کیا ہے’عالمی یوم عطیہ خون’کی کہانی

Story by  اے ٹی وی | Posted by  [email protected] | Date 14-06-2024
 کیا ہے’عالمی یوم عطیہ خون’کی کہانی
کیا ہے’عالمی یوم عطیہ خون’کی کہانی

 

زیبا نسیم : ممبئی

 انسان کی رگوں میں دوڑتا خون دنیا کی سب سے قیمتی شئے ہے،جس کا بہہ جانا ایک زندگی کا خاتمہ بن جاتا ہے ۔جب کسی کی جان بچانے کےلئے خون کی ضرورت پڑتی ہے تو اس وقت خون کی اہمیت اور قدر کا احساس ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ دنیا کو اس کی قدر کا احساس دلانے کےلئے سال میں ایک دن خون کا عطیہ دیا جاتا ہے۔ دنیا کے کونے کونے میں ،ہر ملک میں اور ہر شہر اور ہر گاوں میں خون کا عطیہ دیا جاتا ہے۔ دنیا کو یاد دلایا جاتا ہے کہ رگوں میں دوڑتا خون کتنا قیمتی ہوتا ہے۔

 دراصل خون کا عطیہ نہ صرف اخلاقی اور انسانیت کے اعتبار سے صحت کے لئے ضروری ہے بلکہ صحت کے لئے بھی بہت ضروری ہے۔ دیکھا جائے تو یہ کار خیر کسی عبادت سے کم نہیں،قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ”جس نے ایک انسان کی جان بچائی گویا اس نے ساری انسانیت کی جان بچائی“ ۔یہی وجہ ہے کہ جب کسی کو خون کی ضرورت ہوتی ہے تو ہر انسان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اس میں پیش پیش رہے۔ 

خون عطیہ کرنے کا نظام پوری دنیا میں رائج ہے ، لوگ رضاکارانہ طور پر اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے خون دیتے ہیں ، جو دوسروں کی جان بچانے میں معاون ثابت ہوتا ہے اور اس سے معاشرے میں بیماریوں سے بچائو کا راستہ بھی نکلتا ہے۔

 کیوں اور کس کےلئے

 در اصل 14 جون خون عطیہ کرنے والوں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ سائنس دان کارل لینڈسٹائنر کے جنم دن پر انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کا طریقہ ہے۔ کارل لینڈسٹائنر 14 جون 1868 کو آسٹریا میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ویانا سے حاصل کی، میڈیسن کی تعلیم یونیورسٹی آف ویانا سے حاصل کی۔ 1891 میں تھیسس مکمل کیا اور دور طالب علمی میں ہی خوارک کے خون پر اثرات اور خون کی بناوٹ کے حوالے سے ایک مضمون لکھا جو مقبول ہو گیا۔

 سال 1900 میں کارل لینڈسٹائنر نے خون کے تین گروپ اے، بی اور او دریافت کیے۔ اس کا کہنا تھا کہ ایک جیسے بلڈ گروپ کو آپس میں ملانے سے بلڈ سیل تباہ نہیں ہوتے بلکہ مختلف بلڈ گروپس کو آپس میں ملانے سے خون کے خلیے تباہ ہو جاتے ہیں۔ کارل کی اس تھیوری کی بنا پر ایک ہی گروپ کے خون کو ملانے کا تجربہ 1907 میں نیویارک کے ہسپتال میں کیا گیا۔ تجربہ کامیاب ہوا اور کارل ایک سائنس دان سے ایک انسانیت کا مسیحا بن گیا۔ اس ہی کی تھیوری کی وجہ سے آج کی جدید سائنس اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ اے بی گروپ کے انسانوں کو کسی بھی گروپ کا خون دیا جا سکتا ہے اور او نیگیٹو گروپ کے حامل افراد کسی بھی انسان کو خون دے سکتے ہیں۔ کارل کی ان کامیابیوں کے اعتراف پر انھیں 1930 میں نوبل انعام دیا گیا اور یہ 26 جون 1943 کو پچھتر سال کی عمر میں امریکہ کی ریاست نیویارک میں انتقال کر گئے۔ آج پوری دنیا اس عظیم سائینس دان کے یوم پیدائش کو خون عطیہ کرنے والوں کے عالمی دن کے طور پر مناتی ہے۔ یہ کارل لینڈسٹائنر کی زندگی کی مختصر سی کہانی ہے۔

 یاد رکھے گی دنیا

 کارل لینڈسٹائنر دنیا سے چلے گئے لیکن اپنی پچھتر سالہ زندگی میں انسانیت کے لئے وہ کام کر گئے جو شاید آنے والے پچھتر ہزار سال تک یاد رکھا جائے گا اور بنی نوع انسان چاہتے ہوئے بھی ان کے کام کا بدلہ نہیں چکا سکے گی۔کارل لینڈسٹائنر کا انتقال تو 1943 میں ہو گیا لیکن اقوام متحدہ نے خون کا عطیہ دینے والوں کا دن منانے کا آغاز 2004 سے کیا۔ لیکن خیر، دیر آئے درست آئے۔ اس دن کو منانے کا مقصد محفوظ خون اوراس کیمختلف پراڈکٹس کے متعلق آگہی دینا اور انسانیت کی بھلائی اور لوگوں کی مدد کرنے کے لئے رضاکارانہ طور پرخون عطیہ کرنے والوں کا شکریہ ادا کرنا ہے۔


فائدے کیا ہیں

 آج کے جدید دور میں بھی ایک بڑا طبقہ ایسا ہے جو خون کا عطیہ دینے سے گھبراتا ہے۔اس سے بچنے کے بہانے اور طریقہ تلاش کرتا ہے۔لیکن یہ صرف خام خیالی ہی ہے۔طبی تحقیقات کے حوالے سے دیکھا جائے تو خون عطیہ کرنے کے بعد انسانی جسم خون بنانے کا عمل مزید تیز کردیتا ہے اور دیے گئے خون کی کمی کچھ ہی دنوں میں نہ صرف پوری ہوجاتی ہے بلکہ صحت بھی مزید اچھی ہونے لگتی ہے۔ ہر انسان کے بدن میں تین بوتل اضافی خون کا ذخیرہ ہوتا ہے، ہر تندرست فرد، ہر تیسرے مہینے خون کی ایک بوتل عطیہ میں دے سکتا ہے۔ جس سے اس کی صحت پر مزید بہتر اثرات مرتب ہوتے ہیں اور اس کا کولیسٹرول بھی قابو میں رہتا ہے۔ تین ماہ کے اندر ہی نیا خون ذخیرے میں آ جاتا ہے، اس سلسلے میں ایک نظریہ یہ بھی ہے کہ نیا خون بننے کے ساتھ ساتھ بدن میں قوت مدافعت کے عمل کو بھی تحریک ملتی ہے۔ مشاہدہ ہے کہ جو صحت مند افراد ہر تیسرے ماہ خون کا عطیہ دیتے ہیں وہ نہ تو موٹاپے میں مبتلا ہوتے ہیں اور نہ ان کو جلد کوئی اور بیماری لاحق ہوتی ہے۔

 خون عطیہ کرنے کے فوائد

 ٭ کسی انسان کو خون عطیہ کرنے سے دلی طور پر سکون حاصل ہوتا ہے۔

 ٭ خون عطیہ کرنے والا شخص دنیا کے مسائل سے بچ جاتا ہے اور قدرت اس سے خوش ہوتی ہے۔

 ٭ خون عطیہ کرنے سے انسانی صحت اور بہتر ہونے لگتی ہے۔

 ٭ جسم میں آئرن کی مقدار خون عطیہ کرنے سے متوازن رہتی ہے۔

 ٭ خون عطیہ کرنے سے امراض قلب اور دل کا دورہ پڑنے کے امکانات کم ہوجاتے ہیں۔

٭ خون عطیہ کرنے سے جسم اسمارٹ اور توانا رہتا ہے ۔

 ٭ خون عطیہ کرنے کے بعد جسم میں بننے والا نیا خون چہرے کو شادابی عطا کرتا ہے۔

 ٭ اکثر دیکھا گیا ہے کہ ایسے افراد جو باقاعدگی سے خون دیتے ہیں وہ کینسر جیسے خطرناک مرض سے بہت حد تک محفوظ رہتے ہیں۔

 ٭ خون عطیہ کرنے سے جسم میں خون کے جمنے کا عمل رک جاتا ہے اور خون کی گردش متوازن رہتی ہے۔

 ٭ خون دینے سے جلد میں تنائو پیدا ہوتا ہے اور وقت سے پہلے پڑنے والی جھریوں سے نجات حاصل ہوجاتی ہے۔

٭ خون عطیہ کرنے سے جسم میں کولیسٹرول کی مقدار کنٹرول میں رہتی ہے۔

 ٭ خون عطیہ کرنے کے بعد نیا خون جسم کو مزید طاقت بخشتا ہے۔