پچھلے دنوں ماسکو ایئرپورٹ کی ایک ویڈیو ہندوستان میں وائرل ہوئی جس میں دکھایا گیا تھا کہ ایک ہندوستانی نوجوان ایئرپورٹ پر بے یار و مددگار پڑا ہوا ہے طبیعت کی خرابی کے بعد اسے ہندوستان کی فلائٹ سے اتار دیا گیا تھا جس کے بعد سے اس کی کسی نے خیر و خبر نہیں لی جس کے سبب وہ ایئرپورٹ میں زمین پر کئی دنوں تک پڑھا رہا مگر ایک اور ہندوستانی نوجوان نے جس کا تعلق گونڈا سے ہے پریشان حال نوجوان کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر شیئر کی اور اس کی مدد کی درخواست کی جس کے بعد راتوں رات اسے نہ صرف ایئرپورٹ سے اٹھا کر اسپتال پہنچایا گیا، بلکہ ہندوستان کے لیے واپسی کی فلائٹ پر بھی سوار کرایا گیا جس کے ساتھ اس کی وطن واپسی ممکن ہو
ماسکو ایئرپورٹ پر بے یار و مددگار پڑے پریشان حال نوجوان کا نام تھا انوپ دیواری جبکہ مسیحا بننے والا نوجوان گونڈا کا امین خان تھا جس کی ایک ویڈیو نے سوشل میڈیا پر پہنچا لا دیا اور ماسکو میں ہی موجود انوپ تیواری کے دیگر ساتھیوں اور ہندوستانیوں نے ایئرپورٹ پہنچ کر اس کی مدد کی اور پھر وطن واپسی کا راستہ ہموار کی
.webp)
ملک میں بدترین فرقہ وارانہ ماحول کے باوجود ماسکو ایئرپورٹ پر انوپ تیواری کے لیے امین خان کی مدد نے ہر کسی کا دل جیت لیا- ضلع گونڈا کے گاؤں ہلدرموں کے رہائشی امین خان نے اپنے وطن کے بھائی انوپ تیواری کی جان بچائی۔ بہار سمیت پورا ملک انہیں سلام پیش کر رہا ہے۔
جی ہاں بہار کے سیوان میں انوپ تیواری کا خاندان اور ان کی بہن امین خان کا شکریہ ادا کر رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ماسکو ایئرپورٹ پر انوپ چھ دنوں سے زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا تھا۔ وہ چھ دن تک وہیں پڑا تڑپتا رہا۔ نہ کوئی سیکیورٹی گارڈ آیا اور نہ ہی وہاں کی کسی انتظامیہ نے مدد کی۔
مگر اس دوران اتر پردیش کے ضلع گونڈا کے گاؤں ہلدرموں کے رہائشی امین خان کی نظر انوپ تیواری پر پڑی۔ امین خان نے فوراً انوپ تیواری کو اسپتال پہنچایا- جہاں اس کا علاج کیا گیا۔ اب انوپ تیواری صحت یاب ہیں۔ یہ ویڈیو ہندو مسلم اتحاد اور بھائی چارے کی شاندار مثال پیش کرتی ہے۔ لوگ اسے سوشل میڈیا پر خوب شیئر کر رہے ہیں۔
ہم سب ایک ہیں
انوب تیواری کی واپسی کے بعد ماسکو سے ایک اور ویڈیو وائرل ہو رہا ہے جس میں اس نوجوان کی مدد کرنے والے دیگر لوگوں کا ایک گروپ نظر آ رہا ہے ، جس نے امین خان کی ویڈیو دیکھنے کے بعد انوب تیواری کی مدد کے لیے ایک مورچہ تیار کیا تھا ، اس میں نوجوان کہہ رہے ہیں کہ یہ ویڈیو اپ ضرور شیئر کریں اور ہندوستان کی عوام کو بتائیں کہ ہم سب ایک ہیں اور ہم لوگ جیسے ہندوستان میں کام کرتے ہیں ویسے ہی ملک سے باہر بھی اپنے وطن کے لیے کام کرتے ہیں۔ متحد ہو کر- یہاں کوئی ہندو مسلمان سکھ عیسائی نہیں ہے۔ ہم سب آپس میں بھائی بھائی ہیں۔
The case of Anup Tiwari’s return from Moscow: Indian workers in Moscow recount the full story of their struggle#Moscow #india #russia pic.twitter.com/4CJRtEv6oE
— mansooruddin faridi (@mfaridiindia) January 2, 2026
وہ نوجوان مزید کہتا ہے کہ آنے والا وقت اگر امتحان لے تو ہم اس کا ڈٹ کر مقابلہ بھی کریں گے اور ضرورت پڑی تو لڑیں گے بھی۔ جس طرح ہمارے ملک کی فوج سرحدوں پر لڑتی ہے اسی طرح ہم بھی یہاں اپنے حقوق کے لیے، اپنے وطن کے لیے اور اپنے لوگوں کے لیے کھڑے رہتے ہیں۔ آئندہ بھی لڑیں گے اور جدوجہد جاری رکھیں - ایک اور ہندوستانی مزدور ویڈیو میں کہتا ہے کہ ہم یہاں اپنی محنت سے اپنی شناخت بنا رہے ہیں۔ ہمیں ٹی آر پی نہیں چاہیے۔ ہم یہاں بھی وقار اور حوصلے کے ساتھ کھڑے ہیں۔ بیرون ملک بھی ہندوستانی ہیں اور اپنی صلاحیت کے بل پر آگے بڑھتے ہیں۔