ویبھو سوریہ ونشی کی جدوجہد، معصومیت اور کامیابی کی کہانی - دوست محمد امان کی زبانی

Story by  منصورالدین فریدی | Posted by  [email protected] | Date 01-06-2026
ویبھو سوریہ ونشی کی جدوجہد، معصومیت اور کامیابی کی کہانی - دوست محمد امان کی زبانی
ویبھو سوریہ ونشی کی جدوجہد، معصومیت اور کامیابی کی کہانی - دوست محمد امان کی زبانی

 



نئی دہلی : آواز دی وائس

 ویبھو کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ کبھی بالر کے نام یا شہرت سے متاثر نہیں ہوتا۔ اسے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ سامنے کون سا بالر کھڑا ہے۔ اس کی پوری توجہ صرف گیند اور اپنی بیٹنگ پر ہوتی ہے

 ان خیالات کا اظہار ویبھو سوریہ ونشی دوست اور ہندوستانی انڈر 19 ٹیم کے سابق کپتان محمد امان میں ایک انٹرویو میں کیا ہے۔

آئی پی ایل  میں اگر کسی ایک نوجوان کھلاڑی نے پوری کرکٹنگ ورلڈ کو حیران کیا تو وہ ویبھو سوریہ ونشی ہیں۔ محض پندرہ برس کی عمر میں انہوں نے جس بے خوف انداز میں دنیا کے نامور بالروں کا سامنا کیا، اس نے نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا بھر کے کرکٹ شائقین کو اپنا گرویدہ بنا لیا۔

راجستھان رائلز کی مہم اگرچہ فائنل تک نہ پہنچ سکی، لیکن ویبھو سوریہ ونشی کی جارحانہ بیٹنگ اور غیر معمولی اعتماد نے انہیں راتوں رات ایک عالمی شناخت عطا کر دی۔

محمد امان صرف ویبھو کے ساتھی کھلاڑی نہیں رہے بلکہ وہ ان کے روم میٹ، دوست اور بڑے بھائی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ دونوں نے ایک ساتھ وقت گزارا، ایک ہی کمرے میں رہے، ایک ساتھ کھانا کھایا اور کرکٹ کے میدان سے باہر بھی بے شمار یادیں شیئر کیں۔

پہلی ملاقات اور غیر معمولی صلاحیت

محمد امان بتاتے ہیں کہ انہوں نے ویبھو کو پہلی مرتبہ چیلنجر ٹرافی میں بیٹنگ کرتے دیکھا تھا۔اس نے شاید صرف سولہ یا سترہ رنز بنائے تھے، انہی چند گیندوں میں لگائی گئی دو تین باؤنڈریز نے مجھے یقین دلا دیا تھا کہ یہ لڑکا غیر معمولی ٹیلنٹ رکھتا ہے۔ اس کے شاٹس میں ایک الگ ہی اعتماد اور کلاس دکھائی دیتی تھی۔امان کے مطابق ویبھو کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ بالر کے نام یا شہرت سے متاثر نہیں ہوتا۔وہ صرف گیند کو دیکھتا ہے۔ اسے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ سامنے کون سا بالر کھڑا ہے۔ اس کی پوری توجہ اپنی بیٹنگ اور اپنی کارکردگی پر ہوتی ہے۔

میدان کا ہیرو، میدان سے باہر ایک معصوم بچہ

محمد امان نے کہا کہ اس کے اندر اتنا بچپن ہے کہ میں الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا۔ وہ اپنے قریبی ساتھیوں کے ساتھ خوب ہنسی مذاق کرتا ہے، شرارتیں بھی کرتا ہے اور ہر وقت خوش مزاج رہتا ہے۔ البتہ وہ صرف انہی لوگوں کے ساتھ گھلتا ملتا ہے جنہیں وہ اچھی طرح جانتا ہو۔ اجنبی لوگوں سے وہ زیادہ بات نہیں کرتا اور نہ ہی غیر ضروری میل جول رکھتا ہے۔ محمد امان کے مطابق اگر کوئی شخص صرف میدان میں اس کی جارحانہ بیٹنگ دیکھے تو شاید اسے اندازہ نہ ہو کہ اس کے اندر اتنا معصوم اور بچگانہ مزاج بھی موجود ہے، لیکن جو لوگ اس کے قریب رہے ہیں وہ جانتے ہیں کہ شاندار کرکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ وہ ایک نہایت سادہ، معصوم اور بااخلاق لڑکا بھی ہے۔

عمر پر کوئی بحث نہیں

محمد امان نے کہا کہ ویبھو اس وقت پندرہ سال کا ہے اور واقعی اس کی عمر وہی ہے جو سرکاری طور پر بتائی جاتی ہے۔ اس حوالے سے بہت سی بحثیں اور قیاس آرائیاں ہوئیں لیکن میں چونکہ اس کے ساتھ کھیل چکا ہوں، اس کے ساتھ کمرہ شیئر کر چکا ہوں اور ڈریسنگ روم میں بھی اس کے ساتھ وقت گزار چکا ہوں، اس لیے پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ وہ حقیقت میں ابھی ایک بچہ ہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ انڈر 19 کرکٹ کھیلنے کے بعد جب ویبھو 2023 میں ورلڈ کپ سے قبل چیلنجر ٹرافی میں آیا تو تب سے وہ اس کے ساتھ رہے ہیں۔ میدان میں وہ بیٹنگ کے معاملے میں غیر معمولی حد تک سنجیدہ دکھائی دیتا ہے۔ اس کی توجہ صرف اپنے کھیل پر ہوتی ہے اور وہ میچ کے دوران مکمل طور پر کرکٹ میں ڈوبا ہوا نظر آتا ہے۔ لیکن میدان سے باہر اس کی شخصیت بالکل مختلف ہے۔

اندازہ ہوگیا تھا

  ایک سوال کے جواب میں کہ کیا آپ نے تصور کیا تھا کہ یہ لڑکا اس حد تک پہنچ جائے گا کہ تقریباً ہر گیند کو چھکے کے لیے میدان سے باہر بھیجنے کی صلاحیت رکھے گا؟ محمد امان نے کہا کہ جب میں نے ویبھو سوریہ ونشی کو پہلی بار بیٹنگ کرتے دیکھا تو اس کی چند شاٹس ہی یہ بتانے کے لیے کافی تھیں کہ یہ غیر معمولی صلاحیتوں کا مالک ہے۔ ان دو تین باؤنڈریز میں ہی اس کا ٹیلنٹ صاف نظر آ رہا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ویبھو کے والد نے اس کی تربیت نہایت عمدگی سے کی ہے۔ انہوں نے اسے صرف کرکٹ ہی نہیں سکھائی بلکہ اچھے اخلاق اور تہذیب بھی سکھائی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہر شخص کا احترام کرتا ہے۔ عمر میں اس سے چھوٹا ہو یا بڑا، وہ سب کے ساتھ ادب سے پیش آتا ہے۔ بزرگوں کے پاؤں چھونا، سلام کرنا اور عزت دینا اس کی عادت کا حصہ ہے۔امان کے مطابق ویبھو کی تربیت نہایت اچھے ماحول میں ہوئی ہے۔وہ عمر میں اپنے سے چھوٹے لوگوں کی بھی عزت کرتا ہے۔ ہر ایک کو سلام کرتا ہے۔ بڑوں کے پاؤں چھوتا ہے۔ اس کے والدین نے اسے بہترین اخلاق اور تہذیب سکھائی ہے۔"

راجستھان رائلز کی شکست اور ٹوٹا ہوا خواب

آئی پی ایل میں راجستھان رائلز کی شکست نے ویبھو کو بہت مایوس کیا۔امان کے مطابق ٹیم کے باہر ہونے کے بعد جب ان کی ویبھو سے بات ہوئی تو وہ ابھی تک افسردہ تھا-اس کا خواب صرف اچھی بیٹنگ کرنا نہیں تھا۔ وہ واقعی راجستھان رائلز کو چیمپئن بنانا چاہتا تھا۔ اس کے دل میں یہی بات تھی کہ اتنے برسوں بعد ٹیم کو ٹرافی دلانی ہے۔امان نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا کہ "تم نے اپنی طرف سے سو فیصد دیا ہے۔ باقی کچھ فیصلے قسمت اور وقت کے ہوتے ہیں۔"

میزبان نے گفتگو کا رخ حالیہ آئی پی ایل میچ کی طرف موڑتے ہوئے کہا کہ اگرچہ راجستھان رائلز کو شکست کا سامنا کرنا پڑا، لیکن ویبھو کی دھواں دار اننگز نے سب کے دل جیت لیے۔ میچ کے بعد اسے آنسو بہاتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔ ایسے میں کیا محمد امان کی اس سے بات ہوئی؟اس سوال کے جواب میں محمد امان نے بتایا کہ گزشتہ سال سے ہی ویبھو کا ایک ہی خواب تھا کہ وہ راجستھان رائلز کو ٹرافی جتوائے۔ اس پر کوچ راہول ڈریوڈ اور ٹیم انتظامیہ نے کم عمری میں ہی بہت اعتماد ظاہر کیا تھا اور وہ اس اعتماد پر پورا اترنا چاہتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ شکست کے بعد وہ کافی افسردہ تھا۔

امان نے بتایا کہ میچ کے بعد ان کی ویبھو سے بات ہوئی۔ وہ مایوس ضرور تھا کیونکہ وہ اپنی ٹیم کو فائنل تک لے جانا چاہتا تھا، لیکن میں نے اسے یہی سمجھایا کہ تم نے اپنی طرف سے سو فیصد کوشش کی ہے۔ باقی نتائج ہمیشہ انسان کے اختیار میں نہیں ہوتے۔ میں نے اسے کہا کہ ابھی تمہارے سامنے بے شمار مواقع موجود ہیں اور مستقبل تمہارا منتظر ہے۔

دو دوست

گفتگو کے دوران میزبان نے دونوں دوستوں کی تصاویر کا ذکر بھی کیا، جن سے ان کی گہری دوستی کا اندازہ ہوتا ہے۔ ایک تصویر ایشیا کپ کے دوران دبئی میں لی گئی تھی، جب دونوں ایک ہی بس میں سفر کر رہے تھے۔ محمد امان نے تصدیق کی کہ یہ تصویر اسی دورے کی یادگار ہے۔

اس کے بعد بات ویبھو کے خاندانی پس منظر اور جدوجہد کی طرف چلی گئی۔ محمد امان نے کہا کہ اگر کسی چیز نے ویبھو کو اس مقام تک پہنچایا ہے تو وہ اس کا جنون، محنت اور کرکٹ کے لیے بے پناہ بھوک ہے۔ اس کے نزدیک سامنے موجود بالر کی حیثیت کوئی معنی نہیں رکھتی۔ وہ صرف گیند کو دیکھتا ہے اور اپنی بہترین کارکردگی دینے کی کوشش کرتا ہے۔

امان نے بتایا کہ جب ان کی دوستی گہری ہوئی تو انہوں نے ویبھو سے اس کے گھر اور خاندان کے بارے میں پوچھا۔ تب اسے معلوم ہوا کہ اس کے والد نے اسے کرکٹر بنانے کے لیے کتنی قربانیاں دی ہیں۔ بعد میں ایشیا کپ کے دوران ایک واقعہ پیش آیا جب آئی پی ایل میں منتخب ہونے کے باوجود ویبھو اداس بیٹھا تھا۔

امان نے حیرت سے اس سے پوچھا کہ جب تمہارا انتخاب ہو چکا ہے اور تمہارے کیریئر کا اتنا خوبصورت آغاز ہو رہا ہے تو پھر پریشانی کی کیا بات ہے؟ اس پر ویبھو نے ایک ایسی بات کہی جس نے امان کو بھی جذباتی کر دیا۔

ویبھو نے کہا کہ سب لوگ اس کے والد کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہیں، لیکن اس کی والدہ کی محنت کو کوئی یاد نہیں کرتا۔ اس نے کہا کہ جب وہ صبح سویرے پریکٹس کے لیے نکلتا تھا تو اس کی والدہ اس سے پہلے بیدار ہو کر کھانا تیار کرتی تھیں۔ رات گئے جب وہ واپس آتا تھا تب بھی اس کی ماں اس کی ضروریات کا خیال رکھتی تھیں۔ اس لیے اگر کامیابی کا سہرا والد کے سر جاتا ہے تو والدہ کا حصہ بھی اتنا ہی بڑا ہے۔محمد امان نے بتایا کہ یہ سن کر وہ بہت متاثر ہوئے کیونکہ اتنی کم عمر میں ویبھو اپنی والدہ کی قربانیوں کو اس قدر گہرائی سے محسوس کرتا تھا۔ یہی اس کی شخصیت کا سب سے خوبصورت پہلو ہے۔

والد کی قربانیاں اور قرض کا بوجھ

محمد امان نے گفتگو کے دوران ایک ایسا پہلو بھی بیان کیا جو ویبھو کی کامیابی کی اصل کہانی کو سامنے لاتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ویبھو کے والد نے اپنے بیٹے کے خواب کو پورا کرنے کے لیے بے شمار مالی مشکلات برداشت کیں۔ویبھو نے مجھے خود بتایا تھا کہ والد پر کافی قرض تھا۔ وہ دن رات اسی کی کرکٹ کے لیے محنت کرتے تھے۔ اسے ہمیشہ فکر رہتی تھی کہ والد نے اس کے لیے کتنی قربانیاں دی ہیں اور ایک دن اسے یہ سب واپس لوٹانا ہے۔امان کے مطابق یہ احساس ویبھو کو مسلسل محنت کرنے پر مجبور کرتا تھا۔

ماں کی قربانیاں جنہیں وہ کبھی نہیں بھولتا

محمد امان نے ایک جذباتی واقعہ بھی سنایا۔آئی پی ایل میں منتخب ہونے کے بعد ایک دن ویبھو بہت اداس تھا۔ جب امان نے وجہ پوچھی تو اس نے والد کے ساتھ ساتھ اپنی والدہ کی قربانیوں کا ذکر کیا۔وہ کہتا تھا کہ "سب لوگ والد کی بات کرتے ہیں، لیکن میری ماں بھی تو صبح سویرے اٹھ کر ہمارے لیے کھانا بناتی تھیں۔ رات دیر تک انتظار کرتی تھیں۔ انہوں نے بھی اتنی ہی قربانیاں دی ہیں۔امان کے مطابق یہی حساسیت اور خاندانی وابستگی ویبھو کے کردار کو دوسروں سے ممتاز بناتی ہے۔

کھانے پینے کا شوق اور پھر سخت ڈائٹ

ویبھو کے بارے میں ایک دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ وہ بچپن میں کھانے پینے کا بے حد شوقین تھا۔امان بتاتے ہیں-اسے مٹھائیاں، آئس کریم اور میٹھی چیزیں بہت پسند تھیں۔تاہم جب اس کی کرکٹ سنجیدہ سطح پر پہنچنے لگی تو اس نے اپنی خوراک پر بھی سخت کنٹرول کر لیا۔رانجی ٹرافی میں ریکارڈ بنانے کے بعد اس نے اپنی ڈائٹ مکمل طور پر تبدیل کر دی تھی۔"

کامیابی کے باوجود عاجزی

  محمد امان نے مزید بتایا کہ ویبھو سوریہ ونشی کے والد نے اسے نہایت اچھے انداز میں تربیت دی ہے۔ انہوں نے صرف کرکٹ ہی نہیں سکھائی بلکہ اسے اخلاق، احترام اور تہذیب کے وہ اصول بھی سکھائے ہیں جو آج اس کی شخصیت کا نمایاں حصہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ویبھو عمر میں اپنے سے چھوٹے لوگوں کی بھی عزت کرتا ہے، بڑوں کے قدم چھوتا ہے، سلام کرتا ہے اور ہر ایک سے ادب و احترام کے ساتھ پیش آتا ہے۔

 محمد امان نے گفتگو کے دوران ویبھو سوریہ ونشی کے ایک اور خوبصورت پہلو کا ذکر کرتے ہوئے ایک یادگار واقعہ سنایا۔ انہوں نے بتایا کہ انڈر 19 کرکٹ کے دنوں میں وجے واڑہ میں ایک ٹورنامنٹ کے دوران بنگلہ دیشی کوچ آشیک الرحمان، جو اس وقت فیلڈنگ کوچ تھے، وہاں موجود تھے۔ وہ شہر سے زیادہ واقف نہیں تھے اور ایک روز رات کے کھانے کے لیے کسی مناسب ریستوران کی تلاش میں تھے۔

محمد امان نے بتایا کہ وہ اور ویبھو کھانے کے لیے جا رہے تھے کہ راستے میں آشیک الرحمان سے ملاقات ہوگئی۔ جب انہوں نے بتایا کہ وہ رات کے کھانے کے لیے جگہ تلاش کر رہے ہیں تو امان اور ویبھو نے انہیں اپنے ساتھ چلنے کی دعوت دی۔ اس کے بعد جتنے دن وہ وہاں رہے، تقریباً ہر رات یہ تینوں ایک ساتھ کھانا کھانے جاتے رہے۔

امان کے مطابق اس واقعے کے تقریباً ڈیڑھ سال بعد قطر میں ایک اور ٹورنامنٹ کے دوران آشیک الرحمان کی دوبارہ ویبھو سے ملاقات ہوئی۔ اس وقت ہندوستان اور بنگلہ دیش کی ٹیمیں وہاں موجود تھیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ملاقات کا ذکر ویبھو نے خود محمد امان سے نہیں کیا، بلکہ بنگلہ دیشی کوچ نے بعد میں انہیں پیغام بھیجا۔

محمد امان نے بتایا کہ آشیک الرحمان نے انہیں ایک تصویر بھیجی اور بتایا کہ ویبھو سوریہ ونشی سے ملاقات ہوئی ہے۔ انہوں نے حیرت اور خوشی کے ساتھ یہ بھی بتایا کہ ویبھو آج بھی ویسا ہی ہے جیسا پہلے تھا۔ وہ نہ صرف انہیں پہچان گیا بلکہ ان کے لیے اپنے فون سے کھانے کا آرڈر بھی کرتا رہا اور ان کی پوری توجہ اور احترام کے ساتھ میزبانی کرتا رہا۔یہ واقعہ سناتے ہوئے محمد امان نے کہا کہ اسی لیے وہ بار بار کہتے ہیں کہ ویبھو صرف ایک غیر معمولی کرکٹر نہیں بلکہ ایک شاندار انسان بھی ہے۔ اس کی کامیابی کے پیچھے صرف ٹیلنٹ نہیں بلکہ اس کی تربیت، والدین کے دیے ہوئے اعلیٰ اقدار، مسلسل جدوجہد، محنت اور دوسروں کے لیے احترام کا جذبہ بھی شامل ہے۔

مستقبل کا ستارہ

محمد امان کا ماننا ہے کہ ویبھو کی کامیابی صرف اس کے ٹیلنٹ کا نتیجہ نہیں بلکہ والدین کی قربانیوں، بہترین تربیت، مسلسل محنت اور مضبوط کردار کا ثمر ہے۔ان کے مطابق اس کے اندر کرکٹ کے لیے ایک الگ ہی بھوک ہے۔ وہ ہر دن خود کو بہتر بنانا چاہتا ہے۔ یہی جذبہ اسے بہت دور لے جائے گا۔

آج جب پوری دنیا ویبھو سوریہ ونشی کی جارحانہ بیٹنگ کی تعریف کر رہی ہے تو ان کے قریبی دوست محمد امان کی باتیں اس نوجوان ستارے کی ایک مختلف تصویر پیش کرتی ہیں۔ ایک ایسی تصویر جس میں عالمی شہرت پانے والا کھلاڑی نہیں بلکہ اپنے والدین کی قربانیوں کو یاد رکھنے والا، دوستوں کا احترام کرنے والا اور مسلسل سیکھنے کی خواہش رکھنے والا ایک سادہ اور بااخلاق نوجوان دکھائی دیتا ہے۔شاید یہی خوبیاں آنے والے برسوں میں ویبھو سوریہ ونشی کو صرف ایک عظیم کرکٹر ہی نہیں بلکہ ایک عظیم انسان بھی بنائیں گی۔