رحمت کلیم
اولاد خالقِ کائنات کا وہ بیش بہا اور بے مثال عطیہ ہے جس کا کوئی متبادل نہیں۔ یہ وہ انمول نعمت ہے جس کی قدر و قیمت کا صحیح احساس کسی بے اولاد سے پوچھ کر ہی لگایا جا سکتا ہے، جس کے آنگن میں زندگی بھر بچوں کی معصوم ہنسی، قدموں کی چاپ اور شوخ شرارتوں کی تپش میسر نہیں آ پاتی۔ مگر کس قدر المیہ ہے کہ جن گھروں کو قدرت نے اس عظیم نعمت سے نوازا ہے، وہاں آج اولاد کو محبت، شفقت اور تشکر کا مظہر سمجھنے کے بجائے معاشرتی تمغہ، سماجی مرتبے کی علامت اور خود ساختہ انا کی تسکین کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے۔ ہندوستانکےمتوسط طبقے میں مسابقت اور آگے نکل جانے کا جنون اس خطرناک نہج پر پہنچ چکا ہے جہاں والدین اپنے ہی لختِ جگر کے بچپن پر ایک ایسی نفسیاتی یلغار کر رہے ہیں جس کا خاموش شکار معصوم زندگیاں بن رہی ہیں۔ آج ہر گھر ایک مسابقتی ٹریننگ کیمپ بن چکا ہے جہاں بچے کو انسان سمجھنے کے بجائے ایک ایسا پروڈکٹ سمجھا جا رہا ہے جس کا کام صرف سماج میں اپنے والدین کی شان بڑھانا ہے۔ ہم نے ایک ایسی نسل تیار کرنے کا جنون پال لیا ہے جسے دنیا ’سپر کڈ‘ کا نام دیتی ہے، مگر درحقیقت یہ بچپن کے معصوم خوابوں کا دن دہاڑے کیا جانے والا قتل ہے۔
بلاشبہ قدرت کا یہ اٹل قانون ہے کہ اس کائنات میں کوئی بھی دو ذی روح ایک جیسے پیدا نہیں کیے گئے۔ ہر انسان کی ساخت، انگلیوں کے نشانات، سوچنے سمجھنے کے پیرائے اور فطری میلانات الگ الگ رکھے گئے ہیں۔ یہی اصول بچوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ ہر بچہ جسمانی، ذہنی، شعوری اور جذباتی اعتبار سے دوسرے سے یکسر مختلف ہوتا ہے۔ کسی کے ذہن میں ریاضی کی باریکیاں آسانی سے اترتی ہیں، تو کوئی ادب، شاعری اور مصوری کے رنگوں سے دنیا کو روشن کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ کوئی کھیل کے میدان میں تاریخ رقم کرنے کا دم رکھتا ہے تو کوئی ٹیکنالوجی اور انجینئرنگ کے الجھے ہوئے معموں کو سلجھانے کی فطری استعداد سے مالا مال ہوتا ہے۔ لیکن ہمارے سماج میں گھٹا ٹوپ تاریکی یہ ہے کہ معاشرہ بچے کے انفرادی وجود کو تسلیم کرنے سے انکار کر چکا ہے۔ محلے، برادری اور رشتہ داری میں کھڑی کی گئی نام نہاد دوڑ نے والدین کی آنکھوں پر ایسی پٹی باندھ دی ہے کہ انہیں صرف ایک ہی رٹ لگی دکھائی دیتی ہے کہ فلاں کا بچہ دیکھو، تم اس سے پیچھے کیسے رہ گئے؟
سماج کا سب سے زہریلا ہتھیار ’تقابل‘ ہے۔ اگر پڑوس یا خاندان کا کوئی بچہ نوے یا پچانوے فیصد نمبر لے آئے، تو دوسرے بچے کے لیے گھر کا ماحول کسی جیل خانے سے کم نہیں رہتا۔ بچے کو یہ طعنہ دے دے کر مارا جاتا ہے کہ فلاں کا بچہ ذہین، تیز طرار اور لائق ہے اور تم کند ذہن ہو۔ یہ رویہ بچے کے اندر رشک یا تحریک پیدا کرنے کے بجائے خود بیزاری، احساسِ کمتری اور شدید گھٹن پیدا کرتا ہے۔ بچہ یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ شاید اس کی ذات کی کوئی حیثیت ہی نہیں، اس کے وجود کی اہمیت محض اتنی ہے کہ وہ دوسرے سے زیادہ نمبر لا کر اپنے والدین کا سر فخر سے اونچا کر سکے، ورنہ وہ گھر والوں کی نظر میں محبت کا حق دار نہیں۔ یہیں سے بچے کی روح زخمی ہونا شروع ہوتی ہے اور گھر کا پرسکون آنگن ایک خاموش میدانِ جنگ کا روپ دھار لیتا ہے۔
اس تقابلی بیماری نے ’سپر کڈ‘ کے خوفناک تصور کو جنم دیا ہے۔ جدید شہری و نیم شہری متوسط طبقے میں یہ جنون سر چڑھ کر بول رہا ہے کہ بچہ ہر میدان میں اول، ناقابلِ شکست اور ہمہ جہت نظر آئے۔ صبح سات بجے سے لے کر رات کے نو بجے تک بچے کے لیے ایک بے رحم اور تھکا دینے والا روٹین تیار کیا جاتا ہے۔ اسکول کی رسمی تعلیم کے بعدٹیوشن اوررات کو ہوم ورک کا بھاری بھرکم بوجھ۔ بچے کے کندھوں پر اس کے اپنے وزن سے زیادہ وزنی بستہ تو پہلے ہی لدا تھا، اب والدین کی حسرتوں کا ناقابلِ برداشت بوجھ بھی لد گیا ہے۔
جب بچہ قدرتی کمزوری یا عدم دلچسپی کی بنا پر والدین کی بلند و بالا توقعات پر پورا نہیں اتر پاتا، تو گھریلو سختی، ڈانٹ ڈپٹ اور جسمانی و ذہنی سزا کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ یہ رویہ بچے کی نفسیات کو دو انتہاؤں میں سے کسی ایک طرف دھکیل دیتا ہے۔ پہلی صورت یہ کہ بچہ بے زبان، سہما ہوا اور حد درجے خاموش ہو جاتا ہے۔ وہ اندر ہی اندر اپنے خوف کو پالتا ہے، اپنے جذبات کا اظہار بند کر دیتا ہے، اور اس کا خود پر اعتماد مکمل طور پر ملیا میٹ ہو جاتا ہے۔ دوسری صورت یہ ہوتی ہے کہ مسلسل تذلیل اور سختی کے ردعمل میں بچہ باغی اور بدزبان بن جاتا ہے۔ وہ والدین کی عزت کرنا چھوڑ دیتا ہے، اس کے لہجے میں تلخی اور جارحیت در آتی ہے اور وہ اپنے غصے کا اظہار توڑ پھوڑ، بدکلامی یا منفی سرگرمیوں کی صورت میں کرنے لگتا ہے۔ دونوں ہی صورتیں والدین اور اولاد دونوں کے لیے تباہ کن ہیں۔معروف شاعر پروفیسر وسیم بریلوی نے کہا تھا
خوف کے سائے میں بچے کو اگر جیناپڑا
بے زباں ہوجائے گا یا بدزباں ہوجائے گا
وقت آ گیا ہے کہ والدین اپنے گھروں کو تربیتی ادارے بنائیں، میدانِ جنگ نہیں۔ اولاد کو قدرت کا تحفہ جان کر ان کا استقبال ان کی تمام تر خوبیوں اور خامیوں کے ساتھ کریں۔ ہر بچے سے یہ امید رکھنا کہ وہ سپر کڈ بن جائے، ایک غیر فطری اور احمقانہ رویہ ہے۔ اسے اس کی رفتار سے چلنے دیجیے، اس کے پسندیدہ میدان میں اس کی رہنمائی کیجیے، اور سب سے بڑھ کر اسے یہ یقین دلائیے کہ اس کے نمبر چاہے جو بھی آئیں، اس کا کیریئر چاہے جیسا بھی بنے، اس کے والدین کی محبت اس کے لیے غیر مشروط اور لازوال ہے۔ جب تک بچوں کو یہ ذہنی تحفظ اور آزادی نہیں ملے گی، ہم ایک صحت مند اور پراعتماد نسل کی امید کبھی نہیں رکھ سکتے۔