آواز دی وائس /نئی دہلی
برصغیر میں مسلمانوں کے زوال کی ایک بڑی وجہ تعلیم کا تقسیم شدہ نظام ہے۔ یہاں تعلیم دو حصوں میں بٹ چکی ہے۔ ایک طرف دینی تعلیم ہے اور دوسری طرف دنیاوی تعلیم۔ مدارس میں جو نصاب پڑھایا جاتا ہے اس میں جدید علوم شامل نہیں ہوتے اور قرآن پر گہرے غور و فکر کی روایت بھی کمزور ہو چکی ہے۔ دوسری طرف جدید تعلیمی ادارے ہیں جہاں جدید علوم تو پڑھائے جاتے ہیں لیکن اخلاقی اور روحانی بنیاد موجود نہیں ہوتی۔ اس تقسیم کی وجہ سے ایک متوازن ذہن پیدا نہیں ہو پاتا
ان خیالات کا اظہار ممتاز ماہر تعلیم اور دانشور ڈاکٹر اسلم پرویز نے آواز کے ساتھ ایک خصوصی پوڈ کاسٹ ’دین اور دنیا ’میں کیا-
انہوں نے اس پوڈ کاسٹ کے دوران مسلمانوں کے سائنس کے ساتھ رشتے اور قران کے معاملات پر انتہائی باریکی کے ساتھ روشنی ڈالی اور ان پہلوؤں کو اجاگر کیا جن کے سبب اج مسلمان سائنس کے میدان میں پیچھے ہے اور دین کے میدان میں بھی اس پروگرام میں ان کے میزبان ثاقب سلیم تھے

سائنس ایک سوچ ہے
ڈاکٹر اسلم پرویز کے مطابق سائنس صرف ایک مضمون نہیں بلکہ ایک طرز فکر ہے۔ یہ ایک طریقہ ہے جس کے ذریعے انسان دنیا کو سمجھتا ہے۔ یہ سوچ گھر سے شروع ہوتی ہے اور بچپن میں بچوں کے اندر پیدا کی جاتی ہے۔ اگر گھر اور معاشرے میں سوال کرنے اور سمجھنے کی عادت نہ دی جائے تو سائنسی ذہن پیدا نہیں ہوتا۔ اسی لیے وہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے گھروں میں عموماً غیر سائنسی رویہ بچپن سے پیدا ہو جاتا ہے۔
قرآن کو بغیر سمجھے پڑھنے کی روایت
وہ اس بات کی مثال دیتے ہیں کہ اکثر بچوں کو قرآن صرف ناظرہ پڑھایا جاتا ہے۔ یعنی وہ حروف پہچان کر پڑھ لیتے ہیں لیکن معنی نہیں سمجھتے۔ ان کے مطابق کسی کتاب کو بغیر سمجھے پڑھنا ایک غیر سائنسی طرز عمل ہے۔ اس سے بچے کے ذہن میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ کسی چیز کو سمجھنا ضروری نہیں ہے بلکہ صرف پڑھ لینا کافی ہے۔ دنیا کی کوئی اور کتاب ایسی نہیں جسے لوگ بغیر سمجھے پڑھتے ہوں۔
قرآن کی دعوت فکر
اسلم پرویز کے مطابق قرآن بار بار انسان کو کائنات پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ زمین اور آسمان کی تخلیق۔ سورج اور چاند کی گردش۔ اور فطرت کے نظام کو دیکھنے کی تاکید کی گئی ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ ان چیزوں میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان فطرت کا مشاہدہ کرے اور اس کے قوانین کو سمجھے۔ یہی دراصل سائنسی طریقہ ہے۔
.jpg)
مسئلہ قرآن نہیں بلکہ مسلمانوں کا رویہ
وہ کہتے ہیں کہ اصل مسئلہ قرآن نہیں بلکہ مسلمانوں کا اپنا رویہ ہے۔ ان کے مطابق دنیا میں تقریباً اسی فیصد مسلمان قرآن کو سمجھ کر نہیں پڑھتے۔ وہ صرف وہی باتیں کرتے ہیں جو انہیں بچپن سے بتا دی جاتی ہیں۔ نماز روزہ اور زکوٰۃ جیسے احکام اپنی جگہ اہم ہیں لیکن قرآن کی بہت سی دوسری ہدایات پر توجہ نہیں دی جاتی۔
علماء اور سائنس کے درمیان فاصلہ
ان کے مطابق ایک بڑی مشکل یہ ہے کہ ایسے لوگ بہت کم ہیں جو بیک وقت سائنس بھی جانتے ہوں اور قرآن کو بھی سمجھتے ہوں۔ زیادہ تر علماء سائنس سے واقف نہیں ہوتے اور سائنسدان مذہبی متون کا گہرا مطالعہ نہیں کرتے۔ اسی وجہ سے دونوں کے درمیان مکالمہ پیدا نہیں ہو پاتا۔
ماضی پر فخر اور حال سے غفلت
وہ کہتے ہیں کہ مسلمان اکثر اپنے ماضی کے سائنسدانوں پر فخر کرتے ہیں۔ ابن سینا اور دوسرے علماء کے نام لیے جاتے ہیں۔ لیکن یہ صرف ماضی کی باتیں ہیں۔ قرآن بھی کہتا ہے کہ ہر قوم اپنے اعمال کا حساب خود دے گی۔ آج کے مسلمانوں کو اپنے تعلیمی نظام اور اپنے طرز فکر کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔
.webp)
قرآن اور ترقی پسند فکر
اسلم پرویز کا نتیجہ یہ ہے کہ اگر قرآن کو صحیح معنوں میں سمجھا جائے تو وہ انسان کو علم حاصل کرنے۔ فطرت کا مطالعہ کرنے۔ اور انصاف پر مبنی معاشرہ قائم کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ ان کے مطابق قرآن کی تعلیمات جامد نہیں ہیں بلکہ وقت کے ساتھ انسان کے علم کے بڑھنے کے ساتھ اس کی سمجھ بھی بڑھتی ہے۔ اسی لیے وہ کہتے ہیں کہ اگر مسلمان قرآن کو سمجھ کر اپنائیں تو وہ ایک زیادہ علمی۔ سائنسی اور ترقی پسند معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں۔