منصور الدین فریدی : آواز دی وائس
کل تک جس سرزمین پر خواتین کی کی زندگی چادر اور چہار دیواری تک محدود تھی اب ان کے سامنے کھلی فضا ہے،کشادہ راہیں ہیں اور لاتعداد مواقع ہیں۔،دنیا حیران ہے کہ کیا سے کیا ہوگیا سعودی عرب۔ دنیا خوش ہے، خواتین کی عید ہے ۔ لیکن کچھ ناخوش ہیں جو خواتین کو چہار دیواری میں قید دیکھنے کو مذہب مانتے تھے،ان کے لیے اس تبدیلی یا انقلاب کو ہضم کرنا مشکل کردیا ہے۔ بہرحال اب سعودی عرب میں ایک سماجی انقلاب برپا ہوچکا ہے ۔ اونٹ کی پیٹھ سے خواتین نے کار کی ڈرائیونگ سیٹ اور خلا تک کا سفر طے کر لیا ہے۔ زندگی کا کوئی ایسا شعبہ نہیں بچا ہے جہاں خواتین کی حصہ داری نظر نہ آرہی ہو۔۔ کل تک سرگرم زندگی کو دور سے دیکھنے والی خواتین اب ملک کی ورک فورس میں ایک اہم حصہ ہیں۔
کہتے ہیں اللہ دیتا ہے تو چھپّر پھاڑ کر دیتا ہے،ایسا ہی کچھ سعودی عرب کی خواتین کے ساتھ ہوا۔جو چند سال قبل تک چہار دیواری تک محدود تھیں،پابندیوں میں لپٹی زندگی گزار رہی تھیں،دنیا انہیں ترس بھری نظروں سے دیکھتی تھی،کوئی افسوس کرتا تھا اور کوئی غصہ۔ مگر پچھلی دہائی کے دوران ایسا کچھ ہوا جس نے سعودی خواتین کی زندگی ہی بدل دی۔خواتین کے حقوق کیلئے سعودی عرب نے جو قدم اٹھائے ، ان سے جہاں سعودی خواتین کی خوشیوں کو پر لگ گئے وہیں دنیا کا منھ کھلا کا کھلا رہ گیا۔کوئی حیران رہ گیا اور کوئی پریشان بھی ہوگیا۔
سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ان کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے شاہی خاندان کی جانب سے رائج برسوں پرانے قوانین، سماجی روایات اور کاروبار کرنے کے روایتی طریقوں میں تبدیلی پیدا کی۔ یہ دونوں شخصیات اب اس ملک کی نوجوان نسل پر انحصار کر رہی ہیں جو اب تبدیلی کی خواہش کر رہے ہیں۔ سعودی عرب میں خواتین کی اڑان کیلئے ‘ماسٹر پلان’ بنانے والے ،نئی نسل کی نئی امید ولی عہد ‘‘شہزادہ محمد بن سلمان’’ ہی ہیں جنہوں نے اس کیلئے کسی کی کوئی پرواہ نہیں کی۔ تنقید کا سامنا کیا اور مخالفت کا بھی مگر سعودی عرب کی خواتین کیلئے نئی راہیں نکالنے کا عزم تھا،جو انہیں کوئی روک نہیں سکا۔
شہزداہ محمد بن سلمان کی بدولت ا ب سعودی خواتین کیلئے جو نئے راستے کھلے ہیں ان کی ایک طویل فہرست اور کہانی ہے۔ایک بات تو واضح ہے کہ خواتین پر عائد پابندیوں کے جال کو آہستہ آہستہ کاٹ کر سعودی عرب نے دنیا کو روشن خیالی کا زندہ نمونہ پیش کردیا ہے۔ایسے مخالفوں کے منھ بند کرد ئیے ہیں جو صرف اسی بنیاد پر کوسنے کا کام کرتے تھے۔اب سعودی عرب کی خواتین سڑکوں پر کاروں سے ہوا میں جہاز تک اڑا رہی ہیں۔ملازمت کررہی ہیں اور کاروبار میں مصروف ہیں۔زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جس میں انہیں نہ دیکھا جارہا ہو۔ یہ انقلاب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی نئی سوچ کی دین ہے جنہوں نے نئی نسل کو نئی اڑان دینے بڑے قدم اٹھائے ،خاص طور پر خواتین کو مختلف میدانوں میں جوہر دکھانے کا موقع دی۔جس نے انہیں نئی نسل کا ہیرو بنا دیا ہے۔
پچھلے دنوں کئی بڑی خبریں سامنے آئیں ۔جن میں فیفا کی طرف سے مقرر کردہ پہلی سعودی خاتون بین الاقوامی ریفری، خلا میں جانے والی پہلی سعودی خاتون خلاباز اور پہلی سعودی خاتون ٹرین ڈرائیور۔
سعودی ویژن 2030 کے حصے کے طور پر کاروبار میں خواتین کے کردار کو فروغ دینے کی کوشش کر رہا ہے۔سعودی اگلے سات سالوں میں افرادی قوت میں خواتین کے حصہ کو 22فیصد سے بڑھا کر 30فیصد کرنے پر توجہ مرکوز کر رہا ہے ۔ مملکت مختلف صنعتوں میں قائدانہ کردار ادا کرنے کے لیے خواتین کی فعال طور پر حوصلہ افزائی کر رہی ہے ۔سعودی اسٹاک ایکسچینج (تداول گروپ) ایک اہم معاملہ ہے، جہاں خواتین ملازمین اب گروپ کے کل ملازمین کی تعداد میں سے 40 فیصد کی نمائندگی کرتی ہیں
آغاز ‘کاغذی ’رہا تھا
اکیسویں ویں صدی کا آغاز ہی خواتین کیلئے مبارک ثابت ہوگیا تھا جب2001میں خواتین کیلئے شناختی کارڈز کا اجرا،ہوا۔ کسی مشکل صورت میں مثال کے طور پر وارثت یا جائیداد کے کسی تنازعے میں ان خواتین کیلئے یہ کارڈ ہی ایک واحد ایسا ثبوت تھا کہ وہ اپنی شناخت ظاہر کر سکیں۔ اس سے قبل کارڈ صرف مرد سرپرست کی اجازت سے ہی جاری ہوسکتے تھے۔ 2006میں اس پابندی کا مکمل طور پر خاتمہ ہوگیا۔
اس کے بعد ایک اور بڑا قدم اٹھایا گیاتھا، 2005میں قانونی طور پر خواتین کی جبری شادیوں کا خاتمہ ہوا۔ اس کو ایک کاغذی تبدیلی کہا گیا تھا کیونکہ اس کے باوجود کسی خاتون کا اپنی رضا مندی سے شادی کرنا ممکن ہی رہا تھا ۔کیونکہ جب تک معاشرہ خود نہیں چاہیے گا اس قسم کی تبدیلی نہیں آسکتی ہے۔اس لئے سعودی خواتین کو بہت زیادہ فائدہ نہیں ملا تھا۔لیکن دنیا کو اس بات کا اندازہ ہوگیا تھا کہ صحرا میں پھول کھلنے کے آثار ہوگئے ہیں۔شاہی خاندان نے چھوٹے چھوٹے قدموں کے بعد بڑے قدم اٹھانے کی تیاری کر رکھی تھی۔
تبدیلی کا پہلا اشارہ
جب2009میں شاہ عبداللہ نے ملک کی پہلی خاتون وزیر کو چنا اور‘ نورہ بنت عبد اللہ الفایز’ کو نائب وزیر برائے تعلیم نسواں مقرر کیا تو پہلی بار ٹھوس قدم کا اشارہ ملا تھا۔حالانکہ اس کے بعد جب 2012 اولمپک مقابلوں کیلئے پہلی خاتون ایتھلیٹ سارہ عطارکوسعودی عرب نے اولمپک مقابلوں میں حصہ کی اجازت دی۔ لندن اولمپک مقابلوں میں ہیڈ اسکارف کے ساتھ آٹھ سو میٹر ریس میں حصہ لیا تھا۔ تب ایسے خدشات تھے کہ اگرسعودی عرب نے خواتین کو ان مقابلوں میں شریک ہونے کی اجازت نہ دی تو سعودی عرب پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔لیکن ایک سال بعد ہی سعودی عرب نے 2013میں خواتینموٹر سائیکل اور بائیسکل چلانے کی اجازت دی تو پھر سب خاموش ہوگئے۔
خواتین کیلئے سوغات
ہر سال شاہی خاندان کی جانب سے ایسے تحفے دئیے جانے کا سلسلہ جاری رہا تھا۔اسی سال مشاورتی شوریٰ میں خواتین کی نمائندگی کا آغاز ہوا تو پھر2015میں ووٹ ڈالنے اور الیکشن لڑنے کا حق دیا۔اس وقت تک دنیا کو اس بات کا اندازہ ہوگیا تھا کہ شاہی خاندان کچھ نہیں بلکہ بہت کچھ بدلنے والا ہے۔ایسا ہی ہوا جب 2018 میں خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت ملی اور اسی سال اسٹیڈیم میں جانے کی اجازت بھی دیدی گئی۔35 سال بعد سعودی عرب میں ایک مرتبہ پھر سنیما گھر کھل گئے جو کہ 1980 کی دہائی سے بند تھے۔2020میں ایک اور تحفہ ملا ،جس کے تحت خواتین نہ صرف اکیلے سفر کر سکتی ہیں اور کسی بھی ہوٹل میں تنہا ٹھہرسکتی ہیں۔سعودی عر ب نے ایک ایسا سیاحتی مقام تعمیر کرنے کا ارادہ کیا ہے جہاں لباس کے حوالے سے سعودی عرب کے سخت قوانین نافذ نہیں ہوں گے۔ سعودی شہزادہ محمد بن سلمان کہہ چکے ہیں کہ سعودی عرب کو ‘معتدل اسلام’ کی طرف واپس آنا ہوگا۔
.webp)
ریانا برناوی
Rayyanah Barnawi
خلا میں سفر کرنے والی پہلی سعودی خاتون
بین الاقوامی اسپیس اسٹیشن سے ایکس ٹو مشن کے لئے خلائی شٹل روانہ ہوگئی ہے اس مشن میں پہلی مرتبہ 2 سعودی خلا باز شامل ہیں، ریانا برناوی خلا میں سفر کرنے والی پہلی سعودی خاتون بن گئیں ہیں۔سعودی عرب کی ریانا برناوی انٹرنیشنل سپیس اسٹیشن (آئی ایس ایس) کا سفر کرنے والی پہلی مسلمان عرب خاتون کا درجہ حاصل کرنے پر بہت خوش ہیں۔
ریانا برناوی کی پیدائش 1988 میں جدہ میں ہوئی تھی اور انہوں نے بائیو میڈیکل سائنسز میں ماسٹر ڈگری حاصل کی۔وہ لگ بھگ ایک دہائی سے بائیو میڈیکل محقق کے طور پر اسٹیم سیلز پر کام کر رہی ہیں۔
ریانا برناوی ایلون مسک کی کمپنی سپیس ایکس کے نجی مشن پر بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر گئی تھیں۔ مشن فلوریڈا میں ناسا کے کینیڈی سپیس سینٹر سے روانہ ہوا تھا،جو مجموعی طور پر 4 افراد پر مشتمل تھا، جس میں ریانا برناوی بطور ریسرچر شامل ہوئی تھیں۔ اس نجی خلائی مشن نے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پرایک ہفتہ گزارا ۔ مشن کا مقصد انسانی خلائی پرواز میں سعودی عرب کی صلاحیتوں کو بڑھانا ، انسانیت کی خدمت اور خلائی صنعت کی طرف سے پیش کردہ امید افزا مواقع سے فائدہ اٹھانے کے ساتھ ساتھ صحت اور خلائی ٹیکنالوجی جیسے کئی پہلوو¿ں میں سائنسی تحقیق میں تعاون کرنا شامل تھا۔

شہزادی ریما بنت بندر بن سلطان
Princess Reema Bint Bandar Al Saud
سعودی عرب کی پہلی خاتون سفیر
سعودی عرب نے جب امریکا میں ب اپنا سفیرایک خاتون کو تعینات کیا تو دنیا دنگ رہ گئی۔مگر یہ خاتون کوئی معمولینام نہیں،بلکہ‘ شہزادی ریما بنت بندر بن سلطان تھیں۔ 23 فروری 2019 کو امریکہ میں سفیر بدرجہ وزیر مقرر کیا گیا۔تو وہ سعودی عرب کی تاریخ میں سفیر کے منصب پر فائز ہونے والی پہلی خاتون بن گئیں۔ شہزادی ریما ا س سے پہلے تاجر خاتون کے طور پر اپنی صلاحیتیں منوا چکی ہیں۔ سعودی ا سپورٹس یونین کی سربراہ اور سپورٹ جنرل اتھارٹی کی سیکرٹری کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکی ہیں۔ شہزادی ریما کو 2014 میں فوربس میگزین نے 200 طاقتور عرب خواتین کی فہرست میں شامل کیا ۔

ڈاکٹر لیلک الصفدی
Dr. Lilac al-Safadi
پہلی وائس چانسلر
ڈاکٹر لیلک الصفدی لیلک الصفدی ۔ کو سعودی الیکٹرونک یونیورسٹی کی وائس چانلسر مقرر کیا گیا تو ایک بار پھر دنیا کو اس بات کا پیغام ملا کہ سعودی عرب میں اب سب کچھ بدل رہا ہے۔ڈاکٹر لیلک الصفدی پہلی خاتون ہیں جو سعودی عرب کی ایسی یونیورسٹی کی صدر نشین بنی ہیں جہاں طلبہ وطالبات دونوں زیر تعلیم ہیں۔ شاہی فرمان کے ذریعے یونیورسٹی کا سربراہ مقرر کیا گیا۔ڈاکٹر لیلک الصفدی امتیازی تعلیمی قابلیت کی حامل شخصیت ہیں۔ انہوں نے کاروباری ترقی، تجارتی مشاورت اور تزویراتی قیادت کے میدان میں 20 برس سے زیادہ عرصے تک بطور ایگزیکٹو ڈائریکٹر کام کیا۔ اس کے علاوہ وہ منصوبوں کے انتظامی امور کا بھی بھرپور تجربہ رکھتی ہیں۔ ڈاکٹر لیلک الصفدی کامیاب عملی کیرئر کا ریکارڈ رکھتی ہیں۔

سارہ السحیمی
Sarah Al-Suhaimi
اسٹاک ایکس چینج کی پہلی خاتون سربراہ
السحیمی دراصل کو سعودی اسٹاک ایکس چینج کاسربراہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے،مگر وہ اپنی زندگی میں ایسے کارنامے کئی بار انجام دے چکی ہیں،اس سے قبل تین بار تاریخ رقم کرچکی ہیں۔ کسی سعودی بینک کی پہلی خاتون ہیڈ آف ایسیٹ مینجمنٹ بنی تھیں،اس کے بعد پہلی خاتون‘ سی ای او’ اور اب سعودی اسٹاک ایکسچینج کی پہلی خاتون سربراہ۔سارہ السحیمی، فروری 2017سے سعودی اسٹاک ایکسچینج (تداول) کی چیئرپرسن ہیں۔ تداول، مشرقِ وسطیٰ کی سب سے بڑی اسٹاک مارکیٹ ہے اور سارہ السحیمی پہلی خاتون ہیں، جو اس عہدے پر فائز ہوئی ہیں۔ انہیں شہزادہ محمد بن سلمان کے وژن 2030ء کے تحت سعودی کیپٹل مارکیٹس کو عالمی مالیاتی نظام کے ساتھ جوڑنے کا ہدف دیا گیا ہے۔

لیلیٰ قبی
Leila al-Qobbi
پہلی نابیناوکیل
لیلیٰ قبیسعودی عرب کی پہلی نابیناخاتون ہیں جنہیں وکالت کی پریکٹس کرنے کیلئے لائسنس جاری کیا گیا۔اس وقت سعودی عرب میں 102 خواتین وکالت کی پریکٹس کر رہی تھیں،اب مزید 39 خواتین کو پریکٹس کرنے کی اجازتملی ہے۔ لیلیٰ قبی نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا‘‘میں ایک عام عورت کی طرح پریکٹس کرتی ہوں۔میری معذوری میری شکست کا سبب نہیں بنی اور میرے گھر والوں نے مجھے سب سے زیادہ حوصلہ دیا ہے’’

ریما جعفالی
Reema al-Juffali
کار ریس میں پہلی خاتون
جب خواتین پر سے ڈرائیونگ کی پابندی کا خاتمہ ہوا تو اس کے بعد 2019 سعودی میں پہلی بار ایک خاتون نے کا ریس میں حصہ لیا۔یہ اعزاز ریاض کے قریبی شہر درعیہ میں الیکٹرک کار ریس میں 27 سالہ ریما جفالی کو حاصل ہوا۔حالانکہ ان کی حیثیت ‘مہمان جیسی تھی لیکن ایک بڑا موقع تھا۔ان کا کہناتھا کہ‘ میں نے پروفیشنل ریس میں حصہ لینے کا سوچا بھی نہیں تھا۔ 27 سالہ ریما نے جیگور ون پیس ای ٹرافی کیلئے حصہ لے کر نئی تاریخ رقم کی۔ اہم بات یہ ہے کہ اس موقع پرولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بھی اس ریس کو دیکھنے کیلئے آئے تھے جب کہ سعودی عرب اور دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات بھی ریس دیکھنے کیلئے موجود تھیں۔

ویم الدخیل
Weam Al Dakheel
پہلی خاتون نیوز ریڈر
سال2018 میں سعودی عرب کی تاریخ میں پہلی بار سرکاری ٹی وی پر خاتون نیوز کاسٹر کو متعارف کرایا گیاتھا۔ویم الدخیل نامی خاتون کو سرکاری ٹی وی چینل کے پرائم ٹائم میں خبریں پڑھنے والی پہلی نیوز کاسٹر بننے کا اعزاز حاصل ہوا ہے ٗالدخیل مرد نیوز اینکر کے ساتھ سعودیہ ٹی وی چینل پر رات کو نشر ہونے والے خبرنامے میں شریک تھیں۔ بعض افراد نے سوشل میڈیا پر ردعمل دیتے ہوئے اس پیش رفت کو خواتین کیلئے سنگ میل قرار دیا۔

یاسمین المیمنی
Yasmeen Al Maimani
پہلی خاتون کمرشل پائلٹ
یاسمین المیمنی نے سعودی عرب کی پہلی خاتون کمرشل پائلٹ بننے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔ یاسمین المیمنی نے فضاوں میں اڑنے کے اپنے خواب کی تعبیر پا لی ہے۔2019سعودی عرب کی نجی فضائی کمپنی ‘‘نسما ائیر’’ میں بطور معاون پائلٹ یاسمین نے پہلی کمرشل پرواز اڑائی۔شہری ہوا بازی کی جانب سے کمرشل پائلٹ کا لائسنس جاری کیا گیا ۔یاسمین نے کہا کہ میری بچپن سے خواہش تھی کہ فضاوں میں اڑوں۔ مجھے اپنے خوابوں کی تعبیر پانے کیلئے بڑی محنت کرنا پڑی۔ میرے گھروالوں نیہمیشہ اور ہر موقع پر میرا ساتھ دیا اور میرا حوصلہ بڑھاتے رہے۔ ابھی مجھے بہت کچھ حاصل کرنا ہے۔ میرے اس سفر کا آغاز معاون پائلٹ کے طور پر ہوا ہے، جبکہ میرا ہدف مکمل پائلٹ بننا ہے اور مجھے یقین ہے کہ مسلسل محنت اور حصول مقصد کیلئے خلوص نیت میری راہ کی ہر مشکل کو آسان بنا دے گی۔

سارہ خلف الغزی
Sara Al Anzi
ایمبولینس ڈرائیور
سارہ۔ پہلی خاتون سعودی عرب کی پہلی خاتون ایمبولینس ڈرائیور ہیں،اس انسانی خدمت کے پیشہ میں ابتک مردوں کی اجارہ داری رہی ہے مگر خواتین اس میدان میں بھی اتر آئی ہیں۔ جس کا سہرا موجودہ حکومت اور گڈ‘ گورننس’ کودیتی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ایمبولینس چلانا اور مریضوں کو فرسٹ ایڈ فراہم کرنا اس کا خواب تھا، حکومت نے اسے اس کا خواب پورا کرنے میں فراہم کی ہے۔سارہ الغزی اردن کی سائنس وٹیکنالوجی یونیورسٹی کی فاضلہ ہیں اور اس نے ایمبولینس اور ہنگامی سروس کا خصوصی کورس کررکھا ہے۔ ایمبولیس ڈرائیو کرنے کا فیصلہ اتنا آسان نہیں تھا۔ ایک خاتون کیلئے یہ پیشہ خطرناک سمجھا جاتاہے حالیہ کرونا وبا کے دوران ایمرجنسی کی کیفیت پیدا ہوئی تو اسے ایمبولینس چلانے کا موقع مل گیا۔سارہ الغزی نے اس کا کریڈٹ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور ان کی حکومت کو دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت کی طرف سے خواتین کیلئے مختلف شعبوں میں آزادنہ کام کی حوصلہ افزائی نہ کی جاتی تو اس کا یہ خواب پورا نہ ہوپاتا۔

وفا سکر
Wafaa Sakr
سعودی کی پہلی خاتون ہیر ڈریسر
وفا سکرنامی خاتون کو سعودی عرب کی پہلی ‘حجام’ یا ‘ہیر ڈریسر’ ہونے کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔جو بچوں کی ہیئر ڈریسر ہیں اور وہ مردوں کے نہیں۔ان کی بچوں کے بال تراشتے ہوئے ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے۔وفا کا کہنا تھا کہ ان کا سیلون طائف شہر کے ایک مال میں واقع ہے جو فی الحال لائسنس ری نیو نہ ہونے کی وجہ سے عارضی طورپر بند ہے لیکن مقامی حکام سے منظوری کے بعد سیلون دوبارہ کھول دیا جائے گا۔ خاتون نے بطور ہیئر ڈریسر کئی سال کام کیا ہے، کام کے دوران بچوں کا خیال رکھنے کے حوالے سے ان کے کام کو سراہا جاتا ہے۔بطور خاتون ہیئر ڈریسر ان کی موجودگی ایک غیر معمولی بات ہے، کئی مرتبہ انہیں معاشرہ میں اچھے تجربے کا سامنا نہیں رہا کیونکہ لوگ خواتین کو ٹیچر اور نرس دیکھنے کے عادی ہیں۔ ہمارے معاشرے نے اس حقیقت کو ابھی تک مکمل طور پر تسلیم نہیں کیا ہے کہ خواتین ہر شعبے میں باصلاحیت انداز میں کام کرسکتی ہیں۔لیکن ولی عہد شہزادہ سلمان نے ایک نئے دور کا آغاز کردیا ہے۔

احلام بنت عبدالرحمن
Ahlam bint Abdulrahman Yankasar
وزارت خارجہ کی خاتون ڈائریکٹر جنرل
احلام بنت عبدالرحمن پہلی سعودی خاتون ہیں جنہیں وزارت خارجہ میں ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر فائز کیا گیا ہے ۔ احلام بنت عبدالرحمن لندن یونیورسٹی سے انٹرنیشنل بزنس مینجمنٹ میں ماسٹرز ہیں۔وہ سکریٹری خارجہ برائے ثقافتی و اقتصادی امور ٹیم کے ساتھ بھی کام کرچکی ہیں۔ احلام بنت عبدالرحمن نے سماجی و انسانی امور کی کمیٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خواتین کے موضوع پر سعودی عرب کی پالیسی بھی پیش کی تھی۔

رشا خمیس
Rasha Al-Khamis
پہلی پروفیشنل باکسر
رشا خمیس نے سعودی عرب کی نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے پہلی تصدیق شدہ خاتون باکسر ہونے کا اعزاز اپنے نام کیا ہے۔ رشا خمیس کے مطابق 2011 میں پہلی مرتبہ میں نے باکسنگ کے دستانے پہنے اس کے بعد سے ہی مجھ میں باکسنگ کھیل کا جنون پیدا ہوگیا۔ اس دوران میں امریکا کی جنوبی کیلی فورنیا یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھیں۔دلچسپ بات تو یہ ہے کہ سعودی عرب کی پہلی تصدیق شدہ خاتون باکسر رشا خمیس کا تعلق ایک ثقافتی و ادبی گھرانے سے ہے۔ ان کے دادا مرحوم عبداللہ بن خمیس سعودی عرب کے ایک معروف قلم کارتھے۔وہ کئی برسوں تک ہفتے میں دو سے تین مرتبہ تربیت کیلئے باکسنگ کلب جاتی تھی جس کے بعد مجھے اس کھیل سے محبت ہو گئی۔ میں نے اس سے بہت کچھ سیکھا، اور آج میں ایک کامیاب خاتون باکسر ہوں۔ رشا خمیس نے سعودی عرب کی پہلی تصدیق شدہ خاتون باکسر ہونے کا اعزاز حاصل کرنے کے ساتھ مزید اہم سنگ میل عبور کئے ہیں جن میں دنیا کی سات بڑٖی چوٹیوں میں سے دو کو سر کرنا بھی شامل ہے۔

حیفہ اے ایل۔ منصور
Haifa AL. Mansour
پہلی خاتون فلم ساز
سعودی عرب میں خواتین کے لیے ایک بلند آواز، حائفہ المنصور پہلی سعودی خاتون فلمساز ہیں جنہوں نے ملک بھر میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ بیرون ملک رکاوٹوں نے المنصور کو سعودی خواتین کو دیکھنے کے انداز کو تبدیل کرنے کے مشن کے ساتھ ایک طاقتور اثر انگیز عرب خاتون بننے سے نہیں روکا۔ . ان کی زبردست پہلی فیچر فلم "وجدا بہترین غیر ملکی زبان کے آسکر کے زمرے کے تحت 2014 کے آسکر کے لیے مملکت کی پہلی پیشکش تھی۔

مشال اشیمری
Mishaal Ashemimry
ناسا میں پہلی سعودی خاتون
اس سعودی خاتون کی کامیابی لفظی طور پر ستاروں تک پہنچ گئی! مشال اشیمری ناسا میں شامل ہونے والی پہلی خاتون ہیں اور اپنی ہی کمپنی مشال ایرو اسپیس کی سی ای او ہیں۔ انجینئر کا کام سرمایہ کاری مؤثر خلائی گاڑیوں کا استعمال کرتے ہوئے مدار میں سیٹلائٹ بھیجنا ہوتا ہے جی سی سی کی پہلی خاتون ایرو اسپیس انجینئر کا خطاب نوجوان عرب خواتین کو اپنے فیلڈ اور اسٹیم پروگراموں میں شامل ہونے کی مسلسل ترغیب دیتا ہے۔
ریم الناصر
Reem al-Nasser
پہلی سبزی فروش خاتون
ریم الناصرنے سعودی عرب کے دارالحکومت میں سبزیوں کی دکان کھولی اور سعودی عرب کی پہلی سبزی فروش خاتون بن گئیں۔ ریم الناصر نے 2018 میں سبزی و پھلوں کی دکان کھولنے کا منصوبہ بنایا تھا، جس کی تکمیل اب ہوئی ہے اور اس کام میں ان کی سعودی سہیلیاں بھی شامل ہیں۔ جب پھل اور سبزیوں کی دکان کھولی تو شروع میں بڑی مشکل پیش آئی۔ مقامی شہریوں کو یہ کاروبار پسند نہیں آیا۔ یہ مقامی مزاج اور روایات سے ہٹ کر تھا لیکن اب لوگوں کا رویہ تبدیل ہوگیا ہے۔
یہ تو ایک مختصر فہرست ہے جس کا مقصد صرف آپ کو یاد دلانا ہے کہ سعودی خواتین کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہیں۔ یہ صرف تعلیم کے میدان میں بازی مارنے کا نتیجہ ہے۔سعودی عرب نے نہ صرف خواتین کے لیے تعلیمم کی راہوں کو کشادہ کیا بلکہ روزگار سے بھی جوڑا جس نے خواتین کو ملک کی ترقی میں ایک اہم طاقت بنا دیا ہے۔ عالم اسلام کے لیے سعودی عرب کی سوچ اور حکمت ایک نظیر ہے۔ جس نے پردے اور حجاب کو برقرار رکھتے ہوئے خواتین کے لیے زندگی کی نئی راہوں کو آسان بنا دیا ہے۔