شاہ تاج خان / پونے
کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ہے
وقت نے کیا ، کیا حسیں ستم
تم رہے نہ تم ،ہم رہے نہ ہم (نغمہ نگار۔ کیفی اعظمی۔ فلم۔ کاغذ کے پھول)
تب اُس نے یہ سوچا
چلو ایک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں۔۔(نغمہ نگار۔ساحر لدھیانوی۔ فلم ۔گمراہ)
توجواب ملا
چل چھیاں چھیاں چھیاں چھیاں
جن کے سر ہو عشق کی چھاؤں
پاؤں کے نیچے جنت ہوگی
وہ یار ہے جو خوشبو کی طرح
جس کی زباں اردو کی طرح
مری شام رات مری کائنات
وہ یار میرا سیاں سیاں (نغمہ نگار۔گلزار۔ فلم ۔دل سے)
چاہنے والوں نے یہ بھی یاد دلایا
آپ کے پاؤں دیکھے ، بہت حسین ہیں، انہیں زمین پر مت اتاریئے گا، میلے ہو جائیں گے۔۔۔( مکالمہ نگار۔کمال امروہی۔ فلم۔ پاکیزہ)
پھردھیمی سی مسکرا ہٹ کے ساتھ اُس نے کہا
کنیز دیکھنا چاہتی تھی کہ افسانے حقیقت میں کس طرح بدلتے ہیں۔۔۔(مکالمہ نگار۔ کمال امروہی، وجاہت مرزا،احسان رضوی اور کے آصف۔ فلم۔ مغلِ اعظم)
وقت کچھ اور گزرا، پھر ہوا یوں کسی نے اُس سے تڑخ کر کہا
تیرا کیا ہوگا کالیا۔۔۔(مکالمہ نگار۔سلیم جاوید۔فلم شعلے)
اُس کی حمایت میں ایک آواز گونجی
چنائے سیٹھ، جن کے اپنے گھر شیشے کے ہوں، وہ دوسروں پر پتھر نہیں پھینکا کرتے۔۔۔(مکالمہ نگار۔ اخترالایمان۔ فلم۔ وقت)
ہر طرف خاموشی چھا گئی ، اُس نے پھر دھیرے سے کہا، یہ سنومیں نے ہی کہا ہے
ایک لڑکی کو دیکھا تو ایسا لگا
جیسے کھلتا گلاب
جیسے شاعر کا خواب
جیسے اجلی کرن
جیسے بن میں ہرن
جیسے چاندنی رات
جیسے مندر میں ہو اک جلتا دیا۔۔۔(نغمہ نگار۔ جاوید اختر۔ فلم۔1942اے لو اسٹوری)
اُس نے پھر کہا،کیا یہ مکالمہ تمہیں یاد نہیں
70منٹ،70منٹ ہیں تمہارے پاس،شاید تمہاری زندگی کے سب سے خاص 70منٹ۔ آج تم اچھا کھیلو یا برا، یہ 70منٹ تمہیں زندگی بھر یاد رہیں گے۔ تو کیسے کھیلنا ہے ، آج میں تمہیں نہیں بتاؤں گا۔بس اتنا کہوں گا کہ جاؤ! یہ 70منٹ جی بھر کے کھیلو، کیونکہ اس کے بعد آنے والی زندگی میں چاہے کچھ صحیح ہو یا نہ ہو، چاہے کچھ رہے یا نہ رہے، تم ہارو یا جیتو لیکن یہ 70منٹ تم سے کوئی نہیں چھین سکتا۔کوئی نہیں! تو میں نے سوچاکہ اس میچ میں کیسے کھیلنا ہے آج میں تمہیں نہیں بتاؤں گا، بلکہ تم مجھے بتاؤ گے، کھیل کر! کیونکہ میں جانتا ہوں کہ اگر یہ 70منٹ اس ٹیم کا ہر پلیئراپنی زندگی کی سب سے بڑھیا ہاکی کھیل گیا تو یہ70منٹ خدا بھی تم سے واپس نہیں مانگ سکتا۔ تو جاؤ۔۔ جاؤ اور اپنے آپ سے، اپنی زندگی سے، اپنے خدا سے اور ہر اس انسان سے جس نے تم پر بھروسہ نہیں کیا، اپنے 70منٹ چھین لو۔۔۔(مکالمہ نگار ۔ جے دیپ ساہنی۔ فلم۔ چک دے انڈیا)
اور یہ والاتو نہیں بھولے ہوگے
میرے پاس ماں ہے! ( مکالمہ نگار۔ سلیم جاوید۔ فلم ۔دیوار)
یہ نغمہ تو زیادہ پرانا بھی نہیں ہے،سنا تو ہوگا!
چاند سفارش جو کرتا ہماری دیتا وہ تم کو بتا
شرم و حیا کے پردے گرا کے کرنی ہے ہم کو خطا
ضد ہے اب تو ہے خود کو مٹا نا
ہونا ہے تجھ میں فنا۔۔۔۔۔ (نغمہ نگار۔ پرسون جوشی۔ فلم۔ فنا)
تیری عاشقی کا غرور ہوں تجھے یاد ہو کہ نہ یاد ہو
‘ہیر رانجھا’کے پابندِ بحر مکالموں نے چیتن آنند کی فلم کو شاہکار بنا نے میں اہم رول ادا کیا۔کیفی اعظمی کے پُر آہنگ مکالموں نے عشق کی اس خوبصورت داستان کو دو آتشہ بنا دیا۔میٹر پر لکھے مکالموں کے ساتھ سےّد وارث شاہ کی کہانی جب پردہ سیمیں پر جلوہ افروز ہوتی ہے تو کیفی اعظمی کے الفاظ خاموشی کو چیرتے ہوئے فلم کا منظوم تعارف ناظرین کے گوش گزار کرتے ہیں۔
دوستو!تم نے سنا ہوگا کبھی جھنگ کا نام
ایک مدّت سے جہاں بہتا ہے دریائے چناب
وہیں بے دردوں نے اِس طرح دو دل توڑے
یاد میں جس کی تڑپتا ہے ابھی تک پنجاب
درد پنجاب کے سینے سے چرا لایا ہوں
چند ٹکڑے دلِ وارث کے اٹھا لایا ہوں
درد کو کیسے سجایا ہے یہ دل جانتا ہے
جشنِ غم کیسے منایا ہے یہ دل جانتا ہے
ہیر کا اُسی زبان میں یہ شکوہ
تم کو میلے میں ڈھونڈتی تھی نظر
ہم تھے پھر بھی تم نہ آئے اُدھر
رانجھے نے بھی اپنے دل کی بات اُسی زبان میں یوں بیان کی
یہ دنیا یہ محفل میرے کام کی نہیں
میرے کام کی نہیں
اپنا پتہ ملے نہ خبر یار کی ملے
دشمن کو بھی نہ ایسی سزا پیار کی ملے
اُن کو خدا ملے ہے خدا کی جنہیں تلاش
مجھ کو بس اک جھلک مرے دلدار کی ملے
یہ دنیا یہ محفل میرے کام کی نہیں
تو ہیر بھی اُسی زبان میں ساری دنیا سے ٹکرانے کو تیار، کہتی ہے
غیر مردوں کا نام بھی سننا
میری خاطر گناہ ہے قاضی
تم مجھے مت گناہگار کرو
ذکر اُس کا نہ بار بار کرو
تو نہ پہچانے تو ہے یہ تیری نظروں کا قصور
بالی ووڈ کے ناظرین کو سنیما گھروں تک کھینچ کر لانے کے لیے سب سے اہم ذمہ داری نغمے نبھاتے آئے ہیں۔ جب پوری فلم ہی پابندِ بحر ہو تو اُس فلم کوکلاسکس کا درجہ حاصل کرنے سے بھلا کون روک سکتا تھا۔شیریں زبان اور نغمگی مکالمے 1970کی ہیر رانجھا کو ایک ایسی بلندی پر بٹھا گئے کہ وہاں تک صرف نظر ہی جاتی ہے جو داد و تحسین کے ساتھ احترام میں جھک جاتی ہے۔
وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
اتنا سناٹا کیوں ہے بھائی ۔۔(مکالمہ نگار۔سلیم جاوید۔ فلم شعلے) کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ہے ۔۔ بالی ووڈ کی فلمیں تو ایسے نغموں اور مکالموں سے ہی ناظرین کے دلوں پر راج کرتی ہیں۔پھر ہر وقت بالی ووڈ فلموں کو چھان چھان کر اردو الفاظ تلاش کرنے کی آخر ضرورت کیا ہے؟اکثر تحقیق کی جاتی ہے کہ فلاں دور کی فلموں میں میں 70 فیصد سے زیادہ اردو الفاظ کا استعمال ہوتا تھا اور اب یہ گھٹ کر 20-30فیصد رہ گیا ہے۔ ہنگلش بولنے اور سمجھنے والے ان فلمی شائقین کو نہ اردو آتی ہے نہ ہندی اور نہ ہی پوری طرح سے انگریزی۔ نہ جانے فلم ــ‘‘دا ڈرٹی گرل’’ کا یہ نغمہ ‘ میرا عشق صوفیانہ ،میرا عشق صوفیانہ۔۔’ ( نغمہ نگار۔ رجت اروڑا۔ )انھوں نے کیسے سمجھا ہوگا! مگر نغمہ مقبول ہوا مطلب اردو دلوں میں اترنے کا ہنر جانتی ہے۔فلم‘ راک اسٹار’ کا نغمہ ‘‘کن فیکون۔۔۔’’(نغمہ نگار۔ ارشاد کامل)تو شہر یار کا لکھا یہ نغمہ‘ ‘دل چیز کیا ہے آپ میری جان لیجیے۔۔’’(فلم۔ امراؤ جان)، آہیں نہ بھریں شکوے نہ کیے کچھ بھی نہ زباں سے کام لیا۔۔۔(نغمہ نگار۔نخشب جارچوی ۔ فلم زینت)قوالی تو آج بھی لوگ گنگناتے ہیں۔اردو زبان کی چاشنی میں ڈوبی بالی ووڈ فلموں کی بات کہاں تک کیجیے۔اس کی شروعات تو کی جا سکتی ہے مگر فل اسٹاپ کہاں لگائیں گے؟ تو بالی ووڈ کے شانوں پر اردو زبان کے بکھرے گیسو یونہی بکھرے رہنے دیجیے،اڑنے دیجیے، مہکنے دیجیے،لہرانے دیجیے اور آپ تو بس پردہ سیمیں پر بکھرے جادو کا اثر قبول کیجیے۔