فیفا ورلڈ کپ 2026 :اسلامی ممالک کی ریکارڈ نمائندگی

Story by  منصورالدین فریدی | Posted by  [email protected] | Date 08-06-2026
فیفا ورلڈ کپ 2026 : 13 مسلم فٹ بال طاقتوں کا غیر معمولی عروج
فیفا ورلڈ کپ 2026 : 13 مسلم فٹ بال طاقتوں کا غیر معمولی عروج

 



منصور الدین فریدی / نئی دہلی

دنیا بھر کے فٹ بال شائقین جس لمحے کا بے صبری سے انتظار کر رہے تھے وہ اب قریب آ چکا ہے۔ 11 جون سے امریکا، میکسیکو اور کینیڈا میں فیفا ورلڈ کپ 2026 کا آغاز ہونے جا رہا ہے،حو تاریخ کا سب سے بڑا اور منفرد ورلڈ کپ قرار دیا جا رہا ہے -ان میں ایک سبب ریکارڈ تعداد میں مسلم اکثریتی ممالک کی شرکت، بھی ہے

یاد رہے کہ اس مرتبہ ٹورنامنٹ کا آغاز میکسیکو سٹی میں میزبان میکسیکو اور جنوبی افریقہ کے درمیان میچ سے ہوگا، جبکہ فائنل 19 جولائی کو نیویارک نیو جرسی اسٹیڈیم (میٹ لائف اسٹیڈیم) میں کھیلا جائے گا- فیفا ورلڈ کپ 2026 پہلی بار 48 ٹیموں پر مشتمل ہوگا۔ اس سے قبل ورلڈ کپ میں 32 ٹیمیں حصہ لیتی تھیں۔ ٹیموں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ میچوں کی تعداد بھی 64 سے بڑھ کر 104 ہو گئی ہے، جس کے باعث یہ ٹورنامنٹ پہلے سے کہیں زیادہ طویل اور دلچسپ ہوگا۔

اسلامی ممالک کی ریکارڈ توڑ تعداد

فیفا ورلڈ کپ 2026 عالمی فٹ بال کی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز کرنے جا رہا ہے۔ پہلی مرتبہ ریکارڈ 13 مسلم اکثریتی ممالک نے اس عالمی ٹورنامنٹ کے لیے کوالیفائی کیا ہے، جس سے نہ صرف مقابلوں میں تنوع بڑھے گا بلکہ دنیا کے مختلف خطوں کی نمائندگی بھی پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہوگی۔

امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کی مشترکہ میزبانی میں منعقد ہونے والے اس ورلڈ کپ میں پہلی بار 48 ٹیمیں شرکت کر رہی ہیں۔ ٹیموں کی تعداد میں اضافے نے عالمی فٹ بال کے نقشے کو بدل دیا ہے اور ان ممالک کے لیے بھی مواقع پیدا کیے ہیں جو ماضی میں عالمی کپ تک رسائی حاصل کرنے میں ناکام رہتے تھے۔

مسلم دنیا کی مضبوط نمائندگی

سال 2026 کے ورلڈ کپ میں کوالیفائی کرنے والے 13 مسلم اکثریتی ممالک میں مراکش، مصر، الجزائر، سینیگال، تیونس، سعودی عرب، قطر، اردن، عراق، ایران، ازبکستان، ترکیہ اور بوسنیا و ہرزیگووینا شامل ہیں۔یہ ممالک ایشیا، افریقہ، یورپ اور مشرق وسطیٰ کے مختلف خطوں کی نمائندگی کرتے ہیں اور ہر ایک کی اپنی منفرد فٹ بال تاریخ اور عالمی سطح پر ابھرتی ہوئی شناخت ہے۔

ماہرین کے مطابق ان ممالک کی کامیابی محض ایک کھیل کا نتیجہ نہیں بلکہ برسوں کی منصوبہ بندی، نوجوان کھلاڑیوں کی تربیت، پیشہ ورانہ لیگز کے قیام اور جدید فٹ بال ڈھانچے میں سرمایہ کاری کا ثمر ہے۔

مراکش اب بھی مرکزِ نگاہ

2022 کے قطر ورلڈ کپ میں مراکش نے سیمی فائنل تک رسائی حاصل کرکے تاریخ رقم کی تھی اور وہ ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں پہنچنے والا پہلا افریقی اور عرب ملک بن گیا تھا۔اس تاریخی کامیابی کے بعد ایک بار پھر دنیا بھر کے شائقین کی نظریں مراکش پر مرکوز ہوں گی۔ فٹ بال ماہرین کا خیال ہے کہ مراکش اس مرتبہ بھی بڑی ٹیموں کے لیے خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔

عراق کی 40 سال بعد واپسی

عراق کی ورلڈ کپ میں واپسی مشرق وسطیٰ کے فٹ بال حلقوں میں خوشی اور جوش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ عراقی ٹیم 40 سال بعد دوبارہ عالمی کپ میں شرکت کر رہی ہے۔سال 1986 کے بعد پہلی مرتبہ عراق عالمی فٹ بال کے سب سے بڑے اسٹیج پر نظر آئے گا، جسے ملک کی فٹ بال تاریخ کا ایک یادگار لمحہ قرار دیا جا رہا ہے۔

ترکیہ کا 24 سالہ انتظار ختم

یورپی فٹ بال کی مضبوط ٹیموں میں شمار ہونے والے ترکیہ نے بھی 24 سال بعد ورلڈ کپ میں جگہ بنائی ہے۔ طویل انتظار کے بعد عالمی کپ میں واپسی نے ترک شائقین میں زبردست جوش و خروش پیدا کر دیا ہے۔

پہلی مرتبہ ورلڈ کپ میں اردن اور ازبکستان

سال 2026 ورلڈ کپ کی ایک اور بڑی خصوصیت اردن اور ازبکستان کی پہلی مرتبہ شرکت ہے۔دونوں ممالک کے لیے عالمی کپ تک رسائی ایک تاریخی کامیابی تصور کی جا رہی ہے۔ فٹ بال ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ ایشیائی فٹ بال تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور اب روایتی طاقتوں کو نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔

فیفا کی توسیعی پالیسی کے مثبت نتائج

ماہرین کا ماننا ہے کہ فیفا کی جانب سے ورلڈ کپ میں ٹیموں کی تعداد 32 سے بڑھا کر 48 کرنے کا فیصلہ ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا ہے۔اس فیصلے کے نتیجے میں ایشیا اور افریقہ کے کئی ممالک کو عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کےاظہار کا موقع ملا۔ ان ممالک نے کوالیفائنگ مرحلے میں مسلسل عمدہ کارکردگی دکھا کر ثابت کیا کہ وہ دنیا کی بڑی ٹیموں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

عالمی فٹ بال میں طاقت کا بدلتا توازن

فٹ بال تجزیہ کاروں کے مطابق مسلم اکثریتی ممالک کی بڑھتی ہوئی موجودگی عالمی فٹ بال میں طاقت کے توازن میں تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔ایک زمانے میں عالمی فٹ بال پر صرف چند روایتی یورپی اور جنوبی امریکی طاقتوں کی اجارہ داری سمجھی جاتی تھی،لیکن اب ایشیا،افریقہ اور مشرق وسطیٰ کےممالک بھی مضبوط دعوے دار بن کر ابھر رہے ہیں۔بہتر کوچنگ، جدید تربیتی نظام، نوجوان ٹیلنٹ پر توجہ اور طویل المدتی منصوبہ بندی نے ان ممالک کو عالمی سطح پر نمایاں مقام دلایا ہے۔

کھیل کے ساتھ ثقافتی اہمیت بھی

13 مسلم اکثریتی ممالک کی شرکت صرف کھیل تک محدود نہیں بلکہ اس کی ثقافتی اہمیت بھی غیر معمولی ہے۔اس سے ایشیا، افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں کروڑوں شائقین کی دلچسپی مزید بڑھے گی اور دنیا کو مسلم معاشروں کی مثبت، متحرک اور ترقی پسند تصویر دیکھنے کا موقع ملے گا۔-ماہرین کے مطابق شمالی افریقہ کی فنی مہارت، مشرق وسطیٰ کی منظم حکمت عملی اور وسطی ایشیا کی جسمانی طاقت اس ورلڈ کپ کو فٹ بال کے مختلف انداز اور فلسفوں کا ایک منفرد امتزاج بنا دے گی۔

تاریخ کا سب سے متنوع ورلڈ کپ

جوں جوں ٹورنامنٹ کا آغاز قریب آ رہا ہے، توقعات اور جوش میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ فیفا ورلڈ کپ 2026 نہ صرف تاریخ کا سب سے بڑا ورلڈ کپ ہوگا بلکہ یہ عالمی فٹ بال کی بدلتی ہوئی شناخت کی بھی علامت بنے گا۔اب نئی ٹیمیں صرف تماشائی یا شریکِ سفر نہیں رہیں بلکہ عالمی فٹ بال کی کہانی کے مرکزی کردار بنتی جا رہی ہیں۔ 13 مسلم اکثریتی ممالک کی ریکارڈ شرکت اسی تبدیلی کا واضح ثبوت ہے، جو فیفا ورلڈ کپ 2026 کو تاریخ کے یادگار ترین ایڈیشنز میں شامل کر سکتی ہے۔