دین اور دنیا : ہندوستانی مسلمان اپنے پیروں پر کھڑے ہو رہے ہیں - نجیب جنگ

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 18-01-2026
 دین اور دنیا : ہندوستانی مسلمان اپنے پیروں پر کھڑے ہو رہے ہیں -  نجیب جنگ
 دین اور دنیا : ہندوستانی مسلمان اپنے پیروں پر کھڑے ہو رہے ہیں - نجیب جنگ

 



نئی دہلی : آواز دی وائس

 مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کی بڑی وجہ معاشی کمزوری ہے۔ غریب خاندان اپنے بچوں کو مہنگی یونیورسٹیوں تک نہیں پہنچا سکتے۔ مگر اب تبدیلی آ رہی ہے۔ مسلمان اپنے پیروں پر کھڑا ہو رہا ہے۔  اپنے بچوں کو بہتر تعلیم دلانے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ ایک خاموش انقلاب ہے جو وقت کے ساتھ مضبوط ہوگا۔

یہ ہیں سابق بیوروکریٹ اوردہلی کے سابق  لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ کے تاثرات ۔۔۔جن کا اظہار انہوں نے آواز دی وائس کے پوٹ کاسٹ ’’دین اور دنیا ‘‘ میں ثاقب سلیم کے ساتھ گفتگو کے دوران کیا انہوں نے کہا یکہ مسلمان کو کسی کمپلیکس کی ضرورت نہیں۔ وہ اسی ملک کا برابر کا شہری ہے۔ تعلیم معاشی مضبوطی اور اعتماد ہی اس کی اصل طاقت ہیں۔ اگر سماج اور حکومت مل کر چلیں تو ایک مضبوط اور ہم آہنگ ہندوستان کی تعمیر ممکن ہے۔

  مین اسٹریم کا مفہوم اور ہندوستانی مسلمان کی شناخت

انہوں نے مزید کہا کہ پہلی بات مین اسٹریم کیا چیز ہے، ہم کب مین اسٹریم میں نہیں تھے۔ میں ہندوستان کا باشندہ ہوں، میں ہمیشہ مین اسٹریم میں تھا۔ ہماری بد قسمتی ہے کہ  بر صغیر میں ہم اپنی مائنورٹیز کی وہ قدر نہیں کرتے ہیں، انہیں وہ جگہ نہیں ملتی ہے، جو ان کو ملنی چاہیے۔ یہ بالکل ہی بےتکی بات ہے کہ اگر پڑوسی ملک میں اقلیت پر کوئی ظلم ہو تواس کا ری ایکشن ہندوستان کا مسلمان دے۔ اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ کسی بھی میچور سماج میں اس کی ضرورت نہیں ہوتی۔

پڑوسی ممالک کے حالات اور ہندوستانی مسلمانوں کا ردعمل

پاکستان اور بنگلہ دیش میں اقلیتوں پر ہونے والے مظالم کا ردعمل ہندوستانی مسلمانوں سے مانگنا غیر ضروری ہے۔ کسی بھی باشعور سماج میں یہ لازم نہیں ہوتا کہ ایک ملک کے واقعات کا ردعمل دوسرے ملک کے شہری دیں۔ جہاں کہیں بھی ظلم ہو اس پر آواز اٹھانا انسانیت کا تقاضا ہے نہ کہ کسی ایک مذہب کی ذمہ داری۔

سیکولرزم اور ہندوستانی آئین کی روح
بھارت ایک سیکولر جمہوری ملک ہے۔ آئین کی تمہید میں فرٹرنٹی کا تصور رکھا گیا ہے جو سب کو ساتھ لے کر چلنے کی بات کرتا ہے۔ دستور ساز اسمبلی میں یہ طے کیا گیا تھا کہ ہندوستان کسی ایک مذہب کی ریاست نہیں ہوگا بلکہ سب کے لیے برابر ہوگا۔ مسلمان کو یہاں اپنی حب الوطنی ثابت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ وہ پہلے سے اس سرزمین کا برابر کا شہری ہے۔

سوشل میڈیا اور سماجی بگاڑ
سوشل میڈیا آج ایک خطرناک مگر ناگزیر ذریعہ بن چکا ہے۔ ہر شخص جو چاہے لکھ دیتا ہے اور شریف آدمی الجھنے سے گھبراتا ہے۔ اسی وجہ سے انتہا پسند آوازیں زیادہ سنائی دیتی ہیں۔ ان کا مقابلہ تعلیم مکالمے اور بچوں کو صحیح اقدار سکھا کر ہی کیا جا سکتا ہے۔ اگر تاریخ کو مسخ کر کے پڑھایا جائے تو نئی نسل کے لیے یہ نقصان دہ ثابت ہوگا۔

تعلیم اور نالج کا فرق
نجیب جنگ کے مطابق تعلیم اور علم میں فرق ہے۔ صرف اے بی سی ڈی یا ڈگریاں کافی نہیں ہوتیں۔ اصل چیز نالج ہے جو فلسفے اور فکر سے آتی ہے۔ آج کا نظام بچوں کو صرف نوکری کے لیے تیار کرتا ہے انسان بنانے پر کم توجہ دیتا ہے۔ انجینئر اور ڈاکٹر بنانا کافی نہیں بلکہ سوچنے والا ذہن پیدا کرنا ضروری ہے۔

افرمیٹو ایکشن کی ضرورت

ریاست کی ذمہ داری ہے کہ کمزور طبقات کا ہاتھ پکڑے۔ مسلمانوں کے ساتھ سماجی پسماندگی بھی جڑی ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ماضی میں مولانا آزاد فاؤنڈیشن اور اسکالرشپس جیسے اقدامات تھے جو مددگار تھے۔ اگر حکومت واقعی ترقی چاہتی ہے تو اسے اقلیتوں کو اعتماد اور سہارا دینا ہوگا۔

 مسلم عورت اور سماجی حقیقت 

یہ کہنا کہ مسلمان عورت تعلیم سے دور ہے ایک غلط تاثر ہے۔ شاہین باغ اور دیگر تحریکوں میں قیادت عورتوں نے کی۔ حجاب ذاتی فیصلہ ہے۔ کسی پر زبردستی نہیں ہونی چاہیے۔ عورت کا مقام ہر سماج میں بہتر بنانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ کسی ایک کمیونٹی کو بدنام کرنا حقیقت سے دوری ہے۔

دین اور دنیا کا توازن
نجیب جنگ کے مطابق دین ذاتی معاملہ ہے۔ نماز اور عبادت کسی انسان کے اچھا ہونے کی ضمانت نہیں۔ اصل چیز ایمانداری اور انسانیت ہے۔ جب دین اور دنیا کو زبردستی ملایا جاتا ہے تو فرقہ پرستی پیدا ہوتی ہے۔ بہتر یہی ہے کہ سب ایک دوسرے کے راستوں کا احترام کریں اور یہ مانیں کہ کوئی ایک مذہب دوسرے سے برتر نہیں۔