خواتین کو خود دین کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے : پروفیسر سید مبین زہرا

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 28-04-2026
خواتین  کو خود دین کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے :   پروفیسر سید  مبین زہرا
خواتین کو خود دین کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے : پروفیسر سید مبین زہرا

 



نئی دہلی : آواز دی وائس 

 خواتین کو خود دین کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔عورت کے لیے عالم ہونا ضروری نہیں ہے لیکن پڑھنا اور سمجھنا ضروری ہے۔ جب خواتین خود علم حاصل کریں گی تو وہ بہتر انداز میں صحیح اور غلط میں فرق کر سکیں گی اور اپنے فیصلے خود لے سکیں گی۔

دہلی یونیورسٹی کی ڈاکٹر سید مبین زہرا (ڈیپارٹمنٹ آف ہسٹری ) نے آواز دی وائس کے خاص پوڈ کاسٹ ’’دین اور دنیا ‘‘ میں ان خالات کا اظہار کیا ۔

میزبان اور ممتاز تاریخ داں ثاقب سلیم نے ڈاکٹر مبین زہرا  کے ساتھ ملک کی مسلم خواتین کے مسائل اور ان کے حل  پر بات کی ۔جس میں  خواتین کی تعلیم، خودمختاری اور معاشرتی ڈھانچے پر بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ بظاہر حالات بدلتے نظر آ رہے ہیں، لیکن اندرونی سطح پر اب بھی بہت سی رکاوٹیں موجود ہیں۔

 خواتین اور مذہب کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خواتین کو دیگر لوگوں پر دارومدار نہیں کرنا چاہیے بلکہ خود  دین کو پڑھنا چاہیے۔ صرف سننے پر اکتفا نہ کریں بلکہ خود پڑھیں اور سمجھنے کی کوشش کریں۔ یہ ضروری نہیں کہ ہر کوئی بڑا عالم بنے بلکہ پڑھنا اور سمجھنا اہم ہے۔ جیسا کہ اقراء کا پیغام ہے کہ پڑھو۔ آپ کے سامنے کتاب موجود ہے اگر کوئی مسئلہ پیش آئے تو خود پڑھ کر سمجھنے کی   کوشش کریں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں ایسے مذہبی رہنماؤں اور ماہرین کی ضرورت ہے جو یہ بات کہیں کہ عورتوں کو خودمختار ہونا چاہیے۔ اگر ہمارے لیے حضرت زینب نہ ہوتیں تو آج ہمیں کربلا کے واقعات کا علم نہ ہوتا۔ اس لیے اسلام میں بھی ایسی عظیم مثالیں موجود ہیں جو عورتوں کے کردار اور اہمیت کو واضح کرتی ہیں۔

تعلیم میں لڑکیوں کی سبقت

لڑکیاں اعلیٰ تعلیم میں لڑکوں سے آگے نکل رہی ہیں، لیکن اصل مسئلہ وہاں سے شروع ہوتا ہے جہاں تعلیم ختم ہوتی ہے اورعملی زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔ اکثر لڑکیاں اسکول اور کالج تک تو پہنچ جاتی ہیں، مگر جیسے ہی وہ ایک خاص عمر میں داخل ہوتی ہیں، ان پر گھریلو ذمہ داریوں کا بوجھ ڈال دیا جاتا ہے۔ یوں ان کے خواب اور کیریئر کے امکانات دھیرے دھیرے پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔

مبین زہرا کے مطابق یہ سب کسی ایک فرد کا نہیں بلکہ ایک پورے پدرانہ نظام کا نتیجہ ہے، جہاں بچپن سے ہی لڑکے اور لڑکی کے لیے الگ الگ راستے متعین کر دیے جاتے ہیں۔ بیٹے کے لیے بڑے خواب دیکھے جاتے ہیں، جبکہ بیٹی کے لیے ایک محدود دائرہ کھینچ دیا جاتا ہے۔ یہی سوچ آگے چل کر ان کے تعلیمی اور پیشہ ورانہ انتخاب پر اثر انداز ہوتی ہے۔

اگرچہ انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ حالیہ برسوں میں کچھ مثبت تبدیلیاں ضرور آئی ہیں، خاص طور پر مسلم کمیونٹی میں جہاں والدین اپنی بیٹیوں کی تعلیم پر زیادہ توجہ دینے لگے ہیں۔ بہت سی مثالیں ایسی بھی ہیں جہاں لڑکیاں اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے تدریس یا دیگر شعبوں میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود قیادت کے عہدوں پر خواتین کی تعداد اب بھی نہایت کم ہے، چاہے وہ تعلیمی ادارے ہوں یا کارپوریٹ دنیا۔

خواتین کے لیے راستے کیا ہیں ؟

مبین زہرا  کا کہنا ہے کہ ہمارے ملک میں صنفی فرق ایک جیسا نہیں ہے بلکہ خطے کے لحاظ سے بہت مختلف ہے۔ مثال کے طور پر اتر پردیش، بہار اور راجستھان جیسے علاقوں میں یہ فرق کافی زیادہ ہے، بعض جگہوں پر 23فیصد یا 18فیصد تک پہنچ جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں کیرالہ جیسے جنوبی ریاست میں یہ فرق بہت کم، تقریباً 2.2فیصد رہ جاتا ہے۔ یہ فرق صرف اعداد و شمار کا نہیں بلکہ سماجی رویوں، تعلیمی تاریخ اور اصلاحی تحریکوں کا نتیجہ ہے۔

اگر ہم مغربی بنگال کی مثال لیں تو وہاں تاریخی طور پر تعلیم اور سماجی اصلاح کی ایک مضبوط روایت رہی ہے۔ خواتین کی تعلیم، ستی کے خاتمے اور بیوہ کی شادی جیسے موضوعات پر جو تحریکیں چلیں، ان میں مردوں نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جب معاشرہ اجتماعی طور پر تبدیلی کے لیے تیار ہو تو نتائج بھی مختلف آتے ہیں۔

اصل سوال یہ نہیں ہے کہ خواتین کیا چاہتی ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ان کے لیے کیا راستے بنائے گئے ہیں۔ خواتین نے کبھی یہ نہیں کہا کہ وہ صرف مخصوص پیشوں تک محدود رہنا چاہتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ ہر شعبے میں آنے کے لیے تیار رہی ہیں، لیکن معاشرہ اکثر ان کے انتخاب کو پہلے ہی محدود کر دیتا ہے۔ اس کے باوجود، اگر ہم دیکھیں تو ہوا بازی جیسے شعبے میں ہندوستان میں خواتین پائلٹس کی تعداد دنیا میں نمایاں ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ موقع ملے تو خواتین کسی بھی میدان میں آگے بڑھ سکتی ہیں۔

ایک دلچسپ مگر پیچیدہ حقیقت

مبین زہرا نے کہا کہ جیسے جیسے میڈیکل کے شعبے میں آگے بڑھا جائے تو ایک دلچسپ مگر پیچیدہ حقیقت سامنے آتی ہے۔ ابتدا میں تو لڑکیوں کی بڑی تعداد ایم بی بی ایس میں داخلہ لیتی ہے، لیکن جب بات اسپیشلٹیز اور خاص طور پر سپر اسپیشلٹیز تک پہنچتی ہے تو ان کا تناسب کم ہوتا جاتا ہے۔ اکثر خواتین گائناکالوجی، پیڈیاٹرکس یا اینستھیزیا جیسے شعبوں کا انتخاب کرتی ہیں، جبکہ سرجری، کارڈیالوجی اور نیورو سرجری جیسے شعبوں میں ان کی نمائندگی کم دکھائی دیتی ہے۔

یہ کہنا آسان ہے کہ شاید اس کی وجہ معاشیات ہے یا مریضوں کی کمی، لیکن حقیقت اتنی سادہ نہیں۔ یہی عوامل مردوں پر بھی لاگو ہوتے ہیں، پھر بھی وہ ان شعبوں میں زیادہ نظر آتے ہیں۔ اصل مسئلہ کہیں زیادہ گہرا ہے، جو سماجی ڈھانچے اور مواقع کی تقسیم سے جڑا ہوا ہے۔

مثال کے طور پر، ایک خاتون ڈاکٹر کا یہ کہنا کہ ہر کانفرنس میں ماہرین کے پینل میں صرف مرد نظر آتے ہیں، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مسئلہ قابلیت کا نہیں بلکہ نمائندگی کا ہے۔ خواتین موجود ہوتی ہیں، مگر انہیں سامنے آنے کے مواقع کم دیے جاتے ہیں۔ یوں ایک غیر محسوس رکاوٹ پیدا ہو جاتی ہے، جو انہیں آگے بڑھنے سے روکتی ہے۔

تاریخی مثالیں اور رہنمائی

 ڈاکٹر مبین زہرا نے تاریخ سے کئی اہم مثالیں پیش کی گئیں۔ حضرت زینب کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ اگر وہ نہ ہوتیں تو ہمیں کربلا کے واقعات کی مکمل سمجھ نہ آتی۔ اسی طرح رضیہ سلطان، پنڈتا رامابائی، رانی لکشمی بائی، حبہ خاتون اور میرابائی جیسی عظیم عورتوں کا ذکر کیا گیا جنہوں نے اپنے اپنے زمانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ معاشرے کے لیے مثال قائم کی گئی ہے۔ ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم خواتین کو مکمل انسان کے طور پر نہیں دیکھتے بلکہ انہیں مخصوص صنفی کرداروں تک محدود کر دیتے ہیں۔ جب تک یہ سوچ تبدیل نہیں ہوگی حقیقی تبدیلی ممکن نہیں۔

میزبان ثاقب سلیم نے اس بات چیت کے دوران اپنا نظریہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے معاشرے میں ایسے بہت سے مذہبی ماہرین بھی موجود ہیں جنہوں نے مثبت تبدیلیاں لانے کی کوشش کی ہے۔ وہ عورتوں کی خودمختاری اور بااختیاری کی بات کرتے ہیں۔ جب ایسی آوازیں زیادہ سامنے آئیں گی تو جو لوگ امتیاز کی بات کرتے ہیں اور دین کی ایسی تعبیر پیش کرتے ہیں جس میں عورتوں کی کوئی جگہ نہیں ہوتی تو آہستہ آہستہ عورتوں میں خود شعور پیدا ہوگا اور وہ خود فیصلہ کرنے کے قابل ہوں گی

 مہمان ڈاکٹر مبین زہرا یہ تبدیلی صرف قوانین یا تعلیم سے نہیں آتی، بلکہ تب تیز ہوتی ہے جب خاندان اور معاشرہ دونوں اپنی سوچ بدلیں اور عورت کو صرف ایک محدود کردار میں نہ دیکھیں۔ ساتھ ہی عورت کی اپنی خود اعتمادی اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت بھی اس تبدیلی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔

مختصر یہ کہ ذہنیت بدل رہی ہے، مگر ابھی سفر باقی ہے۔