سہارن پور: مدرسہ میں بچے پر تشدد کی ویڈیو وائرل ۔دو مولانا گرفتار ۔ سوشل میڈیا پر طوفان ۔اٹھے مدرسہ نظام پر سوال

Story by  منصورالدین فریدی | Posted by  [email protected] | Date 05-04-2026
سہارن پور: مدرسہ میں بچے پر  تشدد کی ویڈیو وائرل ۔دو مولانا گرفتار ۔ سوشل میڈیا پر طوفان ۔اٹھے مدرسہ نظام پر سوال
سہارن پور: مدرسہ میں بچے پر تشدد کی ویڈیو وائرل ۔دو مولانا گرفتار ۔ سوشل میڈیا پر طوفان ۔اٹھے مدرسہ نظام پر سوال

 



منصور الدین فریدی : نئی دہلی 

  مدرسے میں ایک یتیم بچے کے ساتھ دو مولاناوں کے بدترین تشدد کی ایک ویڈیو نے نہ صرف اتر پردیش  بلکہ ملک بھر میں سنسنی بلکہ غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی ۔ یہ ویڈیو  سہارنپور کی ہے ۔جو کہ  گنگوہ کا مدرسہ دارالعلوم زکریا ہے۔ تاہم یہ ویڈیو ڈیڑھ سال پرانی بتائی جا رہی ہے۔ ویڈیو وائرل ہوتے ہی پولیس نے گنگوہ تھانے میں مقدمہ درج کرتے ہوئے ہفتے کی صبح دونوں مولانا جنید اور شعیب کو گرفتار کر لیا ۔ پولیس کی تفتیش کے دوران ملزمان نے بتایا کہ بچہ مدرسہ چھوڑ کر بھاگ گیا تھا اس لیے اس کی پٹائی کی گئی ۔ اتر پردیش پولیس نے بڑی تیزی کے ساتھ کارروائی کی اور ان مولاناوں کو سلاخوں کے پیچھے پہنچا دیا ۔ سوشل میڈیا میں پولیس کی برق رفتاری کی خوب سراہنا کی جارہی ہے۔  مگر  بچوں کو انصاف مل جانے کے باوجود اب کئی سوال سامنے آرہے ہیں جس کے سبب سوشل میڈیا بھی گرم ہوگیا ہے ۔ اہم بات یہ ہے کہ خود مسلمانوں نے واقعہ پر مدسرے نظام اور انتظامیہ پر سوال اٹھائے ہیں بلکہ ایسے مولاناوں کو مامور کرنے کی بات کی ہے جو بچوں کی نفسیات سے واقف ہوں اور حفظ جیسے مشک عمل کی نزاکت کو سمجھتے ہوں۔ اس واقعے کے بعد سماجی حلقوں میں شدید بحث شروع ہو گئی ہے۔

ایک واقعہ یا ایک سوچ

  ایک اور  صارف شاکر قاسمی نے اپنی فیس بک پوسٹ میں  لکھا ہے کہ ۔۔۔۔ مسئلہ صرف چند افراد تک محدود نہیں بلکہ اس سوچ سے جڑا ہوا ہے جس میں بچوں پر سختی اور مار پیٹ کو تعلیم اور تربیت کا حصہ سمجھ لیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق تعلیمی اداروں میں بچوں کے ساتھ تشدد کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہونا چاہیے۔ گزشتہ برسوں میں اسکولوں میں بچوں پر تشدد کے خلاف قوانین سخت کیے گئے ہیں اور والدین میں شعور بڑھنے کے باعث ایسے واقعات میں کافی حد تک  کمی آئی ہے۔ تاہم مدرسوں کے حوالے سے اکثر معاملات پر سوال اٹھانے سے گریز کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے کئی واقعات منظر عام پر نہیں آ پاتے۔ ذرائع کے مطابق اگر یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل نہ ہوتی تو ممکن ہے یہ معاملہ بھی دب جاتا۔ سوشل میڈیا پر اس واقعہ پر سخت ناراضگی ہے ،ہر کوئی اپنے زاوئیے اور نظرئیے کو پیش کررہا ہے ۔لیکن کسی نے بھی ان مولاناوں کا دفاع نہیں کیا کیونکہ ایسے استاد پورے مدرسہ نظام کو رسوا کررہے ہیں۔

  ڈاکٹر محمد انعام برنی  نے سوشل میڈیا میں اس واقعہ پر ناراضگی کے طوفان کا ایک جھونکا بنتے ہوئے لکھا ہے کہ ۔۔۔۔ان غنڈوں کی ظاہری،حالت سے جو کچھ محسوس ہو رہا ہے وہ ان کے ذریعے ایک معصوم بچے پر کیے گئے ظلم کے حساب سے کم ہے۔بہت سے بچے ان جیسے ظالموں کی وجہ سے مدرسے کی تعلیم سے محروم ہو جاتے ہیں۔ ابھی تو ان کی مزید خاطر مدارت ہونی چاہیے۔

تربیت کی بات

بیشتر کا ماننا ہے کہ  بلاشبہ بچوں کی تربیت دنیا کے مشکل ترین کاموں میں سے ایک ہے۔ بچوں کو بہتر انداز میں سنبھالنا خصوصی مہارت اور تربیت کا متقاضی ہے۔ قابل غور بات یہ ہے کہ حفظ قرآن کی تعلیم بھی انتہائی محنت اور توجہ طلب عمل ہے۔ چھوٹے بچوں کو اس سطح کی تعلیم دینا ایک حساس ذمہ داری ہے۔ ایسے طلبہ کو پڑھانے کے لیے ایسے اساتذہ کا انتخاب ضروری ہے جو نہ صرف اپنے مضمون پر مکمل دسترس رکھتے ہوں بلکہ بچوں کی نفسیات کو بھی سمجھتے ہوں۔ انہیں یہ بھی معلوم ہو کہ مختلف ذہنی سطح کے بچوں کے ساتھ کس طرح پیش آنا ہے۔ موجودہ صورتحال میں اکثر مدارس میں اس ذمہ داری پر ایسے افراد مامور ہو جاتے ہیں جو مناسب تربیت اور تعلیمی مہارت سے محروم ہوتے ہیں۔ اس وجہ سے بعض اوقات تعلیمی عمل میں سختی اور غلط رویے سامنے آتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک منظم نظام بنایا جائے جس کے تحت بچوں کی تعلیم سے وابستہ ہر استاد کے لیے نفسیاتی اور تدریسی تربیت لازمی ہو۔ اس مقصد کے لیے کم از کم دس سے پندرہ ماہ کے تربیتی کورس شروع کیے جانے چاہئیں جن میں بچوں کی نفسیات تدریسی اصول اور عملی تربیت شامل ہو۔ مزید یہ کہ کسی بھی تعلیمی ادارے میں تدریس کی اجازت اس وقت تک نہ دی جائے جب تک اس طرح کی تربیت مکمل نہ ہو جائے خواہ وہ حفظ ہو ناظرہ ہو دینیات ہو یا کوئی اور شعبہ ہو۔

ایڈووکیٹ ابوبکرسباق نے اپنی پوسٹ میں کہا ہے کہ ۔۔ ویڈیو دل تھام کر بھی دیکھنے کی کوشش کی مگر پورا دیکھ نہیں پایا ... خدا کے واسطے ایسے ظالموں سے مدرسوں کو پاک صاف کیجئے۔ یہ ویڈیو اتر پردیش کے گنگوہ کے مدرسہ دارالعلوم زکریا کی بتائی جارہی ہے جہاں مہتمم کے بھائی اور مدرسہ کے استاد کتنے ظالم بن کر ایک غریب اور شاید یتیم بچے کی کتنی بےرحمی کے ساتھ پٹائی کررہے ہیں دیکھ کر آنسو آجائیں گے . یہ جاہل جو خود جانور ہیں یہ بچوں کو کیا انسان بنائیں گے۔اگر آپ چاہیں تو میں بتا سکتا ہوں بلکہ ہر ممکنہ مدد کرسکتا ہوں کہ ایسے حادثات یا واقعات میں کس طرح شکایت درج کروائی جاتی ہے یا کن اداروں سے رابطہ کیا جا سکتا ہے، پولیس کیس یقیناً اور ضرور ہونا چاہیے۔

وہ مزید لکھتے ہیں کہ بچوں کی تربیت کا مقصد انہیں بہتر انسان بنانا ہوتا ہے، نہ کہ خوف اور تشدد کے ذریعے انہیں توڑ دینا۔ دینِ اسلام میں بھی بچوں کے ساتھ نرمی، محبت اور حکمت کے ساتھ پیش آنے کی سخت تاکید کی گئی ہے۔ ایسے افراد جو تعلیم کے نام پر ظلم کرتے ہیں، وہ نہ صرف اپنے منصب کے ساتھ ناانصافی کرتے ہیں بلکہ پورے تعلیمی نظام کو بدنام کرتے ہیں ۔ لہٰذا ایسے ہر استاد اور متعلقہ مدرسے کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے، بلکہ ایسے مدرسوں کو بند کر دینا چاہیے

اسی طرح محمد محبوب حسین شیخ نے فیس بک پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا کہ ۔۔۔پولیس کی مولوی کے خلاف یہ پہلی کارروائی ہے، جس پر مجھے بے حد خوشی ہے ۔کیونکہ چھوٹے چھوٹے مدرسوں میں تربیت کے نام پر معصوم بچوں پر دردناک تشدد کیا جاتا ہے جو کہ خلاف سنت ہے ۔ موجودہ دور میں جہاں بچوں کی نفسیات کو سمجھتے ہوئے انہیں ہر ممکن سہولت فراہم کی جاتی ہے، وہیں بعض چھوٹے اور غیر معروف مدرسوں میں تربیت کے نام پر حد سے زیادہ ظلم کیا جاتا ہے۔

انہوں نے فیس بک پر  دوسری پوسٹ میں لکھا ہے کہ ۔۔۔۔۔چھوٹے اور غیر معروف مدرسوں میں پڑھانے والے نو فارغ اساتذہ (مولوی حضرات) کو چاہیے کہ درسِ نظامی پڑھانے سے پہلے دورِ جدید کے تعلیمی اصولوں کو سمجھیں، اور اپنی جوانی کے غصے پر قابو رکھتے ہوئے معصوم بچوں کو نرمی اور حکمت کے ساتھ تعلیم دیں۔ایسے اساتذہ اور مہتممین کو چاہیے کہ ان  واقعات سے سبق حاصل کریں، کیونکہ آپ اکیسویں صدی میں رہ رہے ہیں۔ ایک ویڈیو ہی آپ کی حقیقت دنیا کے سامنے لا سکتی ہے، جیسا کہ آپ نیچے ویڈیوز میں دیکھ ر ہے ہیں ۔ اس لیے خود کو سنبھالیں اور اپنی ذمہ داری کو سمجھیں۔