ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: پاکستانی حکومت نے ہندوستان کے خلاف نہ کھیلنے کااپنا فیصلہ واپس لے لیا۔

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 10-02-2026
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: پاکستانی حکومت نے ہندوستان کے خلاف نہ کھیلنے کااپنا فیصلہ واپس لے لیا۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: پاکستانی حکومت نے ہندوستان کے خلاف نہ کھیلنے کااپنا فیصلہ واپس لے لیا۔

 



ممبئی:  پاکستان کا ہندوستان کے خلاف ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میچ پر یو ٹرن۔ آخرکار وہی ہوا جس کا انتظار تھا اور پیر کی رات پاکستان حکومت نے سینئر مرد ٹیم کو ہدایت دی کہ وہ پندرہ فروری کو کولمبو میں ہونے والے مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں ہندوستان کے خلاف میدان میں اترے۔

اس فیصلے کے ساتھ پاکستان کرکٹ بورڈ اور انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے درمیان ایک ہفتے سے جاری مذاکرات کا خاتمہ ہو گیا۔ ابتدا میں پاکستان حکومت نے ہندوستان کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا اعلان کیا تھا اور ایک ہفتے بعد اسی فیصلے کو واپس لے لیا۔

اس سے پہلے آئی سی سی نے بیان جاری کیا تھا کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ نہ کھیلنے پر بنگلہ دیش پر کوئی جرمانہ یا پابندی نہیں لگائی جائے گی اور دو ہزار اٹھائیس سے دو ہزار اکتیس کے درمیان کسی آئی سی سی ایونٹ کی میزبانی بھی دی جائے گی۔ اس اعلان سے پندرہ فروری کو ہونے والا ہندوستان پاکستان میچ طے شدہ منصوبے کے مطابق ہونے کی راہ ہموار ہو گئی۔ اگرچہ پی سی بی یا پاکستان حکومت کی طرف سے باضابطہ تصدیق باقی ہے لیکن میچ ہونا تقریباً طے مانا جا رہا ہے۔

اعلان سے کچھ دیر پہلے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے پاکستان سے درخواست کی تھی کہ وہ ہندوستان کے خلاف میچ چھوڑنے کا فیصلہ واپس لے۔ یہ اس وقت سامنے آیا جب لاہور میں پی ایس ایل نیلامی کے بعد پی سی بی چیئرمین محسن نقوی نے اشارہ دیا کہ ہندوستان کے بائیکاٹ پر یو ٹرن ممکن ہے۔ اسی تقریب میں سابق چیئرمین نجم سیٹھی نے بھی کہا کہ پاکستان کرکٹ کے لیے اچھی خبر آنے والی ہے اور اس کا اعلان محسن نقوی کریں گے۔ نقوی نے بتایا کہ حتمی فیصلہ کچھ وقت لے سکتا ہے۔ اسی دوران ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ آئی سی سی نے پی سی بی کے تین بڑے مطالبات مسترد کر دیے ہیں جس سے معاملہ چند گھنٹوں یا دنوں تک کھنچ سکتا ہے۔

آئی سی سی اور پی سی بی کے درمیان تعطل اب ختم ہونے کے قریب ہے اور پاکستان ہندوستان کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کا فیصلہ واپس لینے جا رہا ہے۔ تاہم آخری منظوری پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کو دینی ہے۔ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے بھی پی سی بی سے اپیل کی ہے کہ وہ پندرہ فروری کے میچ کی اجازت دے۔ پی سی بی اور بی سی بی دونوں نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ مستقبل میں ہندوستان پاکستان اور بنگلہ دیش پر مشتمل سہ فریقی سیریز کرائی جائے تاہم آئی سی سی نے اس کی کوئی یقین دہانی نہیں کرائی۔

اتوار کو پی سی بی اور بی سی بی نے آئی سی سی کے دو رکنی وفد سے ملاقات میں اپنے مطالبات رکھے تھے تاکہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اور ہندوستان پاکستان میچ کے تنازعے کا حل نکالا جا سکے۔ اس اجلاس میں بی سی بی چیف امین الاسلام اور پی سی بی چیف محسن نقوی شریک تھے۔ اس سے قبل پی سی بی نے ان خبروں کی تردید کی تھی کہ ہندوستان کے خلاف میچ کے مستقبل پر آئی سی سی سے خفیہ بات چیت شروع ہو چکی ہے۔

وزیراعظم کو اعلیٰ سطحی مذاکرات پر بریفنگ

حکومت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کو پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی نے پی سی بی، انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اور بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے نمائندوں کے درمیان ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات کے نتائج سے آگاہ کیا۔ بریفنگ میں ٹی20 ورلڈ کپ کے معاملے پر ہونے والی پیش رفت اور سفارتی کوششوں کی تفصیل پیش کی گئی۔

بیان میں کہا گیا کہ کثیر الجہتی مذاکرات کے نتائج اور دوست ممالک کی درخواستوں کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت پاکستان نے قومی کرکٹ ٹیم کو ہدایت کی ہے کہ وہ 15 فروری 2026 کو آئی سی سی مینز ٹی20 ورلڈ کپ کے شیڈول میچ کے لیے میدان میں اترے۔

سری لنکا کے صدر کی وزیراعظم سے درخواست

اس سے قبل سری لنکا کے صدر انورا کمارا ڈسانائیکے نے وزیراعظم شہباز شریف سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور بھارت کے خلاف ٹی20 ورلڈ کپ میچ کھیلنے کی درخواست کی۔ پیر کی شب وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان تفصیلی گفتگو ہوئی۔

بیان کے مطابق سری لنکن صدر نے کہا کہ پاکستانی ٹیم کو سری لنکا میں ہونے والے ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف اپنا شیڈول میچ کھیلنا چاہیے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ دہشت گردی کے مشکل دور میں سری لنکا نے پاکستان میں کرکٹ کی بھرپور حمایت کی اور پاکستان نے بھی ہر حال میں سری لنکا کے ساتھ اپنے تعلقات کو ترجیح دی۔

پاکستان اور سری لنکا کا باہمی تعاون

سری لنکن صدر نے کہا کہ پاکستان کی ٹیم نے دہشت گردی کے باوجود دورے جاری رکھے اور کرکٹ کے رشتے کو مضبوط رکھا۔ اس پر وزیراعظم شہباز شریف نے سری لنکن صدر کے جذبات کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں بھی مشکل ادوار کے دوران سری لنکا نے بھرپور ساتھ دیا اور کرکٹ سرگرمیاں جاری رکھیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ حالیہ دور میں بھی سری لنکن ٹیم کا پاکستان کا دورہ منسوخ نہ کرنا پاکستانی قوم اور کرکٹ شائقین کے لیے ایک یادگار اقدام تھا۔ انہوں نے سری لنکن صدر کو یقین دلایا کہ پاک بھارت ٹی20 ورلڈ کپ میچ سے متعلق مشاورت کے بعد حتمی فیصلے سے آگاہ کیا جائے گا۔

بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کی اپیل

دوسری جانب بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے اپنے بیان میں پی سی بی، آئی سی سی اور تمام متعلقہ فریقین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے پاکستان سے بھارت کے خلاف ورلڈ کپ کا شیڈول میچ کھیلنے کی درخواست کی۔

بی سی بی کے صدر محمد امین الاسلام نے کہا کہ مشکل وقت میں بنگلہ دیش کی حمایت پر ہم پاکستان کی کوششوں سے بے حد متاثر ہیں اور یہ بھائی چارہ ہمیشہ قائم رہے گا۔

اجتماعی مفاد میں میچ کھیلنے پر زور

محمد امین الاسلام نے مزید کہا کہ پاکستان کے مختصر دورے اور حالیہ بات چیت کے مثبت نتائج کی روشنی میں وہ پاکستان سے اپیل کرتے ہیں کہ کرکٹ کے اجتماعی مفاد میں 15 فروری کو بھارت کے خلاف آئی سی سی ٹی20 ورلڈ کپ کا میچ کھیلا جائے تاکہ کھیل کی روح اور علاقائی تعاون کو فروغ مل سکے