واشنگٹن: فیفا ورلڈ کپ 2026 کے فائنل میں اسپین کی تاریخی فتح کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فاتح ٹیم کو ٹرافی پیش کی، حالانکہ وہ اس سے قبل کئی مواقع پر اسپین اور اس کی حکومت پر سخت تنقید کر چکے تھے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں نیٹو سربراہی اجلاس کے دوران اسپین پر دفاعی اخراجات، امیگریشن پالیسی اور ایران کے خلاف امریکی مؤقف کی حمایت نہ کرنے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا تھا، "میں اسپین سے کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتا۔" انہوں نے یہاں تک کہا تھا کہ اسپین کے ساتھ تجارتی تعلقات محدود کر دیے جائیں اور اسے "مایوس کن ملک" قرار دیا تھا۔
تاہم اتوار کو نیو جرسی کے میٹ لائف اسٹیڈیم میں جب اسپین نے اضافی وقت میں ارجنٹینا کو 0-1 سے شکست دے کر اپنا دوسرا فیفا ورلڈ کپ جیتا تو صدر ٹرمپ نے سفارتی روایات کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسپین کے کھلاڑیوں کو طلائی ٹرافی پیش کی اور دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کو تمغے بھی پہنائے۔
میچ کے بعد جب ٹرمپ میدان میں داخل ہوئے تو 80 ہزار سے زائد شائقین میں سے کئی افراد نے ان کے خلاف نعرے بازی اور ہوٹنگ کی۔ گزشتہ چھ ہفتوں کے دوران یہ دوسرا موقع تھا جب وہ نیویارک کے علاقے میں کسی بڑے کھیل کے فائنل میں شریک ہوئے۔
اس سے قبل 8 جون کو وہ میڈیسن اسکوائر گارڈن میں این بی اے فائنلز کے ایک میچ میں بھی موجود تھے، جہاں نیویارک نِکس کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، اگرچہ ٹیم بعد میں 53 برس بعد چیمپئن بننے میں کامیاب رہی۔
صدر ٹرمپ کی آمد کے باعث میٹ لائف اسٹیڈیم اور اس کے اطراف غیر معمولی حفاظتی انتظامات کیے گئے، ٹریفک کی روانی متاثر رہی اور کئی راستے بند کر دیے گئے۔ اس موقع پر دنیا بھر کی ممتاز شخصیات، سربراہانِ مملکت، کاروباری شخصیات اور کھیلوں کے مداح بھی اسٹیڈیم میں موجود تھے۔
تماشائیوں میں نیویارک کے میئر ظہران ممدانی، اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز، میکسیکو کی صدر کلاڈیا شین بام، کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی اور برازیل کے عظیم فٹبالر رونالڈو نازاریو بھی شامل تھے۔ رونالڈو نے میچ کے دوران صدر ٹرمپ سے بھی ملاقات کی۔
میچ سے تقریباً ایک گھنٹہ قبل صدر ٹرمپ نے صدارتی ہیلی کاپٹر میرین ون کے ذریعے اسٹیڈیم کے اوپر پرواز کی۔ ان کی بیٹی ایوانکا ٹرمپ کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو میں صدر ٹرمپ اس منظر کو دیکھ کر صرف ایک لفظ کہتے سنائی دیے، "واہ!"
فیفا نے 2018 میں ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے صدارتی دور کے دوران امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو کو مشترکہ طور پر 2026 ورلڈ کپ کی میزبانی سونپی تھی، جبکہ 2028 کے سمر اولمپکس کی میزبانی لاس اینجلس کرے گا۔ ٹرمپ ان دونوں عالمی مقابلوں کو امریکہ میں کھیلوں کے نئے دور کا آغاز قرار دیتے رہے ہیں۔
تاہم فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو کے ساتھ ان کے قریبی تعلقات متعدد تنازعات کا سبب بھی بنے۔ اسٹیڈیم کی بڑی اسکرین پر قومی ترانے کے دوران دونوں کو بلٹ پروف شیشے کے پیچھے ایک ساتھ بیٹھا دکھایا گیا۔
گزشتہ دسمبر میں انفانٹینو نے ٹرمپ کو افتتاحی فیفا پیس پرائز سے بھی نوازا تھا، جسے کئی حلقوں نے نوبیل امن انعام کے لیے ان کی ناکام کوششوں کے تناظر میں تنقید کا نشانہ بنایا۔ اسی عرصے میں فیفا نے نیویارک میں ٹرمپ ٹاور میں اپنا ایک دفتر بھی قائم کیا۔
ورلڈ کپ کے دوران ٹرمپ انتظامیہ کو اس وقت بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب ایران کی قومی ٹیم پر سفری پابندیاں عائد کی گئیں، جبکہ صومالیہ سے تعلق رکھنے والے ایک فیفا ریفری اور بعض صحافیوں کو امریکہ میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔
مزید تنازع اس وقت پیدا ہوا جب امریکہ اور بیلجیم کے درمیان ناک آؤٹ مرحلے کے میچ سے قبل ٹرمپ نے فیفا صدر جیانی انفانٹینو سے امریکی اسٹرائیکر فولرین بالوگن کی ریڈ کارڈ معطلی ختم کرنے کی درخواست کی۔ بالوگن کو بوسنیا اور ہرزیگووینا کے خلاف میچ میں فاؤل کے باعث معطل کیا گیا تھا۔
ٹرمپ کی مداخلت کے بعد بالوگن کی معطلی ختم کر دی گئی، جس پر بیلجیم، یورپی فٹبال حکام اور کئی عالمی شائقین نے احتجاج کیا۔ تاہم بعد میں بیلجیم نے امریکہ کو 1-4 سے شکست دے کر کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی۔
جمعہ کی شب ٹرمپ ٹاور میں منعقدہ فیفا استقبالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے بالوگن کی بحالی پر انفانٹینو کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ چونکہ امریکہ میچ ہار گیا، اس لیے اس فیصلے پر کوئی تنازع باقی نہیں رہا۔
اسی تقریب میں انہوں نے یہ خواہش بھی ظاہر کی کہ امریکہ کو دوبارہ ورلڈ کپ کی میزبانی ملنی چاہیے، تاہم اس بار کینیڈا اور میکسیکو کو اس میزبانی کا حصہ نہ بنایا جائے۔