خواتین کے لیے بڑا مسئلہ لیڈیز ٹوائلٹ کی کمی

Story by  غوث سیوانی | Posted by  [email protected] | Date 14-05-2023
خواتین کے لیے بڑا مسئلہ لیڈیز ٹوائلٹ کی کمی
خواتین کے لیے بڑا مسئلہ لیڈیز ٹوائلٹ کی کمی

 

غوث  سیوانی ،نئی دہلی

شبانہ پروین ایک این جی او میں کام کرتی ہیں اور اپنی ذمہ داریوں کے سلسلے میں انہیں گلیوں ،محلوں میں گھومنا پڑتا ہے۔ میری ملاقات ان سے شاہین باغ(نئی دہلی) میں ہوئی اور میں نے ان سے پوچھا کہ انہیں کبھی پبلک ٹوائلٹ کی کمی کا احساس ہوتا ہے تو انہوں نے جواب دیا، جی بہت زیادہ احساس ہوتا ہے۔ وہ مزید کہتی ہیں کہ میرا زیادہ تر کام باہر کا ہے، پبلک ٹوائلٹ تلاش کرنا میرے لیے ایک بڑا درد سر ہے۔ جب میں باہر ہوتی ہوں تو شاذ و نادر ہی پانی پیتی ہوں، اس ڈر سے کہ شاید مجھے عوامی بیت الخلا تلاش کرنے کی ضرورت پڑ جائے۔

انہوں نے کہا کہ شاہین باغ ایک گھنی آبادی والا علاقہ ہے، ہزاروں مکانات ہیں مگر کس قدر عجیب بات ہے کہ صرف ایک پبلک ٹوائلٹ ہے جس میں ایک جانب مردوں کے لئے جگہ بنی ہوئی ہے اور دوسرا دروازہ عورتوں کے لئے ہے۔یہ بھی ایسی جگہ پر بنا ہوا ہے جہاں جانے کے لئے ٹرافک والی سڑک پار کرنی پڑتی ہے اوروہاں تک پہنچنا آسان نہیں ہے۔

نسیمہ ایک فائننس کمپنی کے لئے کام کرتی ہیں اور انہیں اکثر کلائنٹس سے ملنے کے لئے ان کے گھر جانا پڑتا اور بعض اوقات انہیں نئے کلائنٹس ڈھونڈنے کے لئے بازاروں، آفسوں اور محلوں کے چکر بھی لگانے پڑتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ کئی بار ایسا ہوا ہے کہ جب میں کسی کلائنٹ سے ملنے باہر جاتی ہوں تو مجھے ٹوائلٹ استعمال کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ نسیمہ نے بتایا کہ عوامی بیت الخلا تلاش کرنا ایک مسئلہ ہے، اب ان کے سامنے دومتبادل ہیں کہ وہ اس پریشانی کے ساتھ کام کریں یا جاب چھوڑ دیں۔۔۔

غور طلب ہے کہ پرجا فاؤنڈیشن نامی ایک این جی او کی سروے رپورٹ 2020 میں آئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ راجدھانی دہلی میں ہر 4,373 مردوں اور 10,039 خواتین کے لیے ایک پبلک ٹوائلٹ سیٹ ہے۔ دہلی کے مختلف میونسپل کارپوریشنوں کے ذریعہ بنائے گئے 2,985 عوامی بیت الخلاء میں سے 2,055 مردوں کے لیے ہیں اور 777 خواتین کے لیے ہیں۔

اس کے برعکس، سوچھ بھارت مشن شہری رہنما خطوط 2017 کے مطابق 100-400 مردوں اور 100-200 خواتین کے لیے ایک نشست ہونی چاہیے۔ایک اور سروے جو دسمبر 2016 میں کیا گیا تھا اس سے پتہ چلتا ہے کہ 71 فیصد بیت الخلاء باقاعدگی سے صاف نہیں ہوتے۔ اسی طرح عوامی بیت الخلاء میں معذور افراد کے لیے مناسب سہولیات نہیں ہیں۔

یہاں یہ بات بتانا برمحل ہوگا کہ جنوبی دہلی میونسپل کارپوریشن نے2017 میں خواتین کے لیے پہلا پنک ٹوائلٹ تیار کیا تھا۔ تب کارپوریشن کی طرف سے دعوے کیا گیا تھا کہ دارالحکومت کا پہلا 'گلابی ٹوائلٹ' نہ صرف پرکشش ہے بلکہ سینیٹری نیپکن بھی مفت دستیاب ہوں گے۔ یہ ٹوائلٹ پی وی آر وکاسپوری کے قریب بنایا گیا تھا اور خواتین کے پسندیدہ گلابی رنگ سے سجایا گیا تھا۔ اس کے بعد بھی راجدھانی میں بہت سے ٹوائلٹ بنائے گئے جو مردوں کے لئے بھی ہیں اور خواتین کے لئے بھی مگر شہری آبادی کے لئے ناکافی ہیں۔

آوازدی وائس کے نمائندے نے راجدھانی دہلی کے مختلف علاقوں کا سروے کیا تو پایا کہ ٹوائلٹس کی ازحد کمی ہے اور خواتین ٹوائلٹ تو بہت ہی کم ہیں۔ جامعہ نگر میں ذاکرنگر، بٹلہ ہائوس، جوگابائی، غفارمنزل، اوکھلا وہار، نورنگر، ابوالفضل انکلیو اور شاہین باغ وغیرہ کے علاقے ہیں مگر یہاں مشکل سے ایک آدھ ٹوائلٹ نظر آتے ہیں جو انتہائی گندے اور ناقابل استعمال ہیں حالانکہ وہ بھی خواتین کے لئے نہیں ہیں۔

بٹلہ ہائوس اور جوگا بائی میں تو بازار ہے جہاں خواتین کی ضرورت کے سازوسامان ہی ملتے ہیں اور تل رکھنے کی جگہ نہیں ہوتی ہے مگر باوجود اس کے یہاں ان کے لئے صرف ایک ٹوائلٹ ہے اور اس کی بھی جانکاری خواتین کو نہیں ہے۔ یہاں خریداری کے لئے آںے والی ریحانہ پروین کہتی ہیں کہ انہیں شوگر کا مرض ہے لہٰذا انہیں بار بار حاجت ہوتی ہے مگر کیا کریں؟ کوشش کرتی ہوں کہ جلد از جلد گھر واپس ہوجائوں۔۔۔ کبھی کبھی تو خریداری ادھوری چھوڑ کر ہی واپس چلی جاتی ہوں۔کبھی یہاں ٹوائلٹ نظر نہیں آیا۔۔۔ ویسے اگر موجود ہوتب بھی انفیکشن کا خدشہ رہتا ہے۔

اوکھلا ہیڈ بس اسٹاپ پر ہر وقت ازدہام رہتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس بھیڑ میں مردوخواتین سب شامل ہوتے ہیں مگر صرف ایک مردانہ استنجا گھر ہے۔ اس سڑک پر جامعہ ملیہ اسلامیہ سے کالندی کنج تک تقریباً چار کلو میٹر کے اندرایک بھی عوامی ٹوائلٹ نہیں ہے۔اس سڑک کے کنارے راہ گیروں کو کھلے عام پیشاب کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ خواتین ایسا نہیں کرسکتی ہیں لہٰذا انہیں کس قدر پریشانی کا سامنا کرنا ہوتا ہوگا، یہ صرف سمجھنے کی بات ہے۔

کانگریس کارکن محمد انصار کہتے ہیں کہ یہ مسئلہ بے حد سنگین ہے، اسے حل کیا جانا چاہئے۔ وہ بتاتے ہیں کہ اس علاقے کو کسی منظم پلان کے بغیر آباد کیا گیا ہے، ایسے میں کہیں بھی عوامی ٹوائلٹ کے لئے جگہ باقی نہیں بچی ہے اور نہ کہیں کوڑا گھر بنایا گیا۔ اب اس مسئلے سے پورا علاقہ نبرد آزما ہے۔شاہین باغ میں ایک مدرسہ اور مسجد کے سامنے لوگوں نے کوڑا ڈالنا شروع کردیاہے۔

حالانکہ یہ مسئلہ صرف ایک علاقے کا نہیں ہے بلکہ پوری راجدھانی دہلی کا ہے بلکہ پورے ہندوستان میں ایک جیسی صورت حال ہے۔ مرکزی اور ریاستی حکومتیں گھر گھر میں ٹوائلٹ بنوارہی ہیں، محلوں، بازاروں اور عوامی مقامات پر بنوارہی ہیں مگر اس کے باجود، اس کی کمی ہے اور خواتین ٹوائلٹ کی کی تو بہت زیادہ کمی ہے۔

نئی دہلی کے مصروف ترین مارکیٹ لاجپت نگر میں ہر روزلاکھوں افراد خریداری کے لئے آتے ہیں۔ یہاں بازار کے اندر مردوخواتین کے لئے کئی ٹوائلٹ موجود ہیں مگر استعمال کرنے کے لئے پیسے دینے پڑتے ہیں۔ بعض اوقات دیکھا جاتا ہے کہ کھلے پیسے نہ ہونے کے سبب جھگڑے ہوتے رہتے ہیں۔بہرحال اس کی موجودگی بھی غنیمت ہے۔

اسی طرح کناٹ پلیس علاقے میں اس نمائندے نے جگہ جگہ صاف ستھرے ٹوائلٹ دیکھے جو مردوں اور خواتین کے لئے ہیں۔خان مارکیٹ کے علاقے میں بھی اچھےاور صاف ٹوائلٹ ہیں۔ راجدھانی کی سڑکوں کے کنارے عموماً سجے سجائے اور صاف ستھرے ٹوائلٹ نظر آتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ راہ گیروں کے لئے یہ سہولت فراہم کرتے ہیں مگر گھنی آبادی والے علاقوں میں ان کی کمی محسوس ہوتی ہے۔شاید کا اصل سبب جگہ کی کمی ہو۔

دہلی کے ہی مصروف ترین علاقے کشمیری گیٹ میں روزانہ لاکھوں مردوخواتین کا گزر ہوتا ہے۔ یہاں بہت سے استنجا گھر بنے ہوئے ہیں جو اکثر گندے رہتے ہیں۔ ان کے بیچ اکادکا استنجا گھر خواتین کے لئے بھی ہیں مگر وہ گندہ رہتے ہیں اور اکثر مردوں کو استعمال کرتے ہوئے دیکھا جاسکتاہے۔یہاں سروے کے دوران نمائندہ آوازدی وائس نے پایا کہ جہاں بے حد گندگی تھی اور ناقابل استعمال تھا وہیں بڑی تعدادمیں استعمال شدہ کنڈوم پڑے ہوئے تھے۔ اس سے سمجھاجاسکتا ہے کہ ٹوائلٹ کا کیسے سے استعمال ہورہا ہے اور اس صورت حال میں خواتین کیسے استعمال کرسکتی ہیں۔