آخری میچ میں جذبات پر قابو رکھنا مشکل ہوا- عثمان خواجہ

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 08-01-2026
  آخری میچ میں  جذبات پر قابو رکھنا مشکل ہوا- عثمان خواجہ
آخری میچ میں جذبات پر قابو رکھنا مشکل ہوا- عثمان خواجہ

 



 سٹنی : آسٹریلیا کی جانب سے کھیلنے والے پاکستانی نژاد بیٹر عثمان خواجہ نے کہا ہے کہ اپنے کیریئر کا آخری ٹیسٹ کھیلنے کے بعد جذبات پر قابو رکھنا ان کے لیے مشکل ہو گیا تھا۔

 عثمان خواجہ نے جمعرات کو اپنے کیریئر کا آخری اور 88 واں ٹیسٹ انگلینڈ کے خلاف کھیلا۔ یہ ایشز سیریز کا پانچواں اور آخری میچ تھا۔39 سالہ عثمان خواجہ کو انگلینڈ کی ٹیم کی جانب سے شاندار خراج تحسین پیش کیا گیا۔ جب وہ سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں بیٹنگ کے بعد میدان سے باہر جا رہے تھے تو مہمان ٹیم کے کپتان بین سٹوکس نے ان سے ہاتھ ملایا۔

آسٹریلیا کی جیت کے بعد عثمان خواجہ نے سکائی اسپورٹس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 15 سالہ کیریئر اور 6000 سے زائد رنز بنانے کے بعد یہ ایک اور یادگار لمحہ ہے۔ ان کے مطابق یہ ان کے لیے بہت اہم تھا اور وہ صرف جیت ہی چاہتے تھے۔اس سے قبل آسٹریلیا نے پانچ وکٹوں سے انگلینڈ کو شکست دے کر سیریز 4 ایک سے اپنے نام کر لی تھی۔

عثمان خواجہ نے کہا کہ وہ اس آخری جیت پر بہت خوش ہیں اور اپنے ساتھی کھلاڑیوں کے ساتھ اس کا جشن منائیں گے۔ ان کے بقول میچ کے دوران خود کو پرسکون رکھنا بہت مشکل تھا اور جذبات پر قابو پانا آسان نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ ٹیم نے یہ کامیابی حاصل کی۔ یہ ایک ایسا لمحہ ہے جس سے وہ ساری زندگی لطف اندوز ہوں گے اور اب وہ سکون محسوس کر سکتے ہیں۔

عثمان خواجہ کے کیریئر کا اختتام اسی میدان میں ہوا جہاں انہوں نے 2011 میں انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ کرکٹ کا آغاز کیا تھا۔عثمان خواجہ بچپن میں اپنے خاندان کے ساتھ اسلام آباد سے ہجرت کر کے آسٹریلیا آئے تھے۔ انہوں نے پاکستان سے تعلق رکھنے والے اور مسلمان کھلاڑی کے طور پر قومی ٹیم تک پہنچنے میں کئی مشکلات کا سامنا کیا۔ایک وقت میں وہ ایشیائی پس منظر رکھنے والے واحد ایسے کھلاڑی تھے جنہیں رول ماڈل سمجھا جاتا تھا۔ ان کی کامیابی نے کئی دوسرے کھلاڑیوں کے لیے بھی راستے کھولے۔

عثمان خواجہ ایک کوالیفائیڈ پائلٹ بھی ہیں۔ انہوں نے اپنے ٹیسٹ کیریئر میں 16 سنچریاں بنائیں اور ان کی اوسط 43 سے زیادہ رہی۔انہوں نے 40 ایک روزہ میچز بھی کھیلے جبکہ 9 ٹی 20 انٹرنیشنل میچز میں بھی آسٹریلیا کی نمائندگی کی۔عثمان خواجہ کا کہنا ہے کہ کچھ لوگوں نے اپنے خاندان کھو دیے مگر وہ خوش قسمت ہیں کہ ان کے والدین ان کے ساتھ ہیں۔ ان کی بیوی اور بچے بھی ان کے پاس ہیں جبکہ ایک بچہ آنے والا ہے۔

ان کے مطابق وہ کرکٹ سے بے حد محبت کرتے ہیں مگر کرکٹ سے باہر کی زندگی ان کے لیے زیادہ اہم رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ آخر کے چند رنز بنانا کافی مشکل تھا اور دباؤ بھی تھا مگر آخرکار ٹیم نے یہ ہدف حاصل کر ہی لیا۔