ویر چکر اور سوریہ چکر : پانچ سپوتوں کی بے مثال خدمات اور قربانیوں کو سلام

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 12-06-2026
  پانچ سپوتوں کی بے مثال خدمات اور قربانیوں کو سلام
پانچ سپوتوں کی بے مثال خدمات اور قربانیوں کو سلام

 



نئی دہلی: ملک کی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے بہادر سپوت ہمیشہ قوم کے دلوں میں زندہ رہتے ہیں۔ ان کی قربانیاں نہ صرف سرحدوں کی حفاظت کو یقینی بناتی ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کو حب الوطنی، فرض شناسی اور ایثار کا سبق بھی دیتی ہیں۔ حالیہ  صدارتی اعزازات کی تقریب میں ایسے ہی پانچ مسلم وردی پوشوں کی بے مثال خدمات اور جرات کو سراہتے ہوئے انہیں ویر چکر اور شوریہ چکر جیسے اعلیٰ فوجی اعزازات سے نوازا گیا۔

ان بہادر سپوتوں میں بارڈر سکیورٹی فورس کے شہید سب انسپکٹر محمد امتیاز، ہندوستانی فضائیہ کے اسکواڈرن لیڈر رضوان ملک، سی آر پی ایف کے کانسٹیبل صدام حسین، آسام رائفلز کے اسسٹنٹ کمانڈنٹ محمد شفیق اور سی آر پی ایف کے سپاہی فدا حسین ڈار شامل ہیں۔ ان کی داستانیں یہ ثابت کرتی ہیں کہ ملک کی خدمت اور قومی سلامتی کے لیے قربانی دینے والوں کا سب سے بڑا تعارف ان کا کردار اور جذبۂ وطن دوستی ہوتا ہے۔

شہید سب انسپکٹر محمد امتیاز: سرحد کی حفاظت کرتے ہوئے جان قربان کرنے والا عظیم سپوت

بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے سب انسپکٹر محمد امتیاز کو بعد از مرگ ویر چکر سے نوازا گیا۔ یہ اعزاز انہیں غیر معمولی جرات، بے لوث قیادت اور وطن کے لیے عظیم قربانی کے اعتراف میں دیا گیا۔

یاد رہے 10 مئی 2025 کو جموں و کشمیر کے آر ایس پورہ سیکٹر میں بین الاقوامی سرحد پر پاکستان کی جانب سے شدید گولہ باری اور فائرنگ کا سلسلہ جاری تھا۔ دشمن کی اشتعال انگیز کارروائیوں کے درمیان محمد امتیاز اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں مصروف تھے۔ صورتحال انتہائی خطرناک تھی اور کسی بھی لمحے جانی نقصان کا اندیشہ موجود تھا، مگر انہوں نے پسپائی اختیار کرنے کے بجائے اپنی ٹیم کی قیادت خود سنبھالی۔

بی ایس ایف حکام کے مطابق محمد امتیاز اگلی صف میں موجود رہ کر نہ صرف دشمن کی کارروائیوں کا مؤثر جواب دیتے رہے بلکہ اپنے ساتھی اہلکاروں کا حوصلہ بھی بلند کرتے رہے۔ شدید فائرنگ کے دوران وہ شہید ہو گئے، مگر ان کی بہادری اور فرض شناسی کی مثال ہمیشہ زندہ رہے گی۔

بہار کے ضلع سارن کے گڑکھا بلاک کے نارائن پور گاؤں سے تعلق رکھنے والے محمد امتیاز کی شہادت کی خبر نے پورے علاقے کو سوگوار کر دیا تھا۔ جب ان کی میت آبائی گاؤں پہنچی تو ہزاروں افراد نے اشک بار آنکھوں کے ساتھ انہیں آخری سلام پیش کیا۔ فوجی اعزاز کے ساتھ ان کی تدفین عمل میں آئی اور پورا علاقہ وطن پرستی کے نعروں سے گونج اٹھا۔محمد امتیاز اپنے پیچھے اہلیہ، دو بیٹوں اور دو بیٹیوں کو چھوڑ گئے ہیں، مگر ان کی قربانی انہیں ہمیشہ کے لیے قوم کا ہیرو بنا گئی۔

اسکواڈرن لیڈر رضوان ملک: آپریشن سندور کے  سورما

ہندوستانی فضائیہ کے اسکواڈرن لیڈر رضوان ملک کو ویر چکر سے نوازا گیا ہے۔ منی پور سے تعلق رکھنے والے رضوان ملک نے آپریشن سندور کے دوران غیر معمولی جرات، پیشہ ورانہ مہارت اور عسکری صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔

آپریشن سندور کا آغاز سات مئی 2025 کو پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد کیا گیا تھا، جس میں 26 شہری جان بحق ہوئے تھے۔ اس حملے کے جواب میں ہندوستانی افواج نے پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں موجود دہشت گردی کے مبینہ مراکز کو نشانہ بنایا۔

اس حساس اور پیچیدہ فوجی کارروائی میں فضائیہ کا کردار انتہائی اہم تھا۔ اسکواڈرن لیڈر رضوان ملک نے ایسے مشنز میں حصہ لیا جو انتہائی خطرناک اور تکنیکی اعتبار سے پیچیدہ سمجھے جاتے ہیں۔ دشمن کے فضائی خطرات اور جنگی دباؤ کے باوجود انہوں نے غیر معمولی مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے مشن کو کامیابی سے مکمل کیا۔دفاعی ماہرین کے مطابق جدید فضائی جنگ میں صرف جرات ہی کافی نہیں ہوتی بلکہ بروقت فیصلہ سازی، تکنیکی مہارت اور اعصابی مضبوطی بھی درکار ہوتی ہے۔ رضوان ملک نے ان تمام خصوصیات کا بہترین مظاہرہ کیا، جس کے اعتراف میں انہیں ویر چکر سے نوازا گیا۔ان کے اعزاز نے منی پور سمیت پورے ملک میں خوشی کی لہر دوڑا دی ہے اور نوجوان نسل کے لیے وہ ایک نئی مثال بن کر سامنے آئے ہیں۔

کانسٹیبل صدام حسین: جس کی نشانہ بازی نے دہشت گردوں کے منصوبے خاک میں ملا دیے

مرکزی ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے کانسٹیبل صدام حسین کو شوریہ چکر سے نوازا گیا ہے۔ انہوں نے پانچ نومبر 2024 کو جموں و کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ میں ایک دہشت گردی مخالف کارروائی کے دوران غیر معمولی جرات اور عسکری مہارت کا مظاہرہ کیا۔

مشترکہ سرچ آپریشن کے دوران سیکورٹی فورسز کی ٹیم پر بھاری ہتھیاروں سے لیس دہشت گردوں نے اچانک شدید فائرنگ شروع کر دی۔ اس اچانک حملے نے صورت حال کو انتہائی خطرناک بنا دیا، مگر صدام حسین نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر مورچہ سنبھالے رکھا۔

شدید فائرنگ کے درمیان انہوں نے دہشت گردوں کے مزید قریب جانے کا فیصلہ کیا تاکہ مؤثر کارروائی کی جا سکے۔ صرف 25 میٹر کے فاصلے سے انہوں نے انڈر بیرل گرینیڈ لانچر (UBGL) استعمال کیا اور انتہائی درست نشانہ لگاتے ہوئے ایک دہشت گرد کو ہلاک کر دیا۔سیکورٹی حکام کے مطابق اس قسم کی کارروائی میں غیر معمولی مہارت، اعتماد اور حاضر دماغی درکار ہوتی ہے۔ صدام حسین کی بروقت کارروائی نے نہ صرف دہشت گردوں کے منصوبے ناکام بنائے بلکہ ساتھی اہلکاروں کی جانیں بھی بچائیں۔

ان کی بہادری آج سی آر پی ایف کے لیے فخر اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک روشن مثال سمجھی جاتی ہے۔

اسسٹنٹ کمانڈنٹ محمد شفیق: قیادت اور جرات کی درخشاں مثال

آسام رائفلز کے اسسٹنٹ کمانڈنٹ محمد شفیق، جو اب ڈپٹی کمانڈنٹ کے عہدے پر فائز ہیں، کو شوریہ چکر سے نوازا گیا۔پانچ نومبر 2024 کو ایک اہم انسداد دہشت گردی آپریشن کے دوران انہیں اپنی ٹیم کی قیادت کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ کارروائی کے دوران ایک دہشت گرد رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سیکورٹی حصار توڑ کر فرار ہونے کی کوشش کرنے لگا۔

اس موقع پر محمد شفیق نے غیر معمولی جرات کا مظاہرہ کیا۔ شدید فائرنگ کے باوجود وہ دہشت گرد کے تعاقب میں آگے بڑھتے رہے۔ خطرات سے بے نیاز ہو کر انہوں نے قریب سے مقابلہ کیا اور دہشت گرد کو ہلاک کر دیا۔

ان کی اس بروقت کارروائی نے نہ صرف دہشت گرد کے فرار کو ناکام بنایا بلکہ پورے آپریشن کی کامیابی کو یقینی بنایا۔ کارروائی کے بعد سیکورٹی فورسز نے بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا۔

دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ محمد شفیق کی قیادت، فوری فیصلہ سازی اور پیشہ ورانہ مہارت اس کامیابی کی بنیادی وجہ تھی۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں شوریہ چکر جیسے باوقار اعزاز سے نوازا گیا۔

سپاہی فدا حسین ڈار: زخمی ہونے کے باوجود دشمن کے سامنے ڈٹ جانے والا جانباز

جموں و کشمیر کے ضلع سرینگر کے علاقے اسکندر پورہ سے تعلق رکھنے والے سی آر پی ایف کے سپاہی فدا حسین ڈار کو بھی شوریہ چکر سے نوازا گیا۔

دو نومبر 2024 کی صبح خفیہ اطلاعات موصول ہوئیں کہ ایک غیر ملکی دہشت گرد سرینگر کے خانیار علاقے میں ایک رہائشی مکان میں چھپا ہوا ہے۔ اطلاع ملتے ہی سیکورٹی فورسز نے علاقے کا محاصرہ کر لیا۔

آپریشن کے دوران فدا حسین ڈار اور ان کے ساتھی کانسٹیبل سنجے تیواری جیسے ہی عمارت کے قریب پہنچے، دہشت گرد نے شدید فائرنگ شروع کر دی اور دستی بم بھی پھینکے۔ اس حملے میں دونوں جوان زخمی ہو گئے۔

 

شدید زخمی ہونے کے باوجود فدا حسین ڈار نے ہمت نہیں ہاری۔ خون بہنے اور شدید تکلیف کے باوجود وہ آگے بڑھتے رہے۔ آخرکار وہ عمارت کے اندر داخل ہوئے اور دہشت گرد کو ہلاک کر دیا۔

ان کی اس غیر معمولی جرات نے نہ صرف ایک بڑے خطرے کو ٹال دیا بلکہ بے شمار شہریوں کی جانیں بھی محفوظ بنائیں۔ ان کا کارنامہ آج بھی سیکورٹی فورسز میں بہادری کی مثال کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔

حب الوطنی، قربانی اور قومی یکجہتی کی روشن مثال

سب انسپکٹر محمد امتیاز، اسکواڈرن لیڈر رضوان ملک، کانسٹیبل صدام حسین، اسسٹنٹ کمانڈنٹ محمد شفیق اور سپاہی فدا حسین ڈار کی داستانیں اس حقیقت کی روشن مثال ہیں کہ ملک کی حفاظت کے لیے قربانی دینے والے سپوت کسی ایک علاقے، زبان یا مذہب کے نمائندہ نہیں ہوتے بلکہ پوری قوم کے فخر اور سرمایہ ہوتے ہیں۔

ان بہادر جوانوں نے ثابت کیا کہ جب وطن کی سلامتی کا سوال ہو تو فرض شناسی، جرات اور قربانی ہی سب سے بڑی شناخت بن جاتی ہے۔ ویر چکر اور شوریہ چکر جیسے اعزازات نہ صرف ان کی خدمات کا اعتراف ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے یہ پیغام بھی ہیں کہ حب الوطنی اور قومی خدمت کا جذبہ ہمیشہ زندہ رہنا چاہیے۔یہ پانچوں ہیروز قوم کے لیے باعثِ افتخار ہیں اور ان کے کارنامے تاریخ کے صفحات میں سنہری حروف سے درج رہیں گے۔