آواز دی وائس/ نئی دہلی
دنیا کے کونے کونے میں میمن برادری آباد ہے جن کی تعداد تقریبا 40 لاکھ کے اس پاس ہے مگر اہم بات یہ ہے کہ میمن جہاں بھی آباد ہیں ، وہ خوشحال ہیں، اپنے ملک کے وفادار ہیں اور ترقیاتی فلاحی کاموں میں سب سے اگے ہیں، یہی میمن برادری کی اصل پہچان ہے
ورلڈ میمن ڈے پر ان خیالات کا اظہار ملک کے ممتاز میمن لیڈر ایڈوکیٹ یوسف ابراہانی نے کیا-
میمن ایک قدیم برادری ہے اور ایک چھوٹی سی کمیونٹی ہونےکےباوجود ایک بڑی تاریخ کی وارث ہے۔ ہندوستان اور پاکستان سے نکل کر آج دنیا کے کونے کونے میں پھیلی ہوئی میمن برادری کی تاریخ صدیوں پرانی ہے۔ اپنے پُرامن اور پُرسکون مزاج کی وجہ سے یہ نہ صرف خوشحال ہے بلکہ خدمت گزار بھی ہے۔
ممتاز میمن شخصیت، سابق ممبر اسمبلی اور اسلام جمخانہ کے صدر یوسف ابراہانی صاحب جو ممبئی کی سیاست سے لے کر کاروبار اور سماجی خدمات تک سرگرم ہیں۔ ۔
.webp)
یوسف ابراہانی نے منصورالدین فریدی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میمن کمیونٹی پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے اور بنیادی طور پر اس کی جڑیں گجرات سے جڑی ہیں جہاں سے یہ لوگ ہجرت کر کے دنیا بھر میں آباد ہوئے۔
فراغ دل اور خدمت گار برادری
انہوں نے کہا کہ یہ ایک نہایت دلدار قوم ہے ،اللہ نے انہیں بے حد نوازا ہے۔ میں ہمیشہ تین باتیں کہتا ہوں کہ اللہ نے انہیں دولت دی ہے، بڑا دل دیا ہے اور خوبصورتی بھی دی ہے۔ جہاں بھی میمن آباد ہوتا ہے وہاں سب سے پہلے مدرسہ مسجد جماعت خانہ اور میڈیکل ڈسپنسری قائم کرتا ہے۔ یہ ایک پرانی روایت ہے۔ جہاں بھی میمن گیا وہاں تعلیم دین اور خیرات کا نظام قائم کیا۔ میں نے اپنی زندگی کے ساٹھ برسوں میں دیکھا ہے کہ میمن قوم نے ممبئی میں بے شمار ادارے قائم کیے ہیں جن میں ہسپتال جماعت خانے مساجد ، مدارس اور ڈسپنسریاں شامل ہیں۔
ورلڈ میمن ڈے کا جشن
انہوں نے بتایا کہ 10 اپریل کو پوری دنیا میں میمن ڈے منایا جاتا ہے اور اس دن خاص طور پر خیرات کے کام کیے جاتے ہیں۔ لوگ ہسپتالوں کا دورہ کرتے ہیں مختلف پروگرام منعقد ہوتے ہیں اور غریبوں بیواؤں نابینا گونگے بہرے اور جسمانی معذور افراد کی مدد کی جاتی ہے۔ راشن تقسیم کیا جاتا ہے اور کئی فلاحی سرگرمیاں انجام دی جاتی ہیں۔ یہ روایت شروع سے چلی آ رہی ہے اور اقبال میمن کی قیادت میں اس میں مزید تیزی آئی ہے۔ہندوستان کے ساتھ نگلینڈ، امریکہ آسٹریلیا، کینیڈا، نیوزی لینڈ اور دیگر ممالک میں بھی پروگرام منعقد ہوتے ہیں۔
تعلیم اور ترقی
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میمن برادری تعداد میں کم ضرور ہے لیکن تعلیم اور ترقی میں بہت آگے ہے۔ دنیا بھر میں ان کی تعداد تقریباً چالیس لاکھ کے قریب ہے جس میں اکثریت ہندوستان میں رہتی ہے جبکہ کینیڈا انگلینڈ امریکہ سری لنکا اور دیگر ممالک میں بھی بڑی تعداد میں آباد ہیں۔ یہ ایک کاروباری برادری ہے اور ایمانداری اور دیانت اس کی پہچان ہے۔ بچپن سے ہی بچوں کی تربیت پر خاص توجہ دی جاتی ہے اور انہیں دین اور اخلاق کی تعلیم دی جاتی ہے۔
.webp)
جماعتوں کا جال بچھا ہے
یوسف ابراہانی کہتے ہیں ہندوستان میں تقریباً پانچ سومیمن جماعتیں ہیں اور ہر جماعت اپنے علاقے میں منظم طریقے سے کام کرتی ہے۔ اس کے علاوہ ورلڈ میمن آرگنائزیشن بھی عالمی سطح پر سرگرم ہے جس میں مختلف ممالک کے نمائندے شامل ہیں۔ اگر کسی ضرورت مند کو مدد درکار ہو تو وہ اپنی مقامی جماعت سے رجوع کرتا ہے جہاں اس کی جانچ پڑتال کے بعد اس کی مدد کی جاتی ہے۔ طلبہ کی تعلیمی کارکردگی پر انہیں انعامات دیے جاتے ہیں اور اساتذہ کی بھی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔
کاروبار کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ میمن برادری شروع سے ہی مختلف کاروباروں میں سرگرم رہی ہے جن میں کپڑا، لکڑی اور لوہے کا کاروبار شامل ہے۔ کئی کمپنیاں سو سے ڈیڑھ سو سال پرانی ہیں۔ ممبئی میں صابو صدیق مسافر خانہ، صابو صدیق ہسپتال اور انجمن اسلام کالج جیسے اداروں میں بھی میمن برادری کا بڑا تعاون رہا ہے۔
سیاست اور سوچ
یوسف ابراہانی کہتے ہیں کہ سیاسی میدان میں بھی میمن برادری نے اہم کردار ادا کیا ہے، ملک کو میئر ایم ایل اے ایم پی اور کارپوریٹر دیے ہیں۔ بنیادی طور پر میمن ہمیشہ ملک کے وفادار رہے ہیں اور آئندہ بھی اسی طرح خدمت کرتے رہیں گے۔آخر میں انہوں نے کہا کہ میمن برادری اپنی کمیونٹی کے ساتھ ساتھ دیگر ضرورت مند لوگوں کی بھی مدد کرتی ہے کیونکہ یہی ہمارے مذہب کی تعلیم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسانوں کی خودکشی کے وقت بھی میمن برادری نے آگے بڑھ کر مالی مدد کی اور مختلف علاقوں میں جا کر لوگوں کی حوصلہ افزائی کی۔ اسی طرح پانی کی قلت والے علاقوں میں بورویل لگانے جیسے کام بھی کیے جاتے ہیں اور اس میں مذہب یا برادری کی کوئی قید نہیں رکھی جاتی۔ انہوں نے کہا کہ میمن برادری صرف خدمت پر یقین رکھتی ہے ، اسی خوبی کے سبب میمن برادری جہاں بھی ہے وہاں مستحکم ہے اور مقبول بھی ہے