محمد اشرف
عید کی دستک ہے اور رمضان المبارک رخصت ہونے کے قریب ہے۔ دنیا بھر کے مسلمان عید کی تیاریوں میں مصروف ہیں اور تراویح اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ ایسے وقت میں سب سے اہم سوال یہی ہوتا ہے کہ عید کب ہوگی۔ یعنی عید کا چاند کب نظر آئے گا۔ انتیس کا چاند ہوگا یا تیس کا۔ عید کے چاند کے حوالے سے جتنی بے چینی ہوتی ہے اتنا ہی کم ایسا ہوتا ہے کہ پوری اسلامی دنیا ایک ہی دن عید منائے۔
دنیا بھر کے مسلمان اور 66 مسلم ممالک اور مقبوضہ خطوں میں بسنے والے افراد کے لیےاسلامی تقویم کے آغاز کے تعین کے لیے نئے چاند یعنی ہلال کی رویت نہایت اہمیت رکھتی ہے۔ اسی بنیاد پر رمضان اور دیگر اسلامی مہینوں کا آغاز کیا جاتا ہے۔کئی برسوں سے ماہرین فلکیات نئے چاند کی رویت کا مشاہدہ مختلف طریقوں سے کرتے آئے ہیں۔ ان میں ننگی آنکھ سے دیکھنا اور جدید آلات کا استعمال شامل ہے، جن کی مدد سے چاند کی موجودگی اور اس کے نظر آنے کے امکانات کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔
اختلافات کی افسوسناک صورتحال
ہر سال رمضان اور عید کے موقع پر چاند دیکھنے کے مسئلے پر اختلافات سامنے آتے ہیں۔ بسا اوقات یہ اختلافات اتنے شدید ہو جاتے ہیں کہ ایک ہی شہر کے مسلمان دو گروہوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں۔ ایک گروہ ایک دن عید مناتا ہے جبکہ دوسرا گروہ اگلے دن عید مناتا ہے۔ یہ صورتحال انتہائی افسوسناک ہے۔کیا مسلمانوں کا ہر سال اس طرح اختلاف کرنا قابل مواخذہ نہیں ہے۔ کیا ایسا ممکن نہیں کہ مسلم ماہرین فلکیات کی خدمات اور مشوروں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے چاند نکلنے کی تاریخ پہلے سے طے کرلی جائے۔
سائنس اور فلکیات کی ترقی
آج سائنس اور ٹیکنالوجی اس قدر ترقی یافتہ ہو چکی ہے کہ انسان نہ صرف چاند تک پہنچ چکا ہے بلکہ اسی ٹیکنالوجی کی مدد سے کسی بھی شہر یا علاقے کے بارے میں پورے یقین کے ساتھ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ وہاں چاند کس دن کس وقت اور کس منٹ میں نظر آئے گا۔علم فلکیات کی مدد سے چاند کے مسئلے کو نہایت آسانی سے حل کیا جا سکتا ہے اور اس طرح ہر سال پیدا ہونے والے اختلافات سے بچا جا سکتا ہے۔

مذہبی دلائل اور احادیث
مختلف صحیح احادیث کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ رمضان اور عید کی آمد کو تین طریقوں سے ثابت کیا جا سکتا ہے۔ ان طریقوں کے بیان سے قبل چند احادیث ملاحظہ ہوں۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر ہی روزہ ختم کرو۔ اگر بادل کی وجہ سے چاند نظر نہ آئے تو شعبان کے تیس دن مکمل کرلو۔اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رمضان اور عید کی آمد کو مختلف طریقوں سے ثابت کیا جا سکتا ہے۔
پہلا طریقہ فقہی اختلافات کی تفصیل
چاند دیکھنے کے مسئلے میں فقہاء کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض کے نزدیک ایک شخص کی گواہی کافی ہے جبکہ بعض کم از کم دو افراد کی گواہی کو ضروری قرار دیتے ہیں۔ احناف کے نزدیک اگر آسمان صاف ہو تو ایک دو افراد کی گواہی کافی نہیں بلکہ کثیر تعداد میں لوگوں کی گواہی ضروری ہے کیونکہ صاف آسمان میں ایسا ممکن نہیں کہ صرف چند افراد ہی چاند دیکھ سکیں۔ تاہم اگر مطلع ابر آلود ہو تو ایک یا دو افراد کی گواہی کافی ہو سکتی ہے۔
دوسرا طریقہ تعیین
دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اگر انتیس شعبان کو چاند نظر نہ آئے تو شعبان کے تیس دن مکمل کر کے رمضان کا آغاز کیا جائے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ قمری مہینوں کا حساب رکھا جائے کیونکہ جب تک یہ معلوم نہ ہو کہ آج کون سی تاریخ ہے اس وقت تک انتیس یا تیس کا فیصلہ ممکن نہیں۔
تیسرا طریقہ اور اس کی تشریح
حدیث میں "فَاقْدُرُوا لَهُ" کا بھی ذکر آیا ہے۔ احناف اور جمہور علماء اس کا مطلب یہ لیتے ہیں کہ اگر آسمان ابر آلود ہو تو تیس دن مکمل کیے جائیں۔ لیکن امام ابن سریج کے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہ فلکیاتی حساب کے ذریعے چاند کے طلوع ہونے کا اندازہ لگایا جائے۔امام نووی اور حنبلی علماء اس سے اختلاف کرتے ہیں اور ان کے نزدیک حساب کے ذریعے چاند کا تعین کرنا جائز نہیں کیونکہ حدیث میں امت کے ناخواندہ ہونے کا ذکر ہے۔
بات پیغمبر اسلام کے پیغام کی
اس حدیث سے یہ مفہوم اخذکرنا کہ اعداد وشمار کے ذریعے چاند کے طلوع کا اندازہ لگانے سےحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے ،غلط ہے۔اس حدیث میں فقط اتنی بات ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانے کے مسلمانوں کی حالت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ اُمت اَن پڑھ ہے۔یہ حساب کتاب اور اعدادوشمار سے ناواقف ہے۔اس لیے اس اُمت سے کیسے توقع کی جاسکتی ہے کہ چاند کے طلوع ہونے کا ٹھیک ٹھیک اندازہ لگا سکتی ہے اس حدیث میں حساب لگانے اور اعدادوشمار کرنے سے منع کیا گیا ہے اور نہ اس بات کی ترغیب دی گئی ہے۔کہ ہم اَن پڑھ اُمت ہیں اور ہمیشہ اَن پڑھ رہیں۔چنانچہ اس اُمت میں جہالت اورناخواندگی کے خلاف آواز اُٹھانے والے سب سے پہلے شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھے۔اور اسی اسلامی تعلیمات کا نتیجہ تھا کہ جلد ہی مسلمانوں میں تعلیم عام ہوگئی۔وقت کے جید علماء پیدا ہوئے اور وہ دور بھی آیا جب مسلمانوں میں سائنس داں،علماء ومشائخ اور ہر علم کے ماہرین کی اچھی خاصی تعدادپائی جانے لگی۔یہ کہنا بھی غلط ہے کہ فلکیات کاعلم صرف شازونادر ہی لوگ رکھتے ہیں اور وہ بھی صرف بڑے شہروں میں۔یہ بات پرانے زمانے میں تو صحیح ہوسکتی تھی لیکن آج کے اس ترقی یافتہ دور میں صحیح نہیں کیونکہ اب علم فلکیات دنیا کی تمام یونیورسٹیوں میں پڑھایا جاتا ہے۔
جدید ذرائع اور فلکیاتی تحقیق
چاند کی گردش پر نظر رکھنے کے لیے رصد گاہیں قائم ہیں اور سیٹلائٹ کے ذریعے مکمل معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔ اب یہ معلوم کرنا آسان ہو گیا ہے کہ چاند کب اور کہاں نظر آئے گا۔ذرائع ابلاغ کی ترقی نے بھی معلومات کی ترسیل کو آسان بنا دیا ہے جس سے دنیا بھر میں ایک ہی وقت میں خبر پہنچ جاتی ہے۔
فلکی حساب اور جنتری کا فرق
بہت سے لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ فلکی اعداد وشمار سے مراد وہ جنتریاں یا کیلنڈر ہیں،جن میں سال بھر کی تاریخ ،نمازوں کے اوقات،قمری مہینوں کا اندراج اور نہ جانے کیا کیا ہوتا ہے۔یہ جنتریاں ہمارے بازاروں میں بھی شرکت سے فروخت ہوتی ہیں۔یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ دن تاریخ اور وقت کے معاملہ میں ان جنتریوں میں بڑا اختلاف ہوتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ جنتریاں جو معلومات فراہم کرتی ہیں ان کی بنیاد ٹھوس علمی اور سائنسی حقائق پر نہیں ہوتی۔اس لیے ان جنتریوں پر اعتماد کرنا غلط ہے۔فلکی اعدادوشمار سے مراد وہ ٹھوس علمی اور سائنسی معلومات ہیں جو فلکی رصد گاہیں(دوربین) سیارچےاور علم فلکیات پیش کرتےہیں۔اور جن کی بنیاد تجربے اور مشاہدے پر ہوتی ہے اور جن میں غلطی کا احتمال تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔
Part 1:
— Sulaiman Uwaisu Idris (@KafinHausaa) March 15, 2026
According to amateur astronomer Adamu Ya’u (Dan America) from Yola, Ramadan will most likely complete 30 days, based on his scientific calculations.
“Anyone who tells you that the Eid moon will be sighted on the 29th is mistaken. According to scientific calculations,… pic.twitter.com/wJBQLPsm7W
رویت ہلال پر اصرار اور اس کا جائزہ
بعض علماء اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ ہمیں علم فلکیات اور اس کی فراہم کردہ معلومات کے چکر میں نہیں پڑنا چاہیے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں چاند دیکھ کر روزہ رکھنے اور روزہ ختم کرنے کا حکم دیا ہے۔اس لیے ضروری ہے کہ ہم چاند دیکھ کر ہی روزہ رکھیں اور عید منائیں۔میں سمجھتا ہوں کہ علم فلکیات کی فراہم کردہ معلومات کو نظر انداز کردینا اور صرف چاند دیکھنے پر اصرار کرنا صحیح بات نہیں ہے کیوں کہ:۔یہ بات خلاف عقل ہوتی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایسی قوم کو علم فلکیات کے ذریعہ اور اعداد وشمار کےذریعہ چاند کی روئیت کا فیصلہ کرنے کا مشورہ دیتے جو اَن پڑھ اور ناخواندہ تھی۔جیساکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی اعتراف کیا کہ ہم تو ناخواندہ امت ہیں،ہمیں لکھنا اورحساب رکھنا کہاں آتا ہے۔اس ناخواندہ قوم کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند کی روئیت کے لیے ایسے طریقہ کار کاحکم دیا،جو اس کے بس میں تھا اور جو اس قدیم زمانے میں ہرشخص کے لیے آسان ترین طریقہ تھا اور وہ تھا آنکھوں سے چاند دیکھنا۔اب اگر اس ترقی یافتہ زمانے میں چاند کا پتہ کرنے کے لیے دوسرے یقینی ذرائع میسر ہیں توان ذرائع کے استعمال میں کیا قباحت ہوسکتی ہے- دوسری حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند دیکھنے کے علاوہ"فَاقْدِرُوا لَهُ" کا بھی حکم دیا ہے۔اس جملہ کا سیدھا سادھا ترجمہ یہ ہے کہ"چاند کا اندازہ کرلو"ظاہر ہے کہ علم فلکیات کے اعدادوشماربھی تو اندازہ کرنے کاایک یقینی طریقہ ہے۔
علم اور سنت میں تطبیق
اگر آج کے دور میں جدید ذرائع کے ذریعے زیادہ یقینی معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں تو ان کا استعمال کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہونی چاہیے۔ خاص طور پر جب اس سے اختلافات ختم ہو سکتے ہوں۔چاند دیکھنے کا مسئلہ امت کے اتحاد سے جڑا ہوا ہے۔ اگر ہم علم فلکیات اور رویت ہلال دونوں کو ساتھ لے کر چلیں تو اختلافات کو کم کیا جا سکتا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ سنجیدگی کے ساتھ اس مسئلے کا حل نکالا جائے تاکہ ہر سال پیدا ہونے والے اختلافات سے بچا جا سکے اور اتحاد و اتفاق کی عملی مثال پیش کی جاسکے۔