آواز دی وائس : نئی دہلی
سوشل میڈیا پر صرف نفرت کا بازار گرم ہے ۔۔۔ یہی ہے ہم سب کی رائے ۔ نظریہ ۔ مگر یہ سچ نہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم بھی نفرت سے بھری پوسٹ دیکھنے اور پڑھنے کے عادی ہوگئے ہیں ۔شاید یہی وجہ ہے کہ ہمارے موبائل پر جب نظر پڑتی ہے تو نفرت سے بھری ویڈیو اور تحریریں ہی قسمت کا حصہ بن جاتی ہیں ۔ لیکن اگر آپ سوشل میڈیا پر محبت تلاش کریں گے ،اگر آپ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی بو پانے کی کوشش کریں گے تو آپ کے سامنے ایسی پوسٹ آئیں گی جو آج ہم آپ کو دکھا اور سنا رہے ہیں ۔ جن سے ثابت ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا پر بہت کچھ خراب ہے لیکن سب کچھ نہیں ۔ اگر کوئی نفرتی پیغام دے رہا ہے تو کوئی محبت کے پیغام بھی دے رہا ہے ۔ بس فرق یہ ہے کہ ہم کس کو زیادہ دیکھ رہے ہیں ۔ اس کا جواب ہمیں خود تلاش کرنا ہوگا ۔
پہلی پوسٹ کو آپ سنیں
ہندو اور مسلمان کی دوستی کی مثال ۔ کیسے ایک مسلم نوجوان فخریہ انداز میں بتا رہا ہے کہ اس کی نماز تراویح کے سبب ایک بارات تو چلی گئی لیکن اس کے ہندو دوست رک گئے ۔
سنیئے اور دیکھئے ۔ ابھی سب کچھ خراب نہیں ہوا ہے ۔ ہم نے بھی اپنی پسند بدل دی ہے اس لیے اچھی پوسٹس ہم سے دور ہورہی ہیں ۔
دوسری پوسٹ
یہ بھی محبت کا پیغام دے رہی ہے ۔جس میں ایک مسلم نوجوان بتا رہا ہے کہ اس کا ہندو دوست سحری کے لیے اس کے لیے کس طرح اہتمام کررہا ہے ۔ وہ کہہ رہا ہے کہ یہ ہندو دوست کتنے پیارے ہوتے ہیں ۔ اس نے مجھے سحری کے لیے اٹھایا اور اب کھانے کا انتظام کررہا ہے ۔ میں نے نو راتری میں برت کے لیے اس کی خاطر کی تھی اب یہ کررہا ہے ۔
تیسری پوسٹ
اس پوسٹ میں ایک مسلم نوجوان اپنے ہندو دوستوں سے متعارف کراتا ہے اور دکھاتا ہے کہ وہ ان ہندو دوستوں کی گاڑی میں نماز پڑھنے آیا ہے جبکہ وہ اس کا مسجد کے باہر انتظار کررہے ہیں ۔یہ ہے بھائی چارہ
دیکھئے ۔ان دوستوں کی مسکراہٹ اور سنیئے پیغام ۔
چوتھی پوسٹ
اس ویڈیو میں سنیں ایک ہندو نوجوانو کے مسلم دوستوں کے بارے میں تجربات اور تاثرات ۔