تو ان کے دل میں ہمیشہ ایک کسک رہ جائے گی۔ تیرہ جنوری کو وہ اپنے بیٹے کے ساتھ مزار پہنچیں۔ چادر کے لیے مزار کمیٹی کو پیسے دیے۔ بیٹے کا ہاتھ تھامے آنکھوں میں آنسو لیے وہ روتی رہیں۔
روتی بلندی رانی تیواری نے بتایا کہ اگر یہ مزار ٹوٹ گیا ہوتا اور وہ یہاں نہ آ پاتیں تو وہ خود کو کبھی معاف نہ کر پاتیں۔ ان کے الفاظ میں خوف بھی تھا اور عقیدت بھی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کے بیٹے کے ساتھ کوئی انہو نی ہو جاتی تو وہ ساری زندگی خود کو قصوروار ٹھہراتیں۔ اسی خوف اسی منت اور اسی ماں کی جذباتی کیفیت نے انہیں یہاں تک کھینچ لیا۔مزار پر چادر چڑھا کر انہوں نے اپنے دل کا بوجھ ہلکا کیا ہے۔ منت تو بارہ برس پہلے ہی پوری ہو گئی تھی لیکن چادر چڑھانے میں بہت دیر ہو گئی تھی۔
.webp)
کیا تھا ماجرا
وہ بتاتی ہیں کہ جب میرا حمل پہلی بار نہ ٹھہر سکا تو میرے ڈاکٹر نے منع کر دیا تھا کہ اب آپ کو کوئی بچہ نہیں ہوگا۔ اس وقت میں اسکول پڑھاتی تھی ۔ میرے ساتھ ایک حنا میم تھیں۔ اس زمانے میں میں یہاں دعا کے لیے آیا کرتی تھیں۔ میں اسکول میں ایک دن بہت زیادہ رو رہی تھی اور شدید غم میں تھی۔ لنچ کے وقت انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ میم آپ کے ساتھ کیا مسلہ ہوا ہے۔ میں نے ساری بات انہیں بتا دی۔
وہ مزید کہتی ہیں کہ اس وقت رمضان کا مہینہ چل رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ کو یقین ہو تو میرے ساتھ مزار پر چلو۔ میں نے کہا مجھے سب پر یقین ہے۔ میں نے کبھی کسی کو دیکھا نہیں ہے۔ میں تو یقین پر ہی کہیں جاتی ہوں۔ میں مندر جاتی ہوں لیکن بھگوان کو بھی نہیں دیکھا لیکن یقین کے ساتھ پتھر کی پوجا کرتی ہوں۔ یہاں بھی میں نے کسی کو نہیں دیکھا لیکن اگر یقین ہے تو مجھے لے چلیے۔
وہ لنچ کے وقت مجھے یہاں لے آئی تھیں۔ انہوں نے فاتحہ دلوا دی۔ مجھے یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ اسے کیا کہتے ہیں۔ وہاں مولوی صاحب تھے۔ انہوں نے منت مانی کہ جب آپ کو بچہ ہوگا تو آپ یہاں چادر چڑھائیں گی اور بچے کو درشن کرائیں گی۔ میری یہی غلطی ہے کہ میرا بچہ اب بارہ سال کا ہو گیا اور میں نہیں آ پائی تھی۔ میں پچھلے ایک مہینے سے گورکھپور میں تھی کیونکہ میری بھتیجی ہوئی تھی۔ وہاں مجھے پتہ چلا کہ یہ مزار ٹوٹ رہا ہے تو میں وہیں سے بھاگ کر آ گئی۔ میں رات میں آئی ہوں اور میں نے کہا کہ پہلے ہم مزار پر چادر چڑھائیں گے۔
شوہر مزار پر حاضری کے خلاف تھے
رانی تیواری کہتی ہیں کہ میرے شوہر پنڈت ہیں۔ وہ مجھے یہاں کبھی آنے نہیں دیتے۔ میں نے کئی بار ان سے کہا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر جانا ہے تو جاؤ میں نہیں جاؤں گا۔ اسی لیے میں نے اپنے شوہر کو کچھ نہیں بتایا۔ وہ بازار میں تھے۔ انہوں نے پوچھا کہاں جا رہی ہو۔ میں نے کہا مجھے شاپنگ کرنی ہے۔ میں بچے کو لے کر سیدھے یہاں آٹو سے آ گئی۔ میں معافی مانگتی ہوں کہ میں دیر سے آئی ہوں اس لیے مجھے معاف کر دینا۔ بس میرے بچے کو دعاؤں میں رکھنا۔ خدا میرے بچے کو صحیح سلامت رکھے۔ مجھے سب پر یقین ہے۔ میں نے کسی کو نہیں دیکھا مگر یقین ہے۔ میں کہیں جاتی ہوں تو اونکالیشور اور مہاکالیشور تک گئی ہوں۔ میرے والد بی ایس ایف میں تھے اور کمانڈنٹ تھے
اب سکون مل گیا
بارہ برس پہلے کی منت دل کے اطمینان کے ساتھ ادا ہو گئی ہے۔ اصل میں منت تو اسی وقت پوری ہو گئی تھی لیکن چادر چڑھانے میں بارہ برس لگ گئے۔ اس پر میں نے بہت رو رو کر معافی مانگی ہے۔انہوں نے کہا کہ میں گورکھپور میں تھی۔ اگر یہ مزار ٹوٹ جاتا تو میرے دل میں ہمیشہ ایک ملال رہتا۔ کل کو اگر میرے بچے کو کچھ ہو جاتا تو مجھے یہی بات ستاتی کہ شاید اسی وجہ سے ہو رہا ہو۔ چادر چڑھا دینے سے دل کو تسلی مل گئی ہے اور میرا یقین مکمل ہو گیا ہے۔
قابل غور بات یہ ہے کہ مزار کا گنبد ہی توڑا گیا اور اس کا عمارت کا ایک حصے کو منہدم کیا گیا جبکہ قبر جوں کی توں برقرار ہے -جس کے سبب عقیدت مندوں کو بڑی حد تک اطمینان ملا ہے -اس سلسلے میں سوشل میڈیا پر لاتعداد ویڈیو گشت کر رہی ہیں جس میں مزار کو توڑے جانے کے بعد قبر کی صفائی کرتے نظر آرہے ہیں عقیدت مند ہیں