آواز دی وائس: نئی دہلی
فیفا ورلڈ کپ 2026 کئی اعتبار سے تاریخ کا سب سے منفرد اور بڑا فٹ بال ٹورنامنٹ ثابت ہونے جا رہا ہے۔ اس بار مقابلوں کا دائرہ کار پہلے کے تمام ورلڈ کپ ایڈیشنز سے کہیں زیادہ وسیع ہوگا اور شائقین کو کئی نئی چیزیں دیکھنے کو ملیں گی۔
سب سے نمایاں تبدیلی ٹیموں کی تعداد میں اضافہ ہے۔ ماضی میں ورلڈ کپ میں 32 ٹیمیں شریک ہوتی تھیں لیکن 2026 کے ایڈیشن میں پہلی بار 48 ٹیمیں میدان میں اتریں گی۔
میچوں کی تعداد بھی 64 سے بڑھ کر 104 ہو جائے گی۔
نئے فارمیٹ کے تحت کسی بھی ٹیم کو عالمی چیمپئن بننے کے لیے اب سات کے بجائے آٹھ میچ کھیلنا ہوں گے۔
اس ورلڈ کپ کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ چار ایسی ٹیمیں بھی ٹورنامنٹ میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوئی ہیں جو اس سے پہلے کبھی فیفا ورلڈ کپ میں شرکت نہیں کر سکی تھیں۔
سال 2026 کا ورلڈ کپ میزبانی کے اعتبار سے بھی تاریخ ساز ہوگا۔ فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ تین ممالک مشترکہ طور پر اس عظیم ایونٹ کی میزبانی کریں گے۔

مختلف ٹائم زونز میں میچوں کے انعقاد کی وجہ سے کھلاڑیوں کو طویل سفر اور تھکن کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اسی لیے فیفا نے مقابلوں کے انتظام میں تین مختلف ٹائم زونز کو مدنظر رکھتے ہوئے خصوصی منصوبہ بندی کی ہے۔ تاہم گروپ مرحلے کے بعد بعض ٹیموں کو ناک آؤٹ مرحلے میں شرکت کے لیے تقریباً پانچ ہزار کلومیٹر تک سفر بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب شائقین کے لیے بھی یہ ورلڈ کپ مختلف چیلنجز لے کر آئے گا۔ تین ممالک میں ہونے والے ناک آؤٹ مقابلوں کی وجہ سے سفر کے اخراجات میں اضافہ اور ویزا سے متعلق مسائل پیدا ہونے کا امکان ہے۔
اس ٹورنامنٹ کی ایک اور تاریخی خصوصیت یہ ہوگی کہ فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ فائنل میچ کے دوران ہاف ٹائم شو کا اہتمام کیا جائے گا۔ اس اقدام سے فٹ بال کے سب سے بڑے مقابلے میں تفریح کا ایک نیا رنگ شامل ہوگا اور فائنل کو مزید یادگار بنانے کی کوشش کی جائے گی۔
ان تمام نئی خصوصیات کے باعث فیفا ورلڈ کپ 2026 نہ صرف سب سے بڑا بلکہ تاریخ کا سب سے منفرد فٹ بال میلہ بننے جا رہا ہے۔

تین ممالک کی مشترکہ میزبانی
میکسیکو اس سے قبل 1970 اور 1986 میں بھی ورلڈ کپ کی میزبانی کر چکا ہے اور اب وہ تیسری بار میزبان بننے والا پہلا ملک ہوگا۔ تاہم اس بار وہ اکیلا میزبان نہیں بلکہ امریکا اور کینیڈا اس کے شریک ہوں گے۔ امریکا نے آخری بار 1994 میں ورلڈ کپ کی میزبانی کی تھی جبکہ کینیڈا پہلی مرتبہ اس عالمی ایونٹ کی میزبانی کرے گا۔
ٹورنامنٹ کے میچ امریکا کے 11 شہروں۔ میکسیکو کے 3 شہروں اور کینیڈا کے 2 شہروں میں کھیلے جائیں گے۔ افتتاحی میچ میکسیکو سٹی میں میزبان میکسیکو اور جنوبی افریقا کے درمیان ہوگا۔
پہلی بار 48 ٹیمیں ایکشن میں
ورلڈ کپ 2026 کی سب سے بڑی تبدیلی ٹیموں کی تعداد میں اضافہ ہے۔1930 میں یوراگوئے میں منعقد ہونے والے پہلے ورلڈ کپ میں صرف 13 ٹیمیں شریک ہوئی تھیں۔ بعد ازاں 1998 فرانس ورلڈ کپ میں ٹیموں کی تعداد 32 کی گئی۔
2013 میں یو ایفا کے سابق صدر اور فرانس کے عظیم فٹبالر مشل پلاٹینی نے ٹیموں کی تعداد 48 کرنے کی تجویز پیش کی جسے بعد میں فیفا صدر جانی انفانٹینو کی حمایت حاصل ہوئی۔ بالآخر 10 جنوری 2017 کو فیفا نے باضابطہ طور پر 48 ٹیموں کے فارمیٹ کی منظوری دے دی۔
نیا فارمیٹ اور زیادہ میچز
14 مارچ 2023 کو فیفا کونسل نے فیصلہ کیا کہ 48 ٹیموں کو 12 گروپس میں تقسیم کیا جائے گا اور ہر گروپ میں 4 ٹیمیں شامل ہوں گی۔ ہر گروپ کی دو سرفہرست ٹیمیں اگلے مرحلے میں پہنچیں گی جبکہ تیسرے نمبر پر آنے والی بہترین 8 ٹیمیں بھی ناک آؤٹ مرحلے میں جگہ بنائیں گی۔نئے فارمیٹ کے تحت مجموعی طور پر 104 میچز کھیلے جائیں گے جبکہ فائنل تک رسائی حاصل کرنے والی ٹیم کو 8 میچ کھیلنے ہوں گے۔ ٹورنامنٹ 39 دنوں پر محیط ہوگا۔
گروپس میں سخت مقابلے متوقع
فیفا ورلڈ کپ 2026 کے گروپس بھی شائقین کی دلچسپی کا مرکز بن چکے ہیں۔
گروپ اے : میزبان میکسیکو کے ساتھ جنوبی کوریا۔ جنوبی افریقا اور چیک ریپبلک شامل ہیں۔
گروپ بی : میزبان کینیڈا۔ بوسنیا ہرزیگووینا۔ قطر اور سوئٹزرلینڈ موجود ہیں۔
گروپ سی : پانچ بار کی عالمی چیمپئن برازیل کا مقابلہ مراکش۔ ہیٹی اور اسکاٹ لینڈ سے ہوگا۔
گروپ ڈی : میزبان امریکا۔ پیراگوئے۔ آسٹریلیا اور ترکیہ شامل ہیں۔
گروپ ای : جرمنی۔ آئیوری کوسٹ۔ ایکواڈور اور کیوراساؤ کی ٹیمیں ہیں جبکہ گروپ ایف : نیدرلینڈز۔ جاپان۔ سوئیڈن اور تیونس شامل ہیں۔
گروپ جی کو خاص توجہ حاصل ہے جہاں ایران۔ نیوزی لینڈ۔ مصر اور بیلجیئم آمنے سامنے ہوں گے۔
گروپ ایچ :اسپین۔ سعودی عرب۔ یوراگوئے اور کیپ ورڈے شامل ہیں۔
گروپ آئی میں عالمی نمبر ایک فرانس کا مقابلہ سینیگال۔ عراق اور ناروے سے ہوگا۔
گروپ جے : دفاعی چیمپئن ارجنٹینا کے ساتھ الجزائر۔ آسٹریا اور اردن شامل ہیں۔
گروپ کے میں کرسٹیانو رونالڈو کی پرتگال۔ ازبکستان۔ کولمبیا اور کانگو کی ٹیمیں موجود ہیں۔
گروپ ایل : انگلینڈ۔ کروشیا۔ گھانا اور پانامہ شامل ہیں۔
عالمی رینکنگ اور فیورٹ ٹیمیں
فیفا کی موجودہ عالمی درجہ بندی کے مطابق فرانس پہلے۔ اسپین دوسرے۔ ارجنٹینا تیسرے اور انگلینڈ چوتھے نمبر پر موجود ہیں۔ پرتگال۔ برازیل۔ نیدرلینڈز۔ بیلجیئم اور جرمنی بھی مضبوط ٹیموں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق عالمی درجہ بندی میں سرفہرست ٹیموں کے پاس اس بار بھی ٹائٹل جیتنے کے زیادہ امکانات ہوں گے۔ دفاعی چیمپئن ارجنٹینا۔ فرانس۔ اسپین اور برازیل کو خاص طور پر فیورٹ قرار دیا جا رہا ہے۔
اٹلی کی مسلسل تیسری غیرحاضری
ورلڈ کپ 2026 کی ایک حیران کن بات یہ بھی ہے کہ چار مرتبہ عالمی چیمپئن رہنے والی اٹلی کی ٹیم ایک بار پھر ٹورنامنٹ میں جگہ بنانے میں ناکام رہی ہے۔ اٹلی 1934۔ 1938۔ 1982 اور 2006 میں ورلڈ کپ جیت چکا ہے لیکن 2018 اور 2022 کے بعد اب مسلسل تیسری مرتبہ بھی ورلڈ کپ میں شامل نہیں ہوگا۔
فٹبال دنیا کے لیے تاریخی ایونٹ
فیفا ورلڈ کپ 2026 نہ صرف اپنی وسعت اور نئے فارمیٹ بلکہ جدید انفرااسٹرکچر۔ ٹیکنالوجی۔ شائقین کی بڑی تعداد اور مختلف ثقافتوں کے امتزاج کی وجہ سے بھی منفرد قرار دیا جا رہا ہے۔ تین ممالک میں بیک وقت ہونے والا یہ عالمی ایونٹ فٹبال کی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز سمجھا جا رہا ہے جہاں دنیا بھر کے شائقین کو پہلے سے کہیں زیادہ دلچسپ اور سنسنی خیز مقابلے دیکھنے کو ملیں گے۔
انعامی رقم
ورلڈ کپ کے لیے 87 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کی انعامی رقم کا اعلان کیا گیا ہے، فاتح ٹیم کو 5 کروڑ 45 لاکھ اور رنر اپ کو 3 کروڑ 65 لاکھ ڈالر ملیں گے۔ ایونٹ کی تیاری کے لیے ہر ٹیم کو 25 لاکھ جبکہ کوالیفائی کرنے پر ایک کروڑ ڈالرز ملیں گے، 2022 میں تیاریوں کے لیے 15 لاکھ اور کوالیفائی کرنے پر 90 لاکھ ڈالرز دیے گئے تھے۔ یعنی محض کوالیفائی کرنے پر ہی ہر ٹیم کو ایک کروڑ 25 لاکھ ڈالرز کی انعامی رقم مل جائے گی جبکہ مزید رقم ان کی کارکردگی کے مطابق دی جائے گی۔ تیسری پوزیشن پر رہنے والی ٹیم کے حصے میں 3 کروڑ 25 لاکھ ڈالرز آئیں گے جبکہ چوتھے نمبر کی ٹیم 3 کروڑ 5 لاکھ ڈالرز جیت لے گی
جوش و خروش کا فقدان،
امریکا میں 11 جون سے شروع ہونے والے فیفا ورلڈ کپ کے لیے تاحال وہ جوش و خروش دیکھنے میں نہیں آیا جس کی منتظمین اور کاروباری حلقوں کو توقع تھی۔ امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ٹورنامنٹ کے آغاز میں اب چند ہی دن باقی رہ گئے ہیں، تاہم میزبان شہروں میں شائقین کی آمد اور ہوٹل بکنگ کی رفتار توقعات سے خاصی کم ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکا کے 11 مختلف شہروں میں ورلڈ کپ کے مقابلے منعقد کیے جائیں گے، لیکن ہوٹل انڈسٹری سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ بکنگ کے اعداد و شمار ان کے اندازوں سے بھی کم ہیں۔ تقریباً 80 فیصد ہوٹل مالکان نے اعتراف کیا ہے کہ انہیں اس عالمی ایونٹ سے جتنی کاروباری سرگرمی کی امید تھی، وہ اب تک نظر نہیں آرہی۔
بعض ہوٹل مالکان نے تو ورلڈ کپ کو ’’نان ایونٹ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مقامی سطح پر اس ایونٹ کے حوالے سے غیر معمولی دلچسپی یا سرگرمی محسوس نہیں کی جا رہی۔ ان کے مطابق ابھی تک شائقین کی بڑی تعداد کی آمد کے آثار بھی نمایاں نہیں ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ٹورنامنٹ شروع ہونے کے بعد صورتحال تبدیل ہو سکتی ہے، تاہم فی الحال فیفا ورلڈ کپ جیسے بڑے عالمی مقابلے کے لیے متوقع جوش و خروش اور تجارتی سرگرمیاں دیکھنے میں نہیں آ رہیں۔