فیشن اور فلم انڈسٹری میں کامیابی کا تعلق ٹیلنٹ اور محنت سے ہے، نہ کہ مذہب سے۔ ناصر عبدااللہ
نئی دہلی : آواز دی وائس
فلم انڈسٹری میں کامیابی کا تعلق ٹیلنٹ اور محنت سے ہے، نہ کہ مذہب سے۔ اگر کوئی مشکلات تھیں تو ان کی اپنی فنی کمزوریوں کی وجہ سے تھیں نہ کہ کسی مذہبی یا سماجی امتیاز کی وجہ سے۔ اہم بات یہ ہے کہ دہلی کی گنگا جمنی تہذیب نے مجھے رواداری اور ہم آہنگی کی راہ دکھائی ۔
آواز دی وائس کے پوڈ کاسٹ ’دین اور دنیا‘ میں معروف ماڈل اور اداکار ناصر عبداللہ نے اپنی زندگی کی یادوں اور باتوں کا ذکر کرتے ہوئے ان احساسات کا اظہار کیا ۔ ممتاز تاریخ داں ثاقب سلیم کے ساتھ اس بات چیت میں انہوں نے اپنی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔
خاص طور پر دین اور دنیا کے درمیان توازن، انڈسٹری کے تجربات، مذہب اور شناخت کے سوالات، اور روحانیت کے سفر پر تفصیل سے بات کی۔
ابتدائی زندگی اور دہلی کی تہذیب
ناصر عبداللہ کہتے ہیں کہ میری پیدائش پرانی دہلی کے علاقے بلی ماراں میں ہوئی۔ یہ علاقہ چاندنی چوک کے قریب واقع ہے اور اپنی روایتی گلیوں اور ثقافتی ماحول کے لیے جانا جاتا ہے۔ بچپن میں ایک سادہ زندگی گزاری جہاں کھیل کود اور محلّے کی سرگرمیاں روزمرہ کا حصہ تھیں۔ 1964 میں ان کا خاندان نئی دہلی کے نظام الدین علاقے منتقل ہو گیا۔ یہاں کا ماحول نسبتاً کھلا تھا اور تاریخی مقامات جیسے ہمایوں کا مقبرہ اور دیگر آثار قدیمہ ان کی شخصیت پر اثر انداز ہوئے۔وہ کہتے ہیں کہ دہلی کی گنگا جمنی تہذیب نے رواداری اور ہم آہنگی کو فروغ دیا۔
تعلیم اور پیشہ ورانہ آغاز
دین اور دنیا میں ناصر عبداللہ کہتے ہیں کہ دہلی پبلک اسکول سے تعلیم حاصل کی اور بعد میں سینٹ اسٹیفنز کالج سے وابستہ رہے۔ عملی زندگی کا آغاز انہوں نے کاسٹیوم جیولری ایکسپورٹ کے کاروبار سے کیا جہاں وہ پروڈکشن سپروائزر کے طور پر کام کرتے تھے۔بعد میں انہوں نے ایک ریستوران بھی سنبھالا لیکن جلد ہی انہیں احساس ہوا کہ وہ کسی اور میدان میں اپنی صلاحیتوں کو آزمانا چاہتے ہیں۔
ماڈلنگ میں داخلہ اور کامیابی
میری بہن ممبئی میں رہتی تھی۔ اس نے مجھ سے بڑی سادگی سے کہا کہ تم یہاں آکر خود دیکھ لو، اگر کوئی اشتہاری کام مل جائے تو ٹھیک ہے، ورنہ واپس چلے جانا۔ اس وقت دہلی میں میرا کام خاص نہیں چل رہا تھا، اس لیے میں نے سوچا کہ کیوں نہ قسمت آزما لی جائے، اور میں ممبئی چلا گیا۔ممبئی پہنچنے کے بعد شروع میں سب کچھ نیا تھا، مگر آہستہ آہستہ حالات بدلنے لگے۔ میں نے اپنی تصاویر مختلف ایجنسیوں میں جمع کروائیں۔ کچھ ہی دنوں بعد انہوں نے مجھ سے کہا کہ ہم آپ کو مختلف پروجیکٹس میں استعمال کریں گے۔ یہ میرے لیے ایک نئی امید کی کرن تھی۔
پھر ایک موقع ایسا آیا جس نے میری زندگی کا رخ بدل دیا۔ 1985 میں ریڈ اینڈ وائٹ کے ایک اشتہار میں مجھے راج ببر کی جگہ کام کرنے کا موقع ملا۔ یہ میرے کیریئر کا اہم موڑ تھا۔ وہ میری جوانی کا وقت تھا، کیمرہ مجھ پر مہربان ہوا، اور پھر آہستہ آہستہ لوگ بھی مجھے پسند کرنے لگے۔اس کے بعد مجھے مسلسل کام ملنے لگا۔ میں نے تھمبس اپ کے اشتہارات کیے، کولا کے اشتہارات کیے، کبھی صحرا میں کاؤ بوائے کے انداز میں نظر آیا، کبھی کیمرہ اٹھائے ایک صحافی کے روپ میں، اور کبھی جیس بنی جیسے مختلف انداز کے اشتہارات کیے۔ یوں میں نے ایک کے بعد ایک بے شمار اشتہاری فلموں میں کام کیا اور اپنا سفر جاری رکھا۔
فلمی دنیا کے چیلنجز
میں جب ممبئی پہنچا، تو سال 1987 تھا۔ اُس وقت ہمارے علاقے میں ایک عجیب سا تاثر پایا جاتا تھا۔ لوگ کہتے تھے کہ ممبئی تو جیسے پی او کے کی طرح ہے، وہاں کسی کو آسانی سے موقع نہیں ملتا، اور جس کے پاس سفارش نہ ہو، اُس کے لیے تو دروازے بند ہی رہتے ہیں۔ میری اپنی حالت یہ تھی کہ سفارش بالکل صفر تھی۔ صفر کا مطلب واقعی صفر، نہ کوئی جان پہچان، نہ کوئی سہارا۔لیکن وہاں جا کر ایک بات سمجھ میں آئی کہ اگر آپ کے اندر کچھ خاص ہے، کوئی معیار ہے، کوئی صلاحیت ہے، تو ہدایت کار اور کیمرہ مین اسے پہچان لیتے ہیں۔ وہ آپ کو اس طرح پیش کرتے ہیں کہ آپ کی خوبی نمایاں ہو جائے۔ اصل کھیل یہی ہے کہ آپ خود میں کیا لے کر آتے ہیں۔آخر میں یہی احساس ہوتا ہے کہ انسان کوشش کرتا ہے، محنت کرتا ہے، مگر اصل فیصلہ کہیں اور سے ہوتا ہے۔ اگر اوپر والا چاہے تو راستے کھلتے جاتے ہیں، اوراگر نہ چاہے تو سب کچھ ہوتے ہوئے بھی کچھ نہیں ہوتا۔
ناصرعبد اللہ نے اپنی ز ندگی کی جدوجہد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ماڈلنگ میں انہیں کامیابی ملی لیکن فلموں میں انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ خاص طور پر لمبے مکالمے ادا کرنا ان کے لیے مشکل تھا۔ یہ مشکلات ان کی اپنی فنی کمزوریوں کی وجہ سے تھیں نہ کہ کسی مذہبی یا سماجی امتیاز کی وجہ سے۔ان کے مطابق اگر کسی میں صلاحیت ہو تو وہ ضرور آگے بڑھتا ہے۔۔ انڈسٹری میں کامیابی کا تعلق ٹیلنٹ اور محنت سے ہے نہ ک مذہب سے۔ اجبکہ بعض اوقات فنکاروں کے کیریئر میں اتار چڑھاؤ آتے ہیں جنہیں غلط طور پر مذہب سے جوڑ دیا جاتا ہے۔
خاندانی ردعمل اور سماجی دباؤ
زندگی کے اس سفر میں مشکلات کے بارے میں ناصر عبداللہ نے بات گھر سے شروع کی ،انہوں نے بتایا کہ ماڈلنگ کے میدان میں آنے پر ان کی والدہ کو کچھ تحفظات تھے جبکہ والد نسبتاً آزاد خیال تھے۔انہوں نے ایک واقعہ بیان کیا کہ ان کی بہن کے ایک اشتہار پر کمیونٹی کی جانب سے اعتراض کیا گیا۔ حالانکہ اشتہار میں کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی۔ اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس دور میں سماجی رویے زیادہ مختلف تھے۔
روحانیت اور مختلف مذاہب کا مطالعہ
پوڈ کاسٹ میں ناصر عبداللہ نے بتایا کہ انہوں نے صرف اسلام ہی نہیں بلکہ دیگر مذاہب اور روحانی روایات کا بھی مطالعہ کیا۔ انہوں نے مختلف آشرموں کا دورہ کیا اور وہاں سکون اور روحانی کیفیت کا تجربہ کیا۔ان کے مطابق خدا تک پہنچنے کے کئی راستے ہیں اور اصل چیز انسان کی نیت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ خدا انسان کے دل کو دیکھتا ہے نہ کہ ظاہری طریقوں کو۔بات مذہب کی آئی تو روحانیت کا ذکر بھی آیا،جس پر ناصر عبداللہ موسیقی کو روحانیت کا ایک اہم ذریعہ سمجھتے ہیں۔ وہ بانسری بجاتے ہیں اور کلاسیکی موسیقی میں دلچسپی کھتے ہیں۔انہوں نے مشہور گیت ایک بنگلہ بنے نیارا کا بھی ذکر کیا اور اسے ایک خوبصورت اور دلکش نغمہ قرار دیا۔
نوجوانوں کے لیے رہنمائی
آج کا دور بالکل بدل چکا ہے۔ اب سوشل میڈیا ہے، انفلوئنسرز کا زمانہ ہے۔ لیکن ایک چیز نہیں بدلی،وہ ہے محنت اور صبر کی اہمیت۔ بہت سے نوجوان آج ماڈلنگ اور اداکاری میں آنا چاہتے ہیں۔ میں ان سے یہی کہتا ہوں کہ اس میدان میں کوئی گارنٹی نہیں ہے۔ کبھی مہینے میں ایک کام ملے گا، کبھی دو، اور کبھی کئی مہینے کچھ نہیں ملے گا۔اس لیے ضروری ہے کہ آپ کے پاس ایک متبادل راستہ ہو۔ اپنی تعلیم، اپنی نوکری یا کوئی ہنر ضرور ساتھ رکھیں۔ ساتھ ہی اگر شوق ہے تو آڈیشن دیں، پریکٹس کریں، اور اگر ممکن ہو تو تھیٹر سے جڑیں۔ تھیٹر انسان کو نکھارتا ہے، اعتماد بڑھاتا ہے، اور اداکاری کی بنیاد مضبوط کرتا ہے۔ میں خود مانتا ہوں کہ اگر میں نے شروع میں تھیٹر کیا ہوتا تو شاید اور بہتر کر سکتا تھا۔
دین اور دنیا میں توازن
جہاں تک دین اور دنیا کے توازن کی بات ہے، تو میں اسے یوں دیکھتا ہوں کہ انسان اپنی کوشش کرتا ہے، مگر سب کچھ صرف کوشش سے نہیں ہوتا۔ تقدیر کا بھی ایک کردار ہے۔ ہم اپنے ساتھ اپنا کرم لے کر آتے ہیں، اور اسی کے مطابق راستے کھلتے ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ سب کچھ طے ہو چکا ہے۔ ہمیں اپنی زندگی کو بہتر بنانے کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔اسی لیے دنیا میں مختلف انبیاء اور روحانی رہنما آئے—جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام، حضرت محمد ﷺ، گوتم بدھ، زرتشت، اور رام کرشن—تاکہ انسان کو راستہ دکھایا جا سکے۔ پیغام سب کا ایک ہی ہے: خدا کو یاد رکھو اور اس سے تعلق قائم رکھو۔
میری اپنی زندگی میں، میں دن کا آغاز خاموشی سے کرتا ہوں۔ تھوڑا مراقبہ، تھوڑی تنہائی، اور پھر اللہ کو یاد کرنا۔ اس کے بعد دن کے باقی کام آسان لگتے ہیں۔ کبھی کبھی انسان سستی بھی کرتا ہے، بہک بھی جاتا ہے، مگر پھر یاد آتا ہے کہ اصل سکون اسی میں ہے کہ ہم اپنے رب کو یاد رکھیں۔
آخر میں یہی کہوں گا کہ انسان کو کوشش بھی کرنی چاہیے اور اپنے رب پر بھروسہ بھی رکھنا چاہیے۔ یہی دین اور دنیا کا اصل توازن ہے۔