اردو شاعری میں شری کرشن بھگتی

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 31-05-2026
اردو شاعری میں شری کرشن بھگتی
اردو شاعری میں شری کرشن بھگتی

 



 ڈاکٹر اجے مالوی

  راماین اور مہابھارت کی طرح شری مد بھگوت گیتا کے بھی تراجم اردو زبان میں خوب ہوئے۔میری تحقیق کے مطابق اب تک تقریباً ڈیڑھ سو تراجم اردو زبان میں ہو چکے ہیں۔ ہندو ادبا اور شعرا کے ساتھ ساتھ مسلم ادیبوں اور شاعروں نے بھی شری مد بھگوت گیتا کے تراجم کو بہ حسن و خوبی انجام دیا ہے۔شری مد بھگوت گیتا اور بھگوان شری کرشن کی عظمت کا احترام اور عقیدت کا اعطراف اردو شاعری میں کرنے والے مسلم شعرا میں خصوصی طور پر نظیرؔ اکبر آبادی ،بھاتیندو ہریش چندر،محسن کاکوروی،حسرت موہانی،حفیظ جالندھری ،فراقؔ گورکھپوری، خواجہ دل محمد، ساغر نظامی،رئیس پانی پتی سیماب اکبر آبادی،چندر بھان کیفیؔ دہلوی، شان الحق حقی ،نداؔ ؔفاضلی،انو جلال پوری،بسملؔ الہ آبادی اور جعفر رضاوغیرہ اہم ہیں۔ 
نظیرؔ اردو کا پہلا شاعر ہے جس نے اردو شاعری میں نظم نگاری کی بنیاد ڈالی۔ نظیر ؔخالص ہندستانی شاعر ہے جس نے ہندستانی تہذیب و تمدن، رسم رواج، ہندستانی زندگی اور دیو مالائی اثرات کو اپنی نظمیہ شاعری کا موضوع بنایا۔ جس کی شاعری ہندستان اور ہندستانیت کی ترجمان ہے۔نظیرؔ اکبر آبادی مشترکہ ہندستانی تہذیب و ثقافت کے صحیح معنوں میں علمبردار ہیں۔‘جنم کنہیا جی’،‘بالپن بانسری بجیا کا’،‘‘بانسری’،‘کھیل کود کنہیا جی کا’ ،‘ کنہیا جی کی راس’اور ‘بیاہ کنہیا کا’ وغیرہ نظموں میں نظیر ؔاکبرآبادی نے شری کرشن کی عظمت کے گیت گائے ہیں۔ اس کے علاوہ نظیرؔ نے ہندو مذہب دیوی دیوتاؤں وغیرہ کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا ہے اور‘مہادیو جی کا بیاہ’،‘تعریف بھیرو کی’،‘درگا جی کے درشن’، اور‘ہر کی تعریف’ وغیرہ کامیاب ترین نظمیں نظیرؔ نے تخلیق کی ہیں۔ نظیر ؔنے جہاں حضرت علی کی شان میں منقبت کے اشعار نظمیہ پیرائے میں بیان کیے ہیں اور حضرت سلیم چشتی کی شخصیت پرمدحیہ نظمیہ اشعار قلم بند کیے ہیں تووہیں دوسری طرف نظیرؔ نے گُرو نانک دیو جی کی عظمت کا احترام اور عقیدت کا اظہار اپنی نظمیہ شاعری میں بڑے ہی فنی بصیرت اور فنی لطافت کے ساتھ کیا ہے۔ شری کرشن جی کے بچپن اور ان کی راس لیلاؤں کی جیتی جاگتی تصویر انھوں نے اپنی نظم ‘بالپن بانسری بجیا کا’ میں بڑی عمدگی اور کامیابی کے ساتھ پیش کیا ہے۔ اس ضمن میں ان کی نظمیہ شاعری کے چند بند ملاحظہ فرمائیں:
ان کو تو بالپن سے نہ تھا کام کچھ ذرا
سنسار کی جو ریت تھی اس کو رکھا بجا
مالک تھے وہ تو آپی انھیں بالپن سے کیا
واں بالپن،جوانی، بڑھاپا، سب ایک تھا
ایسا تھا بانسری کے بجیا کا بالپن
کیا کیا کہوں میں کشن کنہیا کا بالپن
بالے ہو برج راج جو دنیا میں آ گئے
لیلیٰ کے لاکھ رنگ تماشے دکھا گئے
اس بالپن کے روپ میں کتنوں کو بھا گئے
اک یہ بھی لہر تھی کہ جہاں کو جتا گئے
ایسا تھا بانسری کے بجیا کا بالپن
کیا کیا کہوں میں کشن کنہیا کا بالپن
بھارتیندو ہریش چندر نے شری کرشن کی عظمت اور عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:
جہاں دیکھو وہاں موجود میرا کرشن پیارا ہے
اسی کا سب سے جلوہ جو جہاں میں آشکارا ہے
حسرتؔ موہانی بھگوان شری کرشن جی کی شخصیت اور عظمت سے متاثر نظر آتے ہیں۔حسرت ؔموہانی نے شری کرشن کی عظمت کے نغمہ گائے ہیں۔ ان کو بھگوان شری کرشن سے سچّی محبت اور عقیدت تھی۔ اس کااندازہ حسرتؔ کے ان اشعار سے لگایا جا سکتا ہے:
حسرتؔ کی بھی قبول ہو متھرا میں حاضری
سنتے ہیں عاشقوں پہ تمہارا کرم ہے آج
پیغام حیات جاوداں تھا
ہر نغمہ کرشن بانسری کا
سیمابؔ اکبر آبادی کو بھگوان شری کرشن سے بے پناہ عقیدت اور محبت تھی ۔ انھوں نے اپنی نظم ‘شری کرشن’ میں شری کرشن کی شخصیت اور ان کے فلسفیانہ خیالات و تعلیمات کو اپنی نظمیہ شاعری کے ذریعہ پیش کیا ہے۔ اس نظم میں سیماب ؔاکبرآبادی نے شری کرشن کو ہندستان کا پیغمبر تسلیم کیا ہے اور اپنی نظمیہ شاعری کے ذریعہ انھوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ بھگوان شری کرشن کا بنیادی مقصد محبت اورعشق تھا۔ اس ضمن میں ان کا یہ شعر ملاحظہ فرمائیں:
دلوں میں رنگ محبت کا استوار کیا
سواد ہند کو گیتا سے نغمہ بار کیا
فراقؔ نے اپنے غزلیہ اشعار میں بھگوان شری کرشن کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا ہے۔ وہ کہتے ہیں: 
وہ راتوں رات سری کرشن کو اٹھائے ہوئے
بلا کی قید سے بسدیو کا نکل جانا
فراقؔ گورکھپوری نے رادھا کے حسن و جمال کو بھی اپنی شاعری کا موضوع بنایا ہے۔ صبح کے وقت رادھا کے سو کر اٹھنے کی حقیقی تصویر کوفراقؔ نے اپنی رباعی میں اس خوش اسلوبی اور ہنر مندی سے پیش کیا ہے کہ جس میں ہندستانی عورت کے لا زوال حسن وجمال کی خوبصورتی سمٹ کر ہمارے سامنے آتی ہے۔ اس ضمن میں ان کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:
جب پچھلے پہر پریم کی دنیا سو لی 
کلیوں کی گرہ پہلی کرن نے کھولی
جوبن رس چھلکاتی اٹھی چنچل نار
رادھا گوکل میں جیسے کھیلے ہولی
مدھوبن میں بسنت سا سجیلا ہے وہ روپ
برکھا کی طرح رسیلا ہے وہ روپ
رادھا کی جھپک کرشن کی برزوری ہے 
گوکل نگری کی راس لیلا ہے وہ روپ
  رئیس پانی پتی بھگوان شری کرشن کی بھگتی اور عشق میں سرشار نظر آتے ہیں۔ انھوں نے بھگوان شری کرشن سے سچی محبت اور عقیدت کا اظہار بڑی خوبصورتی اور ہنر مندی کے ساتھ اپنی شاعری میں کیا ہے۔انھوں نے اپنی نظمیہ شاعری کے ذریعہ بھگوان شری کرشن کو گلہائے عقیدے کے پھول چڑھائے ہیں۔ اس سلسلے میں رئیس پانی پتی کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:
ایک پریم پجاری آیا ہے چرنوں میں دھیان لگانے کو
بھگوان تمہاری مورت پر شردھا کے پھول چڑھانے کو
اپدیش دھرم کا دے کر پھر بلوان بنا دو بھگتوں کو
اے موہن جلد زباں کھولو گیتا کے راز بتانے کو
  معروف شاعر چرخ چنیوٹی نے اپنی نظمیہ شاعری میں بھگوان شری کرشن کو نذرانہ عقیدت پیش کیا ہے۔ اس نظم میں انھوں نے شری کرشن کے مختلف صفات کا بیان کیا ہے۔ انھوں نے اپنے نظمیہ اشعار میں بھگوان شری کرشن کو زیست کا ترجمان تو کبھی دنیا کی جان تسلیم کیا ہے۔ کہیں انھیں فنا اور بقا کا مالک، کہیں دو جہان کا مالک، کہیں اپنی منزلِ مقصود اور کہیں پر گلستانِ جہا ں کا ناز تصور کیا ہے۔ اس نظم کے آخر میں شاعر نے بھگوان شری کرشن کی محبت اور عبادت کو اپنی آخرت کا سرمایہ قرار دیا ہے۔اس سلسلے میں ان کا یہ شعر خاطر نشیں ہوـ:
میری دنیا سنوار دی اس نے
میری روح رواں ہے میرا کرشن
  چندر بھان کیفیؔ دہلوی نے بھی اپنی نظمیہ شاعری میں بھگوان شری کرشن کو موضوع بنایا ہے۔ ان کے نظمیہ اشعار سے شری کرشن سے ان کی والہانہ محبت و عقیدت کا پتہ چلتا ہے۔ انھوں نے ماں جسودا کا شری کرشن سے بے پناہ محبت ، شری کرشن کی مرلی کی دھُن سن کر گوپیوں کا بیتاب ہونا اورجسودا کا شری کرشن کے لیے بے قرار ہونے کی تصویر کشی بڑی خوبصورتی اور ہنر مندی کے ساتھ نظمیہ پیکر میں ڈھال کر ہمارے سامنے پیش کیا ہے۔ اس سلسلے میں ان کے چند اشعار خاطر نشیں ہوں:
ہے جسودا کے لیے زینت آغوش کہیں
گوپیوں کے بھی تصور سے ہیں رو پوش کہیں
گوپیاں سن کے مرلیاں ہوئیں ایسی بیتاب
گر گئے ہار کہیں رہ گئی پاپوش کہیں
‘شاہ نامہ اسلام ’ کے خالق معروف شاعرحفیظ جالندھری نے شری کرشن کی عظمت کے گیت بڑی آن بان اور شان کے ساتھ گائے ہیں۔ شری کرشن سے سچی محبت اوربے پناہ عقیدت کا اظہار انھوں نے بڑے ہی والہانہ انداز سے کیا ہے۔ان کی نظم ‘کرشن کنہیا’ کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:
اے دیکھنے والو
اس حسن کو دیکھو
اس راز کو سمجھو
یہ پیکرِ تنویر
یہ کرشن کی تصویر
معنی ہے کہ صورت 
صنعت ہے کہ فطرت
ظاہر ہے کہ مستور
نزدیک ہے کہ دور
یہ نار ہے یا نور
دنیا سے نرالا
یہ بانسری والا
گوکل کا گوالا
ہے سحر کہ اعجاز
کیا شان ہے واللہ
کیا آن ہے واللہ
ساغرؔ نظامی کی نظم ‘پنگھٹ کی رانی’ میں شری کرشن کی عظمت اور عقدیت کی جھلک خصوصی طور پر نظر آتی ہے۔ شاعرنے اپنے دلی جذبات و احساسات اور خیالات و تاثرات کا اظہار بڑی خوش اسلوبی اور ہنر مندی کے ساتھ کیا ہے۔ رادھا اکا پنگھٹ پر جانے اور شری کرشن کے مرلی کے جادو کی عکاسی ساغرؔ نظامی نے بڑی خوبصورتی اور عمدگی کے ساتھ شعری پیکر میں ڈھال کر ہمارے سامنے پیش کیا ہے۔ اس ضمن میں ساغرؔ نظامی کی نظم‘ پنگھٹ کی رانی’ سے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:
رگ رگ جس کی ہے اک باجااور نس نس زنجیر
کرشن مراری کی بنسی ہے یا ارجن کا تیر
سر سے پا تک شوخی کی وہ اک رنگیں تصویر
پنگھٹ بیکل جس کی خاطر چنچل جمنا نیر 
جس کا رستہ ٹک ٹک دیکھے سورج سا رہ گیر
آئی پنگھٹ کی دیوی وہ پنگھٹ کی رانی
محسنؔ کاکوروی بھی شری کرشن کی بھگتی میں سرشار نظر آتے ہیں۔ انھوں نے اپنے قصیدہ میں شری کرشن کے عشق میں نغمہ گائے ہیں۔ انھوں نے اپنے اشعار کے ذریعہ شری کرشن کی عظمت اور عقیدت کو بڑی خوش اسلوبی اور چابکدستی کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اس ضمن میں محسن کاکوروی کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:
سمت کاشی سے چلا جانبِِ متھرا بادل
تیرتا ہے کبھی گنگا کبھی جمنا بادل
دیکھئے ہوگا شری کرشن کا کیوں کر درشن
سینۂ تنگ میں دل گوپیوں کا ہے بیکل
سمت کاشی سے گیا جانب متھرا بادل
برج میں آج شری کرشن ہے کالا بادل
خوب چھایا ہے سرِ گوکل و متھرا بادل
رنگ میں آج کنہیا کے ہے ڈوبا بادل
راجہ اندر ہے پری خانۂ مئے کا پانی
نغمۂِ مئے کا سرِ کشن کنہیا بادل
سکھدیو پرساد سنہا بسملؔ الہ آبادی نے لیلادھاری شری کرشن کی شخصیت اور عظمت کا بیان اپنی نظم ‘شری کرشنا’ میں بڑی خوش اسلوبی اور سادگی کے ساتھ بیان کیا ہے۔20 اگست 1947 کو کرشن جنماشٹمی کے خاص موقع پر اس نظم کو بسملؔ الہ آبادی نے الہ آباد کے جلسہ میں پڑھی تھی۔ اس جلسہ کی صدارت الہ آباد کے سابق کمشنر جناب کنور مہراج سنگھ نے کی تھی۔ بسملؔ الہ آبادی نے نظم‘ شری کرشنا’ میں اپنے دلی جذبات و خیالات کا اظہار بڑی کامیابی اور ہنرمندی کے ساتھ بڑے ہی والہانہ عقیدت اور محبت سے کیا ہے۔ اس ضمن میں بسملؔ الہ آبادی کے نظمیہ اشعار ملاحظہ فرمائیں:
یہ وہ شب ہے جو نصیحت ہے زمانے کے لیے
یہ وہ شب ہے جو عبادت ہے زمانے کے لیے
آج کی رات سیہ بخت ہمارا چمکا
آج کی رات امیدوں کا ستارہ چمکا
لیا متھرا میں جنم جا کے رہا گوکل میں
پاؤں کے رکھتے ہی امرت ملا جمنا جل میں
وہ کنہیا وہ مرے دل کو لبھانے والا
وہ زمانے میں نئے روپ سے آنے والا
وہ بھجن نغمۂ الہام بتانے والا
وہ بڑے پریم سے بنسی کا بجانے والا
گیان کی راہ زمانے کو دکھائی تو نے
پریم کیا چیز ہے یہ بات بتائی تونے
اپنی قوت کو بڑے جوش میں لانے والا
انگلیوں پر وہ گووردھن کو نچانے والا
وہ سداما کی غریبی کو مٹانے والا
کام سنکٹ میں ہر اک شخص کے آنے والا
کورووں کا وہ غرور اور نشاں تک نہ بچا
رن میں سب قتل ہوئے ایک جواں تک نہ بچا
غور سے دیکھیں ذرا لوگ تماشا کیا ہے
تونے گیتا میں بتایا ہے کہ دنیا کیا ہے
نہ ہوا ہے نہ کوئی ہوگا ترا ثانی بھی
ایسا یوگی بھی کہیں ایسا کہیں گیانی بھی
ندا فاضلی بھی لیلا دھاری بھگوان شری کرشن کی شخصیت اور عظمت سے متاثر نظر آتے ہیں۔ندا فاضلی نے اپنی غزلیہ شاعری میں بھگوان شری کرشن کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا ہے اور ان کے عشق میں نغمے گائے ہیں۔ اس سلسلے میں ان کا یہ شعر ملاحظہ فرمائیں:
برندابن کے کرشن کنہیا اللہ ہو
بنسی رادھا گیتا گیان اللہ ہو
جعفر رضا کا ماننا ہے کہ رام اور رحیم کے درمیان فرق کرنا منا سب نہیں ہے کیوں کہ دونوں دراصل ایک ہی ہیں۔ اس بات کو انھوں نے اپنے دوہے میں بیان کیا ہے۔سبھی جانتے ہیں کہ اسلام مذہب کے ماننے والے لوگ ‘اوم’ کی جگہ ‘786’ لکھتے ہیں کیوں کہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کے تمام حروف کے اعداد کا مجموعہ ‘‘786’’ ہوتا ہے۔ جعفر رضا نے یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ ‘‘ہرے کرشن’’ کے تمام حروف کے اعداد کا مجموعہ بھی ‘‘786’’ ہوتا ہے۔ اس ضمن میں جعفر رضا کا ایک دوہا خاطر نشیں ہو:
سات سو چھیاسی میں رام، اوررحیم مل جائیں
بسم اللہ کے وہی اعداد ہرے کرشنا میں آئیں
جعفر رضا نے ایک مصرعہ کہا کہ ‘اب دل میں بسا رکھئے ایک سانولی مورت کو’۔ سانولی مورت شری کرشن کی صورت یاد دلاتا ہے۔ شری کرشن جعفر رضا کو بھی مرغوب ہیں۔ ان کی کرشن بھگتی کے رنگ میں ڈوبا ہوا دوہاملاحظہ فرمائیں:
کرشن کی بنسی میں جادو ہے کوئی رادھا ہو
موجِ رفتار لچک جائے گی پائل ہی نہیں
انوا جلالاپوری کی کتاب ‘اردو شاعری میں گیتا’معنویت اور اہمیت کی حامل ہے۔ شاعر نے شری مد بھگوت گیتا کے اٹھارہ ابواب کو نظمیہ شاعری میں پیش کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے، جس وہ کامیاب بھی نظر آتے ہیں۔ شری مد بھگوت گیتا کے پہلے باب کا ترجمہ انوار جلال پوری بڑی ہی کامیابی اور خوبصورتی کے ساتھ کیا ہے۔ چند اشعار خاطر نشیں ہوں:
کہانی تو سنجے سناتا رہا
ہے میداں میں کیا بتاتا رہا
وہ میداں جو تھا جنگ ہی کے لیے
وہیں سے جلے دھرم کے بھی دیے
دھرت راشٹر آنکھوں سے محروم تھے
مگر یہ نہ سمجھو کہ معصوم تھے
شری مد بھگوت گیتا کے سات سو اشلوک کا ترجمہ شاعر ی میں کرنا بڑا مشکل کام ہے لیکن شری مد بھگوت گیتا کے ارجن اور شری کرشن کے مکالمہ کو انور جلال پوری نے شعری پیکر میں ڈھالنے کی کامیاب ترین کوشش کی ہے۔ چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:
یہ سن سن کر ارجن بھی بے چین تھا
سوال اس نے کیشو سے ہی کر دیا
بتائیں مجھے کون ہے مطمئین
مرے واسطے ہے سمجھنا کٹھن
کسے گیان اور دھیان والا کہوں
حقیقت سمجھ کر میں کس کی سنوں
مکمل انھیں دیکھا ہے مجھے
وہ کیا ہیں انھیں جاننا ہے مجھے
اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ اردو زبان میں بہت بڑی تعداد میں ادباء و شعرا نے بھگوان شری کرشن کی شخصیت اور عظمت کے گیت گائے ہیں اور شری مد بھگوت کے تراجم تمام اصنافِ سخن میں بڑے ہی فنّی بصیرت ،فنّی لطافت اور فنی شعور و آگہی کے ساتھ پیش کیا ہے۔اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ آج اکیسویں صدی کی تیسری دہائی میں جب سیاست دانوں نے زبان اور مذہب کی آڑ میں ملک کی حقیقی تصویر کو بدلنے کی پُر زور کوشش کر رہے ہیں تو ایسے ماحول اور حالات میں مسلمانوں نے ہندوؤں کے جو مذہبی صحائف کے تراجم بہت بڑی تعداد میں کیے ہیں ان کی معنویت واہمیت اور قدر و قیمت کافی حد تک بڑھ جاتی ہے اوریہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ تمام ادباء و شعرا ہندستان کی گنگا جمنی تہذیب کے امین اورعلمبردار ہیں