ڈیجیٹل دور میں مٹ گئی عید کارڈ کی تہذیب و روایت

Story by  منصورالدین فریدی | Posted by  [email protected] | Date 20-03-2026
ڈیجیٹل دور میں مٹ گئی عید کارڈ کی تہذیب و روایت
ڈیجیٹل دور میں مٹ گئی عید کارڈ کی تہذیب و روایت

 



منصور الدین فریدی : نئی دہلی

 وہ روشن بازار، جگمگاتی دکانیں اور سجے ہوئے اسٹال، جہاں رنگ برنگے اور دلکش عید کارڈز کی بہار نظر آتی تھی، اب محض یادوں کا حصہ بن کر رہ گئے ہیں۔ وقت نے کروٹ لی ہے اور دنیا ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے، جسے ہم ڈیجیٹل دنیا کے نام سے جانتے ہیں۔ آج ہاتھوں میں موبائل فون ہے، میز پر کمپیوٹر رکھا ہے، گود میں لیپ ٹاپ ہے اور دیوار پر اسمارٹ ٹی وی آویزاں ہے۔ ایک چھوٹے سے اشارے پر ہر چیز دستیاب ہے، اور اسی بدلتی ہوئی دنیا نے عید کارڈ کی روایت کو بھی خاموشی سے بدل کر رکھ دیا ہے۔

رمضان المبارک میں عبادت اپنے عروج پر ہوتی ہے، مگر جیسے جیسے عید قریب آتی ہے، بازاروں میں خریداری کا جوش بھی بڑھنے لگتا ہے، اور لوگ اسے ایک خوشگوار فریضے کے طور پر ادا کرتے ہیں۔ ہر شخص اپنی پسند اور ضرورت کے مطابق خریداری میں مصروف دکھائی دیتا ہے۔ لیکن اس سارے منظر میں ایک اہم روایت جو کہیں کھو گئی ہے، وہ عید کارڈز کی ہے۔ دراصل موبائل فون اور سوشل میڈیا کے اس دور میں جب ہاتھ سے لکھے گئے خطوط اپنی اہمیت کھو بیٹھے، تو عید کارڈز بھی اسی کے ساتھ پس منظر میں چلے گئے، اگرچہ وہ دلوں اور یادوں سے محو نہیں ہو سکے۔

گزشتہ صدی کے آخری برسوں تک عید کارڈز کا رواج اپنے عروج پر تھا، مگر جیسے ہی موبائل فون اور انٹرنیٹ عام ہوئے، یہ روایت آہستہ آہستہ دم توڑنے لگی۔ ایک شوقین شخص کے مطابق، ٹیکنالوجی نے یقیناً جذبات کے اظہار کو آسان، کم خرچ اور بظاہر زیادہ دلکش بنا دیا ہے، لیکن وہ لوگ جنہوں نے عید کارڈ منتخب کرنے، اس پر اپنے ہاتھ سے الفاظ لکھنے، اسے بھیجنے اور پھر وصول کرنے کی خوشی کو محسوس کیا ہے، وہ اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ چند بٹن دبانے یا چند کلکس کرنے میں وہ لطف اور اپنائیت کبھی پیدا نہیں ہو سکتی جو ایک سادہ مگر خلوص بھرے عید کارڈ میں ہوتی تھی۔

ٹکنالوجی ڈائن کھا گئی 

 کہا جاتا ہے کہ دوا ہو یا فیصلہ، ہر چیز کے کچھ نہ کچھ اثرات ضرور ہوتے ہیں۔ اسی طرح ڈیجیٹل دنیا کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اس نئی تہذیب نے ہماری پرانی روایات کو دھندلا دیا ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ ہم نے خود اپنے ہاتھوں سے اس روایت کو پسِ پشت ڈال دیا۔ جب ہم موبائل فون کے ذریعے کسی کو عید کی مبارک باد کا ایک اینیمیٹڈ پیغام بھیجتے ہیں، تو دراصل ہم ایک خوبصورت روایت کو آہستہ آہستہ ختم کرنے کے عمل میں شریک ہوتے ہیں۔ مگر اب دنیا تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے، اور اس رفتار میں شاید ہی کوئی یہ سوچنے کی فرصت نکالتا ہو کہ وہ اپنی کتنی روایات کو پیچھے چھوڑ آیا ہے۔ ایک شوقین فرد سے جب عید کارڈز کے ختم ہوتے رواج پر بات کی گئی تو اس نے دل گرفتہ انداز میں صرف اتنا کہا کہ ٹیکنالوجی نے سب کچھ نگل لیا۔

وہ دکانیں اور بازار

وہ بھی ایک زمانہ تھا، جسے اب صرف یادوں میں ہی تلاش کیا جا سکتا ہے۔ رمضان کے آغاز کے ساتھ ہی بازاروں میں عید کارڈز کی خرید و فروخت شروع ہو جاتی تھی۔ یہ کارڈز مختلف رشتوں کے مطابق تیار کیے جاتے تھے، جیسے بھائی، بہن، بھابھی، بیوی، دوست اور سہیلی کے لیے الگ الگ انداز اور پیغامات ہوتے تھے۔ کچھ کارڈز پر مختصر مگر دل کو چھو لینے والے جملے درج ہوتے تھے، جبکہ بعض پر خوبصورت اشعار تحریر ہوتے تھے۔ یہ خریدار کی پسند پر منحصر ہوتا تھا کہ وہ سادہ پیغام والا کارڈ منتخب کرے یا شاعری سے مزین۔

ان کارڈز کی سجاوٹ بھی اپنی مثال آپ ہوتی تھی۔ کہیں پھولوں کی دلکشی ہوتی تھی تو کہیں حسین چہروں کی تصاویر۔ شام ہوتے ہی ان دکانوں پر ایک میلے کا سا سماں بندھ جاتا تھا۔ تیز روشنیوں میں نہائے ہوئے بازاروں میں ہر عمر کے لوگ رنگ برنگے کارڈز کو غور سے دیکھتے اور اپنی پسند کا انتخاب کرتے تھے۔ اس وقت عید کارڈز نہ صرف ایک روایت تھے بلکہ ایک باقاعدہ صنعت کی حیثیت رکھتے تھے۔ مگر وقت کے بدلتے دھارے اور ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی نے اس صنعت کو بھی آہستہ آہستہ اپنی لپیٹ میں لے لیا اور یوں ایک خوبصورت روایت تاریخ کے صفحات میں سمٹ کر رہ گئی

 لفافہ کھولنے کی بے قراری

وہ عید کارڈز کا واقعی سنہرا زمانہ تھا۔ لوگ عید کارڈ آنے کا بے صبری سے انتظار کیا کرتے تھے۔ بعض اوقات اگر کسی کو کارڈ موصول نہ ہوتا تو وہ اس بات کا شکوہ بھی کرتا تھا۔ عید کارڈ بھیجنے اور وصول کرنے کی جو خوشی ہوا کرتی تھی، اس کا صحیح اندازہ لگانا مشکل ہے۔ جیسے ہی کارڈ ملتا، سب سے پہلے اسے کھولنے کی جلدی ہوتی تھی۔ اس کے اندر لکھا ہوا پیغام کبھی کسی کے دل کی دھڑکن تیز کر دیتا تھا تو کبھی کسی کو سکون اور خوشی کا احساس دیتا تھا۔ وہ جذبات ایسے تھے جنہیں مکمل طور پر لفظوں میں بیان کرنا آسان نہیں۔لوگ کئی کئی سال پرانے عید کارڈز کو سنبھال کر رکھتے تھے۔ بعض افراد انہیں اپنے خاص یادگاروں کی طرح محفوظ رکھتے اور وقتاً فوقتاً دیکھتے بھی تھے۔ اسکول اور کالج کے طلبہ انہیں ایک دوسرے کو دکھانے کے لیے ساتھ لے جاتے تھے۔ اس چھوٹی سی چیز سے جو خوشی ملتی تھی، وہ کسی قیمتی اثاثے سے کم محسوس نہیں ہوتی تھی۔

آغاز کب ہوا 

برِصغیر پاک و ہند میں عید کارڈ بھیجنے کی روایت کا باقاعدہ آغاز انیسویں صدی کے آخری برسوں میں ہوا۔ اگرچہ اس سے پہلے بھی بعض خوشحال مسلمان گھرانے خوبصورت خطاطی سے مزین پیغامات ایک دوسرے کو بھیجتے تھے، لیکن عید کارڈز کی باقاعدہ اشاعت، ان کی عام دستیابی اور ڈاک کے ذریعے ترسیل کا سلسلہ اسی دور کے اواخر میں فروغ پانے لگا۔ اس روایت کے پھیلاؤ کے پس منظر میں عموماً دو بڑی وجوہات بیان کی جاتی ہیں: ایک ریلوے کے نظام کا تیزی سے پھیلنا، اور دوسری جدید پرنٹنگ سہولیات کا متعارف ہونا۔

ریلوے کا کردار

یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ 1853 میں جب ہندوستان میں ریلوے کا آغاز ہوا تو اس کا دائرہ محض 34 کلومیٹر تک محدود تھا، مگر وقت کے ساتھ ساتھ اس میں حیرت انگیز وسعت آئی اور 1880 تک یہ نیٹ ورک بڑھ کر تقریباً 25,000 کلومیٹر تک پھیل گیا۔ ریلوے کی ترقی کے باعث لوگ روزگار اور تجارت کے سلسلے میں دور دراز علاقوں کا رخ کرنے لگے، جس سے باہمی فاصلے بڑھ گئے اور ڈاک کے نظام کی اہمیت میں اضافہ ہوا۔ اسی دوران پرنٹنگ کے شعبے میں ہونے والی جدت نے عید کارڈز کو نہ صرف معیاری بنایا بلکہ انہیں عام لوگوں کی دسترس میں بھی لے آیا۔

یورپ کی دین 

ابتدائی دور کے عید کارڈ دراصل یورپ سے آنے والے کرسمس کارڈز پر مبنی ہوتے تھے۔ ان کارڈز میں معمولی تبدیلیاں کر کے، یا ہاتھ سے تحریر کر کے، انہیں عید کی مبارک باد کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ بیسویں صدی کے آغاز میں پہلی مرتبہ ہندوستانی طرز اور مقامی مناظر پر مبنی کارڈز کی طباعت شروع ہوئی۔ اس میدان میں لاہور کے حافظ قمرالدین اینڈ سنز، حافظ غلام محمد اینڈ سنز اور محمد حسین اینڈ برادرز، دہلی کے محبوب المطابع، اور بمبئی کی ایسٹرن کمرشل ایجنسی، شبر ٹی کارپوریشن اور بولٹن فائن آرٹ لیتھوگرافر جیسی کمپنیوں نے نمایاں کردار ادا کیا اور عید کارڈز کی اشاعت کو ایک باقاعدہ صنعت کی شکل دی۔

اسی زمانے میں لندن کی معروف کمپنی رافیل ٹک کے تیار کردہ پوسٹ کارڈز بھی مقبول ہوئے، جن پر ہندوستانی مسلم طرزِ تعمیر کی دلکش تصاویر ہوتی تھیں۔ یہ کارڈز محض پیغام رسانی کا ذریعہ نہیں تھے بلکہ ان کے ساتھ ایک جذباتی وابستگی بھی جڑ جاتی تھی۔ لوگ انہیں سنبھال کر رکھتے، بار بار دیکھتے اور ان میں چھپی محبت اور خلوص کو محسوس کرتے تھے۔ اس کے برعکس آج کے دور میں موبائل فون کے ذریعے سینکڑوں پیغامات موصول تو ہو جاتے ہیں، مگر وہ کیفیت اور خوشی پیدا نہیں ہوتی جو ایک سادہ سے عید کارڈ میں پوشیدہ ہوا کرتی تھی۔

وقت بدلا توعید کارڈز بھی ہوگئے غائب 

وقت کے ساتھ سماجی رویوں اور ذرائع ابلاغ میں آنے والی تبدیلیوں نے اس روایت کو بھی متاثر کیا۔ اب وہ زمانہ نہیں رہا جب عید سے پہلے پورا گھرانہ مل کر کارڈز کے انتخاب میں مصروف ہوتا تھا، ہر رشتے اور عمر کے مطابق کارڈ چنا جاتا تھا، اور اسے بھیجنا ایک باقاعدہ اور اہم عمل سمجھا جاتا تھا۔ عید کی خریداری میں اس کی حیثیت کسی طور کم نہیں ہوتی تھی۔ مگر گزشتہ دو سے تین دہائیوں میں، دیگر کئی خوبصورت روایات کی طرح، یہ روایت بھی دھیرے دھیرے معدوم ہوتی چلی گئی۔آج حالات یہ ہیں کہ عید کارڈز کے دوبارہ فروغ پانے کے امکانات نہایت کم دکھائی دیتے ہیں۔ شاید آنے والے وقت میں ان کا ذکر صرف مضامین، تبصروں اور کتابوں تک محدود رہ جائے۔ تاہم، ان کی یاد کو زندہ رکھنا بھی کسی حد تک اس تہذیبی ورثے کو محفوظ رکھنے کے مترادف ہے، جو کبھی ہمارے معاشرتی روابط اور جذباتی اظہار کا ایک اہم ذریعہ ہوا کرتا تھا۔