دین اور دنیا ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ تکمیل ہیں” ۔ عبدالرقیب

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 30-05-2026
دین اور دنیا ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ تکمیل ہیں” ۔ عبدالرقیب
دین اور دنیا ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ تکمیل ہیں” ۔ عبدالرقیب

 



نئی دہلی : آواز دی وائس 

“جب تک دولت کی تخلیق (Creation of Wealth) نہیں ہوگی، آپ تقسیمِ دولت کیسے کریں گے؟ تجارت میں برکت ہے، اور رزقِ حلال کی طلب خود عبادت ہے۔”

یہ جملہ معروف ماہرِ اسلامی مالیات عبدالرقیب نے پوڈکاسٹ “آواز دی وائس” کے پروگرام “دین اور دنیا” میں میزبان ثاقب سلیم کے ساتھ ایک خصوصی اور فکری نشست کے دوران ادا کیا، جہاں گفتگو کا مرکزی موضوع اسلامی معیشت، جدید مالیاتی نظام اور مسلم معاشروں کی معاشی سمت تھا۔اس مکالمے میں عبدالرقیب نے اس بنیادی نکتے پر زور دیا کہ کسی بھی معاشرے کی حقیقی ترقی صرف وسائل کی تقسیم سے نہیں بلکہ پہلے وسائل کی پیداوار اور دولت کی تخلیق سے ممکن ہوتی ہے۔ ان کے مطابق مسلم دنیا میں ایک بڑا فکری خلا یہ ہے کہ معاشی سرگرمیوں، کاروبار اور سرمایہ کاری کو وہ مرکزی حیثیت نہیں دی گئی جو اسلام کی ابتدائی معاشی روایت میں نظر آتی ہے۔

معاشی پسماندگی اور فکری مسئلہ

عبدالرقیب نے گفتگو کے آغاز میں اس نکتے پر زور دیا کہ کسی بھی قوم کی ترقی صرف عبادات یا مذہبی وابستگی سے مکمل نہیں ہوتی، بلکہ اس کے لیے معاشی سرگرمی، پیداوار اور دولت کی تخلیق بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ان کے مطابق مسلم معاشروں میں ایک عمومی کمزوری یہ پیدا ہو گئی ہے کہ عبادات کو تو بہت اہم سمجھا جاتا ہے، لیکن تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کو یا تو ثانوی سمجھ لیا گیا ہے یا نظر انداز کر دیا گیا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ یہی فکری عدم توازن معاشی کمزوری کی ایک بڑی وجہ ہے، کیونکہ جب تک دولت پیدا نہیں ہوگی، اس کی تقسیم بھی ممکن نہیں۔

اسلام میں تجارت کا مقام

میزبان ثاقب سلیم نے سوال کیا کہ اسلام میں تجارت کو کس نظر سے دیکھا جاتا ہے اور آج کے دور میں مسلمان اس میدان میں کیوں پیچھے نظر آتے ہیں۔اس پر عبدالرقیب نے تفصیل سے کہا کہ اسلام میں تجارت کو نہ صرف جائز بلکہ ایک باعزت اور اہم پیشہ قرار دیا گیا ہے۔انہوں نے یاد دلایا کہ نبی کریم ﷺ خود ایک کامیاب تاجر تھے اور حضرت خدیجہؓ کا تجارتی کردار اسلامی تاریخ میں ایک مضبوط مثال کے طور پر موجود ہے۔ان کے مطابق عرب معاشرہ پہلے ہی تجارت پر قائم تھا، اور اسلام نے اس میں اخلاقیات، دیانت اور امانت کے اصول شامل کر کے اسے ایک مکمل نظام بنا دیا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ تجارت میں رسک ایک لازمی جز ہے، اور یہی رسک معاشی ترقی اور جدت کو جنم دیتا ہے۔

عبدالرقیب صاحب نے گفتگو میں تجارت کو اسلام میں مرکزی حیثیت دیتے ہوئے کہا کہ رسول اکرم ﷺ خود ایک کامیاب تاجر تھے اور حضرت خدیجہؓ کا کاروبار قریش کے بڑے اور مضبوط تجارتی نظاموں میں شمار ہوتا تھا۔ ان کے مطابق اسلامی تاریخ کا آغاز ہی ایک ایسے معاشی ماحول سے ہوا جس میں تجارت کو نہ صرف جائز بلکہ عزت و وقار کی علامت سمجھا جاتا تھا۔انہوں نے ایک حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ “رزق کے دس حصوں میں سے نو حصے تجارت میں ہیں” جس سے وہ اس بات کو واضح کرنا چاہتے تھے کہ معاشی ترقی اور خود کفالت کا بنیادی راستہ کاروبار اور تجارت ہی ہے۔ ان کے مطابق جب تک دولت کی تخلیق کا عمل مضبوط نہیں ہوگا، اس وقت تک دولت کی منصفانہ تقسیم بھی ممکن نہیں ہو سکتی۔

عبدالرقیب صاحب نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ آج کے مسلم معاشرے میں معاشی سرگرمیوں سے دوری ایک عام رجحان بن چکا ہے، جس کے نتیجے میں وہ معاشی میدان میں پیچھے رہ گئے ہیں۔ ان کے مطابق یہی کمزوری مجموعی ترقی میں رکاوٹ بنتی ہے۔انہوں نے کیرالہ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں ہندو اور مسلمان مشترکہ طور پر تجارت کرتے ہیں، اور معاشی باہمی انحصار کی وجہ سے فرقہ وارانہ کشیدگی نسبتاً کم دیکھنے میں آتی ہے۔ ان کے مطابق معاشی تعاون سماجی ہم آہنگی کو بھی مضبوط کرتا ہے۔مزید برآں انہوں نے مدینہ منورہ کے بازار کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے صرف مسجد ہی قائم نہیں کی بلکہ ایک آزاد اور شفاف منڈی بھی قائم کی، جہاں دیانت، امانت اور شفافیت کو بنیادی اصول بنایا گیا۔ یہی ماڈل ایک مثالی اسلامی معاشی نظام کی بنیاد فراہم کرتا ہے

اسلامی بینکنگ اور جدید مالی نظام

گفتگو کا ایک اہم حصہ اسلامی بینکنگ کے تصور پر تھا۔ثاقب سلیم نے سوال کیا کہ جب اسلام میں سود کو حرام قرار دیا گیا ہے تو آج کے دور میں قرض، تعلیم، کاروبار یا رہائش کے لیے مالی سہولتیں کیسے حاصل کی جائیں۔عبدالرقیب نے اس کے جواب میں کہا کہ آج دنیا کے تقریباً پچھتر ممالک میں اسلامی بینکنگ یا شریعت کے مطابق مالیاتی نظام کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے۔یہ نظام سود پر نہیں بلکہ نفع و نقصان کی شراکت پر مبنی ہوتا ہے۔ اس میں مختلف طریقے استعمال کیے جاتے ہیں جیسے مشارکہ، مضاربہ اور مرابحہ۔انہوں نے وضاحت کی کہ عام تصور کے برعکس یہ نظام صرف مذہبی نہیں بلکہ ایک عملی معاشی متبادل بھی ہے جو دنیا کے کئی حصوں میں کامیابی سے چل رہا ہے۔

ہندوستان میں متبادل مالیاتی نظام

عبدالرقیب نے ہندوستان کے تناظر میں بتایا کہ یہاں مکمل اسلامی بینکنگ موجود نہیں، لیکن کچھ متبادل نظام ضرور موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ کوآپریٹو سوسائٹیز اور کچھ نان بینکنگ فنانشل ادارے ایسے ماڈلز پر کام کر رہے ہیں جہاں سود یا تو بہت کم ہوتا ہے یا بالکل نہیں ہوتا۔ان کے مطابق یہ نظام اگرچہ محدود سطح پر ہے لیکن اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ متبادل مالی ماڈل ممکن ہے۔

کیرالہ کا معاشی ماڈل

گفتگو میں کیرالہ کو ایک اہم مثال کے طور پر پیش کیا گیا۔عبدالرقیب کے مطابق کیرالہ میں ہندو اور مسلم کمیونٹیز کے درمیان مضبوط معاشی تعلقات موجود ہیں، جس کی وجہ سے سماجی ہم آہنگی بھی بہتر ہے۔انہوں نے بتایا کہ وہاں معاشی سرگرمیاں مشترکہ مفاد پر مبنی ہیں، اور کسی بھی کشیدگی کی صورت میں دونوں فریقوں کو نقصان ہوتا ہے، اس لیے تعاون کا رجحان زیادہ ہے۔انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ مسلم کمیونٹی کی بڑی بچت بینکنگ نظام میں غیر فعال رہتی ہے، کیونکہ سرمایہ کاری کے بجائے اسے محفوظ اثاثوں جیسے سونا یا زمین میں رکھا جاتا ہے۔

قانونی اور پالیسی بحث

گفتگو میں یہ پہلو بھی آیا کہ اسلامی مالیاتی ماڈلز پر ہندوستان میں قانونی اور پالیسی سطح پر بحث ہو چکی ہے۔عبدالرقیب کے مطابق ایک مرحلے پر اس نظام کو عدالت میں چیلنج بھی کیا گیا، لیکن عدالت نے اس بات کو تسلیم کیا کہ اگر کوئی مالیاتی ماڈل معاشی ترقی اور سماجی بہتری کا ذریعہ ہو تو اسے مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا۔یہ بحث ہندوستان میں مالیاتی تنوع کے تصور کو آگے بڑھانے میں اہم ثابت ہوئی۔

زکوٰۃ کا معاشی کردار

زکوٰۃ کے موضوع پر گفتگو کا سب سے اہم اور فکری حصہ سامنے آیا۔عبدالرقیب نے کہا کہ زکوٰۃ اسلام کا صرف عبادتی پہلو نہیں بلکہ ایک مکمل معاشی نظام ہے جو دولت کی گردش کو یقینی بناتا ہے۔انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ آج زکوٰۃ زیادہ تر انفرادی طور پر دی جاتی ہے، جس کی وجہ سے اس کا اجتماعی اور معاشی اثر کم ہو جاتا ہے۔اگر زکوٰۃ کو منظم ادارہ جاتی نظام میں تبدیل کر دیا جائے تو غربت میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے اور چھوٹے کاروبار اور اسٹارٹ اپس کو مضبوط بنیاد فراہم کی جا سکتی ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ابتدائی اسلامی دور میں زکوٰۃ ایک باقاعدہ ریاستی نظام کے تحت جمع اور تقسیم کی جاتی تھی۔

 عبدالرقیب نے کہا کہ زکوٰۃ اسلام کے بنیادی پانچ ارکان میں سے ایک اہم رکن ہے، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج اس کی اجتماعی اور ادارہ جاتی روح تقریباً کمزور ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق مسئلہ زکوٰۃ کی مقدار کا نہیں بلکہ اس کے نظام اور استعمال کے طریقہ کار کا ہے۔انہوں نے وضاحت کی کہ آج بڑی تعداد میں لوگ زکوٰۃ کا درست حساب رکھنے سے قاصر ہیں، جس کی وجہ سے ادائیگی میں بھی ابہام پیدا ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ زکوٰۃ کو کسی منظم ادارہ جاتی ڈھانچے کے تحت جمع اور خرچ نہیں کیا جاتا، بلکہ یہ زیادہ تر انفرادی سطح پر تقسیم ہوتی ہے۔

عبدالرقیب کے مطابق زکوٰۃ کا بڑا حصہ عموماً وقتی امداد، ذاتی ضروریات یا قریبی رشتہ داروں تک محدود رہ جاتا ہے، جس سے وقتی ریلیف تو ملتا ہے لیکن کوئی دیرپا معاشی تبدیلی پیدا نہیں ہوتی۔انہوں نے عہدِ نبوی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس دور میں زکوٰۃ ایک مکمل منظم ریاستی و ادارہ جاتی نظام کے تحت جمع اور تقسیم کی جاتی تھی، جس کے لیے باقاعدہ اہل افراد مقرر تھے جو حساب، وصولی اور تقسیم کے امور سنبھالتے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر آج اسی طرز پر ہر مسجد میں پانچ افراد پر مشتمل ایک منظم کمیٹی قائم کی جائے اور زکوٰۃ کے فنڈز کو صرف وقتی امداد کے بجائے تعلیم، ہنرمندی کی تربیت اور چھوٹے کاروباری منصوبوں میں سرمایہ کاری کے لیے استعمال کیا جائے تو غربت کے خاتمے میں نمایاں اور دیرپا تبدیلی لائی جا سکتی ہے

مدینہ کا معاشی ماڈل

عبدالرقیب نے مدینہ کے معاشی نظام کو ایک مکمل فری مارکیٹ ماڈل کے طور پر بیان کیا۔انہوں نے کہا کہ نبی اکرم ﷺ نے مدینہ میں ایک ایسی مارکیٹ قائم کی جو کسی بھی اجارہ داری یا استحصالی نظام سے آزاد تھی۔اس مارکیٹ میں شفافیت، دیانت اور آزاد مقابلہ بنیادی اصول تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ وہاں باقاعدہ نگرانی کا نظام بھی موجود تھا تاکہ کوئی دھوکہ یا ناجائز منافع نہ لے سکے۔

کاروبار، رسک اور حقیقت

اپنے ذاتی تجربات بیان کرتے ہوئے عبدالرقیب نے کہا کہ کاروبار میں ہمیشہ فائدہ اور نقصان دونوں ساتھ ہوتے ہیں۔انہوں نے وضاحت کی کہ لوگ اکثر صرف نفع دیکھتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہر کاروبار میں نقصان کا امکان موجود ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اصل کامیابی وہی ہے جو طویل مدت میں توازن، صبر اور حکمت کے ساتھ حاصل کی جائے۔

دین اور دنیا کا توازن

گفتگو کے اختتام پر دین اور دنیا کے تعلق پر ایک جامع بات سامنے آئی۔عبدالرقیب نے کہا کہ اسلام دنیا اور آخرت دونوں کی کامیابی کو ساتھ لے کر چلتا ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ محنت، دیانت، حلال روزی اور اخلاقی اصولوں کے ساتھ زندگی گزارنا ہی اصل اسلامی طرزِ زندگی ہے۔ان کے مطابق دین اور دنیا ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک مربوط نظام کا حصہ ہیں۔پروگرام کا اختتام اس نتیجے پر ہوا کہ اسلامی معیشت، زکوٰۃ، تجارت اور اخلاقی مالیاتی نظام الگ الگ موضوعات نہیں بلکہ ایک مکمل معاشی وژن کا حصہ ہیں۔اگر ان اصولوں کو اجتماعی سطح پر نافذ کیا جائے تو نہ صرف معاشی ترقی ممکن ہے بلکہ سماجی انصاف بھی مضبوط بنیادوں پر قائم ہو سکتا ہے۔