نئی دہلی :آواز دی وائس
۔۔۔ دوستو! میرا سب کچھ لٹ گیا سب کچھ ختم ہو گیا۔ آج سے پندرہ سال پہلےمیرے والد اس دنیا سے چلے گئے تھے اور وہ کمی ابھی پوری بھی نہیں ہوئی تھی کہ آج صبح دس بج کر ستر منٹ پر مجھے ایک میسج ملا جس میں لکھا تھا فادر از نو مور یعنی پاپا اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ یہ میسج میرے سر کے بیٹے کا تھا۔۔۔
یہ جذباتی بیان ملک کے ممتاز اور مقبول ٹریولر ویلوگر محمد ارباز خان کا ہے جو سوشل میڈیا پر ہر کسی کی آنکھوں کو نم کر گیا- کیونکہ اس ویڈیو میں ارباز خان جس شخص کی موت کی خبر سنا کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑے، وہ ماضی میں ان کے مالک تھے، جن کی کمپنی میں ارباز خان نے ڈیلیوری بوائے کا کام کیا تھا
.webp)
ارباز خان ایک معروف ویلوگر ہیں جن کے یوٹیوب اورانسٹاگرام پر مجموعی طور پر چالیس لاکھ سے زائد فالوورز اور سبسکرائبرز ہیں۔ انہیں سفر اور موٹر بائیکس سے خاص لگاؤ ہے اور یہی شوق انہیں دوسروں سے منفرد بناتا ہے۔ ان کا انداز نوجوانوں میں بے حد مقبول ہے اور لوگ ان کے تجربات کو دلچسپی سے دیکھتے اور سیکھتے ہیں۔
جب ملک میں سوشل میڈیا پر نفرت کی کھیتی کو ہی روزگار بنایا جارہا ہے،ارباز خان کے آنسو بتا رہے ہیں کہ سوشل میڈیا پر کسی ایک واقعہ کی بنیاد پر کوئی رائے قائم کرنا دانشمندی نہیں۔ارباز خان کو اس سے قبل بھی سوشل میڈیا پر فرقہ وارانہ منافرت کے خلاف پیغام دیتے ہوئے دیکھا گیا تھا ۔اس بارے انہوں نے اپنی زندگی کے ایک سچ اور تجربے کو ساجھا کیا جو بتا رہا ہے کہ رشتہ یا تعلق صرف مذہب کی بنیاد پر نہیں ہوتا ۔
اس ویڈیو پیغام میں وہ کہتے ہیں کہ --- یہ وہی تھے جن کے یہاں میں نوکری کرتا تھا۔ آپ کو یاد ہوگا جب میں بنگلور میں تھا تو میں ڈیلیوری بوائے کی جاب کرتا تھا اور ان کا نام سنجے پٹیل تھا۔ وہ میرے باس تھے مگر حقیقت میں وہ باس نہیں تھے بلکہ میں نے اپنی زندگی میں اتنے عظیم والد نہیں دیکھے۔ وہ ایک ایسے انسان تھے جو چھوٹی سے چھوٹی بات کو سمجھتے تھے۔ میں نے 2019 میں ایک سال ان کے یہاں کام کیا مگر کبھی انہوں نے یہ احساس نہیں ہونے دیا کہ میں ان کا ملازم ہوں۔ انہوں نے مجھے بیٹے کی طرح محبت دی۔

جب ایک سال بعد میں وہاں سے ہٹ گیا تو اس کے بعد بھی وہ مسلسل مجھ سے بات کرتے رہے۔ آج دنیا مانتی ہے کہ میں کامیاب ہو چکا ہوں مگر جب میں 2019 میں جدوجہد کر رہا تھا تو وہی میرے سر تھے جنہیں یقین تھا کہ میں زندگی میں کچھ نہ کچھ ضرورکروں گا۔
وہ اپنے جذبات پر قابو پانے کی کوشش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ --- آپ کو یاد ہے جب میں امریکہ گیا تھا تو سر کا مجھے فون آیا تھا۔ انہوں نے کہا ارباز تجھے پیسوں کی ضرورت تو نہیں۔ میں نے کہا نہیں۔ انہوں نے کہا بیٹے مجھے معلوم ہے امریکہ جانا کتنا بڑا خواب اور کتنا بڑا خرچ ہوتا ہے۔ پیسوں کے لیے تیری 36 کنٹری ہو چکی ہیں مگر امریکہ کے لیے کہہ رہا ہوں کیونکہ مجھے معلوم ہے ضرورت پڑتی ہے۔ کبھی بھی ضرورت ہو تو بتانا۔ میں نے کہا سر آپ کی دعا ہی کافی ہے۔
پھوٹ پھوٹ کر روتے ہونے ارباز خان نے کہا کہ --- اس کے بعد انہوں نے ایک تصویر کھینچ کر بھیجی۔ انہوں نے کہا امریکہ میں جہاں بھی پٹیل برادرز نظر آئیں وہاں میرا فوٹو دکھا دینا۔ ہو سکتا ہے وہ تجھے کچھ سہولت دے دیں۔ کمرہ آسانی سے مل جائے۔ ہوٹل مل جائے۔ کھانا مل جائے۔ وہ اتنی فکر کرتے تھے۔
ارباز خان نے مزید کہا کہ ___ پرسوں میں نے انسٹاگرام پر ایک ریل ڈالی تھی جس میں میں نے کہا تھا کہ میں اس دنیا کا سب سے بد نصیب انسان ہوں کیونکہ میرے والدین نہیں ہیں۔ انہوں نے وہ ریل مجھے واٹس ایپ پر بھیجی اور جمعہ کے دن فون کر کے کہا تھا سالے تو ایسا کیوں سوچتا ہے۔ کیا میں مر گیا ہوں۔ میں ابھی زندہ ہوں۔ یہ بات جمعہ کی تھی۔
اور آج اتوار ہے اور دس بج کر ستر منٹ پر خبر ملتی ہے کہ وہ اب نہیں رہے۔ آج میری دوسری بار موت ہوئی ہے۔ یہ دنیا بہت خود غرض ہے۔ اس خود غرض دور میں جو انسان بے مطلب محبت کرے وہ میرے سر تھے۔
آپ پوچھ رہے تھے کہ میں کئی دنوں سے ویڈیو کیوں نہیں بنا رہا تھا۔ اس کے بہت سے اسباب ہیں جو میں بتاؤں گا۔ افسوس کہ آج ہی میری فلائٹ ہے اور میں نئی ٹرپ پر جا رہا ہوں۔ میرے سر بہت اچھے انسان تھے اور ان کی جگہ اس دنیا میں کوئی نہیں لے سکتا۔ آج میں جو کچھ بھی ہوں اس کا پورا کریڈٹ میرے سر کو جاتا ہے۔ مرحوم سنجے پٹیل جی کو۔
آخر میں ارباز خان اپنے مداحوں سے کہتے ہیں کہ ___ میرے جتنے بھی فالوورز ہیں ان سب سے گزارش ہے کہ آج ان کی روح کی شانتی کے لیے دعا کریں تاکہ ان کی روح کو سکون مل سکے۔
ارباز خان کی کہانی
دراصل محمد ارباز خان آج کے یوٹیوب کے دور میں کسی سیلیبریٹی سے کم نہیں ہیں اور انہوں نے غیر معمولی کامیابی اور پہچان حاصل کی ہے۔ ماضی میں وہ صفائی کا کام اور ویٹر کی نوکری کرتے تھے مگر آج لوگ ان کے ساتھ سیلفی لینے کے لیے قطار میں کھڑے ہوتے ہیں۔ وہ سوشل میڈیا پر ایک برانڈ بن چکے ہیں۔ انسٹاگرام پر ان کے ایک لاکھ سے زیادہ فالوورز ہیں اور ان کے یوٹیوب چینل ارباز ولاگز پر تقریباً آٹھ لاکھ سبسکرائبرز موجود ہیں۔ ان کا ایک اور یوٹیوب چینل بھی ہے جس کے ایک ملین سے زائد سبسکرائبرز ہیں اور جو ناظرین کے دلوں میں خاص مقام رکھتا ہے۔
ان کی کہانی متاثر کن ہے اور لوگوں کے دلوں کو چھو لینے والی ہے۔ ارباز کا تعلق اتر پردیش سے ہے اور انہوں نے زندگی میں بے شمار مشکلات کا سامنا کیا مگر کامیابی کا پختہ ارادہ کر لیا تھا۔ والد کے انتقال کے بعد انہوں نے کم عمری میں ہی گھر کی ذمہ داری سنبھالی اور 2015 میں دہلی منتقل ہو گئے۔
دہلی میں انہیں کام تلاش کرنے میں سخت جدوجہد کرنا پڑی۔ ابتدا میں انہوں نے ایک ہوٹل میں ویٹر کی نوکری کی۔ بعد میں انہیں کال سینٹر میں ملازمت ملی مگر وہاں جھوٹے طریقے سے انشورنس بیچنا انہیں پسند نہیں تھا۔ ارباز نے اپنے شوق کو اپنانے کا فیصلہ کیا اور یوٹیوب ویڈیوز بنانا شروع کر دیں۔ شروع میں زیادہ ردعمل نہیں ملا اور کال سینٹر کی نوکری بھی چھوٹ گئی۔ پھر قسمت نے کروٹ لی اور بے روزگاری پر بنائی گئی ان کی ایک ویڈیو وائرل ہو گئی جسے لاکھوں لوگوں نے دیکھا۔اس کے بعد ارباز کی زندگی بدل گئی اور وہ یوٹیوب کی دنیا کا جانا پہچانا چہرہ بن گئے۔ وہ بارہ ممالک کا سفر کر چکے ہیں اور ارباز ولاگز پر ان کی ویڈیوز تاریخی مقامات اور دنیا بھر کے دلچسپ حقائق پر مبنی ہوتی ہیں۔ معیاری مواد پیش کرنا اور ناظرین کو معلومات دینا انہیں دوسرے ہندوستانی یوٹیوبرز سے ممتاز بناتا ہے جو اکثر روزمرہ کی غیر ضروری باتوں میں وقت ضائع کرتے ہیں۔
مختصر یہ کہ ارباز خان نے محنت لگن اور بامقصد مواد تخلیق کرنے کے جذبے سے اپنی زندگی بدل لی۔ ان کی کامیابی کی کہانی آج بھی دوسروں کو اپنے خواب پورے کرنے اور حالات سے لڑنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ جبکہ سنجے پٹیل کا معاملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک میں بھائی چارہ ہی تہذیب کا حصہ ہے ۔