سری نگر:آواز دی وائس
"کتنی کنجوسی پہ آمادہ ہے سسرال مری
راز کی بات بتاتے ہوئے ڈر لگتا ہے
ایسے کمرے میں سلا دیتے ہیں سالے میرے
پاؤں پھیلاؤں تو دیوار میں سر لگتا ہے۔"
جوں ہی معروف مزاحیہ شاعر پاپولر میرٹھی نے یہ اشعار سنائے، پورا پنڈال قہقہوں اور تالیوں سے گونج اٹھا۔ یہ منظر چنار بک فیسٹیول 2026 کے تیسرے روز منعقد ہونے والے شاندار مشاعرے کا تھا، جہاں ملک کے مختلف حصوں سے آئے ہوئے ممتاز شعرائے کرام نے اپنے خوبصورت کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔
شام چار بجے کلچرل اسٹیج پر منعقد ہونے والے اس مشاعرے میں سامعین کی بڑی تعداد موجود تھی۔ مشاعرے میں جناب رفیق راز، جناب پاپولر میرٹھی، محترمہ رخسانہ جبیں، پروفیسر شفق سوپوری، جناب نعمان شوق، پروفیسر احمد محفوظ اور پروفیسر ستیش ومل نے شرکت کی، جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر شفیع ایوب نے انجام دیے۔
شعرائے کرام نے زندگی، محبت، سماجی مسائل، انسانی جذبات اور عصری حالات پر مبنی اپنی منتخب غزلیں پیش کیں۔ اس موقع پر رفیق راز نے کہا۔
"گلے پہ خاک تمہارے سر اور تال پہ خاک
غزل پہ خاک مضامین پائمال پہ خاک۔"
رخسانہ جبیں نے اپنے منفرد انداز میں یہ شعر سنایا۔
"کٹا تو سکتے ہیں اس کو جھکا نہیں سکتے
تمام جسم میں سر کے سوا کچھ اور نہیں۔"
پروفیسر شفق سوپوری نے کہا۔
"سنو یہ نالے سنو دشت آشنائی کے
اتر رہے ہیں کہیں قافلے جدائی کے۔"
نعمان شوق کے یہ اشعار بھی سامعین کی توجہ کا مرکز بنے۔
"ریل دیکھی ہے کبھی سینے پہ چلنے والی
یاد تو ہوں گے تجھے ہاتھ ہلاتے ہوئے ہم۔"
پروفیسر احمد محفوظ نے پڑھا۔
"جانے ہم کس خیال میں گم تھے
آنکھ اٹھی تو سامنے تم تھے۔"
جبکہ پروفیسر ستیش ومل نے اپنے اشعار میں کہا۔
"پیش منظر سے جدا شور تماشا سے الگ
سر بکف بیٹھے رہے ہم تیری دنیا سے الگ۔"
اس سے قبل چنار بک فیسٹیول کے تیسرے دن "قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے تحت سہ لسانی فارمولہ اور کثیر لسانی تعلیم" کے عنوان سے آتھر کارنر میں ایک اہم مذاکرہ بھی منعقد ہوا۔ اس میں سابق وائس چانسلر جامعہ ہمدرد پروفیسر افشار عالم اور کشمیر یونیورسٹی کے رجسٹرار پروفیسر نصیر اقبال نے بطور مقرر شرکت کی، جبکہ معروف ماہر لسانیات پروفیسر اعجاز محمد شیخ نے نظامت کی۔
پروفیسر افشار عالم نے قومی تعلیمی پالیسی 2020 کی اہم خصوصیات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ نئی پالیسی نے زبانوں کے انتخاب کے انداز میں نمایاں تبدیلی پیدا کی ہے اور مادری زبان کو مرکزی حیثیت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لسانیات اور ہندوستانی علمی روایت پر خصوصی توجہ دی گئی ہے اور اس پالیسی کے ذریعے علاقائی زبانوں کو فروغ دینے کی نئی راہیں ہموار ہوئی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مختلف زبانوں کے اساتذہ کی مؤثر تربیت اس پالیسی کی کامیابی کے لیے ناگزیر ہے۔
پروفیسر نصیر اقبال نے بتایا کہ کشمیر یونیورسٹی قومی تعلیمی پالیسی پر عمل درآمد کرنے والے اولین اداروں میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی میں نئی پالیسی کے مطابق ایک سالہ پوسٹ گریجویٹ کورس بھی شروع کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق اس پالیسی نے مقامی زبانوں کی اہمیت میں اضافہ کیا ہے اور اگرچہ اس کے نفاذ میں کئی چیلنجز موجود ہیں، تاہم منظم کوششوں کے ذریعے اسے کامیاب بنایا جا سکتا ہے۔


مذاکرے کے اختتام پر قومی اردو کونسل کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شمس اقبال نے کہا کہ کونسل نے نئی تعلیمی پالیسی 2020 کے تقاضوں کے مطابق اردو زبان کے فروغ اور اسے ہندوستان کی دیگر زبانوں سے جوڑنے کے لیے متعدد اہم اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی تمام زبانیں ہماری مشترکہ قومی میراث ہیں اور انہیں یقین ہے کہ کشمیر اردو زبان کی حفاظت اور فروغ میں ہمیشہ اہم کردار ادا کرتا رہے گا۔ اس موقع پر انہوں نے مہمان مقررین کی شال پوشی کرکے ان کا استقبال کیا اور اظہار تشکر بھی کیا۔
پروفیسر اعجاز محمد شیخ نے مذاکرے کے دوران قومی تعلیمی پالیسی، سہ لسانی فارمولے اور کثیر لسانی تعلیم سے متعلق اہم سوالات پیش کیے، جن کی روشنی میں شرکا کو موضوع کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے کا موقع ملا۔ بعد ازاں سوال و جواب کے سیشن میں یونیورسٹیوں اور کالجوں کے طلبہ، اساتذہ، دانشوروں اور قلمکاروں نے بھی سرگرم حصہ لیا اور مقررین نے ان کے سوالات کے تفصیلی جوابات دیے۔
یوں چنار بک فیسٹیول 2026 کا تیسرا دن علم، ادب، زبان، شاعری اور فکری مکالمے کے حسین امتزاج کے ساتھ اختتام پذیر ہوا، جہاں ایک طرف قومی تعلیمی پالیسی اور کثیر لسانی تعلیم پر سنجیدہ گفتگو ہوئی تو دوسری جانب مشاعرے نے سامعین کو بہترین ادبی لطف سے آشنا کیا۔
اگر چاہیں تو اسے اخباری فیچر یا رپورٹ برائے روزنامہ کے انداز میں مزید ادبی اور صحافتی رنگ دے سکتا ہوں۔