اقلیت ہونا کوئی کمزوری نہیں,ملک میں سب برابر کے حقدار ہیں- وزیر امور اقلیت کرن رجیجو

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 23-02-2026
اقلیت ہونا کوئی کمزوری نہیں,ملک میں سب برابر کے حقدار ہیں-  وزیر امور اقلیت کرن رجیجو
اقلیت ہونا کوئی کمزوری نہیں,ملک میں سب برابر کے حقدار ہیں- وزیر امور اقلیت کرن رجیجو

 



آواز دی وائس/ نئی دہلی

ہندوستان کی جو اقلیتیں ہیں ، وہ امریکہی آبادی  سے بھی زیادہ ہیں۔ اس لیے جب ہم ہندوستان کی چھ اقلیتی برادریوں کے بارے میں سوچتے ہیں تو سب سے پہلے یہ ذہن میں رکھتے ہیں کہ نام سے ضرور اقلیت ہیں مگر کمزور یا چھوٹی نہیں ہیں۔ جیسے اکثریت ہے ویسے ہی اقلیت بھی ہے۔ سب ہندوستانی ہیں۔ کسی میں کوئی فرق نہیں۔ اس لیے سب سے پہلی سوچ یہ ہوتی ہے کہ کسی کو خود کو کمزور محسوس نہ ہونے دیا جائے۔

بالی وڈ کی سابق اداکارہ ثنا خان اور ان کے شوہر مفتی سید انس کے خصوصی پروگرام رونق رمضان میں ان خیالات کا اظہار مرکزی وزیر امور پارلیمانی و اقلیتی امور کرن رجیجو   نے کیا

رونق رمضان کا اغاز پچھلے سال ہوا تھا جس میں اہم شخصیات کو رمضان المبارک کے تجربات اور یادوں کو ساجھا کرنے کے لیے مدعو کیا جاتا ہے اس بار مفتی انس اور ثنا خوان نے مرکزی وزیر امور اقلیت کرن رجیجو کو مدعو کیا تھا  جنہوں نے اس پروگرام میں اقلیتوں کے مسائل حج کے انتظامات اور اپنی ذاتی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر بہت ہی ایمانداری اور بے باکی سے رائے کا اظہار کیا

ثنا خان کے ایک سوال کے جواب میں کہ جب آپ اقلیتی برادریوں کے لیے کوئی پالیسی بناتے ہیں تو آپ کی نیت کیا ہوتی ہے۔ تو  انہوں نے کہا کہ اقلیت کوئی کمزور طبقہ نہیں بلکہ ملک کا ٹوٹ حصہ ہے ہم اس کے حق میں نہیں کہ اقلیتیں خود کو کمزور مانے

 انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی جی جب سے وزیر اعظم بنے ہیں ان کی زیادہ تر اسکیمیں سب کے لیے ہیں۔ پانی کی اسکیم ہو۔ بجلی کی اسکیم ہو۔ گیس سلنڈر ہو۔ مکان ہو۔ بینک اکاؤنٹ ہو۔ ان میں کسی مذہب کی بنیاد پر فرق نہیں کیا جاتا۔ سب کے لیے برابر ہے۔ اس کے اوپر جو اقلیتی امور کی وزارت سے مخصوص پروگرام چلتے ہیں وہ اضافی سہولت کی طرح ہیں۔ جہاں عام اسکیمیں پوری طرح نہیں پہنچ پاتیں وہاں ہم خلا کو پُر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

فلاحی کاموں پر توجہ 

مثال کے طور پر پارسی برادری کی تعداد گھٹتے گھٹتے اب تقریباً باون ہزار رہ گئی ہے۔ اگر کچھ نہ کیا جائے تو یہ برادری ختم بھی ہو سکتی ہے۔ اس لیے جیو پارسی نام کی اسکیم چلائی گئی تاکہ طبی سہولت اور دیگر ضروری مدد دی جا سکے۔ اسی طرح سکھ نوجوانوں کے لیے اسکل پروگرام۔ بدھ برادری کے خانقاہوں کے لیے مدد۔ عیسائیوں کے تعلیمی اداروں کے لیے تعاون۔ مسلمانوں میں وقف املاک کی بہتر ترقی تاکہ غریب اور یتیم بچوں کے لیے فائدہ ہو سکے۔ ہم مسجد یا مزار کو نہیں چھیڑتے لیکن جو فلاحی مقاصد کے لیے وقف زمین ہے اسے تعلیم۔ ہاسٹل۔ اسکل سینٹر یا طبی سہولت کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

حج کے انتظامات

حج کے بارے میں ہر مسلمان کی خواہش ہوتی ہے کہ زندگی میں ایک بار حج کرے۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ اس سفر کو آسان بنایا جائے۔ پہلے کچھ انتظامی کمزوریاں تھیں۔ طبی سہولت کم تھی۔ اموات زیادہ ہو جاتی تھیں۔ اب ہم نے طبی عملے کی تعداد بڑھائی ہے۔ ٹیکنالوجی کے ذریعے ٹریکنگ شروع کی ہے۔ حج سہولت ایپ بنایا ہے۔ اسمارٹ واچ اور رسٹ بینڈ دیے جا رہے ہیں تاکہ ہر حاجی کی صحت اور مقام کا پتہ رہے۔ پینسٹھ سال سے زیادہ عمر والوں کے ساتھ معاون بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ کوئی بزرگ اکیلا مشکل میں نہ پڑے۔ گزشتہ برس اموات کی شرح کم ہوئی۔ ہماری کوشش ہے کہ ایک بھی حاجی کی جان نہ جائے۔

مدینہ منورہ اور طائف کی زیارت کا موقع ملا تو دل میں یہی خیال آیا کہ شاید زندگی میں کچھ اچھا کام کیا ہوگا کہ وہاں جانے کی سعادت ملی۔ وہاں موجود ہندوستانی حجاج نے بڑے فخر سے کہا کہ یہ ہمارے ملک کا وزیر آیا ہے۔ اپنے ملک کا نام سن کر خوشی ہوتی ہے۔

بات  نوجوانوں کی 

نوجوانوں کے لیے پیغام یہ ہے کہ زندگی کو سادہ رکھیں۔ جھوٹ نہ بولیں۔ ایسا کوئی کام نہ کریں جس سے خاندان یا ملک کو نقصان ہو۔ سوشل میڈیا سے علم بھی ملتا ہے مگر وہ زہریلا بھی ہو سکتا ہے۔ اسے قابو میں رکھنا ضروری ہے۔ جو خواب دیکھیں وہ حقیقت کے دائرے میں ہوں۔ ناممکن خواہشوں کے پیچھے نہ بھاگیں۔ ایک کھیل ضرور کھیلیں۔ جسمانی فٹنس ضروری ہے۔ میں نے فٹ انڈیا مہم اسی سوچ کے ساتھ چلائی۔

سیاست میں آمد

سیاست میں آنا میرا ذاتی ارادہ نہیں تھا۔ میں وکالت کی تیاری کر رہا تھا مگر لوگوں نے کہا کہ انتخاب لڑو۔ کم عمر میں سیاست میں آیا اور عوام نے ساتھ دیا۔ اٹل بہاری واجپئی جی کے دور میں ذمہ داریاں ملیں۔ مسلسل عوام کی خدمت کا موقع ملا۔وزیر اعظم کا وژن سب کا ساتھ سب کا وکاس ہے۔ کابینہ میں کبھی ایسا فیصلہ نہیں ہوا جو کسی مذہب یا طبقے کو نقصان پہنچائے۔ ہر اسکیم سب شہریوں تک بغیر امتیاز پہنچے یہ واضح ہدایت ہے۔ ملک کی طاقت اس کی یونٹی اِن ڈائیورسٹی ہے۔ ہم مختلف ہیں مگر ایک ہیں۔ یہی ہندوستان کی اصل خوبصورتی اور طاقت ہے۔