آوام دی وائس : نئی دہلی
دنیا میں 57 مسلم ممالک موجود ہیں مگر کوئی واضح ماڈل پیش نہیں کیا جا سکا جسے عالمی سطح پر مثالی کہا جا سکے۔ جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں جو نظام قائم کیا وہ اپنے وقت اور حالات کے مطابق تھا۔ اس کی بنیاد عدل اور اخلاقیات پر تھی۔ اسے محض ایک جامد سیاسی ڈھانچے کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔
آواز دی وائس کے خاص پوڈ کاسٹ دین اور دنیا میں ان خیالات کا اظہارڈاکٹر مفتی سعد مشتاق نے کیا جو کہ ڈاکٹر بھی ہیں اور مفتی بھی۔ دارالعلوم دیوبند سے فارغ ہیں اور وہاں تدریس بھی کر چکے ہیں۔ مختلف ٹی وی چینلز اور یوٹیوب پر دینی موضوعات پر اپنی بے باک رائے رکھتے رہتے ہیں
میزبان ثاقب سلیم کے ساتھ بات چیت کا آغاز اس سوال سے ہوا کہ کیا اسلامی ریاست قائم کرنا دین کا لازمی حصہ ہے۔ ڈاکٹر سعد مشتاق نے کہا کہ دین میں فرض اور جائز جیسے الفاظ کو خلط ملط کر دیا گیا ہے۔ ہر انتظامی معاملے کو دینی فریضہ قرار دینا درست نہیں۔ ریاست ایک انتظامی ضرورت ہے جس کا مقصد عدل قائم کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر خلافت کے مطالبات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ جذباتی نعروں کے بجائے عملی نمونہ پیش کرنا ضروری ہے۔ اگر کوئی نظام بہتر ہے تو اسے چھوٹے پیمانے پر کامیاب بنا کر دکھایا جائے۔اگر کوئی اسلامی نظام کی بات کرتا ہے تو اسے پہلے اپنے گھر، محلے اور معاشرے میں اس کی عملی مثال پیش کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق 57 مسلم ممالک موجود ہیں مگر کوئی واضح ماڈل پیش نہیں کیا جا سکا جسے عالمی سطح پر مثالی کہا جا سکے۔

غیر مسلم قیادت
غیر مسلم قیادت کے سوال پر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی زندگی کی مثال دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں ایک ایسے نظام کے تحت رہے جو اسلامی نہیں تھا۔ مگر آپ نے عدل اور سچائی کی دعوت جاری رکھی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل مقصد اخلاقی اقدار کا فروغ ہے۔انہوں نے کہا کہ قرآن مجید میں سیاسی نظام کی کوئی مخصوص شکل متعین نہیں کی گئی بلکہ بار بار عدل اور انصاف پر زور دیا گیا ہے۔ ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک۔ یتیموں کے حقوق۔ ناپ تول میں کمی نہ کرنا۔ یہ بنیادی اصول ہیں جو کسی بھی نظام میں نافذ کیے جا سکتے ہیں۔
جمہوریت اور سیکولرازم
جمہوریت اور سیکولر نظام کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اگر کوئی نظام عدل، دیانت اور بنیادی انسانی حقوق کو یقینی بناتا ہے تو وہ قابل قبول ہے۔ اسلام نے مخصوص سیاسی ڈھانچہ متعین نہیں کیا بلکہ عدل و انصاف کو بنیادی اصول قرار دیا ہے۔ قرآن میں بھی بار بار انصاف قائم کرنے پر زور دیا گیا ہے، نہ کہ کسی خاص سیاسی فارمولا پر۔

بات اجتہاد کی
اجتہاد کے موضوع پر انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ اجتماعی سطح پر نئے حالات کے مطابق سنجیدہ غور و فکر کم نظر آتا ہے۔ وقت کے ساتھ مسائل بدلتے ہیں اس لیے فکری اجتہاد کی ضرورت ہے۔دین اور دنیا کے تعلق پر انہوں نے کہا کہ دونوں کو الگ کرنا درست نہیں۔ تجارت۔ ملازمت۔ روزمرہ معاملات سب دین کے دائرے میں آتے ہیں اگر ان میں دیانت اور اخلاقیات شامل ہوں۔ دین دراصل اخلاقی اقدار کا نام ہے جو دنیاوی زندگی میں اختیار کی جائیں۔
پروگرام کے اختتام پر دین اور دنیا کے تعلق پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر سعد مشتاق نے کہا کہ دین اور دنیا کو الگ الگ خانوں میں تقسیم کرنا درست نہیں۔ تجارت، معاشرت اور روزمرہ زندگی کے معاملات بھی دینی اصولوں کے تابع ہیں۔ اصل دین اخلاقی اقدار کا نام ہے، جنہیں دنیاوی معاملات میں برتا جائے۔
سنیئے پوڈ کاسٹ ’دین دنیا ‘ میں یہ بات چیت