نفرت کے بجائے محبت کے بیانیے کو فروغ دینے کی ضرورت- ڈاکٹر محمد عبدالحکیم ازہری

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 17-02-2026
نفرت کے بجائے محبت کے بیانیے کو فروغ دینے کی ضرورت-  ڈاکٹر محمد عبدالحکیم ازہری
نفرت کے بجائے محبت کے بیانیے کو فروغ دینے کی ضرورت- ڈاکٹر محمد عبدالحکیم ازہری

 



آواز دی وا ئس / نئی دہلی

ہندوستان کی تاریخ میں صوفیائے کرام نے ہمیشہ لوگوں کو جوڑنے کا کام کیا۔ اپنے مذہب پر ثابت قدم رہتے ہوئے بھی دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ محبت اور احترام کا تعلق قائم رکھا گیا۔

 ان خیالات کا اظہار ممتاز اسلامک اسکالر اور کالی کٹ کی عظیم الشان مسجد کے چیف امام ڈاکٹر محمد عبدالحکیم ازہری نے کیا ،

آواز کے  ایڈیٹر ان چیف عاطر خان  کے ساتھ ایک خاص بات چیت میں کہا کہ کیرالہ اور شمالی ہند میں ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں، جہاں مختلف مذاہب کے لوگ باہمی احترام کے ساتھ زندگی گزارتے رہے ہیں۔ ان کے مطابق نفرت کو فروغ دینے کے بجائے محبت کے بیانیے کو عام کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے

اپ کو بتا دیں کہ ڈاکٹر محمد عبدالحکیم ازہری نے اپنے والد گرینڈ مفتی شیخ ابوبکر احمد اور مولانا شیخ عبدالرحمن کے ہمراہ وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی۔ ملاقات کا بنیادی مقصد ماہِ رمضان کی آمد پر مبارکباد پیش کرنا اور ملک میں انسانیت اور باہمی ہم آہنگی کا پیغام عام کرنا تھا۔

 اس موقع پر وزیراعظم مودی کو بتایا گیا کہ کیرالہ میں سولہ دن پر مشتمل ایک سفر کے دوران مختلف طبقات سے ملاقاتیں کی گئیں، لوگوں کے مسائل سنے گئے اور باہمی بھائی چارے کو فروغ دینے کا عزم دہرایا گیا۔ساتھ ہی وزیر اعظم کے سامنے اقلیتوں کے مسائل بھی پیش کیے گئے اور سماجی ہم آہنگی کو مضبوط بنانے پر گفتگو ہوئی

دینی اور جدید تعلیم کا امتزاج

جامعہ مرکز ثقافت سنیہ کے قیام کو اڑتالیس برس مکمل ہوچکے ہیں۔ اس ادارے کی بنیاد شیخ ابوبکر نے رکھی اور یہاں ابتدائی دینی تعلیم سے لے کر میڈیکل کالج، لاء کالج، انجینئرنگ کالج اور دیگر عصری شعبہ جات تک تعلیم فراہم کی جا رہی ہے۔ یہ نظام اب ملک کی بیس ریاستوں تک پھیل چکا ہے۔

ڈاکٹر ازہری کے مطابق اصل ضرورت یہ ہے کہ موجودہ اداروں کے ڈھانچے میں نئے مشن اور جدید انتظامی نظام کو شامل کیا جائے تاکہ دینی اور عصری تعلیم کا متوازن امتزاج قائم ہو سکے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسلام صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ انسانی فلاح، تعلیم، صنعت اور معاشی ترقی بھی اس کے دائرے میں شامل ہیں۔

علماء کا کردار اور اجتماعی قیادت

انہوں نے کہا کہ علماء کو انفرادی طور پر نہیں بلکہ اجتماعی مشاورت کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔ کیرالہ میں چالیس علماء پر مشتمل ایک شوریٰ نظام موجود ہے جہاں باہمی مشاورت کے بعد ہی فتاویٰ اور اہم اعلانات جاری کیے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق سوشل میڈیا کے دور میں ہر شخص کو اپنی رائے پیش کرنے کے بجائے مستند اور ذمہ دار علماء کی طرف رجوع کرنا چاہیے کیونکہ ہر داڑھی رکھنے والا شخص عالم نہیں ہوتا اور صداقت کی جانچ ضروری ہے۔

مدارس میں جدید علوم کی واپسی

انہوں نے تاریخی پس منظر بیان کرتے ہوئے کہا کہ برطانوی دور سے پہلے مدارس ہی اعلیٰ تعلیم کے مراکز تھے جہاں ریاضی، فلسفہ، جغرافیہ اور دیگر علوم بھی پڑھائے جاتے تھے۔ انگریزوں کی آمد کے بعد یہ توازن متاثر ہوا۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ مدارس میں دوبارہ جدید علوم کو شامل کیا جائے۔ مرکز نالج سٹی میں میڈیکل، لاء اور ٹیکنالوجی کے ادارے اسی سوچ کا عملی نمونہ ہیں اور یہ تمام ادارے ہر طبقے کے لیے کھلے ہیں۔

انتہاپسندی کے خلاف واضح موقف

ڈاکٹر ازہری نے کہا کہ شدت پسندی کسی بھی مذہب کا پیغام نہیں۔ ہر مذہب کے نام پر کچھ عناصر موجود ہوتے ہیں مگر اصل تعلیمات امن اور انسانیت کی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ اسلام کا پیغام مستند علماء سے ہی سنا جائے اور بغیر تحقیق کے کسی بیان پر فوری ردعمل نہ دیا جائے۔

سیاست اور نمائندگی

سیاسی حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ جمہوری ملک میں سیاست ضروری ہے مگر ہر شخص کا براہ راست سیاست میں ہونا لازمی نہیں۔ سیاسی شعور سب میں ہونا چاہیے جبکہ کچھ افراد عملی سیاست میں حصہ لیں۔ انہوں نے اس بات پر افسوس ظاہر کیا کہ کئی اہم عہدوں پر مسلمانوں کی نمائندگی کم ہے اور اس خلا کو پر کرنا ضروری ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سیاست میں باہمی احترام اور نتائج کے بعد مفاہمت کا کلچر فروغ پانا چاہیے۔

آئین، شہری شعور اور ذمہ داریاں

انہوں نے کہا کہ آئین پر اعتماد اور شہری اقدار کا فروغ بے حد اہم ہے۔ مدارس میں طلبہ کو شہری ذمہ داریوں، صفائی، ٹریفک قوانین اور سماجی نظم و ضبط کی تعلیم دی جاتی ہے اور یہی شعور دیگر مذہبی اداروں میں بھی عام ہونا چاہیے۔ حقوق کے ساتھ فرائض کی ادائیگی کو بھی اتنی ہی اہمیت دی جانی چاہیے۔

بین المذاہب روابط اور مکالمہ

کیرالہ کے سولہ روزہ سفر میں ہندو، عیسائی اور مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی اور انسانیت کے مشترکہ پیغام پر اتفاق کیا۔ ڈاکٹر ازہری کے مطابق مکالمہ ضروری ہے مگر اس سے بڑھ کر عملی میل جول اور مشترکہ تقریبات میں شرکت زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہے۔

اختتامی پیغام

گفتگو کے اختتام پر انہوں نے میڈیا سے اپیل کی کہ وہ محبت اور ہم آہنگی کے پیغام کو عام کرے اور نفرت انگیز بیانیوں سے گریز کرے۔ انہوں نے ماہِ رمضان کی آمد پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ مہینہ انسانیت، صبر اور بھائی چارے کا پیغام لے کر آتا ہے اور اسی روح کو معاشرے میں فروغ دینا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔