نئی دہلی:آواز دی وائس
آزاد ہندوستان میں مسلمانوں کو آج تک ڈاکٹر فریدی جیسا مخلص اور دوراندیش قائد نہیں ملا۔ انھوں نے نہایت مشکل حالات میں مسلمانوں کی سیاسی شیرازہ بندی کا کارنامہ انجام دیا۔ مگر افسوس کہ ہم نے ایسے بلند کردار قائد کو فراموش کردیا۔۔۔۔۔
آزادی کے بعد مسلم قیادت کو ڈاکٹر فریدی نے اس لائق بنایا کہ حکومت کے سامنے کھڑی ہو سکے اور اس سے مکالمہ کر سکے۔
ان خیالات کا اظہار مقررین نے قائد ملت ڈاکٹر عبدالجلیل فریدی پر سینئر صحافی معصوم مرادآبادی کی کتاب کے اجراء کے دوران کیا۔نئی دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں اس باوقار تقریب کا اہتمام انڈین مسلمس فار سول رائٹس (آئی ایم سی آر)نے کیا تھا اور اس میں دہلی کی تمام سرکردہ شخصیات شریک ہوئیں۔
دہلی کے سابق لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے جبکہ کتاب کا اجرا آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت (رجسٹرڈ)کے صدر ڈاکٹر ظفرالاسلام خاں کے ہاتھوں عمل میں آیا۔
مہمانانِ اعزازی میں سابق چیف انفارمیشن کمشنر وجاہت حبیب اللہ، پٹنہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس اقبال احمد انصاری، رکن پارلیمنٹ مولانا محب اللہ ندوی، پدم شری پروفیسر اخترالواسع اور ڈاکٹر ایس فاروق شامل تھے۔ تقریب کا آغاز مولانا محب اللہ ندوی کی تلاوتِ کلامِ پاک اور خطاب سے ہوا۔

صاحب کتاب معصوم مرادآبادی خطاب کرتے ہوئے

نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے معصوم مرادآبادی نے کہا کہ”شخصیت نگاری ان کا محبوب مشغلہ ہے اور وہ اب تک سیکڑوں شخصیات کے خاکے لکھ چکے ہیں۔ ڈاکٹر عبد الجلیل فریدی پرتحقیق کے دوران انھیں معلوم ہوا کہ ان پرابھی تک کسی نے باضابطہ کام نہیں کیا ہے، لہٰذا انہوں نے اس کتاب کی تیاری کا بیڑا اٹھایا۔انھوں نے کہا کہ اس کتاب میں نئی اورمنفرد معلومات شامل کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور اس کا سب سے اہم حصہ ڈاکٹر فریدی کی تقاریر، خطبات اور افکار پر مشتمل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ قومی یکجہتی کونسل میں ڈاکٹر فریدی کی اس معرکۃ الآراء تقریر کا اردو ترجمہ بھی کتاب میں شامل ہے، جو انھوں نے آنجہانی وزیراعظم اندراگاندھی کے روبرو کی تھی۔انہوں نے مزید کہا کہ اس کتاب میں ڈاکٹر فریدی کی فکر، مشن، جدوجہد اور خدمات کو جامع انداز میں پیش کیا گیا ہے۔“ڈاکٹر ظفرالاسلام خاں نے کہا کہ عبدالجلیل فریدی ہندوستان میں ٹی بی کے سب سے بڑے معالج تھے اور انہوں نے اپنی پوری زندگی ملک و ملت کے لیے وقف کر دی تھی۔
انہوں نے لکھنؤ میں مسلم مجلس مشاورت کے پہلے اجتماع کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس موقع پر ڈاکٹر فریدی نے بہت نمایاں کردار ادا کیا تھا۔ بعد میں بعض امور پر اختلافات بھی پیدا ہوئے، تاہم ڈاکٹر فریدی کا موقف درست تھا کہ مسلمانوں کو ایک گروہ کی حیثیت سے اپنا سیاسی مقام مضبوط کرنا چاہیے۔پروفیسر اخترالواسع نے کہا کہ انہیں ڈاکٹر فریدی سے براہِ راست سیکھنے کا موقع ملا۔ انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر فریدی نے سکھایا کہ مسلمانوں کے مسائل کو قومی مسائل کے طور پر پیش کیا جانا چاہیے۔

سابق ایل جی دہلی نجیب جنگ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے

نجیب جنگ نے اپنے خطاب میں کہا کہ آزادی کے بعد مسلم قیادت کی مجبوری یہ تھی کہ اس کی سیاست حکومت کے ساتھ وابستہ تھی، جس کے باعث وہ کھل کر اپنی بات نہیں کہہ پاتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر فریدی نے اسی خلا کو محسوس کرتے ہوئے ایک ایسی تنظیم کی ضرورت پر زور دیا جو بے خوف ہوکر حکومت کے سامنے کھڑی ہو سکے اور اس سے مکالمہ کر سکے۔
سابق ممبرپارلیمنٹ محمد ادیب نے صدارتی تقریر میں سابق ممبرپارلیمنٹ محمد ادیب نے معصوم مرادآبادی کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے یہ کتاب مرتب کرکے بڑا کارنامہ انجام دیا ہے اور امیدہے کہ اب فریدی شناسی کا نیا دور شروع ہوگا۔دیگر مقررین میں جسٹس اقبال انصاری، وجاہت حبیب اللہ اور ڈاکٹر ایس فاروق نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

ممتاز رہنما محمد ادیب اور ظفرالاسلام خان خطاب کرتے ہوئے

تقریب میں سابق ممبرپارلیمنٹ م۔ افضل، عمران قدوائی،اے ایچ جنگ،صحافی قربان علی،پروفیسرسلیم قدوائی،خالد صدیقی، شبیہ احمد، پروفیسر محسن عثمانی، محمود اختر، احتشام الرحیم خاں، بصیر احمد خاں،پروفیسر خالد محمود، ڈاکٹر سید احمد خاں،رخشندہ روحی، فیروزغازی، ڈاکٹرانوارالاسلام، ڈاکٹر حفیظ الرحمن، صحافی مہتاب عالم، سید تحسین احمد،مظہر محمود،الیاس ملک،معین شاداب، ڈاکٹر ذکی طارق اورایڈووکیٹ شاہ جبیں قاضی سمیت متعدد اہم شخصیات نے شرکت کی۔