بانسواڑہ: ہندوستان کے اولین اولمپک تیر اندازوں میں شمار کیے جانے والے اور اولمپکس میں ہندستان کی پہلی تیر اندازی ٹیم کا حصہ رہنے والے شیام لال مینا کا طویل علالت کے بعد اتوار کی شب انتقال ہوگیا۔ وہ 61 برس کے تھے۔
شیام لال مینا گزشتہ کئی برسوں سے جگر سے متعلق بیماری میں مبتلا تھے اور ایک اسپتال میں زیر علاج تھے جہاں ان کی طبیعت زیادہ خراب ہونے کے بعد انہوں نے آخری سانس لی۔
4 مارچ 1965 کو راجستھان کے ضلع بانسواڑہ کے گاؤں کیواڈیا میں پیدا ہونے والے شیام لال مینا نے انتہائی محدود وسائل کے باوجود تیر اندازی کے میدان میں اپنی شناخت بنائی۔ ابتدا میں وہ بانس سے تیار روایتی کمان کے ذریعے مشق کرتے تھے۔ بعد میں حکومت کی اسپیشل ایریا گیمز اسکیم کے تحت ان کی صلاحیتوں کو فروغ ملا۔
شیام لال مینا 1987 میں کولکتہ میں منعقد ایشیائی تیر اندازی چیمپئن شپ میں ہندستانی مردوں کی ریکرو ٹیم کا حصہ تھے۔ اس ٹیم میں لمبا رام اور رجت ہلدار بھی شامل تھے۔ تینوں کھلاڑیوں نے کانسی کا تمغہ حاصل کیا جو تیر اندازی میں ہندستان کا پہلا بڑا بین الاقوامی میڈل مانا جاتا ہے۔
اسی کامیابی کی بنیاد پر ہندستان نے 1988 کے سیول اولمپکس کے لیے کوالیفائی کیا اور پہلی مرتبہ سمر اولمپکس میں تیر اندازی کے مقابلوں میں شرکت کی۔
شیام لال مینا نے لمبا رام اور سنجیو سنگھ کے ساتھ 1988 سیول اولمپکس میں ہندستان کی نمائندگی کی اور یوں وہ ملک کی پہلی اولمپک تیر اندازی ٹیم کا حصہ بنے۔
سیول اولمپکس میں انفرادی کوالیفائنگ مرحلے میں وہ 71 ویں مقام پر رہے جبکہ ہندستانی مردوں کی ریکرو ٹیم مجموعی طور پر 20 ویں پوزیشن پر رہی۔
ہندستانی تیر اندازی میں ان کی نمایاں خدمات کے اعتراف میں انہیں 1989 میں ارجن ایوارڈ سے نوازا گیا۔
اپنے کیریئر کے دوران انہوں نے کئی بین الاقوامی مقابلوں میں ہندستان کی نمائندگی کی اور راجستھان سمیت مختلف علاقوں میں تیر اندازی کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔
مسابقتی کھیلوں سے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی وہ بانسواڑہ کے ضلعی اسپورٹس ٹریننگ سینٹر میں کوچ کی حیثیت سے وابستہ رہے جہاں انہوں نے نوجوان کھلاڑیوں کی تربیت اور کھیل کی نچلی سطح پر ترقی کے لیے خدمات انجام دیں۔