آواز دی وائس: نئی دہلی
یہ ایک اور کہانی ہے ہمت کے حوصلے کی اور جذبے کی، جس میں کھیتوں میں کام کرنے والے ایک نوجوان نے اپنے خواب کو کیسے حقیقت بنایا اج دنیا کے سامنے ہے، ایک کسان کے بیٹے نے غربت کا سامنا کیا بلکہ اسی میں سے راہ نکالی جو اسے دنیا کی سب سے بڑی اور سب سے مہنگی کرکٹ لی یعنی ان انڈین پریمیئر لیگ میں ایک ہیرو بنا گئی
انڈین پریمیئر لیگ نے ایک بار پھر چھوٹے شہروں کے کھلاڑیوں کو بڑے میدان میں اپنی صلاحیت دکھانے کا موقع دیا ہے اسی سلسلے میں سن رائزرز حیدرآباد کے تیز گیند باز ثاقب حسین نے اپنے پہلے ہی میچ میں شاندار کارکردگی دکھا کر سب کی توجہ حاصل کر لی آئی پی ایل 2026کے ایک مقابلے میں راجستھان رائلز کے خلاف 13 اپریل کو ثاقب حسین نے بہترین گیند بازی کرتے ہوئے چار اوورز میں چوبیس رنز دے کر چار کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا اور اپنی ٹیم کی جیت میں اہم کردار ادا کیا یہ ان کے کیریئر کا پہلا میچ تھا جسے انہوں نے یادگار بنا دیا
بہار کے گوپال گنج ضلع سے تعلق رکھنے والے ثاقب حسین نےاس میچ میں ثاقب حسین نے ہندوستان کے نوجوان بلے باز یشسوی جیسوال کی اہم وکٹ بھی حاصل کی جو ان کے اعتماد اور صلاحیت کا واضح ثبوت ہے اس سے پہلے وہ کولکتہ نائٹ رائیڈرز کا حصہ رہے لیکن انہیں میدان میں کھیلنے کا موقع نہیں مل سکا
Another debutant making his mark ✅
— IndianPremierLeague (@IPL) April 13, 2026
🎥 Glimpses of Sakib Hussain’s 4/24 in his first outing in #TATAIPL 🔥
Updates ▶️ https://t.co/xGTDdKbXpY#KhelBindaas | #SRHvRR | @sunrisers pic.twitter.com/ByAMDOgJiB
جدوجہد بھرا سفر
ثاقب کا سفر آسان نہیں تھا وہ بہار کے ضلع گوپال گنج سے تعلق رکھتے ہیں اور ایک سادہ کسان خاندان میں پیدا ہوئے ان کے والد کھیتی باڑی کرتے ہیں اور محدود وسائل کے باوجود انہوں نے اپنے بیٹے کے خواب کو ٹوٹنے نہیں دیا- ایک وقت ایسا بھی تھا جب ثاقب کے پاس کھیل کے جوتے خریدنے کے لیے پیسے نہیں تھے وہ سوچتے تھے کہ اگر جوتے لے لیے جائیں تو گھر کا خرچ کیسے چلے گا جب انہوں نے یہ بات اپنی والدہ کو بتائی تو وہ جذباتی ہو گئیں اور انہوں نے اپنے زیورات بیچ کر انہیں جوتے دلائے تاکہ وہ اپنے خواب کو جاری رکھ سکیںآج ثاقب حسین اپنی محنت اور لگن کے باعث ایک بڑے مقام تک پہنچ چکے ہیں ان کی کہانی نوجوانوں کے لیے ایک روشن مثال ہے کہ مضبوط ارادوں کے ساتھ ہر مشکل پر قابو پایا جا سکتا ہے اور کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے
.webp)
کیا کہتا ہے ایک سیدھا سادا نوجوان
سب سے پہلے میں اپنے خاندان کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کیونکہ میرے ماں باپ نے میرا بہت ساتھ دیا۔ ہمارے حالات بہت زیادہ مضبوط نہیں تھے اور ہم ایک سادہ گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اس لیے اگر میں صرف شوق کے پیچھے چلتا تو گزارا مشکل ہو جاتا۔ لیکن میرے والدین نے ہر مشکل میں میرا حوصلہ بڑھایا۔جب میرا نام آئی پی ایل کے لیے آیا تو میری والدہ نے مجھے گلے لگا لیا اور وہ خوشی سے رو رہی تھیں۔ اس دن مجھے واقعی محسوس ہوا کہ میں نے کچھ حاصل کیا ہے اور میری محنت رنگ لے آئی ہے۔
میں نے شروع سے ٹینس بال کے ساتھ کرکٹ کھیلی ہے اور اسی وجہ سے میری بولنگ میں رفتار آئی۔ فاسٹ بولر ہونے کی وجہ سے اس نے میری آرم اسپیڈ کو بہتر بنایا اور اب مجھے ہارڈ بال سے بولنگ کرنا نسبتاً آسان لگتا ہے۔میرے بولنگ کوچ ورون بھائی نے بھی میری بہت مدد کی۔ انہوں نے مجھے مسلسل رہنمائی دی اور ایک مہینہ پہلے ہی پریکٹس کے لیے بلایا تھا۔ میں راؤ کرکٹ اکیڈمی گیا جہاں میں نے مزید محنت کی اور اپنی مہارت کو بہتر بنایا۔ وہاں کے کوچز اور ساتھیوں نے بھی میرا بھرپور ساتھ دیا۔آج جو بھی کامیابی مجھے ملی ہے وہ میرے خاندان میرے کوچز اور ان تمام لوگوں کی بدولت ہے جنہوں نے مجھ پر یقین رکھا اور ہر قدم پر میری حوصلہ افزائی کی
جشن ہے
میچ کے بعد محلے میں خوشی کا ایک الگ ہی سماں تھا۔ آس پاس کے تمام لوگ جمع ہو گئے اور ہر چہرے پر مسکراہٹ نظر تھی۔ یہ خوشی اس بات کی ہے کہ ہمارے علاقے کے ایک بیٹے نے اپنے کھیل سے سب کا نام روشن کیا۔ پہلے لوگ اسے ڈانٹتے تھے کہ وہ صرف کھیلتا رہتا ہے اور پڑھائی نہیں کرتا لیکن آج وہی بچہ اپنی محنت سے ایک نئی پہچان بنا چکا ہے۔بچپن میں وہ گلیوں میں کھیلتا تھا۔ کبھی اسے سمجھایا جاتا کہ پڑھائی ضروری ہے لیکن اس کا دل کھیل میں ہی لگتا تھا۔ آج وہی شوق اس کی کامیابی کی وجہ بن گیا ہے۔ اس کے گھر میں کوئی بڑی سہولت نہیں تھی یہاں تک کہ ٹی وی بھی نہیں تھا۔ اس کی والدہ نے موبائل پر اس کا میچ دیکھا اور بیٹے کی کامیابی پر ان کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آ گئے۔
ماں کہتی ہیں
اس کی والدہ کہتی ہیں کہ انہیں بہت خوشی ہو رہی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ میرا بیٹا آج وہاں پہنچ گیا ہے جہاں تک پہنچنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ پہلے ہم اسے ڈانٹتے تھے لیکن آج ہمیں اس پر فخر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب انہیں پتا چلا کہ ان کا بیٹا ٹی وی پر کھیل رہا ہے تو وہ خوشی سے سو بھی نہیں سکیں۔
یہ کامیابی صرف ایک گھر کی نہیں بلکہ پورے محلے اور پورے علاقے کی کامیابی ہے۔ آج ہر کوئی اسے مبارکباد دے رہا ہے اور اس کے لیے دعائیں کر رہا ہے۔ لوگ کہہ رہے ہیں کہ یہ لڑکا آگے بڑھتا رہے اور ایک دن ملک کے لیے بھی کھیلے۔یہ کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ محنت اور لگن سے ہر خواب پورا ہو سکتا ہے۔ چاہے حالات کیسے بھی ہوں اگر انسان میں ہمت ہو تو وہ اپنی منزل تک ضرور پہنچتا ہے۔ آج ایک عام گھر کا بیٹا پورے ملک میں نام روشن کر رہا ہے اور یہ ہم سب کے لیے فخر کی بات ہے۔
ایک مثال ہے
ثاقب حسین کی کہانی ان ہزاروں نوجوانوں کے لیے مثال ہے جو محدود وسائل کے باوجود بڑے خواب دیکھتے ہیں۔ کبھی ان کے پاس کھیل کے جوتے خریدنے کے پیسے نہیں تھے اور ایک وقت ایسا بھی آیا جب وہ سوچتے تھے کہ اگر جوتے لے لیں تو گھر کا خرچ کیسے چلے گا۔ اسی دوران ان کی والدہ نے اپنے زیورات بیچ کر انہیں جوتے دلائے اور ان کے والد نے بھی ہر قدم پر ان کا ساتھ دیا۔
A story of hard work, resilience and inspiration! 🫡
— KolkataKnightRiders (@KKRiders) May 25, 2024
From Gopalganj to Eden Gardens…Sakib Hussain is a Knight! 💜 pic.twitter.com/oyMxDZnSsM
ثاقب خود بھی چاہتے تھے کہ حالات بہتر ہوں تو وہ فوج میں شامل ہوں لیکن بعد میں مقامی لوگوں کے مشورے اور حوصلہ افزائی سے وہ کرکٹ کی طرف آئے۔ ابتدا میں وہ ٹینس بال سے کھیلتے رہے اور آہستہ آہستہ اپنی محنت سے اس مقام تک پہنچ گئے جہاں آج وہ بڑے اسٹیج پر اپنی پہچان بنا رہے ہیں