لفظ کافر کے غیر سنجیدہ استعمال سے نفرت اور بداعتمادی میں اضافہ ہوتا ہے ۔ پروفیسر اختر الوسع

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 28-02-2026
لفظ کافر کے غیر سنجیدہ استعمال سے  نفرت اور بداعتمادی میں اضافہ ہوتا ہے ۔  پروفیسر اختر الوسع
لفظ کافر کے غیر سنجیدہ استعمال سے نفرت اور بداعتمادی میں اضافہ ہوتا ہے ۔ پروفیسر اختر الوسع

 



آواز دی وائس : نئی دہلی 

کچھ لوگ لفظ کافر استعمال کرتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ کافر کا لفظ مسلمان اور ہندو دونوں کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔آج کل سوشل میڈیا پر بعض لوگ لفظ کافر جیسے حساس الفاظ کو غیر سنجیدگی سے استعمال کرتے ہیں جس سے نفرت اور بداعتمادی بڑھتی ہے۔
پروفیسر اخترالواسع نے آواز دی وائس کے خصوصی پوڈ کاسٹدین اور دنیا‘ میں بڑی بے باکی کے ساتھ اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔میزبان  ثاقب سلیم کے ساتھ اس بات چیت میں پروفیسر اختر الواسع نے سوشل میڈیا، دین کی غلط تعبیر، سماجی رویوں اور باہمی ہم آہنگی جیسے اہم موضوعات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ گفتگو میں اس بات پر زور دیا گیا کہ دین کے نام پر غیر ذمہ دارانہ بیانات اور جذباتی تشریحات معاشرے میں غلط فہمیاں پیدا کر رہی ہیں۔
پروفیسر اخترالواسع نے کافر جیسے حساس الفاظ  کے غیر سنجیدہ استعمال پر کہا کہ دین پر گفتگو کرنا قابل اعتراض نہیں لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب غیر ماہر افراد دین کی تشریح کرنے لگتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ دین پر رائے دینے کا حق انہی لوگوں کو ہونا چاہیے جنہوں نے باقاعدہ دینی علوم جیسے قرآن، حدیث، تفسیر، فقہ اور دیگر علوم میں گہری تعلیم حاصل کی ہو۔
سوشل میڈیا پر 
گفتگو میں اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ سوشل میڈیا پر خود کو نمایاں کرنے کی دوڑ نے دین کو بھی بعض حلقوں میں ایک طرح کے پروپیگنڈا کا ذریعہ بنا دیا ہے۔ اس رجحان کے نتیجے میں نہ صرف غیر مسلموں میں اسلام کے بارے میں غلط فہمیاں پیدا ہو رہی ہیں بلکہ مسلمانوں کے اندر احساس کمتری اور احساس برتری جیسے رویے بھی جنم لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ احساس برتری دراصل احساس کمتری کی ایک شدت یافتہ شکل ہو سکتی ہے۔
جمہوریت ہو یا جدید تعلیم
پروفیسر اخترالواسع نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ بعض لوگ ہر جدید چیز کو طاغوتی قرار دینے لگتے ہیں چاہے وہ جمہوریت ہو یا جدید تعلیم۔ انہوں نے تاریخی پس منظر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سر سید احمد خان کے دور میں بھی جدید تعلیم کی مخالفت ہوئی تھی مگر وقت کے ساتھ امت نے اعتدال کا راستہ اختیار کیا۔ ان کے مطابق کسی کے کہنے سے کوئی چیز فوراً غیر اسلامی نہیں ہو جاتی اور عقیدہ اور عقیدت کے فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔
بزرگان دین کے احترام اور باہمی رواداری
گفتگو میں بزرگان دین کے احترام اور باہمی رواداری پر بھی زور دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہر شخص کو اپنی عقیدت کے اظہار کا حق ہے لیکن کسی پر زبردستی اپنی تعبیر مسلط کرنا درست نہیں کیونکہ دین میں جبر کی گنجائش نہیں ہے۔ طنزیہ انداز میں مذہبی شناخت پر حملہ کرنے والے الفاظ کے استعمال کو بھی انہوں نے معاشرتی ہم آہنگی کے لیے نقصان دہ قرار دیا، خاص طور پر ایک ایسے ملک میں جہاں مختلف مذاہب صدیوں سے ساتھ رہتے آئے ہیں
انہوں نے مزید کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو جوڑنے کے لیے آئے تھے توڑنے کے لیے نہیں۔ مکہ کی آزمائشیں ہوں یا شعب ابی طالب کی سختیاں یا ہجرت حبشہ اور مدینہ کی زندگی ہر مرحلے میں آپ نے محبت اور بھائی چارے کا پیغام دیا۔ خطبہ حجۃ الوداع کے ذریعے انسانوں کو قریب لانے کی کوشش کی۔ آج سوشل میڈیا پر فرقہ واریت کی باتیں زیادہ نظر آتی ہیں مگر مجموعی طور پر میں سمجھتا ہوں کہ پہلے کے مقابلے میں شدت کم ہو رہی ہے اور لوگ اعتدال کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔
بات چار شادیوں کی 
پروفیسر اختر الواسیع کہتے ہیں کہ میں اس سوچ کو بالکل بے بنیاد سمجھتا ہوں۔ چار شادی کی اجازت دی گئی ہے مگر اسے لازمی قرار نہیں دیا گیا۔ شرط انصاف ہے اور کہا گیا ہے کہ تم انصاف نہیں کر سکتے۔ اسی طرح عورتوں کے حقوق بھی اپنی جگہ موجود ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ نہ مرد عام طور پر چار شادیاں کر رہے ہیں اور نہ عورتیں گھریلو ذمہ داریاں چھوڑ رہی ہیں۔ حالات کے مطابق فیصلے ہوتے ہیں۔ اگر ضرورت ہو تو عورت کھانا پکائے گی۔ اگر استطاعت ہو تو مددگار رکھا جا سکتا ہے۔ مرد اگر انصاف کی شرط پوری کر سکے تو ایک سے زیادہ شادی کر سکتا ہے مگر یہ آسان نہیں۔ اس معاملے کو بلا وجہ مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
گفتگو کے اختتام پر ایک مشورہ بھی دیا گیا کہ پس منظر اور ظاہری انداز میں ایسی چیزوں سے گریز کیا جائے جو عہد نبوی یا صحابہ کے طریقے سے ہم آہنگ نہ ہوں تاکہ دین کی نمائندگی زیادہ سادہ اور حقیقی انداز میں ہو۔ مجموعی طور پر یہ پیغام دیا گیا کہ اختلاف کے باوجود باہمی احترام اور اعتدال ہی وہ راستہ ہے جو معاشرے کو توازن اور ہم آہنگی کی طرف لے جا سکتا ہے۔